موسیقی اور برصغیر پاک و ہند

ہندوستا ن میں موسیقی آج بھی پو ری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہے کہ انہوں نے موسیقی کو ادارے کے طور پر زندہ رکھا ، ان کے ہاں موسیقی کی سانسیں چلنے اور ہمارے ہاں رکنے کا ایک ہی سبب ہے۔ ان کے مذہب میں بھجن اور کیرتن میں غناء کے ساتھ ساتھ موسیقی کا استعمال ہوتا ہے اور ہمارے ہاں اہل مذاہب اسے چوڑے چماروں کا کام گردانتے ہیں۔ اور اسے شرفاء کا کام نہیں سمجھا جاتا۔
لیکن ذرا دل تھام کر سنیے۔۔۔
برصغیر پاک و ہند کا سب سے بڑا خاندان “”شاہ ولی اللہ ” کاخاندان ہے۔ اور خانوادہ شاہ ولی اللہ کے چشم و چراغ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے بھلا کون ناواقف ہے۔ عجالئہ نافعہ، شاہ ولی اللہ کے خاندان میں سبقاََ سبقاََ پڑھا جانا والا رسالہ تھا۔ اس کے مترجم اور ترتیب دینے والے نے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے تعارف میں ان کی کچھ مہارتوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
شاہ عبد العزیزؒ ان تمام علوم میں مہارت تامہ رکھنے کے علاوہ علم موسیقی میں بھی یگانۂ روزگار تھے، آپ کو یہ فن دوسرے علوم و فنون کی طرح اپنے والد بزرگوار سے وراثت میں ملا تھا، شاہ ولی اللہ کے فن موسیقی میں ذوق ودلچسپی کا اندازہ ان کی تصنیف ’’الفوز الکبیر‘‘ سے ہوتا ہے، جس میں وہ یونانیوں کے گانوں کے طریقے اور قواعد بھی بیان کرتے ہیں، اور اہلِ ہند کے مختلف راگوں سے اخذ کردہ راگوں اور راگنیوں کا تذکرہ بھی خاص انداز میں کرتے ہیں۔
صاحب نزھۃ الخواطر حضرت شاہ عبد العزیزؒ کے اس فن کے بارے میں فرماتے ہیں :’’ ان کو تیر اندازی، گھڑسواری اور موسیقی میں مہارت حاصل تھی‘‘۔ (نزہۃ الخواطر:۷/۲۶۹)
(ترجمہ :محمد عبد الحلیم چشتی ترتیب پیشکش: محمد حماد کریمی ندوی)

 

 

بعض قرائن سے معلوم پڑتا ہے کہ شاہ عبدالعزیز کو راگوں پر اتنی مہارت تھی کہ ہندو اور دوسرے مذاہب کے لوگ اپنے راگ سیدھے کروانے کے لئے شاہ صاحب کے پاس آیا کرتے تھے۔ واللہ اعلم
برصغیر میں موسیقی کی بنیادی طور پر تین اقسام یا  موسیقی کو  تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
کلاسیکی موسیقی
نیم کلاسیکی موسیقی
لوک موسیقی
کلاسیکی موسیقی میں چار متوں، دس ٹھاٹوں، اور دھرپد سے لےکر خیال ، ٹپہ اور ترانہ وغیرہ کی اصناف گائی جاتی ہیں۔دھرپد کلاسیکی موسیقی کی سب سے قدیم صنف ہے۔ خیال دھرپد کی ارتقائی شکل کہی جاسکتی ہے جس میں گائیک کو دھرپد کے برعکس زیادہ لگے بندھے طریقے سے گانا نہیں پڑتا اس میں صرف گمک تال (غالباََ) کا استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ دھرپد میں گائیک بہت بندھا ہوا ہوتا ہے۔ ٹپہ کو کلاسیکی موسیقی میں سب سے زیادہ مشکل صنف مانا جاتا ہے، کیونکہ اس گائیکی کے لیے ریاض کی بہت ضرورت ہوتی ہے لیکن کچھ خیال کو ٹپہ پر فوقیت دیتے ہیں۔ اور یہی درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ خیال میں لے کے ساتھ ساتھ بندشوں کا بھی خاص خیال رکھنا پڑتا ہے جس کے لیے بہت ریاض درکار ہے۔
جبکہ نیم کلاسیکی موسیقی میں ٹھمری، دادرا، کجری، ہوری، ‏غزل، اور گیت وغیرہ کی اصناف گائی جاتی ہیں۔
لو ک موسیقی زیادہ آسان اور عام فہم ہوتی ہے۔ جیسے ہیر وارث گانا، پنجابی ماہیے دھڑے گانا وغیرہ۔۔


امام الہند اور ابو الکلام، مولانا محمد آزاد چاندنی راتوں میں ستار لے کر “تاج محل” کی چھت پر جا بیٹھتے اور سر چھیڑتے، لیکن اب بہت سے دوسرے علوم کی مانند یہ علم بھی ہم سے رخصت ہوا چاہتا ہے۔ ایک وقت تک قوالی اور غزل گائیکی میں ہمارے گانےوالوں کا طوطی بولتا تھا۔پھر وقت آیا کہ پاپ اور جاز نے کلاسیکی و نیم کلاسیکی موسیقی کا ایسا گلا گھونٹا کہ موسیقی اب ہم سے رخصت ہوئی چاہتی ہے۔ قدیم لوگ جنہیں موسیقی کا کچھ علم تھا یہاں کی مذہبیت کا شکار ہوگئے اور جدید لوگ جو اہل مدارس سے بیزار تھے انہوں نے جدید آلات موسیقی کو کاندھوں پر لاد کر موسیقی کا جنازہ نکال دیا۔

راگ الاپنا، جگل بندی اور سرگم اصل میں غناء کی روح ہوا کرتے تھے۔ستار، رباب، بانسری، طبلہ، ہارمونیم اور قدیم آلات، موسیقی کی معراج تھے۔ دور جدید کی موسیقی اصل میں بے ہنگم آوازوں کا مجموعہ ہے جس میں نہ تو غناء باقی ہے اور نہ موسیقی، ہوا کا ایک ٹھنڈا جھونکا سرحد کے اس پارسے کبھی کبھار آتا ہے جہاں آج بھی کلاسیکی موسیقی موجود ہے ۔ لوگ نہ صرف گاتے ہیں بلکہ اس کے چاہنے والے ابھی تک موجود ہیں، وہاں ستار کی جگہ گٹار نے ابھی تک نہیں  لی۔

ہمارے ہاں استاد نصرف فتح علی خان صاحب اور صابری برادرز رخصت ہوئے تو قوالی ساتھ لے گئے اور مہدی حسن، اقبال بانو، فریدہ خانم اور ایسی دوسری نابغہ روزگار ہستیوں نے گانا چھوڑا تو غزل گائیکی کا دور بھی اپنے اختتام کو جا پہنچا، یوں ہمارے ہاں کلاسیکی و نیم کلاسیکی موسیقی اپنے تمام لوازمات کے ساتھ تقریبا اختتام پذیر ہوگئی۔ لیکن ہندوستان میں، لتا، چترا سنگھ، جگجیت سنگھ اور ایسے دوسرے فنکار جاتے ہوئے بہت سے نئے فنکار چھوڑ کر جا رہے ہیں جن میں، کوشکی چکربرتی، منجری، ماسٹر سلیم اور ایسے دسیوں فنکار ابھی تک موجو د ہیں۔

بہرحال، یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ مغربی دنیا بلکہ پوری دنیا کو  غناء اور موسیقی میں برصغیر پاک و ہند سے ابھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

تحریر کو زیادہ عام فہم بنانے کے لئے موسیقی کی گنجلکوں کا ذکر نہیں  کیا گیا، ورنہ دھرپد، خیال، ٹھمری اور ٹپہ ہمارے ہاں کی موسیقی کی وہ اقسام ہیں جن کے بارے میں پڑھنا اور ان کے اصل گائیگوں کو تلاشنا ایک صحت مند تفریح ہے۔ اور دوسری اہم وجہ صاحب تحریر کا ان اصناف کی  تمام پیچدگیوں سے نابلد ہونا بھی ہے۔

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *