اونچی ذات والیاں۔۔۔ابصار فاطمہ جعفری

‘وہ’ کمرے میں داخل ہوئی اور حسبِ معمول سب نفوس نے ایک دوسرے کو نظروں نظروں میں اشارے شروع کردئیے۔ کہنے کو وہ سب عورتیں تھیں مگر اُن کی نظریں ‘اُسے’ برہنگی کا احساس دلا رہی تھیں۔ ‘اُس’ نے اپنا خستہ سا بدرنگ دوپٹہ اپنے گرد اور لپیٹ لیا۔
دو رویا دسترخوان کے دونوں اطراف میں تقریباََ تمام جگہ پرُ تھی۔ ‘اس’ نے جگہ کی تلاش میں کمرے میں نظریں دوڑائیں۔ بہت غیر محسوس انداز میں کچھ زانو مزید پھیل گئے اور ‘اس’ کی نظر پہنچتے پہنچتے جگہ مزید تنگ ہوگئی، کلثوم خشکا چاولوں کی قاب پکڑے باورچی خانے سے کمرے میں داخل ہوئی تو اسے دروازے پہ ایستادہ دیکھ کر اس کے ابرو بھی تن گئے،ذرا سا جھک کر قاب قریب بیٹھی عورت کو پکڑا کر آگے بڑھانے کا اشارہ کرکے دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
“کیوں کھڑی ہو؟ بیٹھتی کیوں نہیں؟” لہجے کی سختی نمایاں تھی۔۔۔
اس نے ایک نظر دوبارہ کمرے پہ ڈالی اور سوالیہ نظروں سے کلثوم کی طرف دیکھا۔
“اب نواب زادی کے لیے جگہ بھی ہم بنوائیں” کلثوم کی خود کلامی بھی بہت بلند تھی۔۔
“نسیمہ یہ اپنی بچی کو اٹھاؤ گود میں بٹھاؤ فوراً، اور سکینہ تم تھوڑا فہمیدہ کی طرف کھسکو چلو جلدی کرو۔۔ جگہ بناؤ تو میں دال لا کر دوں” کلثوم نے جتا دیا کہ جگہ بنے گی تب ہی دال آئے گی۔ تب تک کلثوم کمر پہ ہاتھ ٹکائے ان عورتوں کو دیکھتی رہی، کچھ دیر تو وہ بے زاری سے بیٹھی رہیں پھر مجبوراً کلثوم کے کہنے پہ عمل کر ہی ڈالا ،اب دروازے کے پاس دسترخوان پہ اتنی جگہ بن گئی تھی کہ وہ آدھی چادر پہ اور آدھی چپلوں پہ بیٹھ جائے سو وہ غنیمت جان کر وہیں بیٹھ گئی۔
وہ خالی پلیٹ پہ نظریں گاڑے خاموش بیٹھی تھی،جیسے پلیٹ پہ بنے نقش و نگار یاد کر رہی ہو۔۔ مگر ‘اُس’ کے کان کمرے میں ہوتی چہ  مگوئیوں کی طرف تھے۔ کیسے نہ ہوتے جب کہ ہر ہر جملے میں اس کا ذکر تھا۔
” دو مہینے رہ کے آئی ہے وہاں” کسی نے کانوں کو ہاتھ لگا کر بتایا۔
“ہونہہ، مجھے تو لگتا ہے جھوٹ بول رہی ہے، کوٹھے والے ایسے بھاگ نکلنے کا موقع دیتے ہیں کیا۔ خود ہی کچھ کر کے آئی ہوگی۔۔” ایک اور نے با آواز بلند سرگوشی کی،چاول ‘اُس’ کے حلق میں پھنسنے لگے۔
“توبہ توبہ کتنی بے شرم ہے، کیسے سکون سے بیٹھی ہے۔ ہم تو عزت کے نام پہ مر جائیں۔ باپ بھائی کی عزت ہی خاک میں ملا دی”۔
ایک اور کونے سے آواز آئی۔۔
” واہ ری نجمہ تو تو بڑی عزت والی ہے جیسے ہمیں کیا پتا نہیں تیری ذات والے کیا کیا کرتے ہیں۔۔” کونے والی عورت کے سامنے بیٹھی عورت نے اِس کی حمایت میں نہیں بلکہ اپنے ہی کسی بغض میں جل کر کہا۔
” تیری ہمت کیسے ہوئی میری ذات تک پہنچنے کی نیچ ذات کی تو تو خود ہے۔ میرا بھائی سردار ہے اپنے قبیلے کا گبرو جوان۔ہمارے خاندان میں ایسی عورت کو کاٹ ک پھینک دیتے ہیں تو عزت کی بات کرتی ہے، تیری قوم والے ہیں  نیچ ، گھر بیٹھ کر گھر کی عورتوں کو کمانے کے لیے بھیج دیتے ہیں، اور تو خود بھی ایسی ہوگی روز نیا آدمی بدلتی ہوگی، تبھی تو اس کی حمایت کر رہی ہے۔. ” نجمہ نے سامنے رکھی پلیٹ پٹخ کر آستین چڑھا لی۔
” میں کیوں کروں حمایت ایسی گندی عورتوں کی، حمایت کرے میری جوتی۔ تمہاری ذات والے کاٹ کے پھینک دیتے ہیں یعنی تمہاری عورتیں کرتی ہیں نہ ایسے گندے کام۔ اللہ معاف کرےہماری قوم میں تو ایسی حرکت کبھی کسی عورت نے نہیں کی۔” سامنے والی عورت کی بھی تیوریاں چڑھ گئیں۔
“ہاں بھئی ان دونوں کی قوموں کی عورتیں صرف گھر سے بھاگتی ہیں یار کے ساتھ، شوہر اور بچوں کو چھوڑ کے، اور پھر گھر کے غیرت مند مردوں سے جان بچاتی پھرتی ہیں۔ ”
ان دونوں عورتوں سے کچھ فاصلے پہ بیٹھی سولہ سترہ سال کی لڑکی بلند آواز میں بولی۔ اس کے اردگرد بیٹھی اسی کی طرح کی چند اور جوان لڑکیاں کھلکھلا کے ہنس پڑیں۔ جس میں بے ساختگی کم اور طنزو تحقیر زیادہ نمایاں تھے۔
” زیادہ بڑھ بڑھ کے نا بول فائزہ۔۔۔ تو بھی یار کے لیے ہی نکل کے آئی ہے۔” نجمہ کی حمایتی کسی تیسری عورت نے کہا۔۔

” میری پیاری عزت دار آپا جی،یار کے لیے نکل کے آئی ہوں مگر میاں اور بچے چھوڑ کے نہیں آئی، تم لوگوں کی طرح بے حس نہیں ہوں جو اپنے مزوں کے لیے اولاد کو بھی پھینک آتی ہیں۔ ” فائزہ ہوتی ہو گی کبھی کم گو ڈری سہمی سی کم عمر لڑکی مگر تین ماہ میں وہ بھی طاق ہوچکی تھی۔

” فائزہ تو ماں بنے تو پتا چلے کوئی عورت خوشی سے بچہ چھوڑ کے نہیں آتی۔ میرا تو دودھ پیتا بچہ چھین کے گھر سے نکال دیا تھا۔ ” نجمہ تڑپ کے بولی
” اچھا۔۔۔۔ مگر تمہارا تو بھائی گبرو سردار ہے نا؟ پھر بھی۔۔۔” فائزہ کے لہجے میں طنز کی کاٹ تھی
“باجی کلثوم چاول تو دو کتنی دیر سے خالی پلیٹ لیے بیٹھے ہیں۔” نجمہ کو کوئی جواب نہیں سوجھا تو اپنی خالی پلیٹ یاد آگئی۔
‘اس’ نے اپنی پلیٹ کے بچے کچے چاول سمیٹ کے چھوٹا سا نوالہ بنا کر منہ میں رکھا اور پوریں چاٹ کر اٹھ گئی۔ کلثوم نے اسے اٹھتا دیکھ کر پیچھے سے آواز دی۔
” اے سنو لڑکی۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے تمہارے بھائی کا فون آیا تھا، وہ کل عدالت سے تمہیں آکر لے جائے گا، سامان سمیٹ کے رکھنا اور صبح جلدی اٹھ جانا۔” پچھلے چار دن میں پہلی بار اس کے چہرے پہ سب نے بہت مبہم سی مسکراہٹ دیکھی۔وہ سر ہلا کر باہر نکل گئی۔
پیچھے رہ جانے والے تمام نفوس اپنے گھرانوں کی عزت اور بڑائی کے دعوے ہاتھ میں موجود خالی پلیٹ کی طرح تھامے دارلامان کے اُس کمرے میں بیٹھے رہ گئے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *