گھٹیا افسانہ نمبر21۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

اگر میں بار بار دھوکا کھا رہا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھ میں غلطی ہے۔ میں اپنی طرف سے تو لوگوں کے ساتھ نارمل رویہ روا رکھتا ہوں۔ گفتگو کے دوران بھی کوشش کرتا ہوں کہ میرا رویہ نارمل رہے۔ لیکن کہیں نہ کہیں مسئلہ تو ہے۔ تم اتنے عرصے سے میرے ساتھ رہتے ہو۔ مجھے بتاؤ میری غلطی کیا ہے۔ میں حیران ہورہا ہوں کہ اپنے ڈرائیور سے یہ باتیں کیوں ڈسکس کر رہا ہوں۔ کہیں میں پاگل تو نہیں ہو گیا آخر میں اپنے آپ کو کنٹرول کیوں نہیں کر پا رہا۔اپنے ڈرائیور کے ساتھ یہ گفتگو کیوں کر رہا ہوں۔ ساجد میری باتیں غور سے سن رہا ہے۔ کہتا ہے کہ آپ خواہ مخواہ لوگوں کو اپنے بہت قریب کر لیتے ہیں.۔اپنے قریب مت آنے دے لوگوں کو۔ میں نے بات غلام سرور سے ڈسکس کرنے کی ٹھان لی ہے اس سے مشورہ کرتا ہوں۔وہ نفسیات کو صحیح طریقہ سے سمجھتا ہے۔ بلکہ وہ رویوں کو بھی بہتر طریقے سے سمجھتا ہے۔ ایک سائنسی نقطہ نظر سے سمجھتا ہے۔ بہت غور سے غلام سرور کی گفتگو سن رہا ہوں۔ ہم سب نے اپنے اردگرد ایک شخصی حصار قائم اور دیگر لوگوں کے لیے مختلف حدود متعین کر رکھی ہوتی ہیں۔ مثلاً جن سے بے تکلف نہیں ہونا چاہتے یا ہمیں کوئی خطرہ ہوتا ہے تو عموماً اُن سے بات چیت کرتے ہوئے کم از کم تین یا چار فٹ کا فاصلہ رکھتے ہیں۔ جبکہ جن سے نہ تو کوئی خطرہ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ بہت اجنبی ہوتے ہیں ان سے ہم ڈیڑھ فٹ کے فاصلے سے بات چیت کرنے میں مسائل کا سامنا کم ہی کرتے ہیں  لیکن اِس سے بھی زیادہ اُس کو قریب آنے کی اجازت دیتے ہیں جب وہ آپ کو بہت عزیز ہے یا آپ کے مخاطب کو بات کرنے کا طریقہ نہیں آتا۔ جسمانی حرکات و سکنات پر قابو رکھنا ضروری ہے ورنہ لوگوں کی طرف سے کسی بھی غلط فہمی کی صورت میں آپ دوسروں کو کبھی بھی قصوروار نہیں کر سکیں گے اور ایسی صورتحال کا سامنا آپ اِس وقت کر رہے ہیں۔ ہاں کچھ حرکات میں تو بےاختیار ہیں لیکن کچھ جسمانی حصوں پر اپنا کنٹرول رکھ سکتے ہیں۔ مثلاً چہرے اور ہاتھوں کی حرکات کو اپنے اندرونی احساسات کی چغلی کھانے سے روک سکتے ہیں، لیکن ٹانگیں زیادہ اہم ہیں۔ یہ تمام کام بگاڑ سکتی ہیں۔

میں نے جیسے ہی کار گیٹ کے لاک میں اپنی چابی گھسیڑی تو کار کا الارم حسب توقع بولا تو فوراً سینسر کار کے گیٹ سے لگا دیا جس سے اُس کے اندر سے سسکی نما ٹوں کی ہی آواز برآمد ہوئی ہے۔ میں نے گاڑی میں بیٹھتے ہی ساتھ والے گیٹ کا لاک کھولا تاکہ انوارا اندر آ جائے. انوارے کے اندر آنے تک میں کار کے سٹارٹ بٹن کو دبا چکا ہوں مگر اِس بار آلارم ایسا بولا ہے کہ کان کے پردے پھاڑ دئیے ہیں. انوارا ہلکا سا ٹھٹھکا اور فوراً باہر نکل کر بھاگ رہا ہے۔ میں بھی فوراً نکل کر ڈگی کی طرف گیا ہی ہوں کہ ایک پولیس والے نے مجھے گریبان سے پکڑ لیا ہے جو شاید ساتھ والی جیپ کی دوسری طرف کھڑا تھا۔میری آنکھوں سے کوئی تین گھنٹے بعد پٹی کھولی گئی تو معلوم پڑا جس ہنڈا سیوک کو اٹھانے کی کوشش ہم نے کی تھی وہ علاقے کے ایس ایچ او کی ہے جس پہ اُس کے بچے شاپنگ کرنے آئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ایس ایچ او اندر آ گیا ہے۔ میرا منہ درد کر رہا ہے۔ ایک سانڈ جیسے موٹے سپاہی نے  درجنوں  تھپڑ مارے ہیں،میرا خیال ہے اُس کا اپنا ہاتھ درد کرنے لگ گیا تھا ورنہ اُس کو مجھ پہ ترس کوئی نہیں آیا ہے۔ ایس ایچ او غور سے مجھے پیروں سے اوپر سر تک بھی نہیں دیکھا ہے۔ کتی کے بچے انڈے سے نکلتے نہیں ہیں اور کاریں چوری کرنے لگ جاتے ہیں۔ اِس سے پوچھو ساتھ والا کون ہے۔۔۔۔۔ میں نے کہا ہے کہ میں اکیلا کام کرتا ہوں۔ ایس ایچ او نے اب سر اٹھا کر مجھے دیکھا ہے۔ ہاتھ میں پکڑی ہوئی سٹک کو آؤ دیکھا نہ تاؤ میرے سر منہ پہ مارنی شروع کر دی ہے،مجھے اپنے چہرے پہ بہتا ہوا خون محسوس ہو رہا ہے، سور کے بچے تجھے معلوم نہیں ہے کہ تو کس سے بات کر رہا ہے، تو اگر اپنے اصل باپ کو بھی لے آ تو بھی مجھے برداشت کرنا اُس کے بس کی بات نہیں ہے۔

مجھے معلوم نہیں ہے آپ کون ہیں ،اگر معلوم ہوتا تو آپ کی کار کو ہاتھ بھی نہ لگاتا۔ آپ پولیس والے ہیں آپ کی مرضی ہے آپ جو سلوک کریں لیکن یقین کریں میں اکیلا ہی تھا  ۔۔۔ایس ایچ نے زور سے لات میرے سینے پہ دے ماری ہے،میں کرسی سمیت اچھلتا ہوا پیچھے کو گر گیا ہو۔ وہ خود بھی ساتھ والے سپاہی کے سہارے سے گرتے ہوئے بچا ہے۔ اُس نے مجھے مارنے کا کہا ہے اور باہر نکل گیا ہے۔ ساری رات مجھے آٹھ دس سپاہیوں نے باری باری اور ملکر مارا ہے۔ تین بجے انہوں نے ہاتھ روکا ہے تو میری آنکھوں میں بہتا ہوا خون جمع ہو رہا ہے، میں بار بار آنکھیں کھول اور بند کر رہا ہوں مگر کچھ بھی نہیں دکھائی دے رہا ہے ۔ میرے دانت سے لیکر پاؤں کے ناخن تک درد کر رہے ہیں، میں مر جاؤں گا، صبح جانے کس وقت ایس ایچ او کمرے میں داخل ہوا ہے، صبح ہے یا نجانے کیا وقت ہو رہا ہے،میں نے ایس ایچ او کو بتایا ہے کہ میں اکیلا ہی تھا، مجھ سے بولا نہیں جا رہا ہے، ایس ایچ او کو میری حالت پہ ترس آ رہا ہے.آج شاید دوسرا ہفتہ گزر چکا ہے، مجھے لگتا ہے ایس ایچ او کو اپنی توہین محسوس ہوئی ہے، مجھے چارپائی پر باندھ کر میری ٹانگیں مختلف سمیت میں چیری ہیں۔ حتی کہ اب میں چلتے ہوئے گر پڑتا ہوں  مگر ایس ایچ او اِس بات پہ اڑا ہوا ہے کہ میں اُسے انوارے کے بارے میں بتاؤں۔ اُس نے مجھے اچھے سے اچھا کھانا کھلایا ہے۔ ساتھ بیٹھ کر دو بوتلیں شراب پی اور پلائی ہے۔ عجیب عجیب طریقے سے مجھ سے باتیں پوچھی ہیں۔ مقصد انوارے کا آتا پتہ معلوم کرنا ہوتا ہے.۔ سارا دن ساری رات مجھے جگایا جاتا تھا ہلکی سی آنکھ لگنے پہ بھی تھپڑ مارے جاتے تھے۔میں نے ہر بار یہی بتایا کہ میرا  نام پتہ یہ ہے اور میں ہمیشہ اکیلا کام کرتا ہوں، ایس ایچ او کہتا ہے کہ اُس نے انوارے کو کار سے نکل بھاگتے ہوئے دیکھا ہے۔ پولیس والا اُس کے پیچھے بھاگا تھا مگر وہ اُس کو بھی دھکا مار کر بھاگ گیا۔ آج ایس ایچ او نہیں آیا۔ مجھے بندھے ہاتھوں کے ساتھ جیپ میں بٹھایا گیا ہے۔ سپاہیوں نے کہا خاں صاحب آج اِس کا اِن کاؤنٹر کر رہے ہیں۔ مجھے نہر کے ساتھ کہیں اتارا گیا ہے۔ ایس ایچ او کے پوچھنے پہ بتایا کہ میں اکیلا تھا۔ ایس ایچ او نے قہقہے لگاتے ہوئے ساتھیوں سے کچھ کہا ہے جو مجھے سنائی نہیں دیا.۔مجھے ہاتھ پاؤں باندھ کر زمین پہ بٹھایا گیا ہے۔ ایک موٹے رسے سے میرا دائیاں پاؤں باندھ دیا ہے، سردی سے میرے دانت آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ مجھے نہر میں پھینک دیا گیا ہے۔ ایس ایچ او ایسی کیا ٹینشن ہے کہ مجھے نہر میں پھینک دیا ہے۔۔۔ میرے منہ میں پانی داخل ہو کر حلق میں داخل ہو رہا ہے۔ مجھے الٹی آئی ہے مگر میری آنکھیں باہر نکل رہی ہیں۔مجھے باہر نکالا تو میں بےہوش ہونے کے قریب ہوں۔ایس ایچ او سگریٹ سلگا رہا ہے، مجھے بہت دھندلا نظر آ رہا ہے، میرے آنسو، ناک کا پانی اور تھوک ملکر میری ٹھوڑی سے لٹک رہا ہے جس میں زیادہ مقدار پیپ ہی کی ہے۔ ایس ایچ او نے آگے بڑھ کر ایک ٹانگ میرے منہ پہ ماری ہے جس سے میں اوندھے میں ایسے گر گیا ہوں جیسے سجدہ کیا جاتا ہے۔ ایس ایچ او نے دوسری لات مجھے پسلیوں میں ماری ہے،میرے منہ سے درد کی چیخ نہیں نکلی کیونکہ جان میرے اندر سے نکل چکی ہےہاں اوئے حرامی کنجر کون تھا تیرے ساتھ.
سرکار۔۔۔۔ میں چپ ہو چکا ہوں!
یقین کرو۔۔۔
میں پھر بول رہا ہوں میں اکیلا ہی تھا، ایس ایچ او میری بات سن کر بولا ہے کہ تم واقعی حرامی ہو، مجھے شاید بیس دن بعد پانچ سو گرام چرس کے پرچے میں عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

دلکش موسم نفسیات پہ کیسے اثر ڈالتا ہے۔ کیسے انسان کے مزاج کو بدل دیتا ہے۔میں اگر آج نبیل کے ساتھ یہاں نہ آیا ہوتا تو ابھی تک دفتر میں بلب گن رہا ہوتا، کتنے سپلائی کے لیے تیار ہیں اور کتنوں کی رقم واپس آ چکی ہے،دریا پہ آ کر یادیں تازہ ہو گئیں ہیں۔ نبیل کیسے اچھل رہا تھا۔ لہک لہک کر اپنی ہمسائی کے ساتھ اپنے معاشقے کی داستاں سنا رہا تھا۔ وہ سردیوں کی بارش میں بھی بھیگ رہا تھا۔ عشق اُس کے انگ انگ سے نظر آ رہا تھا وہ شعر پہ شعر پڑھ رہا تھا۔میں اُس کا ساتھ دے رہا تھا، اُس کے چہرے کی وجاہت پہ مزید نور مسلط تھا، وہ ایسا خوش تھا کہ نور آور چہرے بھی ماند پڑ رہے تھے. نبیل اُس لڑکی ہے عشق میں بری طرح مبتلا تھا، مگر آج وہ کچھ خاموش ہے،اُس دن تو دانت نہیں چھپ رہے تھے،وہ بتاتا جارہا تھا کہ اُس کا بھائی اور ماں راضی تھے اور باپ کو بھی راضی کر لینے کا عندیہ بھی دے رہے تھے، لڑکی بھی خوش شکل اور پڑھی لکھی تھی.،اُس نے بتایا کہ وہ خاصی کتب بین بھی تھی، عمیرہ احمد کے سارے ناول پڑھ چکی تھی ، تب الکھ نگری پڑھ رہی تھی، اقبال، غالب اور میر کی حافظہ تھی  اور ساتھ میں جو سگھڑ تھی۔ وہ اُس وقت گھر سجانے اور بچوں کے ناموں کو زیر بحث لاتی تھی، میں اُس کی باتیں سُن کر خوش ہو رہا تھا، مگر آج صورتحال مختلف ہے،وہ بتا رہا ہے کہ اُسکی محبوب بیوی طلاق مانگ رہی ہے،میں نبیل کا سارا معاملہ سمجھ کر، سن کر اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرکے گھر آیا بیٹھا ہوں، اباجی کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھاتے ہوئے سارا قضیہ سنایا ہے۔ اباجی بھی حیران ہو رہے ہیں، اب نبیل کے سسرال آیا بیٹھا ہوں، بھابھی نقاب کیے اپنے والد اور بھائی کے ساتھ میرے سامنے ہے، بتا رہی ہے کہ نبیل نے ہمیں بھوک کے ہاتھوں روزے رکھوائے ہیں۔روز کسی نہ کسی سے جھگڑ کر آ جاتا ہے، کہیں ٹِک کر کوئی کام نہیں کرتا.،میں نے سوچا آج حالات بدلیں گے کہ کل بدلیں گے  مگر اب بچوں کی فیسوں کے پیسے ابو اور بھائی سے مانگنے ہیں تو نبیل کا منہ ہی صرف پیارا نہیں ہے۔۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *