• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا نشے کی لت سے چھٹکارہ ممکن ہے؟۔۔۔۔نذر محمد چوہان

کیا نشے کی لت سے چھٹکارہ ممکن ہے؟۔۔۔۔نذر محمد چوہان

SHOPPING

مجھے بہت سارے پیغامات اس موضوع پر لکھنے کے لیے آئے لیکن چونکہ میں کوئی نفسیات کا ماہر نہیں ہوں لہٰذا لکھنے سے اجتناب کیا ۔ پچھلے دنوں ایک دوست نے لکھا کہ  انہیں اس چیز کا علم ہے کےہ آپ کا نفسیات سے تعلق نہیں تاہم پھر بھی وہ اس پر میری رائے چاہیں گے ۔
میرا اس معاملے  میں سب سے پہلا سوال یہ ہے ، کہ ایسا ہوتا کیوں ہے ؟ اگر ہم یہ جان لیں تو اس پر کنٹرول بھی ممکن ہے ۔ جیسا کہ میں نے کل کے بلاگ میں لکھا تھا کہ پہلے ہم غمگین ہوتے ہیں اور پھر تنہائی  میں جاتے ہیں ۔ ایسا ہرگز نہیں ہوتا کہ  پہلے تنہائی  اور بعد میں تنہائی کے غم میں ۔ اسی طرح ہم کسی بھی لت اور نشہ میں تب پڑتے ہیں ، جب ہم دنیا داری کی بازی ہار جاتے ہیں ۔ دنیاداری ایک بہت بڑی جعل سازی ہے ، یہ بالکل اسی طرح کا فعل ہے جیسے کہ  ایک دریا کے بہاؤ کو روکنا ۔ ایک بہت ہی غیر قدرتی عمل ۔ آپ اس معاملہ میں ایک بہت مشہور مغربی روحانی ادیب گیری زوکاو کی کتاب “دی سیٹ آف دی سول” ضرور پڑھیں ۔ گیری بہت مشہور امریکی روحانی استاد ہے اور میں اس کے بیانیہ کا بہت زیادہ معتقد ۔
میرے کل کے بلاگ میں ، پندرہ مہینہ کی بچی مایا جس کو اس کی والدہ نے انجان جزیرے میں کتابوں کی دکان پر چھوڑ کر سمندر میں چھلانگ لگا دی وہ دراصل اس جعلی زندگی کو ہار گئی  تھی اور چیس کی زبان میں اب چیک میٹ ہو چکی تھی ۔ خودکشی کے علاوہ کوئی  چارہ نہیں تھا ۔ مایا جب بڑی ہوئی  اور اس نے لکھاری بننے کا فیصلہ کیا تو ایک شارٹ اسٹوری لکھنے کے مقابلہ میں اپنی والدہ کی خودکشی کی کہانی لکھی ۔ وہ لکھتی ہے کہ والدہ ایک انتہائی  غریب خاندان سے ہوتی ہے اور اتنی ذہین ہوتی ہے کہ اسے ہارورڈ میں سکالرشپ مل جاتا ہے ۔ وہاں وہ زندگی کو بالکل مختلف زاویے سے سوچنا شروع کرتی ہے ۔ ایک شخص اس کا استحصال کرتا ہے جس سے ہی مایا پیدا ہوتی ہے ۔ ایک وقت آتا ہے کہ  اس کے پاس مایا کی دیکھ بھال کے لیے نہ آیا کا خرچہ ہوتا ہے اور اوپر سے پڑھائی کا، کھیل بھی ہار جاتی ہے ۔ ہارورڈ یونیورسٹی پڑھائی  میں پیچھے رہنے پر سکالرشپ ختم کرنے کا عندیہ دیتی ہے ۔ وہ اپنی بیٹی مایا کو اس جزیرہ میں جہاں سے وہ شیطان ہوتا ہے کو ایک کتابوں کی دکان پر چھوڑ کر خودکشی کا فیصلہ کرتی ہے ۔ مایا لکھتی ہے کی  اس کی والدہ اسے دوکان پر چھوڑ کر سمندر کی لہروں پر سوار ہو جاتی ہے یہ جانتے ہوئے کہ یہ لہریں صرف آگے کی طرف جائیں گی اور اسے ہرگز واپس نہیں لوٹائیں گی  ۔
اس دنیا کی زندگی درحقیقت بہت ہی آسان ، سادہ اور خوشی والی ہے بشرطیکہ ہم اسے قدرت کی عینک سے دیکھیں ۔قدرت سے کسی بھی قسم کا کوئی میچ نہ ڈالیں ۔ اگر ہمارا ایمان ہے کہ ہماری قسمت اور ہمارے مقدر میں جو کچھ لکھا ہے وہ ہمیں مل کر رہنا ہے ، تو پھر غم کیسا ؟ جستجو کیسی ؟ کیسا مقابلہ اور کونسی ہار جیت ؟ ہار کر ہی ہم کوئی  نہ کوئی  لت پکڑتے ہیں ، شراب کی ، جوؤے کی ، ہیروئن کی اور بے شمار فضولیات کی ۔ ایک موقع آتا ہے کہ  ہم ڈیڈ اینڈ پر پہنچ جاتے ہیں اور بس پھر موت کا رقص ہمارا منتظر ۔ چھاتی پر بم باندھ کر خودکش بمبار بننا بھی یہی بیماری ہے ۔ عہدوں کا نشہ بھی یہی علت ہے ۔ طاقت کا کھیل ہی بھٹو، ضیاء ، نواز شریف اور مشرف جیسے بونوں کو  ذلیل و خوار کر گیا ، اب نہ وہ زندہ ہیں نہ مردہ ۔
لیکن آپ جتنا مرضی زیادہ اس میں چلے جائیں واپسی کا راستہ ہمیشہ رہتا ہے بشرطیکہ آپ واپس آنا چاہیں ۔ جیسا کہ  میں کہتا ہوں ہر قدرتی چیز ہر دن روز تروتازہ دوبارہ جنم لیتی ہے ان سب کی ہر لمحہ تجدید ہوتی ہے ۔ سورج مکھی پھول کیسے سورج کی روشنی میں پھر ایک دم شان و شوکت سے کھِلتا ہے ۔ مایا نے ٹھیک لکھا کہ  ہر رات سونا بھی موت کے برابر ہوتا ہے کیونکہ اگر صبح نہ اٹھیں تو زندگی ختم ہو جاتی ہے ۔
میں امریکہ میں کچھ اپنے نالج کے لیے مختلف ہوسپائس اور ریہیب میں جاتا ہوں ۔ بہت ساری انفارمیشن مجھے اپنے تجزیوں اور زندگی کو سمجھنے میں ملتی ہیں ۔ اس لت سے چھٹکارہ کا سادہ حل یہ ہے کہ سب سے پہلے فیصلہ کر لیں کہ  آپ نے اس سے نکلنا ہے ۔ وہ ارادہ اس طرح کا ارادہ نہ ہو جو تبلیغی چلہ کا کرواتے ہیں ۔ بلکہ آپ کا اپنا ، سچا پکا اور یقین کامل والا ارادہ ۔ میں کہتا ہوں ، پچاس فیصد مسئلہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اسی وقت حل ہو جائے گا ۔
دوسرے مرحلہ میں کسی بھی روحانی استاد کی کتب کا مطالعہ شروع کریں یا میرے ہی کوئی  پانچ سو بلاگز پڑھ لیں ۔ سب میں خوشگوار زندگی گزارنے کے طریقے مثالوں کے ساتھ درج ہیں ۔ ہمارے اسلامی صوفیا کا کلام پڑھیں ۔ ان کے مزاروں پر چادر چڑھانے یا دیگیں دینے نہیں بلکہ سکون کے لیے جائیں ۔ شاہ لطیف کے مزار پر چاندنی رات میں شاہ جو راگ دنبورہ پر فقیروں سے سنیں ۔ کیا سسی پنوں اور سوہنی مہینوال کی کہانی شاہ جو زبانی دنبورہ پر سننے کا مزہ ، جب سوہنی کی کہانی پر سننے والوں کو کھیر / دودھ بانٹا جاتا ہے ۔
تیسرا مرحلہ ، جو آپکو نشہ ہے اس کو بتدریج ختم کرنے کا ہے ۔ جیسے کے ہر دن ایک ڈبیا سگریٹ کی پیتے ہیں دو سگریٹ کم کر دیں ۔ روز جؤا کھیلتے ہیں ہفتہ میں تین دن کر دیں ۔ روز خواتین کی محفل میں جاتے ہیں ہفتہ میں دو دن کر دیں ۔ آپ کے جسم کے کیمیکل آہستہ آہستہ اس نشہ سے آپ کو نکالیں گے ۔ خاص طور پر ہیروئن کے نشئیوں کو تو اس سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ بھنگ ، چرس اور افیون واے نسبتا جلدی نکل سکتے ہیں ۔
چوتھا اور آخری کام ، ان تینوں اوپر بتائے مراحل کے ساتھ ساتھ جو بہت ضروری چیز کرنے والی ہے وہ ہے عبادات ۔ جو بھی عبادت آپ کو پسند ہے ۔ نماز ، روزہ ، عمرہ ، نوافل ، تسبیح ، موسیقی ، رقص ، اس پر جُت جائیں ۔ زہن میں یہ رکھیں کہ  یہ کائنات حسین صرف آپکی وجہ سے ہے اگر آپ غمگین ہیں تو پھر ساری کائنات بھی اسی طرح آپ کو غمگین ہی لگے گی ، دنیا کی ہر چیز آپ کو کاٹنے کو دوڑے گی ۔ آپ کو اس دنیا میں لانے کا رب قدیر و جلیل کا مقصد صرف اور صرف اپنے سے محبت کا تھا ۔ آپ نے اس خالق کی محبت کو ہر صورت پانا ہے ۔ یقین کریں یہ محبت پانا بہت ہی آسان ہے پیسہ کمانے سے ہزاروں گنا آسان ۔ کل میں اپنی بلی سِمبا سے پیار کر رہا تھا ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں ہم دونوں کے بنانے والے کو پیار کر رہا ہوں ۔ ہم تینوں اس پیار میں شمال ، ہمہ تن خوش ۔ ہر وقت ہر لمحہ اس بنانے والے خالق کا شکر ادا کریں جس نے ان حسین مناظر کو دیکھنے کا موقع آپ کو عنایت کیا اور اپنی پسندیدہ تخلیق بنایا ۔ یہ مادہ پرستی تمام بیماریوں کی جڑ ہے ۔ اس نے پوری دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ۔ پیسہ یا کوئی  بھی مٹیریل چیز آپ کو خوشی نہیں دے سکتی ۔ ساحر لدھیانوی نے کہا تھا ؛
“آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں
ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں “
یہ محبت کا معاملہ ہی بالکل مختلف اور کچھ عجیب و غریب رنگ کا ہے ۔ خدا سے عشق لگائیں ، اس کی کائنات سے عشق لگائیں ، پھل ، پھول ، وادیاں ، سبزہ ، ہریالی ، کھیت ، چاند سورج ، سمندر اور پہاڑ ، کیا کچھ نہیں قدرت نے فراہم کیا مزے لینے کے واسطے ۔ جگر مراد آبادی نے اسی کو لکھا ؛
“آتش عشق وہ جہنم ہے
جس میں فردوس کے نظارے ہیں”
آپ کی سب بیماریاں ، سب نشہ ، سب غم ، ساری کی ساری پریشانیاں آپ کی اپنی لگائی  ہوئی  ہیں ۔ اور آپ خود ہی ان سے باآسانی چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں ۔ صرف اور صرف ارادہ اور کوشش ضروری ہیں ۔ اللہ تعالی آپ سب کی زندگیاں آسان کرے ۔ آپ کو قدرتی زندگی لُطف لینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
بہت خوش رہیں۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *