لیاری۔۔۔۔ذوالفقار علی زلفی/قسط12

ذوالفقار علی بھٹو گوکہ عوامی لیڈر تھے، بین الاقوامی سیاست پر بھی ان کی گہری نظر تھی مگر ان کی ذات اور اس سے منعکس ہونے والی سیاست مکمل طور پر نوآبادیاتی جاگیردارانہ ذہنیت کی اسیر رہی۔ ان کی جاگیردارانہ ذہنیت کو استعمال کر کے پاکستانی اسٹبلشمنٹ نے ان کی مدد سے انتظامی صوبہ بلوچستان کی حکومت برطرف کروا دی۔ پاکستان کی عدالتی، فوجی اور سیاسی اسٹبلشمنٹ نے بلوچوں کی پہلی اور تاحال آخری نمائندہ حکومت کو برطرف کرنے کے بعد اس پر پابندی بھی لگا دی۔ تمام قد آور بلوچ رہنما بشمول ولی خان غداری کے الزام لگا کر جیل میں ڈال دیے گئے اور فوج نے ایک دفعہ پھر بلوچستان فتح کرنے کے لیے بلوچوں پر چڑھائی کر دی۔ بدقسمتی سے نواب اکبر خان بگٹی ذاتی حسد اور انتقامی جذبے کے تحت اس سیاہ عمل میں شریکِ کار رہے۔ بلوچستان کی دیواروں پر نعرے ابھر آئے؛ “آمریت کے تین نشان ….. بھٹو، بگٹی، ٹکا خان”۔

نیپ پر پابندی اور بلوچستان آپریشن کے اثرات نے لیاری کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لیاری کے قوم پرستوں نے بھٹو کے خلاف محاذ کھول دیا۔ کراچی کے لیفٹ اسٹوں نے بھی اپنا وزن بھٹو مخالف تحریک کے پلڑے میں ڈال دیا۔ لیاری پر بھٹو کی حکمرانی تھی اس لیے جیالوں نے بلوچستان پر فوج کشی کو درست منوانے کی ہر ممکن سعی کی اور عوامی اذہان کو بھٹکانے میں وہ اطمینان بخش حد تک کامیاب بھی رہے۔

اس پورے معاملے میں کنفیوز ترین کردار “اینٹی سردار قوم پرستوں” کا رہا۔ وہ ایک جانب بھٹو کو جمہوریت پسند قرار دے کر سردار عطاللہ مینگل اور سردار خیر بخش مری کو سردار ہونے کی وجہ سے مجرم ٹھہراتے رہے اور دوسری جانب فوجی آپریشن کی مخالفت کو بھی خود پر فرض سمجھتے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھٹو یہ سب کچھ بعض سرداروں کی مدد و حمایت سے کر رہے تھے جب کہ جن سرداروں کو ان کی سرداریت کی وجہ سے مجرم ٹھہرایا جا رہا تھا، وہ خالصتاً عوامی ووٹوں سے برسرِ اقتدار آئے تھے۔

شہری سیاست کا محاذ بی ایس او کے نوجوانوں نے سنبھالا ہوا تھا۔ چوں کہ نیپ کی شہرت ایک مارکسی پارٹی کی تھی اس لیے کراچی کے سوشلسٹوں نے بھی بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کے خلاف بھرپور ردِعمل پیش کیا۔ البتہ یہ امر ملحوظِ خاطر رہے کہ لیاری میں عوامی سطح پر کوئی خاص اور پُراثر ردِعمل دیکھنے کو نہ ملا۔ اس کی اہم ترین وجہ لیاری میں بھٹو کا دوسرا چہرہ تھا، جو عوام دوست نقوش لیے ہوئے تھا۔ جیالوں نے سرداروں کو ولن بنا دیا تھا۔ لیاری میں اس پروپیگنڈے نے بھی بھرپور کام کیا کہ مینگل اور مری قبائل ڈاکو ہیں جب کہ فوج ان ڈاکوؤں کے خلاف نبرد آزما ہے۔ صرف چند ایک علاقے ایسے تھے جہاں عوامی سطح پر فوجی آپریشن کے خلاف اشتعال پایا جاتا تھا۔ ان میں سے ایک براہوی بولنے والے بلوچوں کا اکثریتی علاقہ نبی داد لائن تھا۔

نبی داد لائن لیاری کے انتہائی قدیم علاقوں میں سے ایک ہے۔ کہا جاتا ہے اسے رودینی قبیلے کی ایک شاخ کے سربراہ نبی داد رودینی نے آباد کیا۔ یہ قبیلہ غالباً اس زمانے میں خضدار سے ہجرت کر کے کراچی آ بسا جب شہر پر خان آف قلات کی حکمرانی تھی۔ بعد ازاں وقتاً فوقتاً مختلف براہوی بولنے قبیلے خضدار کے مضافات سے اس کے قرب و جوار میں آ کر آباد ہوئے۔ اس علاقے کی مناسبت سے یہاں کے ایک چوک کو “براہوی چوک” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ بھٹو دور کے وفاقی وزیرِ محنت و افرادی قوت عبدالستار گبول، ایم کیو ایم کی سابقہ رہنما نادیہ گبول اور تحریکِ انصاف کے موجودہ ایم این اے شکور شاد اسی علاقے کے رہائشی ہیں۔ پیپلزپارٹی لیاری کے نامور جیالے اختر بروہی کا سراغ بھی اسی محلے کی گلیوں میں ملتا ہے۔ ماضیِ قریب میں براہوی چوک پر جنگو برادران کا ہوٹل لیاری کے مشہور چائے خانوں میں سے ایک تھا جسے قدآور جنگو براہوی اور ان کے اسی قامت کے بھائی چلاتے تھے۔ کہا جاتا ہے بھٹو دور میں کیے گئے بلوچستان آپریشن کے دوران اس علاقے کے متعدد نوجوان خفیہ طور پر بلوچ گوریلوں کی مدد کرتے رہے ہیں۔ دورِ حاضر میں پیپلزپارٹی کے سابق جیالے شکور شاد کی تحریکِ انصاف میں شمولیت کے بعد یہ علاقہ بڑی حد تک اپنی وفاداریاں بدل چکا ہے۔

لیاری کی دوسری بڑی لسانی اکثریت کچھی برادری کو چوں کہ بلوچستان سے سروکار نہ تھا اس لیے وہاں صرف بھٹو ہی بھٹو تھا جب کہ بلوچ اکثریتی علاقوں میں تھوڑی بہت ہلچل ضرور تھی مگر اتنی نہیں کہ پیپلزپارٹی کو نقصان پہنچ سکے۔ عوام میں نیپ کی مقبولیت تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ نیپ نے جس طرح انتخابات کے دوران لیاری کو بھٹو کے رحم و کرم پر چھوڑ کر انتظامی صوبہ بلوچستان کو اپنی منزل قرار دیا تھا، اس فیصلے نے لیاری میں نیپ کا قد گھٹا دیا تھا۔ نیپ کی سیاسی غلطی کے باعث لیاری نے بلوچستان کے مقدمے کو لڑنے سے احتراز برتا۔ بعض واقفانِ حال یہ تک کہتے ہیں کہ سردار عطااللہ مینگل نے لیاری کے قوم پرستوں کو کراچی اور سندھ کی سیاست کرنے کا مشورہ دے کر انہیں سرخ جھنڈی بھی دکھائی تھی۔

70 کی دہائی میں بلوچستان پر فوج کشی کے خلاف لیاری میں مؤثر عوامی ردِعمل نہ ہونے کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں ـ میری نظر میں چند ممکنہ وجوہات یہ ہو سکتی ہیں۔

اول: نیشنل عوامی پارٹی نے مخصوص قبائلی سیاسی ثقافت کی وجہ سے لیاری کے سیاسی و سماجی شعور سے خائف ہو کر یہاں کے عوام کو اپنے ساتھ ملانے سے گریز کیا۔ انہوں نے محض مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے لیاری کو استعمال کیا اور صوبائی انتظام کی بحالی کے بعد اپنا دامن جھاڑ لیا۔ اس عمل سے لیاری میں بلوچستان کے رہنماؤں کے حوالے سے سخت بددلی پھیلی جسے اینٹی سردار قوم پرستوں کے لیاری نشین دھڑے نے پروپیگنڈوں کے ذریعے دو آتشہ کر دیا۔

دوم: ذوالفقار علی بھٹو کے دائیں بازو کے شہری رفقا لیاری کی سماجی ساخت کا بھرپور علم رکھتے تھے اور وہ یہاں کے سیاسی کارکن کے مزاج کو سمجھتے تھے۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کو لیاری میں اسی انداز سے پیش کیا جو لیاری چاہتی تھی۔ لیاری کے بنیادی مطالبات نہ صرف تسلیم کیے گئے بلکہ ان کو جلد از جلد پایہِ تکمیل تک بھی پہنچایا گیا۔ بھٹو کی پالیسی نے لیاری کو معاشی و تعلیمی میدانوں میں آسودہ اور مطمئن کر دیا تھا۔ اکثریتی آسودہ طبقے نے اپنے شہری مفادات کی قیمت پر پیپلز پارٹی کے خلاف بلوچستان کا مقدمہ لڑنے سے انکار کر دیا۔

سوم: لیاری کے ثقافتی و سماجی تعلقات مکران سے وابستہ تھے۔ فوجی آپریشن جھالاوان اور کوہستان مری جیسے دور دراز علاقوں تک محدود تھا۔ مکران میں حالات نسبتاً پُرسکون تھے۔ اس لیے لیاری کے عوام بلوچستان کی سنگین صورت حال کا گہرا ادراک کرنے سے قاصر رہے۔

چہارم: لیاری میں بلوچی زبان کے ادیبوں کا سماج پر کافی اثر و رسوخ تھا۔ 1972 میں بلوچی رسم الخط کے حوالے سے بلوچی ادب دو متخالف دھڑوں میں بٹ گیا۔ ایک دھڑے کی خواہش تھی کہ بلوچی کو رومن رسم الخط میں لکھا جائے۔ اس دھڑے کے بیشتر اراکین بلوچستان سے متعلق تھے بلکہ بعض حکومتی عہدوں پر بھی فائز تھے۔ دوسرا دھڑا جاری عربی رسم الخط کو برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ لیاری کے اکثر ادبا اسی دھڑے کے ساتھ تھے۔ اس تقسیم نے بھی سماج پر اپنے اثرات مرتب کیے ـ بلوچستان میں فوجی آپریشن کے دوران حالانکہ بعض بلوچستان نشین بلوچ ادیب بھی فوجی زیادتی کا شکار بنے مگر لیاری کے بیشتر ادیبوں نے خود کو اس معاملے سے دور رکھا۔

1977 کو حد سے زیادہ خود اعتمادی کے شکار بھٹو نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دیا۔ 71 کی پاکستان بھارت جنگ میں ہزیمت اٹھانے والی ملٹری بیوروکریسی بھٹو کی پالیسیوں بالخصوص بلوچستان میں فوج کشی کے غلط فیصلے کے باعث اپنے حواس مجتمع کر چکی تھی۔ سول اور ملٹری بیوروکریسی نے کمالِ مہارت سے بھان متی کا کنبہ جوڑ کر اسے پاکستان نیشنل الائنس کے نام سے بھٹو کے سامنے کھڑا کر دیا ـ آثار و قرائن بتاتے ہیں اس میں امریکہ بہادر نے بھی حصہ بقدرِ جثہ ڈالا۔ پاکستان نیشنل الائنس نے اسلام اور نظامِ مصطفی کا نعرہ لگا کر بھٹو کی ذات کو ہدف بنا لیا۔

کراچی کی اردو اسپیکنگ آبادی کی اکثریت بھٹو سے نالاں بھی تھی اور اسلامی شناخت کی حامی بھی۔ کہا جا سکتا ہے کہ لیاری اور ملیر کی دیہی آبادی کو چھوڑ کر پورا کراچی پیپلزپارٹی کے سامنے صف آرا تھا۔ لیاری میں صرف بلوچ قوم پرست ہی بھٹو کے خلاف مورچہ زن تھے مگر وہ بے ہتھیار تھے۔ نیپ کے تمام بڑے بڑے رہنما حیدرآباد سازش کیس کا سامنا کر رہے تھے۔ اینٹی سردار قوم پرست کنفیوژن کا شکار تھے۔ خود کو انتظامی صوبہِ بلوچستان تک محدود کر کے نیشنل عوامی پارٹی نے لیاری میں اپنی سیاسی قبر خود کھود دی تھی، اس لیے لیاری میں راوی راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔

انتخابات میں بھٹو کی کامیابی یقینی تھی مگر اسے مزید یقینی بنانے کے لیے بلاوجہ انتخابی عمل کو مشکوک بنایا گیا۔ شکوک و شبہات کے گہرے سایوں نے پی این اے کو آکسیجن فراہم کیا اور پاکستان ایک سیاسی بحران کا شکار ہوگیا۔ مانا جاتا ہے بھٹو اور اپوزیشن اتحاد کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے جا رہے تھے، راستہ نکل رہا تھا مگر فوج نے جنرل ضیاالحق کی قیادت میں 05 جولائی 1977 کو شب خون مار کر پانسہ پلٹ دیا۔ لیاری کے برے دن شروع ہوگئے۔

(جاری ہے)

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *