• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پشاور جنگلہ بس اور انجینئرنگ کا ایک اعلی شاہکار۔۔۔عامر کاکازئی

پشاور جنگلہ بس اور انجینئرنگ کا ایک اعلی شاہکار۔۔۔عامر کاکازئی

حکومت شغلیہ و عمرانیہ کے بقول پشاور جنگلہ بس تئیس مارچ کو افتتاح ہونے جا رہی تھی کہ دو دن پہلے پتہ چلا کہ بس کے لیے جو دو رویہ سڑک بنائی  گئی ہے وہ تنگ ہے اور اس میں سے دو بسیں بیک وقت نہیں گزر سکتی۔ اس لیے کناروں پر جو جنگلہ اور ڈیوائڈرز لگائے تھے ان کو پھر سے توڑ کر سڑک کو بڑا کیا جائے گا اس سے پہلے سے ہی عام ٹریفک کے لیے تنگ سڑک اور بھی تنگ ہو جائے گی۔ تین لین سڑک دو لین ہو جائے گی اور دو لین سڑک ڈیڑھ لین ہو جائے گی۔ جس سے پشاور میں ٹریفک جام  اور رش مزید  بڑھ  جائے گا۔
اسی طرح سٹیشن بہت تنگ بنائے گے ہیں جس کی وجہ سے بس سٹیشن کے اندر نہیں گھس سکتی۔
اسی طرح جو لوہے کے جنگلےلگائے گے ہیں وہ اتنےگھٹیا میعار کے ہیں کہ ایک نشئ بھی اس کو  آسانی سے توڑ لیتا ہے اور یہ ٹوٹے ہوئے جنگلے جا بجا دیکھائی دے رہے ہیں۔ اسی طرح سٹیشن پر گھٹیا قسم کی فلور ٹائلز  لگائی  گئی  ہیں جو شاید ایک مہینے میں ٹوٹ جائیں۔ یہ ٹائیلز گھروں میں لگائی  جاتی ہیں جبکہ ادھر کمرشل لیول کی ٹائیلز کی ضرورت ہے۔کچھ جگہوں پر سٹیشن غلط ڈیزائین کیے گے ہیں جو لوگوں کے پلازوں اور گھروں میں گھس گئے ہیں۔ پچھلی حکومت نے انڈر پاسز بنائے تھے۔ ان میں دکانیں ڈالی تھیں کی یہ انڈر پاسز اپنی لاگت ان دکانوں کے کرایوں سے پوری کر سکیں گے۔ پورے پشاور میں یہ تقریباً سات پاسز بنائے گئے تھے۔ چار انڈر پاسز کی دکانیں تو پچھلی حکومت کرائے پر لگا گئی  تھی جبکہ تین کی رہتی تھیں۔ عمران خان کی نکمی حکومت   چھ سال میں تین انڈر  پاسز کی دکانیں کراۓ پر نہ لگا سکی۔  جنگلہ بس کی ناقص ڈیزائننگ کی وجہ سے سڑکیں تنگ ہو گئی ہیں۔اس لیے اب ان انڈر پاسز کو توڑا جا رہا ہے ۔ اس سے ایک تو لوگوں کا روزگار ختم ہو گا تو دوسری جگہ لوگوں کے گزرنے کا راستہ ختم، اور تیسری جگہ بے چاری عوام کا اربوں روپے کا پیسہ برباد ہو گا۔
کہا گیاتھا کہ یہ منصوبہ چھ ماہ میں مکمل کیاجائے گا۔ آج دو سال ہو گئے ہیں اور ہنوز دہلی دور است۔اسدعمر نے ایک ٹوئیٹ کیا تھا کہ مجھے  اٹھ کروڑ دو میں اس سے بہتر جنگلہ بس بنا کے دوں گا، ان ہی کی حکومت  سو کروڑ خرچ کرنے کے بعد بھی نہیں بنا سکی، بلکہ جو ابھی تک بنائی  ہے وہ بھی کچرا۔
یہ جنگلہ بس  تحریک انصاف کے لیے   دیوارِ    ذوالقرنین بن چکی ہے ، جس کو ہر رات یاجوج ماجوج  آکر توڑ جاتے ہیں اور دوسرے دن پھر بے چارے انصافی بناتے ہیں۔

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *