دوسرے لوگ۔۔۔وہارا امباکر

ہمیں اپنی تاریخ سمجھنے کے لئے اِن گروپ اور آؤٹ گروپ کا تصور سمجھنا ضروری ہے۔ بار بار، دنیا بھر میں لوگوں گروہوں کی صورت میں دوسروں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، قتل و غارت کرتے ہیں، جنگیں لڑتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان لوگوں کو بھی جو بے ضرر ہوتے ہیں اور کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوتے۔ 1915 میں عثمانی سلطنت نے آرمینیا میں دس لاکھ لوگوں کو قتل کیا۔ 1937 میں جاپان نے نینکنگ میں لاکھوں کی تعداد میں قتل کیا۔ 1994 میں وحشت کے سو دنوں میں روانڈا کی ہوتو آبادی نے آٹھ لاکھ ٹوٹسیوں کو قتل کیا اور زیادہ تر کو صرف ڈنڈوں کے ساتھ۔ یورپ کے ہولوکاسٹ کے دوران کم سے کم ساٹھ لاکھ لوگ صرف اپنی شناخت کی وجہ سے مارے گئے۔

اس ہولوکاسٹ کے بعد یورپ نے عہد کیا کہ ایسا دوبارہ نہیں ہو گا لیکن انسانی فطرت کب بدلتی ہے۔ اس کے صرف پچاس سال بعد یورپ کو ایک ایسے ہی جینوسائیڈ کا سامنا تھا۔ جرمنی سے صرف چھ سو میل دور یوگوسلاویہ میں۔ 1992 سے 1995 کے درمیان یوگوسلاویہ کی جنگ میں ایک لاکھ افراد اپنی جان سے صرف اس لئے ہاتھ دھو بیٹھے کہ وہ مسلمان تھے۔ ان میں سے ایک بدترین واقعہ سربرنیٹشا کے مقام پر پیش آیا جہاں پر صرف دس روز میں آٹھ ہزار بوسنین مسلمانوں کو گولی مار دی گئی۔ جنہوں نے سربرنیٹشا کے محاصرے میں گھرنے کے بعد اقوامِ متحدہ کے کمپاؤنڈ میں پناہ لی تھی، 11 جولائی 1995 کو اقوامِ متحدہ کے کمانڈرز نے ان پناہ گزینوں کو نکال دیا۔ دشمن انتظار کر رہے تھے۔ خواتین کو ریپ کیا گیا، مردوں کو قتل کیا گیا، بچوں کو بھی نہ بخشا گیا۔

حسن نوہانووچ جو بوسنین مسلم ہیں اور مترجم کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ان کی جان صرف اس وجہ سے بچی تھی کہ وہ اس کمپاؤنڈ کے ملازم تھے۔ ان کے والد، والدہ اور بھائی بھی اس روز ہلاک ہونے والوں میں سے تھے۔ ان کے الفاظ میں۔

“جو چیز مجھے سب سے زیادہ رلاتی ہے، وہ یہ کہ ہمیں مارنے والے ہمارے ہمسائے تھے۔ ہم تو کئی دہائیوں سے اکٹھے رہ رہے تھے۔ لوگ اپنے بچپن کے دوستوں کو بھی قتل کر سکتے ہیں؟ سربوں نے ایک بوسنیاک ڈاکٹر کو پکڑا تھا۔ اس کو بازوؤں کے ذریعے کھمبے پر لٹکا دیا تھا۔ پھر اس کو لوہے کی سلاخوں سے مارنا شروع کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ تین روز تک اس کا مردہ جسم وہیں پر لٹکا رہا تھا۔ سرب بچے سکول جاتے وقت اس کی لاش دیکھا کرتے تھے۔ کچھ اقدار تو بہت ہی بنیادی ہوتی ہیں۔ قتل نہ کرنا ان میں سے ہے۔ لیکن اپریل 1992 میں یہ قدر بھی غائب ہو گئی تھی۔ قتل ایک کھیل بن گیا تھا۔”

انسان اتنی جلد اتنا زیادہ کیسے بدل جاتے ہیں؟ یہ ممکن کیسے ہے؟ دنیا بھر میں ایسے قتل و غارت کے واقعات کیوں ہوتے رہتے ہیں؟ روایتی طور پر ہم ان کو تاریخ، اکنامکس یا سیاست کے پس منظر میں دیکھتے ہیں لیکن پوری تصویر جاننے کے لئے ہمیں کہیں اور دیکھنا ہو گا۔ اپنے ہمسائے اور بچپن کے دوست کی جان لے لینا ایک ایسی چیز لگتی ہے جسے سوچ کر ہی جھرجھری آ جائے لیکن یہ ہم باقاعدگی سے کرتے رہے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ ایسا کرتے رہے ہیں۔ کچھ حالات میں دماغ کی نارمل سوشل فنکشننگ شارٹ سرکٹ کیوں ہو جاتی ہے؟ اس لے لئے پہلے لیبارٹری کا ایک تجربہ۔

———————–

کیا دوسروں کے لئے ہماری ہمدردی کا تعلق اس سے ہے کہ وہ “ہم” میں سے ہے یا “دوسروں” میں سے؟ اس کے تجربے کے لئے کچھ شرکاء کو لیا گیا۔ ان کو سکرین پر چھ ہاتھ دکھائے گئے۔ کمپیوٹر ان میں سے ایک ہاتھ کا انتخاب کرتا۔ وہ ہاتھ بڑا ہو کر درمیان میں آ جاتا۔ اس کو یا تو روئی کے ساتھ چھوتے دکھایا جاتا یا پھر سرنج کی سوئی کے ساتھ۔ دیکھنے میں یہ دونوں ایکشن ایک ہی طرح کے ہیں لیکن ویژوئل سسٹم کے علاوہ دماغ میں یہ بڑا مختلف ری ایکشن پیدا کرتے ہیں۔

دوسرے کو تکلیف میں دیکھ کر ہمیں خود تکلیف ہوتی ہے۔ ہمارا پین میٹرکس حرکت میں آ جاتا ہے۔ ہمدردی کی وجہ یہ ہے۔ ایک بار جب یہ طے ہو گیا تو تجربے کو بدلا گیا۔ ان ہاتھوں پر صرف ایک لفظ کے لیبل کا اضافہ کیا گیا۔ چھ لیبل یہ تھے۔ مسیحی، یہودی، مسلمان، ہندو، ایتھی اسٹ اور سائنٹولوجسٹ۔ جب ہاتھ درمیان میں آتا تو کیا ری ایکشن میں کچھ فرق تھا؟

ہر فرد کے لئے یکساں تو نہیں تھا لیکن ایسے ہاتھ کو ہونے والی تکلیف میں، جو اپنے گروہ کا تھا، اس میں پین میٹرکس کا ری ایکشن دوسرے گروہ کے مقابلے میں اوسطا خاصا زیادہ تھا۔ یعنی اگر کسی کی شناخت یہودی ہے اور یہودی لیبل والے ہاتھ کو سوئی چبھوئی گئی ہے تو اس کی تکلیف کسی بھی اور ہاتھ کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ یہ تمام چھ شناخت والے ہاتھوں کے لئے ایسا ہی تھا۔ اس کا تعلق صرف اس سے ہے کہ کیا یہ آپ کی اپنی ٹیم کا ہاتھ تھا؟ اور یہ اضافہ تو صرف ایک لفظ کے لیبل نے کیا تھا۔ اس لفظ کے علاوہ ہاتھ تو بالکل ایک ہی تھے۔

————————

لیکن یہ تشدد اور قتل کی وضاحت کے لئے کافی نہیں۔ اس کے لئے ہمیں ایک لیول اور نیچے جانا ہو گا اور یہ ڈی ہیومنائزشن کا لیول ہے۔ یعنی کسی کو انسان کے درجے سے ہی نیچے گرا دینا۔ اس پر تجربے کرنے والے ہالینڈ کی یونیورسٹی آف لیڈن کے لاسانا ہیرس تھے۔ دماغ کا وہ حصہ جو اس سے ڈیل کرتا ہے وہ میڈیل پری فرنٹل کورٹکس ہے۔ جب ہم دوسرے انسانوں سے بات کرتے ہیں، ان کے بارے میں سوچتے ہیں تو یہ حصہ ایکٹو ہوتا ہے جبکہ اگر کسی غیرانسان، مثلا کسی کافی کی پیالی کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو یہ ایکٹو نہیں ہوتا۔ لیڈن نے یہ تجربہ لوگوں کو تصاویر دکھا کر کیا۔ ایک نشئی بھکاری کی تصویر میں اس کی ایکٹیوٹی کم تھی۔ یعنی لوگ اس کے بارے میں اس کو انسان سے زیادہ ایک آبجیکٹ تصور کر رہے تھے۔ کسی کو انسان سے کمتر سمجھنے سے جو فائدہ ہوتا ہے، وہ یہ کہ اس کو نظرانداز کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس سے توجہ ہٹائی جا سکتی ہے۔ اس بھکاری کی مدد کئے بغیر آگے بڑھ سکنے کی یہ وجہ ہے۔

دوسرے گروپ کو اگر ڈی ہیومن آئیز کیا جا سکے تو پھر کچھ بھی کر لینا ممکن ہے اور یہ قتلِ عام کا اہم حصہ ہے۔ جس طرح نازیوں نے یہودیوں کو کمتر انسان بنا دیا تھا۔ ویسے ہی یوگوسلاویہ میں مسلمانوں کے ساتھ ہوا تھا۔

————————-

یوگوسلاویہ کی جنگ کا پراپیگنڈہ اسی قسم کا تھا۔ وہی جو صدیوں سے پریکٹس ہوتا آیا ہے۔ سرب حکومت کے پاس میڈیا کا کنٹرول تھا اور اس پر چلائی جانے والی خبروں میں بوسنین مسلمانوں اور کرویٹ آبادی کو حقائق کو توڑ مروڑ کر ولن بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ ان کے بارے میں نفرت انگیز زبان کا استعمال عام رہا۔ غلط کہانیاں پھیلائی جاتی رہیں۔ ذہنوں کو بدلنا بالکل بھی مشکل نہیں ہے۔

جب بڑے پیمانے پر نفرت پھیلائی جائے تو قتل و غارت بھی بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ اس کا اثر دماغ پر ہوتا ہے۔ سیاسی ایجنڈا کے تحت ہونے والے پراپیگنڈا سے انسانیت کا بدترین روپ سامنے آنے میں دیر نہیں لگتی۔ اس کا شکار ہو جانا بہت آسان ہے۔

اس کے مضرترین اثرات کو کم کرنے کا واحد طریقہ آگاہی ہے۔ دماغ کے اس ڈرائیو کو سمجھنا جس سے ہم انسانوں کے گروہوں کو انسانیت کے رتبے سے گرا دیتے ہیں، اس کو روکنا پڑتا ہے۔ ورنہ جان لے لینے جیسی بنیادی قدر بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

————————-

سربیا اس جنگی جنون میں کئے گئے مظالم کی معافی مانگ چکا ہے۔ سربیا کی اسمبلی 2010 میں معافی کی قرارداد منظور کر چکی ہے۔ 2013 میں سربیا کے صدر نے یہ الفاظ کہے، “میں گھٹنوں کے بل گر کر سرب لوگوں کی طرف سے سربرنیٹشا کے مظالم پر معافی مانگنا چاہتا ہوں۔ سرب قومیت کے نام پر کسی بھی فرد کے طرف سے کئے گئے جرم میں ہم سب قصوروار ہیں اور شرمندہ ہیں”۔ اس سے پندرہ سال پہلے وحشت کے اجتماعی جنون کی حالت میں کسی سرب کے لئے ایسا کہنا ممکن نہیں تھا۔

————————-

ہم حیرت انگیز طور پر شاندار سوشل نوع ہیں۔ ہماری کامیابی کا سب سے بڑا راز ہی آپس میں مل کر کام کرنا ہے۔ لیکن ہمارے اسی معاشرتی ڈرائیو کو بہکایا بھی جا سکتا ہے۔ ہمیں اس سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ سنجیدہ معاملہ ہے۔ یہ زندگی اور موت کے معاملات ہے۔

آپ شاید تصور کرتے ہوں کہ آپ کی حد آپ کے جسم کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ ایک طرح سے آپ کے اور آپ کے ماحول کے درمیان کوئی حد بنانے کا طریقہ ہے ہی نہیں۔ ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک شکلیں بدلتا سپرآرگنزم ہیں۔ ایک بڑے نیٹورک کا ایک حصہ۔ اس سپرآرگنزم کے مستقبل کے لئے ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے کس طرح تعلق بناتے ہیں۔ ایک دوسرے سے مل کر کیسے کامیاب ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے ہمیں خطرہ کیا ہے۔

کیونکہ ایک سچ ہے جس سے چھپنے کا ہمارے پاس کوئی طریقہ نہیں۔ یہ ہمارے دماغوں میں لکھا ہوا سچ ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *