اسلامسٹ، دھشتگرد، لبرل اور مسلمان۔ قسط اول

پاکستان میں ایک عرصے سے رائٹسٹ اور لیفٹیسٹ کے نظریات کی جنگ جاری ہے۔ دہشتگردوں کے پاکستان پر حملے کے بعد یہ نظریاتی لڑائ اسلامسٹ اور لبرل میں تبدیل ہو چکی ہے۔ آئیے آج اکمل شہزاد گھمن صاحب کی کتاب "میڈیا منڈی " سے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان میں جو اپنے آپ کو دائیں بازو کے حامی، رائٹیسٹ یا اسلامسٹ سمجھتے ہیں، ان کا آخر نظریہ کیا ہے اس بارے میں؟ آخر یہ دائیں بازو والے اِس نظریہ کو پاکستان کے تناظر میں کیسے دیکھتے ہیں؟ (خیال رہیے یہ دائیں بازو والا نظریہ یا تعریف بالکل مختلف ہے اس تعریف سے، جو یورپ سمجھتا ہے )

شہزاد اکمل گھمن اپنی کتاب میڈیا منڈی کے باب "نواے وقت" میں لکھتے ہیں :
دائیں بازو، لیفٹسٹ یا اسلامسٹ نواے وقت کو اپنا اخبار سمجھتے ہیں۔ مذکورہ اخبار کی ایک سوچ ہے۔ جس کے مطابق :
1. یہود و ہنود و نصاری مسلم اُمہ یا پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔
2. پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔
3. پاکستان مسلم اُمہ کا لیڈر ہے۔
4. اس لیے ہمیں ان سازشوں کا ڈٹ کر نہ صرف مقابلہ کرنا چاہیے بلکہ مل کر (سارے مسلم ملک) ان کا منہ توڑ جواب بھی دینا چاہیے۔
5. انڈیا ہمارا دشمن نمبر ون ہے۔
6. انڈیا سے ہمیں کسی قسم کے سیاسی، سماجی ، تجارتی اور ثقافتی روابط نہیں رکھنے چاہئیں ۔۔۔
الف۔ اس وقت تک جب تک انڈیا کشمیر آزاد نہیں کر دیتا۔
ب۔ اور ہمارے دریاوں کا پانی نہیں چھوڑتا۔
7. مزید برآں اگر ہمیں انڈیا یہ حق نہیں دیتا تو ہمیں حملہ کر کے یہ حق چھین لینا چاہیے۔
8. بلکہ اس حق کو لینے کے لیے انڈیا پر ایٹم بم کا بھی حملہ کرنا چاہیے۔
9. ہندو سے نفرت کرنا سیکھو، ان کے اوپر بم یا میزایل پھینک دو یا خود بم باندھ کر ہندو پرگر پڑو۔
10. اگر ہندوستان جواب میں بم پھینک کر پاکستان کو تباہ کرتا ہے تو فکر کی بات نہیں، کیونکہ اس کے بعد ہم جاپان کی طرح اور بھی طاقت ور بن کر اُبھریں گے۔
11. انڈیا کے ساتھ امن کی بات کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے۔
12. صرف اردو ہماری قومی زبان ہے۔ صرف اردو ہی کا سرکاری سطح پر نفاذ ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ صرف اردو قومی سطح پر نہ صرف یکجہتی اور اتحاد کا باعث ہے بلکہ اس میں مزید مضبوطی اور اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
13. صوبوں اور ان کی زبانوں کے حقوق کی آواز اُٹھانا دراصل صوبائی عصبیت ہے۔ ایسا کرنے والے غدار اور دشمن کے ایجنٹ ہیں۔ صوبائ عصبیت پاکستان کے حق کے لیے زہر قاتل ہے۔
14. اس زہر کا تریاق یہ ہے کہ تمام صوبوں کو اڑا دو، اور ان کا وجود ختم کر دو۔
15. اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ ہم سندھی، بلوچی، پنجابی، سرحدی (پختون) کا وجود ختم کر کے صرف پاکستانی رہ جائیں گے۔
16. مذہبی سوچ، اندازِ فکر اور اس قسم کی سرگرمیوں کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور اس زاویہ فکر کو نظریاتی کمٹمنٹ کا نام دیا جاتا ہے اور اس نظریاتی کمٹمنٹ کے ذریعے پاکستان کو ایک اسلامی، جمہوری اور فلاحی مملکت دیکھنا چاہتے ہیں۔
17. جس قسم کے نظریہ پاکستان کی یہ لوگ تعریف کرتے ہیں، اگر کوئی اس کا مخالف ہے تو وہ غدار ہے۔
18. مشرقی پاکستان ہندوستان کی سازش کی وجہ سے علیحدہ ہوا۔ اس میں مغربی پاکستان کی کوئی غلطی نہیں تھی۔
19. نظریہ پاکستان اسی وقت معرض وجود میں آ گیا تھا، جب پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔

حال ہی میں ایک آن لائن میگزین کا اجرا ہوا ہے۔ اسے دائیں، رائٹیسٹ یا اسلامسٹ، کا میگزین کہہ کر شروع کیا گیا ہے۔ شروع میں اس میں نئے لکھنے والوں کے لیے کچھ مشورے دیے گئے تھے جو غالباً اب ہٹا دیے گئے ہیں۔ ان مشوروں میں بھی ہمیں اس نظریہ کی جھلک ملتی ہے۔ ان میں سے چار نکتے خاص طور پر بہت اہم ہیں۔

1. جو کوئی بھی بانی پاکستان کو اپنی تحریر میں محمد علی جناح لکھے وہ غدار، لبرل اور سیکولر ہے۔
2. اپ کو جو بھی لکھاری جناح لکھتا نظر آئے، سمجھ لیں کہ وہ غدار، لبرل اور سیکولر ہے۔ اس کو آپ لٹمس ٹیسٹ سمجھیں۔
3. لبرل اور سیکولر اصل میں مسلمانوں کے دشمن ہیں اور جو بھی قائد اعظم کو جناح لکھے، تو سمجھ لیجیے کہ اس کے اندر کا اصل تعصب اور قائداعظم کے لئے نفرت اور بیزاری اُبل اُبل کر باہر آ رہی ہوتی ہے۔
4. قائد اعظم لکھنے سے انحراف وہی کرے گا جو قائد کی دشمنی اور مخالفت میں اعتدال کی حد عبور کر چکا ہو۔

اب کچھ سوالات ہیں جو ذہن میں اُبھرتے ہیں :

1. پاکستان میں آخر ایسی کیا بات ہے، جو پوری دنیا اس کو ختم کرنے پر تُلی ہوئ ہے؟ جس ملک کی پچاس فیصد سے اوپر کی آبادی کو ایک وقت کا کھانا مشکل سے میسر ہو، کیا وہ دنیا کے لیے اتنا بڑا خطرہ ہے کہ ہر کوئی اس کے خلاف سازش کرنے میں مصروف ہے؟
2. ایک ملک جس کو اُس کے بانی نے روزِ اول سے امریکہ کا بخشو بنا دیا ہو، کیا وہ پوری اسلامی دنیا کی امامت کی اہلیت رکھتا ہے؟
3. جس ملک کو ایک چھوٹا سا تباہ حال مسلم ملک افغانستان انکھیں دکھاتا ہو، جس کے اپنے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں، دوسرے ملکوں کے ٹکروں پر پلتا ہو، کیا ہم اس کو پورے مسلمانوں کا لیڈر کہہ سکتے ہیں؟
4. ایک ایسا ملک جہاں پر ہر فرقہ دوسرے کو کافر سمجھتا ہو اور اسے ختم کرنے کے درپے ہو، کیا ہم اس کو اسلام کا قلعہ کہہ سکتے ہیں؟
5. ہم کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو تنگ نظری کا طعنہ کیسے دے سکتے ہیں، جبکہ ہم سے ہمارے اپنے ملک کی اقلیتیں محزون اور خوفزدہ ہیں ؟
6. کیا ہم مستقل طور پر کسی ایک ملک کو دشمن سمجھ سکتے ہیں؟ اگر یورپ کے تمام ملک دوست بن سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں بن سکتے؟
7. کیا یہ فاشزم کی ایک قسم نہیں ہے کہ اگر آپ کسی کے ساتھ مکالمہ نہیں کرسکتے تو اس پر بم پھینک کر تباہ کر دیں؟
8. کیا یہ مایوسی کی انتہا نہیں ہے کہ بم مار کر نہ صرف پوری دنیا بلکہ اپنے آپ کو بھی تباہ کر دو؟
9. کیا زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کو اتنی اہمیت حاصل ہے کہ باقی کے سارے ملک کو، اور بیس کڑور عوام کو اس پر سے وار دیا جائے، تباہ کر دیا جائے؟
10. ستر سال سے جو پانی ہمیں مل رہا ہے، وہ تو سنبھال نہیں سکتے تو اور پانی کا کیا کرنا ہے؟ ستر سال سے صرف دو یا تین ڈیم بنائے ہیں۔ کیا یہ ہماری نا اہلی نہیں؟
11. ہم یہ سچ کیوں نہیں بتاتے اپنی قوم کو کہ ہمارے اپنے ایک ڈکٹیٹر نے تین دریا انڈیا کو بیچ دیے تھے اور وہ جو بھی ڈیم بناتا ہے، اپنے اُس پانی پر بناتا ہے۔
12. آپ ایک قوم سے نفرت کر رہیے ہیں، اسے نیچ اور گھٹیا کا خطاب دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں اقلیتیں رہتی ہیں، کیا اس قسم کی سوچ اُن کو اپنے ہی ملک پاکستان سے بدظن نہیں کر دے گی اور وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ نہیں سمجھیں گے؟
13. انڈیا میں ایک اندازے کے مطابق پاکستان سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ کیا جب ہم ایٹم بم پھینکیں گے تو یہ بم صرف ہندوؤں کو مارے گا اور ہمارے مسلمان بھائی بچ جائیں گے؟
14. کیا ہمیں کشمیری انسان اور مسلمان کے طور پر عزیز نہیں ہیں کہ ہم ان کی جان، مال اور عزت کا کچھ سوچیں؟
15. کیا ہمیں زمین کا ایک ٹکرا اُن مظلوم کشمیریوں سے زیادہ عزیز ہے؟
16. کیا تجارت بھی ایک راستہ نہیں ہے، جس سے ہم امن کے ساتھ رہ سکیں اور ترقی کر سکیں؟
17. کیا پاکستان کو توڑنے میں ہماری غلطیاں شامل نہیں تھیں؟ کیا سب کچھ انڈیا کا کیا دھرا تھا؟
18. کیا ہم نے لاکھوں کی تعداد میں اپنے ہی مسلمان بھایوں کو نہیں مارا؟
19. کیا ہم نے مشرقی پاکستان کو اس کا حق دیا؟
20. کیا ہم نے زبردستی دس فیصد بولنے والوں کی اجنبی زبان کو مسلمانوں کی زبان کہہ کر بنگالیوں پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی؟
21. کیا کوئی زبان بھی کبھی مسلمان یا کافر ہو سکتی ہے؟
22. کیا صرف مذہب ہی بہت سی قوموں کو متحد رکھنے میں مدد کر سکتا ہے؟
23. کیا یہ نظریہ کی لڑائی صرف ہندو کے ساتھ ہی ہے، دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ نہیں ہے؟
24. کیا ہر وقت دشمنی کی باتیں کرنے سے ہمارے اپنے ہندی مسلمانوں کی جان خطرے میں نہیں پڑتی؟
25. کیا صوبوں کو ختم کرنے سے یہ پاکستان بچ جائے گا؟
26. کیا سب کو مذہب کی وہ توجیح قبول ہو گی جس قسم کی تشریح کچھ لوگ کرتے ہیں۔
27. کیا دنیا میں کوئی ایک مسلم ملک بھی ایسا ہے، جو اس قسم کے فاشسٹ نظریہ پر یقین رکھ کر اپنے ہی ہم وطنوں کے حقوق غصب کرتا ہو؟
28. ایک طرف تو ہم اپنے ملک کو فلاحی ریاست بنانے کا عزم لیے ہوئے ہیں مگر دوسری طرف ہر وقت جنگ کی تیاریوں میں اپنے آپ کو مصروف رکھ کر کیا ہم اپنے ملک کو ایک فلاحی ریاست بنا سکتے ہیں؟
29. کیا ایک گیریزن سٹیٹ بھی کبھی ایک فلاحی ریاست بن سکتی ہے؟
30. کیا اپنے حقوق پر بات کرنے والے کو غدار کہہ کر چپ کروایا جا سکتا ہے؟
31. کیا اپنا حق مانگنا غداری کے زمرے میں آتا ہے؟
32. کیا ایک قوم کے کچھ لوگوں کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ تعین کریں کہ ملک کس قسم کے نظریہ کے تحت چلے؟
33. اگر کوئی اپنی تحریر میں محمد علی جناح لکھتا ہے تو اس کا مطلب یہ کیسے ہو گیا کہ وہ غدار ہے اور قائد اعظم سے نفرت کرتا ہے؟
34. کیا قائد اعظم، محمد علی جناح سے زیادہ معتبر نام ہے؟ اُس نام سے جس میں محمد اور علی آتا ہو؟
35. کیا یہ ٹھیکہ صرف ایک قوم کے کچھ لوگوں کے پاس ہے کہ وہ اس ملک کے رہنے والوں کو بتائیں کہ اپنے محبوب لیڈر کو کیسے پُکاریں؟
37. کیا قائد اعظم کو اس لقب سے پُکارنا ہی وطن کے ساتھ محبت کا لٹمس ٹیسٹ ہے؟
38. آخر میں ایک سوال، کس حیثیت کے تحت دائیں، رائٹیسٹ یا اسلامسٹ کو یہ حق ملا ہے کہ وہ غداری اور حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹتے پھریں؟

دوسرے حصے میں ہم ان کے نظریہ کے بارے میں بات کریں گے جو اپنے اپ کو لبرل،لیفٹسٹ (پاکستان کے تناظر میں) مانتے ہیں اور پاکستان کو ایک لبرل ملک بنانا چاہتے ہیں۔

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *