• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مسئلہ کشمیر پر ممکنہ جنگ اور انڈیا ۔ 30 برسوں کے دوران پاکستانی پالیسیوں میں ہونیوالی تبدیلیاں۔ ۔غیور شاہ ترمذی/قسط1

مسئلہ کشمیر پر ممکنہ جنگ اور انڈیا ۔ 30 برسوں کے دوران پاکستانی پالیسیوں میں ہونیوالی تبدیلیاں۔ ۔غیور شاہ ترمذی/قسط1

دنیا بھر کے لئے جنوبی ایشیاء اب بھی سب سے زیادہ بحران کا شکار اور غیر متوازن خطہ ہے۔ 1980ء کی دہائی کے اختتام کے دنوں سے اس خطہ میں انڈیا اور پاکستان کے مابین کشمیر کے متنازعہ علاقہ کے معاملہ پر مسلسل بحرانی کیفیت جاری رہی ہے۔ آج کل ایک دفعہ پھر نئی دہلی اور اسلام آباد سیاسی اور عسکری بحران کی انتہاؤں پر کھڑے ہیں۔ اگر اس بحران کا فوری حل نہیں نکلتا تو دونوں ممالک کے درمیان محدود روایتی جنگ کا خدشہ ابھی بھی موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1971ء کی مکمل جنگ کے بعد یا کارگل پر 1999ء میں محدود جنگ کے بعد کبھی بھی اس قدر خطرہ نہیں تھا کہ دونوں ممالک تمام محاذوں پر محدود روایتی جنگ چھیڑیں گے۔ اس موجودہ بحرانی صورت حال کا براہ راست ذمہ دار انڈیا کی جارحانہ خارجہ پالیسی کو قرار دیا جا سکتا ہے جس کا واحد مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو دباؤ میں لا کر کشمیر کا معاملہ اپنی شرائط پر حل کروایا جائے۔ اس بحرانی صورت حال کو قائم کرنے میں انڈین کشمیری مسلمانوں میں پیدا ہونے والی وحشت اور بے چینی کو پاکستان نے 12 سے زیادہ سالوں تک مدد دے کر اور اُکسا کر بنیادی کردار ادا کیا تھا اور اِس صورت حال کی وجہ سے وہ کشمیر معاملہ پر بہت اچھی فیصلہ کن پوزیشن میں بھی آ گیا تھا مگر امریکہ میں طالبان و القائدہ کی طرف سے 9/11 کے دہشت گردانہ حملوں کے نتیجہ میں واشنگٹن انتظامیہ کی دہشت گردی اور اسلامی بنیاد پرستی کے خلاف عالمی مہم نے جنوبی ایشیاء کے اس سنگین بحران میں بازی انڈیا کے حق میں پلٹنے میں عمل انگیز کا کردار ادا کیا۔

کشمیر میں تقریباًًً 30 سالوں سے جاری کم درجہ کی عسکری جدوجہد نے عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کروا دی ہے کہ انڈیا اور پاکستان کا تنازعہ پورے جنوبی ایشیائی خطہ کو ممکنہ طور پر ایٹمی جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ پاکستان کے حمایت یافتہ حریت پسند 1989ء سے انڈین فوجوں کے خلاف جو عسکری کاروائیاں کر رہے ہیں، عسکری ماہرین اِسے انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری ہلکی پھلکی نوعیت کا جنگی محاذ ہی قرار دیتے ہیں۔ اس وقت انڈین لیڈرشپ کے سامنے سب سے حساس نوعیت کا سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس ہلکی پھلکی جنگ کو محدود پیمانے کی روایتی جنگ میں تبدیل کریں جس کے بعد یہ بھی خطرہ پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ جنگ محدود پیمانے کی روایتی جنگ سے آگے نکل کر مکمل روایتی جنگ یا نیوکلئیر جنگ میں بھی بدل جائے۔ کشمیر میں جاری اس ہلکی پھلکی جنگ کا آغاز 1989ء – 1990ء میں پاکستان کی طرف اُس وقت ہوا جب اُؔس نے خاموشی سے انڈین مقبوضہ کشمیر کے نامعلوم اور الگ تھلگ سمجھے جانے والے حریت پسند مسلم نوجوانوں کو تربیت اور اسلحہ دے کر انڈین ریاست اور انڈین فوج سے لڑنے کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا۔ امریکی تھنک ٹینک کے لوگ کہتے ہیں کہ انڈین مقبوضہ کشمیر میں مسلم نوجوانوں کی اس وحشت اور بے چینی کی بڑی وجہ نئی دہلی کی سیاسی بدنظمی تھی۔ یہ سیاسی بدنظمی صرف کشمیر تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اس کا تعلق انڈیا کے ناقص اور مسائل سے بھرے ہوئے جمہوری سسٹم کی وجہ سے تھا جو عام لوگوں کو ڈیلیور (deliver) کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہا تھا۔ اس صورتحال میں پاکستان کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کرنے کے فیصلہ نے کشمییری نوجوانوں میں موجود بے چینی کو انڈیا ۔ پاکستان کے مابین ہلکی پھلکی جنگ میں تبدیل کر دیا۔

کشمیر جو انڈیا اور پاکستان کی 1947ء میں آزادی کے وقت سے ہی دونوں ممالک کے مابین متنازعہ علاقہ بن چکا تھا، اب دونوں ممالک کے درمیان بالادستی حاصل کرنے کی ایک ضد میں تبدیل ہو چکا ہے۔ انڈیا خود کو ایک سیکولر ملک قرار دے کر کشمیر کی اکثریتی مسلم آبادی کے علاقہ پر مہاراجہ کشمیر کے انڈیا سے الحاق کرنے کے فیصلہ کی وجہ سے قابض ہونے کا دعوی دار ہے۔ اسی طرح پاکستان کو امید ہے کہ وہ کشمیر کی واضح مسلم اکثریت کے بل بوتے پر اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری میں اپنے حق میں فیصلہ لے سکتا ہے۔ اگرچہ 1971ء کی جنگ میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بنگالی قوم پرستوں نے مذہب کی بجائے قومیت کو اہمیت دے کر مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں انڈیا کی حمایت سے مغربی پاکستان سے آزادی حاصل کی تھی۔ اس سانحہ مشرقی پاکستان سے تقسیمِ ہند کے وقت پیش کئے گئے دو قومی نظریہ کی بھی نفی ہوئی جو مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان الگ الگ ریاست کی تشکیل کی بات کرتا ہے۔ اپنی قومی شناخت کی توثیق حاصل کرنے کے علاوہ پاکستان کے پاس کشمیر کے حریت پسندوں کی مدد کرنے کی اور بھی وجوہات ہیں۔ جیسا کہ:۔

(1):- پاکستان کی عسکری اور انٹیلی جینس اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ کشمیر میں ہلکی پھلکی جنگ سے انڈیا کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی افواج کی بڑی تعداد کو کشمیر میں مصروف رکھے۔ اس طرح انڈیا کی افواج کو تعداد کے لحاظ سے اپنی اس روایتی برتری سے بھی محروم ہونا پڑے گا جو وہ پاکستان پر رکھتا ہے۔

(2):- انڈین ملٹری کی کشمیر میں مسلسل مصروفیت سے انڈین لیڈرشپ پاکستان پر کسی بھی مسلح جارحیت برپا کرنے میں تذبذب کا شکار رہا کریں گے۔ افغانستان میں مجاہدین کی سوویت یونین پر فتح سے پاکستانی لیڈروں کو یقین ہو گیا ہے کہ انڈین ملٹری بھی کبھی بھی بیرونی مدد سے چلنے والی ہلکی پھلکی جنگ میں نئی دہلی سے دل برداشتہ اور آزادی کی متمنی عوام پر فتح حاصل نہیں کر سکتی۔

(3):- اس کے علاوہ نئی دہلی کی طرف سے اس مسلح جدوجہد کا عسکری حل ڈونڈھنے کی صورت میں بڑھتے ہوئے تشدد اور انسانی حقوق کی پامالی کے زیادہ ہوتے واقعات سے کشمیر کی مسلم آبادی میں انڈیا سے مزید نفرت پیدا ہو گی جس سے مسئلہ کشمیر پر عالمی رائے عامہ بیدار کرنے میں بہت مدد ملے گی۔ یعنی اسلام آباد کے نقطہ نظر سے ہلکی پھلکی جنگ سے کشمیر کے معاملہ کو اپنی شرائط پر طے کرنے کا تاریخی موقع حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی طرف سے 1990ء کی دہائی میں کشمیر کا مسئلہ دوبارہ زندہ کرنے میں بہت حد تک اِس کے نیوکلئیر پاور بن جانے کے بھروسہ کا بھی دخل تھا۔ 1980ء کی دہائی میں نیوکلئیر طاقت بن جانے کے بعد پاکستانی قیادت کو یقین ہو گیا تھا کہ اب انڈیا کبھی بھی پاکستان کی سر زمین پر مکمل جنگ چھیڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گا کیونکہ اس صورت میں یہ جنگ کسی بھی وقت نیوکلئیر جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ مکمل جنگ کی صورت میں پاکستان نیوکلئیر حملہ پہلے کر گزرنے کی پالیسی کا واضح فیصلہ انڈیا تک پہنچا چکا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں ممالک گلین سینڈر (Glenn Sanders) کے بیان کردہ استحکام اور عدم استحکام کی تھیوری کے دائرہ کار میں پھنس کر رہ گئے۔ نیوکلئیر ہتھیاروں کے بنانے میں کامیابی نے جنوبی ایشیاء میں بڑے پیمانے کے ہتھیاروں والی جنگ کے خطرات کو روک دیا ہے مگر اب بھی انڈیا اور پاکستان میں سالہا سال سے جاری کمزور کر دینے والی ہلکی پھلکی جنگ نے عدم استحکام کی فضاء کو جاری رکھا ہوا ہے۔

1990ء کی دہائی تک انڈیا کا خیال تھا کہ کشمیر کی مسلح جدوجہد کو فوجی طاقت کے استعمال سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ انڈیا نے اُس وقت سے ہی پاکستان کو جنگجوؤں کے تربیتی کیمپوں پر کاروائی کرنے کے چیلنج دینے شروع کئے ہوئے ہیں مگر خود انڈیا کو بھی اس حقیقت کا احساس تھا کہ اس سلسلہ میں انٹیلی جنس کی کمیابی اور ہدف کو نشانہ بنانے کی کم تر صلاحیت کی وجوہات کی بنیاد پر وہ ایسا حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اسی طرح انڈیا کے پاس وہ صلاحیت بھی نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف فیصلہ کن مکمل جنگ چھیڑ کر فتح یاب ہو سکے۔ ان عوامل کے علاوہ یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ مکمل روایتی جنگ نہ جانے کس وقت نیوکلئیر جنگ میں تبدیل ہو جائے۔ انڈین قیادت کو یہ بھی خدشہ ہے کہ مکمل جنگ کی صورت میں نیوکلئیر ہتھیاروں کے استعمال کے بہت زیادہ خدشات سے بین القوامی توجہ بیدار ہو سکتی ہے اور عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر میں مداخلت کرنے پر آمادہ ہو سکتی ہیں۔ ان وجوہات کی بنیاد پر انڈیا مجبور رہا ہے کہ وہ کشمیر کی سرزمین پر ہلکی پھلکی جنگ کو پاکستان کی شرائط پر لڑتا رہے۔ ایک کونے کی طرف پھنسی رہی نئی دہلی حکومت نے سخت کوششیں کیں کہ کسی طرح بھی مسلح جدوجہد کو ملٹری طاقت کے استعمال سے دبایا جا سکے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ انڈین قیادت نے حریت پسندوں کے درمیان موجود معتدل مزاج لوگوں کے ساتھ سیاسی بات چیت اور معاہدے بھی کرنے کی کوشش کی۔ دوسری طرف انڈیا نے پاکستان کے خلاف سفارتی مہم بھی شروع کر دی کہ پاکستان کو دہشت گردی کی حمایت کرنے والا ملک قرار دیا جائے۔

بین الاقوامی تھنک ٹینکس کی رپورٹس کے مطابق پاکستانی قیادت کی طرف سے کشمیر میں ہلکی پھلکی جنگ شروع کرنے کے لئے مدد فراہم کرنے کے پیچھے تین (3) مفروضے پیش کئے جاتے ہیں:-

(1):- پاکستان نے بہت باریک بینی سے یہ مکمل تجزیہ کیا ہوا تھا کہ ہلکی پھلکی جنگ کے دوران انڈیا پر کس حد تک دباؤ ڈالا جا سکتا ہے کہ وہ مکمل روایتی جنگ کی طرف نہ تبدیل ہو سکے۔

(2):- نئی دہلی کا یہ خوف کہ نیوکلئیر ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کی خبروں سے مسئلہ کشمیر عالمی توجہ حاصل کر لے گا لہذٰا وہ ہلکی پھلکی جنگ کو مکمل روایتی جنگ تک بڑھانے کی کوشش نہیں کرے گا۔

(3):- انڈیا کے مسلسل انکار کے باوجود بین الاقوامی برادری کے لئے یہ مفروضہ بہر حال بہت نمایاں رہے گا کہ کشمیر کی مسلح جدوجہد دراصل حق رائے دہی کے حقوق کے لئے کوششوں کا حصّہ ہے۔

دوسری طرف اسلام آباد کا یہ بھی خیال تھا کہ کشمیر میں جہاد کی حمایت کر کے انتہا پسند اسلامی گروپوں کو پاکستانی معاشرہ میں پنپنے کے جو نقصانات ہو سکتے ہیں، اُن سے نبرد آزما ہوا جا سکتا ہے (مگر افغانستان والے تجربہ کے بعد یہ مفروضہ بہر حال بری طرح ناکام ہو چکا ہے)۔ تاہم پاکستان کی طرف سے ہلکی پھلکی جنگ کے سٹیٹس کو جوں کا توں رکھنے کی اس حکمت عملی کا فریم ورک 1990ء کی دہائی میں پاکستانی اقتصادیات پر بہت بڑا بوجھ بننا شروع ہو گیا۔ بالآخر 9/11 کے دہشت گردانہ حملوں کے نتیجہ میں امریکی قیادت کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف شروع کی جانے والی مہم کے نتیجہ میں انڈیا کو یہ نادر موقع مل گیا کہ وہ کشمیر میں جاری مسلح حریت پسندی کو اسی انتہا پسندانہ مسلم دہشت گردی سے جوڑ سکے اور پاکستان پر دہشت گرد گروپوں کی حمایت کا الزام لگا سکے۔ یہ حقیقت ہے کہ 9/11 کے دہشت گرد حملوں سے پہلے کشمیر کی جنگ میں انڈیا کا صبر ختم ہونے کو تھا اور وہ بوکھلا کر پاکستان پر حملہ کرنے کی پلاننگ کرنے تک پہنچ چکا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ انڈیا پوری دنیا میں ایک جارح ریاست کے طور پر متعارف ہو جاتا اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے عالمی طاقتیں بیچ میں کود پڑتیں۔ حریت پسندوں کے ذرائع کہتے ہیں کہ 1988ء سے 2000ء کے دوران جاری رہنے والے مسلح جدوجہد آزادی میں دو (2) لاکھ سے زیادہ انڈین فوجی اور نیم فوجی شدید متاثر ہوئے تھے۔ اس عرصہ کے دوران فوجی اور سویلین اموات کی تعداد بھی 70,000 تک تخمینہ کی گئی تھی۔ یہ اتنی بڑی تعداد تھی کہ یہ انڈیا پاکستان کے درمیان 1947ء میں آزادی کے وقت سے لے کر اب تک لڑی جانے والی تمام جنگوں سے زیادہ تھی۔ سنہ 2014ء سے نریندر سنگھ مودی کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے کشمیر میں امن قائم کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق، ان حملوں میں ہر 2 کشمیری حریت پسندوں کے بدلہ ایک بھارتی فوجی جوان کی موت ہوئی۔ اس کے علاوہ ہر 82 کشمیری مجاہدین کی شہادت پر 18 عام کشمیری لوگوں کی جانیں بھی قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں گئی ہیں۔

9/11 کے دہشت گرد حملوں سے واشنگٹن کی زیرقیادت دنیا بھر کی نظریں پاکستان کے القاعدہ اورطالبان سے تعلقات کی طرف مڑ گئیں۔ بڑی حد تک طالبان کو پاکستان کی تخلیق سجھا جاتا ہے اگرچہ اس میں امریکہ اور سعودی عرب کے واضح کردار کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ طالبان بنیاد پرست دیوبندی فرقہ کے پاکستانی مدرسوں سے نمودار ہوئے اور یہ پاکستان کی عسکری، اقتصادی اور لاجسٹک مدد تھی جس کی وجہ سے طالبان نے افغانستان پر قبضہ جما لیا۔ طالبان کے دور حکومت میں نہ صرف اُسامہ بن لادن اور القاعدہ نے افغانستان میں پناہ حاصل کی بلکہ انڈیا، چین،وسط ایشیائی ریاستوں اور دنیا بھر میں لڑ رہے بنیاد پرست انتہا پسند اسلامی گروپوں نے افغانستان کو اپنا محفوظ ٹھکانہ بنا لیا۔ ان جہادیوں نے افغانستان میں جی بھر کے لاقانونیت اور جبر کا نظام گرم کر دیا۔ وہ جب چاہتے کسی بھی گھر میں گھس کر اُن کی نوعمر لڑکیوں کو اُٹھا کر لے آتے اور انہیں جہاد بالنکاح کے نام پر اپنے کسی ساتھی کی تحویل میں دے دیتے۔ عورتوں کے حقوق پر کھلم کھلا ڈاکے مارے گئے اور لڑکیوں کے سکول بھی تباہ کر دئیے گئے۔ لاقانونیت اور کسی حکومتی نظم و ضبط کے بغیر چلنے والے افغانستان کی اکانومی کا زیادہ تر انحصار طالبان لیڈروں کی طرف سے چلنے والے منشیات، چھوٹے ہتھیاروں اور اسمگلنگ کے کاروبار پر ہی تھا۔ طالبانی دور میں افغانستان نے دنیا بھر میں دہشت گردی کو برآمد کیا اور دنیا بھر میں انتہا پسندی اوردہشت گردی کرنے والے بنیاد پرست اسلامی گروپوں کی تربیت کےمراکز قائم کئے جس کے لئے خاطرخواہ پیسے وصول کئے جاتے تھے۔ 9/11 کے دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان میں چل رہے طالبانی معاملات پر عالمی برادری کی توجہ مرکوز کر دی جس میں یہ انڈین پروپیگنڈہ بھی شامل ہو چکا تھا کہ پاکستان کی افواج اور خفیہ ادارے دنیا بھر میں انتہا پسندانہ نظریات کو فروغ دے رہے ہیں اور جہادی نظریات رکھنے والی تنظیموں کی سرپرستی کرتے ہیں جو کشمیر سمیت دنیا بھر میں دہشت گردی کرتے ہیں۔

صدر بُش انتظامیہ کی طرف سے افغانستان سے طالبان اور القاعدہ کو نکال باہر کرنے کے فیصلہ کے بعد پاکستان کی مقتدر طاقتوں کے لئے مجبوری بن گئی کہ پاکستان دو دہائیوں سے چلنے والی اپنی عسکری جہادی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے۔ امریکہ کی طرف سے آنے والے دباؤ سے پاکستانی اشرافیہ کی حالت خراب ہو گئی اور جنرل مشرف نے راتوں رات اس پالیسی کو تبدیل کر دیا۔ اس پالیسیانہ انقلاب کے نتیجہ میں جنرل مشرف کی انتظامیہ اور بنیاد پرست انتہا پسندوں کے مابین شدیدترین اختلافات پیدا ہوگئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسٹیبلشمنٹ اور انتہا پسند جماعتوں میں موجود عناصر نے جنرل مشرف پر جان لیوا حملے بھی کروائے۔ اس کے علاوہ 1980ء کی دہائی سے پاکستانی سیاست میں برسرپیکار سیاسی جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی وجہ سے بھی جنرل مشرف کی حکومت سخت مشکلات کا شکار ہو گئی۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ 9/11 کے دہشت گرد حملوں نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور انتہا پسند جہادی گروپوں کے کھلم کھلا رومانس کو پردوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ جنرل مشرف حکومت نے سیاسی جماعتوں کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لئے جہاں ان جماعتوں میں توڑپھوڑ کی وہیں اُس نے بنیاد پرست نظریات رکھنے والی جماعتوں کے اتحاد کی درپردہ سرپرستی کر کے انہیں ایک صوبہ (خیبرپختونخوا ) میں حکومت دلوا دی۔ جنرل مشرف کی یہ چال خود اُس کے اپنے گلے پڑ گئی اور عالمی دباؤ آنا شروع ہو گیا کہ پاکستان کشمیر میں مسلح جدوجہد کرنے والی تنظیموں کی سرپرستی فوراً بند کرے۔ شروع میں جنرل مشرف نے کوشش کی کہ کشمیر کی جدوجہد کو حریت پسندی قرار دیا جا سکے اور صرف طالبان کو دی جانے والی سرپرستی سے ہی ہاتھ اٹھایا جائے مگر عالمی طاقتوں نے جنرل مشرف کی ان کوششوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ انتہا پسند گروپوں کی دنیا بھر میں کسی بھی جگہ سرپرستی کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس شدید امریکی و عالمی دباؤ کے بعد جنرل مشرف انتظامیہ نے مجبوراً کشمیر میں چلنے والی عسکریت پسندی کی کھلم کھلا سرپرستی بند کر دی۔ دوسری طرف پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے خفیہ طور پر افغانی طالبان اور کشمیری عسکری پسند تنظیموں کی سرپرستی کے طریقے ڈھونڈ لئے۔ خصوصاً کشمیری حریت پسندوں کی امداد کو پاکستان نے حق خود ارادیت کے نام پر جاری رکھا اگرچہ اب یہ کام چُھپ کر ان انتہا پسند گروپوں کے ذریعے انجام دیا جاتا جو افغانستان اور کشمیر میں عسکریت جاری رکھے ہوئے تھیں۔ پاکستان کی افغان اور کشمیر پالیسیوں کی بنیاد انتہا پسندانہ دیوبندی نظریات پر مشتمل تھی اور اسکی ترویج سے پاکستان میں ایسے طبقات وجود میں آ چکے ہیں جو اب اپنے طور پر بھی عسکریت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان گروپوں کی طرف سے دنیا بھر میں کی جانے والی پے درپے دہشت گردانہ کاروائیوں اور پاکستان میں اُن کے ہمدردوں کے پیدا کئے ہوئے سازگار ماحول کی فراہمی نے یہ خطرہ ہمہ وقت پیدا کر دیا کہ پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دے دیا جائے۔ اس کی بنیاد وہی انڈین پروپیگنڈہ تھا کہ دہشت گردی اور کشمیری حریت پسندی میں کوئی فرق نہیں ہے اگرچہ 9/11 کے دہشت گرد حملوں سے پہلے دنیا میں حق خود ارادیت، مذہبی تنظیموں اور علاقائی خود مختاری کے لئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں کے بارے میں نرم گوشہ موجود تھا۔ حتٰی کہ ایسی جدوجہد کرنے والی تنظیموں کی مسلح کاروائیوں کو بھی عالمی برادری کسی حد تک برداشت کرتے ہوئے اسے حق خودارادیت کی جدوجہد قرار دے دیتی تھیں۔ مگر براستہ سعودی عرب امریکی ایماء پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے جاری انتہاپسندانہ نظریات کے فروغ کے نتیجہ میں پنپنے والے طالبان و القاعدہ نے دنیا بھر میں دہشت گردی کے ایسے ایسے دہشت گردانہ واقعات کئے کہ دنیا بھر کا نقطہ نظر روس، چین اور انڈین حکومتوں کے حق میں تبدیل ہو گیا جو چیچنیا، ژی جیانگ اور کشمیر میں انتہاپسندانہ نظریات رکھنے والی تنظیموں سے نبردآزما تھیں۔ چین اور انڈیا کے مابین کبھی بھی دوستانہ تعلقات نہیں رہے تھے اور نہ ہی وہ اِس وقت کسی خاطرخواہ اسٹیج تک پہنچ سکے ہیں مگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی زیرسرپرستی چلنے والی انتہا پسند جماعتوں کے مکمل خاتمہ کے لئے اُن کے نظریات ایک جیسے ہی ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ دہشت گرد گروپوں کی اعلانیہ یا خفیہ کسی بھی قسم کی سرپرستی کو اب مخالفین کے ساتھ ساتھ دوست بھی پسند نہیں کرتے۔ اس لئے طالبان، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ،جیش محمد، جماعت الدعوہ وغیرہ کی پاکستان میں موجودگی کو دنیا قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

انڈین حکومت کو یہ کریڈٹ دینا چاہئے کہ اُس نے 9/11 کے دہشت گرد حملوں کے اثرات کو بہت جلد محسوس کر لیا اور فوراً ہی خود کو امریکی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گردی کے خلاف اتحاد کا حصّہ بنا لیا۔ انڈیا کا یہ ماننا ہے کہ پاکستان کی طرف سے طالبان کی حمایت، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ، جیش محمد، جماعت الدعوہ، جنداللہ وغیرہ کی سرپرستی کو دنیا بھر میں آشکار کر کے پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دلوایا جا سکتا ہے۔ اسی لئے گزشتہ 2 دہائیوں سے انڈیا نے کشمیر اور دوسری جگہوں پر پونے والی دہشت گرد کی کاروائیوں میں پاکستانی حکومت کی سرپرستی کے الزامات لگانے شروع کر دئیے۔ اس انڈین پالیسی کو تقویت دینے میں ممبئی حملہ، نئی دہلی میں پارلیمنٹ پر حملہ، پٹھان کوٹ ائیر پورٹ حملہ اور اب پلوامہ حملہ نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ انڈیا کی طرف سے امریکہ کو زمینی، فضائی، انٹیلی جینس مدد فراہم کرنے کی غیر مشروط پیشکش تھی کہ جس کی وجہ سے امریکہ آج اس خطہ میں انڈیا کا اہم ترین اتحادی بنا ہوا ہے۔ انڈیا کی یہ پیشکش صرف افغانستان اور اس خطہ تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ انڈیا نے دنیا بھر میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ماتحت کام کرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔ اگرچہ جنرل مشرف حکومت نے امریکی افواج کو طالبان اور القائدہ سے لڑنے کے لئے جو لاجسٹک اور انٹیلی جنس مدد فراہم کی وہ دنیا بھر میں کوئی اور ملک نہیں کر سکتا تھا مگر پاکستانی وزارت خارجہ اور اسٹیبلشمنٹ اس اعلیٰ درجہ کی مدد کو کیش کروانے میں بری طرح ناکام ہوئے۔ نہ ہی پاکستان نے اپنے لئے کسی طرح کا بہتر اقتصادی پیکیج حاصل کیا اور نہ ہی تجارتی مراعات۔ حالانکہ یہ نہایت اہم موقع تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرتے پوئے نہ صرف اپنے تمام بیرونی قرضہ جات معاف کروا لیتا بلکہ مغربی دنیا سے سی پیک جیسے درجنوں بڑے شاہراہوں، ریلوے نظام، صنعتی پراجیکٹس بھی پاکستان میں لگوا سکتا تھا۔

اس کے علاوہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ آج تک یہ نہیں سمجھ سکی کہ انتہا پسندی دنیا بھر کے علاوہ خود پاکستان کے لئے زہرِ قاتل ہے اور طالبان کی حمایت کے ساتھ ساتھ لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ، جیش محمد، جماعت الدعوہ، جنداللہ وغیرہ کی سرپرستی سے دنیا بھر کو ہم اپنے مخالف بنا رہے ہیں۔ آج دنیا بھر میں یہ خدشہ شدید تقویت پا چکا ہے کہ پاکستانی ایٹمی ہتھیار کبھی بھی انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ انڈین پروپیگنڈہ کے تسلسل کی وجہ سے یہ خدشہ اب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ دنیا نے پاکستانی ریاست اور نیوکلئیر ادارے کو بھی انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے ادارے قرار دیا ہوا ہے۔ دنیا کو خدشہ ہے کہ پاکستان خفیہ طور پر ایٹمی ٹیکنالوجی کو ایران، لیبیا, شمالی کوریا جیسی ریاستوں کو منتقل کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی ادارہ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کے بعد یہ شدید خدشہ پیدا ہو چکا ہے کہ عالمی برادری کسی بھی وقت ہمیں بلیک لسٹ میں شامل کر دے۔

اٹل بہاری واجپائی کےدورِ حکومت سے ہی انڈیا نے امریکہ سے یہ یقین دہانی حاصل کی ہوئی یے کہ امریکہ کبھی بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے خود کو ثالث کے طور پر پیش نہیں کرے گا۔ اُدھر یہ بھی امریکہ کی مجبوری ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد حاصل کرے اور جب تک افغانستان میں اُس کی موجودگی ہے اُسے پاکستان کی ضرورت ہے۔ شاید یہی وہ وجہ ہے جس کی بنیاد پر امریکہ نے انڈیا کے مسلسل مطالبات کے باوجود پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دینے سے گریز کیا ہے (اگرچہ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ حالیہ امریکی صدر اپنی ٹویٹس میں پاکستان کو دہشت گرد ریاست کہتے رہے ہیں)۔ امریکہ کی یہ خاموش یقین دہانی بھی انڈیا کو حاصل ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کو کبھی بھی کچھ لو، کچھ دو جیسی پیشکش میں ملوث نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ امریکہ نے انڈیا کو یہ یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ وہ پاکستان کو کبھی بھی 1980ء کی دہائی جیسی غیر مشروط عسکری امداد فراہم نہیں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو فراہم کئے جانے والے F/16 طیاروں کو پاکستان اب انڈیا کے خلاف کسی جنگی محاذ میں استعمال نہیں کر سکے گا۔

انڈیا کی طرف سے امریکہ سے حاصل کی جانے والی انہی یقین دہانیوں کی وجہ سے اور اچھی ڈیل نہ کر سکنے کی صلاحیتوں کی ناپیدگی کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کے طور پر لڑنے کے باوجود بھی ’’لاڈلے‘‘ کا سٹیٹس حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ ان انڈین سفارتی کامیابیوں کے علاوہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی بھی اس سلسلہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔

کئی انڈین راہنماؤں کا کہنا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں بہت بری طرح پھنسا ہوا ہے اس لئے انڈیا میں ہونے والی دہشت گردی کو خلاف انڈیا کو خود اپنی جنگ آپ لڑنی ہے۔ نریندر مودی حکومت بھی اسی سوچ کی علمبردار ہے۔ وہ امریکہ کے اتحادی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے مفادات کے لئے امریکہ اور سعودیہ کے سخت مخالف ایران سے بھی تعلق رکھے ہوئے ہے۔ واضح رہے کہ انڈیا کو ہر ہفتہ ساڑھے 7 لاکھ بیرل خام تیل سعودیہ برآمد کرتا ہے جبکہ ایران سے اُس کی تیل درآمدات اس کے علاوہ ہیں۔ ایران سے تیل درآمد میں انڈیا کو فوائد ہیں کیونکہ تیل کے بدلہ میں انڈیا نقد ادائیگی نہیں کرتا بلکہ ایران کو اپنی مصنوعات برآمد کر دیتا ہے۔ اس لئے انڈیا نے اس خطہ کے لئے امریکی کیمپ میں اہم ترین حیثیت حاصل لینے کے باوجود اپنے تجارتی و سیاسی مفادات کو الگ رکھا ہوا ہے۔

کشمیر سے متعلق آج کی انڈین پالیسی میں اگرچہ اب بھی وہ عنصر نمایاں ہے کہ پاکستان کے ساتھ باقاعدہ جنگ کی صورت میں ایٹمی جنگ کا خطرہ موجود ہے مگر شاید اب انڈین پالیسی ساز اداروں نے پاکستان کی طرف سے بیان کئے گئے اس فلسفہ کو چیلنج کرنے کی کچھ منصوبہ بندی کر لی ہے۔ پلوامہ واقعہ کے بعد انڈیا کی طرف سے پاکستانی علاقہ میں گھس کر فضائی حملہ کرنا اسی سلسلہ کی ایک کڑی سمجھی جا رہی ہے۔ انڈیا میں یہ سوچ ابھی بھی خفیہ ہے کہ ہلکے پھلکے لیول پر چل رہی کشمیر میں جنگ کو باقاعدہ جنگ میں تبدیل کرنے سے پاکستان کی طرف سے پہلے ایٹمی حملہ کا جو خطرہ پیدا ہو گا، وہ اُس سے کیسے نبردآزما ہو سکے گا۔ انڈین حکومت میں یہ سوچ ہے کہ پاکستان کی طرف سے ایٹمی حملہ کرنے کی بنیاد شیخی اور فریب پر مشتمل ہے۔ تاہم انڈیا سمیت جنوبی ایشیاء سے متعلق اداروں میں قابلِ غور حد تک یہ سوچ موجود ہے کہ انڈیا پاکستان کی باقاعدہ جنگ کبھی بھی ایٹمی جنگ کی طرف بدل سکتی ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ انڈین افواج 45 دنوں تک پاکستانی افواج کو کنٹرول لائن اور کچھ دوسرے مخصوص علاقوں میں جنگ چھیڑ کر شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انڈین پالیسی ساز اداروں کے خیال میں ایسی محدود جنگ سے پاکستان کو اپنی افواج کو جنگی مقامات تک پہنچانے میں $800 – $600 ملین امریکی ڈالرز خرچ کرنے ہوں گے جبکہ اپنی افواج کو ان جنگی مقامات پر 6 مہینے تک تعنیات رکھنے کے لئے پاکستان مزید 4 ارب ڈالرز خرچ کرنے پر مجور ہوگا۔ یہ خرچہ اُس اخراجات کے علاوہ ہو گا جو پاکستان کو سپئیر پارٹس کی فراہمی، نئے اسلحہ کی تیاری اور خریداری وغیرہ کے علاوہ ہوں گے جو اربوں ڈالرز پر مشتمل ہوں گے۔ یقینی طور پر انڈیا کے لئے یہ اخراجات پاکستان کی نسبت بہت زیادہ ہوں گے مگر انڈیا کی مضبوط اکانومی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ انڈیا کے مضبوط تعلق کی وجہ سے وہ یہ اخراجات بآسانی برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ نیز انڈین افواج کو یہ بھی ایڈوانٹیج حاصل ہے کہ اُسے پاکستانی فوج کی طرح حکومت بنانے اور اُسے چلانے میں اضافی اور غیر ضروری ذمہ داریاں نبھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انڈیا میں یہ سوچ ہے کہ پاکستانی فوج کو بلوچستان، قبائلی علاقہ جات میں جو محاذ ملے ہوئے ہیں، اُس کے بعد پاکستانی افواج کے لئے باقاعدہ جنگ لڑنا بہت مشکل ہے۔

باقاعدہ جنگ کے علاوہ انڈیا کی پلاننگ میں کراچی بندرگاہ کا محاصرہ کر کے پاکستانی کی تجارتی سرگرمیوں کو معطل کرنے، پاکستان کے تجارتی بحری جہازوں کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔ ان سارے اقدامات کے ساتھ ساتھ نئی دہلی کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان کی کمزور معیشت کو مسلسل مگر شدید زک پہنچائی جائے۔ اس طرح کے تمام اقدامات کے علاوہ انڈین حکومت کی پوری کوشش ہے کہ کشمیر میں چل رہی ہلکی پھلکی جنگ کی قیمت کو اس حد تک بڑھا دیا جائے کہ پاکستان اس کے خاتمہ کے لئے مجبور ہو جائے اور انڈیا کی عائد کردہ شرائط کو تسلیم کر لے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *