پاک بھارت جنگ۔۔۔۔۔ ماسٹر محمد فہیم امتیاز/قسط1

ہماری عوام کی مجموعی طور پر یہ ذہنیت بن چکی ہے کہ جنگ نہیں ہوگی،بھارت حملہ نہیں کرے گا،لیکن اگر کر دیتا ہے، تویہ ذہنیت ہی، خدانخواستہ سب سے زیادہ نقصان کرے گی،کیونکہ جنگ میں سرپرائز ایک بہت بڑا ویک پوائنٹ ہوتا ہے،دفاع کرنے والے کا۔ اگر اچانک حملہ کیا جائے،اگر غیر یقینی صورتحال بن جائے تو سامنے والا سنبھل نہیں پاتا،تیار نہیں ہوتا اس صورتحال کے لیے۔۔ٹھیک ہے مان لیا جنگ نہیں ہوگی،لیکن اگر ہو گئی تو!! لہٰذا دشمن کو انڈر اسٹیمیٹ نہیں کرنا،اوور کانفیڈینٹ نہیں ہونا، ہم نے اپنی تیاری مکمل رکھنی ہے، تاکہ جنگ نہ ہو تو ویل اینڈ گڈ ، اگر ہو گئی تو بھی ہمیں کم از کم غیریقینی صورتحال سے دوچار نہ ہونا پڑے۔

اس کے علاوہ بھی میرے نزدیک تو جنگ کے بیس سے پچیس فیصد چانسز موجودہ ہیں کچھ وجوہات کی بنا پر وجوہات میں سب سے پہلے پاکستان کی دن بدن سنبھلتی ہوئی حالت، پاکستان کا دن بدن استحکام کی طرف جانا، معاشی، سفارتی، دفاعی،محاذ پر اور قومی ایشوز پر بھی، یہ بات بہت واضح ہے کہ دشمنانِ اسلام پاکستان کو مستحکم ہوتا نہیں دیکھ سکتے لہٰذا اب جب اکنامک وار، دہشتگردی، آئیسولیشن وار، اندرونی خانہ جنگی سمیت تمام تر ہتھکنڈے ناکام ہو چکے ہیں اور پاکستان پھر بھی آگے ہی آگے جا رہا تو یہاں پر دشمنانِ اسلام و پاکستان کے پاس پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے فوری طور پر کوئی حل نہیں بچتا سوائے چھوٹے موٹے حملے سے جس سے انگیج کیا جا سکے، دوسری وجہ کلبھوشن یادیو کا کیس جس کے ذریعے سے بھارت عالمی برادری میں ذلیل ہونے کو ہے اس طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے بھی کوئی اوچھا ہتھکنڈہ ہی اپنانا ہو گا بھارت کو، تیسری وجہ خالصتانیوں کا ریفرنڈم 2020 کا منڈلاتا ہوا خطرہ کہ اگر پاکستان مستحکم ہوا تو یہ دو ہزار بیس میں خالصتان ریفرنڈم کو سپورٹ کرے گا لہٰذا کسی طرح 2020 سے پہلے پہلے اسے اندرونی یا بیرونی کسی بھی معاملے میں الجھایا جائے۔

tripako tours pakistan

یاد رکھیں کہ یہی بات کشمیر کے حوالے سے انڈیا کا سابق جنرل بکرام سنگھ آن آئیر ٹی وی شو میں بیٹھ کرکہہ چکا کہ اگر کشمیر سے توجہ ہٹانی تو پاکستان میں بی ایل اے جیسی تنظیموں کو سپورٹ اور اس جلتی آگ پر مزید تیل پھینکنا ہوگا، تاکہ پاکستان اندرونی معاملات میں الجھا رہے اور کشمیر پر توجہ نہ دے، تو ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ بھارت کی ذہنیت کیا ہے، بالکل اسی طرح وہ خالصتان تحریک کو آئیسولیٹ کرنے کے لیے بھی پاکستان کو انگیج کرنے کی کوشش کرے گا، چوتھی وجہ سی پیک،کہ اگر سی پیک کے ذریعے تجارت شروع ہو گئی تو دنوں میں پاکستان مضبوط اور اس کے پیچھے چین اور روس جیسی طاقتیں مل کر ایک مضبوط اتحاد بن جائے گا، سفارتی محاذ پر پاکستان کا دن بدن بہتر ہوتا امیج بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ تو اس ساری صورتحال میں ایٹمی تو نہیں مگر کوئی چھوٹی موٹی جنگ چھیڑ کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے، کلبھوشن کیس سے توجہ ہٹانے،سی پیک کو متاثر کرنے، سفارتی امیج کو بگاڑنے، خالصتان تحریک کو  آئیسولیٹ کرنے، بین الاقوامی سطح پر بہتر ہوتے پاکستانی امیج کو خراب کرنے کے لیے اگر انڈیا جنگ کا سوچتا بھی ہے تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہ ہوگی۔

جنگ کی صورت میں ہماری فتح تو یقینی ہے، لیکن ہماری جو توجہ ہونا چاہیئے وہ نقصان پر ہونا چاہیے کہ ہمارا نقصان بھی کم سے کم ہو،اموات کم ہوں،معیشت تباہ نہ ہو، انفراسٹرکچر تباہ نہ ہو۔اس کے لیے ہمیں تیاری کرنی ہوگی۔ کیونکہ غزوہ ہند کی بشارت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیٹھ جائیں، ہماری ایمانی طاقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تو زیادہ نہیں نا!جب اس وقت حکم آیا کہ “ترجمہ:”اور اے مسلمانو! تم سے جس قدر ہو سکے کافروں کے مقابلہ کے لئے ہرقسم کے سامان جنگ سے‘ اور پلے ہوئے گھوڑوں کے باندھے رکھنے سے تیاری کرتے رہو‘ تاکہ اس آمادگی اور تیاری کے باعث تم اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر دھاک بٹھائے رکھو اور ان کے علاوہ اور دوسرے کافروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے‘ پر اللہ ان کو جانتا ہے“۔

تو اس کا مطلب ہے شہزادو تیاری کرنی ہے، جہاں فتح کی بشارت ہے وہی پر تیاری کا بلکہ بھرپور تیاری کا حکم بھی ہے،تیاری میں سب سے پہلے حالات کا جائزہ لینا ہوتا، اپنے اور دشمن کے دونوں کے مضبوط اور کمزور پوائنٹس کو مدنظر رکھ کر تیاری کرنی ہوتی، زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ہوتا، اور اس تحریر میں آپ احباب کے سامنے وہی تجزیہ رکھنے والا ہوں۔

اچھا ایک بات تو واضح ہے کہ جنگ کی صورت میں ان شاءاللہ بھارت 1965 کی مرمت بھول جائے گا، فتح ہمارا مقدر ہےاس میں کوئی شک نہیں لیکن اس تحریر کو لکھنے کا مقصد زمینی صورتحال آپ کے سامنے رکھنا ہے،کچھ ایسے حقائق جو ہمارے لیے جاننا اور ان کا سدباب کرنا نہایت ضروری ہے، ہمیں ہماری کمزوریوں کا بھی پتہ ہونا چاہیئے،تاکہ ہم اس حوالے سے پیشگی اقدامات کر سکیں۔ لہذا یہ تحریر خالصتاً حالات واضح کرنا ہے آپ پر نہ کہ کسی کو ڈی موٹیویٹ کرنا۔ اس تحریر کا مقصد اپ کو بتانا ہے کہ ہمیں کس کس محاذ پر اور کتنی کتنی تیاری کی ضرورت ہے۔

زمینی حقائق اور صورت حال کیا ہے؟؟

جب کوئی ملک جنگ میں اترتا ہے تو جنگ کا ایک ایک دن سالوں پیچھے لے جاتا ہے، معیشت بیٹھ جاتی ہے،ابھی اس وقت پاکستان تقریباً سو ارب ڈالر کا مقروض ہے ، جنگ صورت میں بے بہا قرضہ لینا پڑے گا، جنگی اخراجات کے لیے پھر انفراسٹرکچر کے لیے، پھر گولہ بارود اور بہت کچھ چھوٹی سی جنگ بھی پہلے سے موجود قرضے کو ڈبل کرنے کا باعث بن سکتی ہے، یعنی دو سو ارب ڈالر۔ اس کے بعد سی پیک میں چائنہ سے ہم نے جو ایرلی ہاروسٹ پراجیکٹس کے لیے قرضہ لیا اس پر سات سے آٹھ فیصد سود ملا کر اگلے بیس سے پچیس سالوں میں 90 سے 95 ارب ڈالر واپس کرنا ہے ہم نے۔ یعنی کہ دو سو گزشتہ اور سو یہ تین سو ارب ڈالر کا قرضہ اور جنگ کے بعد جو حالت ہوتی کسی بھی خطے کی وہ آپ سے چھپی ہوئی نہیں، اس حالت میں 300 ارب ڈالر۔ اور یہ جو سو ارب ڈالر ہم نے واپس کرنا جو سی پیک سے کما کر دینا تھا،وہ کمائیں گے تب جب تجارت ہوگی حالات پر امن ہوں گے۔ جنگ کی صورت میں اگر سی پیک کے پاور پراجیکٹس اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچتا تو اس سے آنے والے کمائی تو کھٹائی میں پڑھ گئی مگر جو قرضہ ہم نے واپس کرنا وہ گلے کی ہڈی بن سکتا،یہ بات ذہن میں رکھیے کہ دشمن ہمیشہ کمزور پوائنٹس پر نظر رکھتا ہے، بھارت کی مکمل کوشش ہو گی جنگ کی صورت میں سی پیک کے انفراسٹرکچر اور پاور پراجیکٹس کو مکمل طور پر سبوتاژ کرنے کی، اور اس صورت میں جنگ بندی کے بعد اگر چائنہ خود سے گھس کر قبضہ نہ بھی کرے تو اقوامِ متحدہ کے پاس جا کر قانونی دعویٰ کر سکتا ہے،کہ میرا پراجیکٹ میری انویسٹمنٹ، میرا انفراسٹرکچر اور پاکستان میرا اتنا مقروض لہٰذا سی پیک میرے حوالے کیا جائے،یہ بات نہ بھولیے کہ چائنہ سب سے پہلے اپنے مفاد کی خاطر ساتھ کھڑا ہے، اس کے علاوہ۔

جاری ہے۔۔

ماسٹر محمد فہیم امتیاز
ماسٹر محمد فہیم امتیاز
پورا نام ماسٹر محمد فہیم امتیاز،،ماسٹر مارشل آرٹ کے جنون کا دیا ہوا ہے۔معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ،سائبر ٹرینر،بلاگر اور ایک سائبر ٹیم سی ڈی سی کے کمانڈر ہیں،مطالعہ کا شوق بچپن سے،پرو اسلام،پرو پاکستان ہیں،مکالمہ سمیت بہت سی ویب سائٹس اور بلاگز کے مستقل لکھاری ہیں،اسلام و پاکستان کے لیے مسلسل علمی و قلمی اور ہر ممکن حد تک عملی جدوجہد بھی جاری رکھے ہوئے ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *