منطق الطیر،جدید۔۔تبصرہ:صلاح الدین درویش

مستنصر حسین تارڑ کا نیا ناول ہے”خس و خاشاک زمانے “کے بعد اس ناول میں مجھے ایک مرتبہ پھر فکری اعتبار سے مستنصر کے ہاں فکری مراجعت کی ایک اور صورت دکھائی دی ہے۔وہ مستنصر جسے اپنی گھر وطن والدین بہن بھائی کی محبت نے دیار غیر میں عشق کے کو تجربے پروان چڑھنے کی اجازت نہ دی اس کا اظہار ان کے پہلے ناول ” پیار کا پہلا شہر” میں ہوا،دوسرا ناول ” راکھ” تھا کہ جس میں مستنصر کو یقین تھا کہ ذات برادری کا سہارا مرتی کھپتی انسانیت کے لئے کافی و شافی ہے اور تیسرا ناول ان کی فکر میں رنگ،نسل،زبان،برادری،قوم قبیلہ اور مذھب و ثقافت کی عصبیت پسند تنگنائیوں سے آزادی کا بیانیہ ثابت ہوا، موضوعاتی اعتبار سے اس بڑے کینوس کے بڑے ناول کا نام “خس و خاشاک زمانے” ہے۔مستنصر کی فکری بلوغت اس ناول میں پوری پوری سمائی ہوئی ہے۔میرے نزدیک یہ اردو کا پہلا پوسٹ ماڈرن ناول ہے کہ جس میں انسانی شناخت کے مذھبی،ثقافتی،نسلی و قومیتی سطح کے تمام حوالوں سے مکمل مایوسی اور علحدگی کا اظہار کیا گیا ہے اور ناول کے آخر حصے میں نئی دنیا کے لئے جو دو کردار انہوں نے بچائے ان میں ایک کردار ثقافتی حوالے سے نظر انداز کئے جانے والے یا دبائے جانے والے گروہ یعنی سانسیوں سے تعلق ہے اور دوسرا کردار وہ ہے کہ جس کی ولدیت کا کچھ معلوم نہیں۔اس ناول کے بعد مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے مستنصر ناول کے فن میں اپنی زندگی بھر کی فکر کا مجموعی اثاثہ اس ناول کے سپرد کر چکے ہیں۔”منطق الطیر،جدید”میں انہوں نے اپنی فکر سے ایک مرتبہ پھر مراجعت کی ہے لیکن قدرے مختلف انداز میں۔اس ناول میں انہوں نے مذاھب کی انسان دوست شناخت کو متصوفانہ مباحث کی لڑی میں پرو کر ایک مرتبہ پھر مذھب کے لئے گنجائش پیدا کی ہے۔ یہودیت،عیسائیت، اسلام،ہندومت، بدھ مت اور سکھ مت میں موجود تصوف سے متعلقہ مباحث اور کرداروں کو سر زمینِ پنجاب کی ہندو مسلم یوگی و صوفی روایت سے ملا کر انسانی فکر کو ایک ہی روایت کی کڑی قرار دیا ہے۔اس روایت میں عجمی صوفیا سے لے کر بھرتری ہری،وارث شاہ تا علامہ اقبال سب کو شامل کر لیا گیا ہے اور بالناتھ جوگی کا ٹلہ جوگیاں اس پوری روایت کاجدید مرکز قرار پاتا ہے۔کہ جہاں مایوس و نامراد لوگوں کی منت مرادیں اب بھی پوری ہوتی ہیں لیکن راہ سے بھٹکے لوگ جو اس روایت کی روحانی طاقت سے آگاہ نہیں رہے ان کے لئے یہ روایت خرافات سے زیادہ کچھ نہیں۔موسیٰ حسین اور اس کی بیوی صفورہ کے ذریعے مستنصر نے مذکورہ روایت پر یقین اور عدمِ یقین کے مراحل کو بخوبی بیان کیا ہے اور اس بات پر تاسف کا اظہار کیا ہے کہ پنجاب کے لوگوں نے عرب و عجم کے افکار کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور اپنی مقامی علمی روایت کی قدر نہ جانی۔ٹلہ جوگیاں کو مستنصر نے پنجابی فکری روایت کا مرکز بنا کر اس کا تعلق عرب وعجم کی ساری مذھبی و صوفیانہ فکریات سے جوڑ دیا ہے۔
ناول اپنی کہانی کی ترسیل میں بہت کامیاب ہے لیکن مذھب اور تصوف کو جو لنک اپ کرنے کے لئے مستنصر نے جہاں جہاں خطرناک مواقع پر طویل بیانیے جاری کئے ہیں اس کے باعث عام قاری کو کئی کئی صفحات بغیر پڑھے پلٹنا پڑیں گے،اس کارنامے نے ناول کی قرآت کو بہت بوجھل بنا دیا ہے۔کردار کہیں پیچھے گم ہو جاتے ہیں اور ناول نگار کے صوفیانہ منطقے پھدکنے لگتے ہیں۔
تصوف کی مقامی روایات کو مقامی سطح پر موجود دینی علما کیسے دیکھتے اور سمجھتے ہیں؟میرا خیال ہے کہ اس جانب مستنصر کا بالکل دھیان نہیں گیا۔تصوف اور مذاھب کے درمیان جو عصبیت کی وسیع ترین خلیجیں ان کی طرف توجہ کی جاتی تو ممکن تھا کہ ناول نگار اپنی فکر کو “خس و خاشاک زمانے” سے ضرور آگے لے کر جاتے۔
اس ناول کو سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیا ہے۔اپ بھی پڑھیے اور ہمارے عہد میں ناول کے فن کے بڑے نابغے کے کمالات دیکھئے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *