• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • دیوار گریہ کے آس پاس۔۔راوی : کاشف مصطفےٰ/تحقیق و تصنیف : محمدّ اقبال دیوان/قسط15

دیوار گریہ کے آس پاس۔۔راوی : کاشف مصطفےٰ/تحقیق و تصنیف : محمدّ اقبال دیوان/قسط15

(اسرائیل کا سفر نامہ ۔اپریل 2016 )
ادارتی تعارف
جناب محمد اقبال دیوان کی تصنیف کردہ یہ کتاب’’ دیوار گریہ کے آس پاس ‘‘کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔
اس سفر نامے کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔
کتاب کے ناشر محترم ریاض چودہری کی پیرانہ سالی اور صوفیانہ بے نیازی کی وجہ سے سرورق پر دیوان صاحب کا نام بطور مصنف شائع ہونے سے رہ گیا جس سے یہ تاثر عام کیا گیا کہ اس کے مصنف کوئی اور امیر مقام ہیں۔
یاد رہے کہ یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔
انگریزی میں تحریر ان کی سفری یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا جو زیادہ تر مختصر پیرائے میں انگریزی زبان میں اسرائیل سے جناب دیوان صاحب کو بذریعہ ای میل موصول ہوئیں۔ ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے موصول شدہ ان ٹریول نوٹس کی مدد سے اپنے مخصوص انداز میں اسے اردو کے قالب میں ڈھالا۔ اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع کیا۔

اس کتاب کو لکھنے میں اور اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔یہاں  اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ یہ کاوش بیش بہا پہلے سے انگریزی یا کسی اور زبان میں کتاب کی صورت موجود نہ تھی۔ نہ ہی اس کا کوئی اور نسخہ اب تک کسی اور زبان میں معرض وجود میں آیا ہے۔ قارئین مکالمہ کی خاطر کچھ تصاویر جو کتاب میں موجود نہ تھیں وہ وضاحت مضمون کی خاطر نیٹ سے شامل کی گئی ہیں۔قسط مذکورہ میں ڈاکٹر صاحب کی اپنی تصویر کے علاوہ تمام تصاویر نیٹ سے لی گئی ہیں
ہما رے دیوان صاحب ڈاکٹر صاحب کے ہم زاد ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔ ان کی تین عدد کتابیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا اور تیسری پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ شائع ہوچکی ہیں۔ چوتھی چارہ گر ہیں بے اثر ان دنوں ادارہ قوسین کے پاس زیر طبع ہے۔ سرجن کاشف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔ قرآن الحکیم، بائبل اور تصوف کے حوالے دیوان صاحب کی اپنی تحقیق اور اضافہ ہے اور انگریزی ٹریول نوٹس میں شامل نہ تھا
ایڈیٹر ان چیف انعام رانا
پچھلی قسط میں ذکر تھا کہ راجہ صاحب کی داستان حیات سن کر مجھے بھوک اور وقت کا کوئی احساس ہی نہ رہا۔داستاں ختم ہوئی تو ۔ عبدالقادر وہاں پڑے تخت پر لمبی تانے سوچکا تھا۔ریستوراں گاہکوں سے خالی ہوچکا تھا لیکن راجہ جی
کی آنکھیں آنسووں سے بھر چکی تھیں ۔انہیں میزبانی کے باب میں کوتاہی کا احساس ہوا آنکھ سے آخری آنسو پوچھتے ہوئینے بھرائی آواز میں معذرت کی کہ انہوں نے دل کا بوجھ ہلکا کرنے میں مجھے کھانے کا تھا پوچھا تک نہیں۔درد اب جاکے اٹھا چوٹ لگے دیر ہوئی، والا معاملہ تھا۔ان کے سوال کی بازگشت میں ۔ان کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے۔ان کے اور اپنے شہر پنڈی اور ان کے علاقے ٹے نچ بھاٹا کو یاد کرتے ہوئے میر ے دماغ میں، میرے دوست، میرے مترجم دیوان صاحب کاسنایا ہوا ،جون ایلیا کا وہ شعر گونج رہا تھا ع
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم میری آخری محبت ہو

tripako tours pakistan
سرجن کاشف مصطفے کا نوٹ

نئی قسط
میں وہ بدنصیب ایسا اہل دل اور اہل وطن تھا جو بعد مدت کہ راجہ صاحب کو ملا تو وہ اپنی داستان حسرت سنا سنا کے روئے۔اس واردات اشک باری و مقام آہ فغاں میں میری بھوک مٹ گئی اور ان کی میزبانی کوتاہی کے بستر پر سسکیاں لے کر منہ  ڈھانپے پڑی رہی۔داستان دل کا معاملہ وہی ہے کہ چاہے وہ کتنی بھی پرانی ہو بقول مصطفے زیدی کے

ع کہنے والے کے لیے سب سے نئی رہتی ہے۔۔

مسجد سیدنا یونس علیہ سلام
سیدنا یونس علیہ سلام کا مزار
مرقد سیدنا داؤد
مرقد سیدنا داؤد علیہ سلام
مرقد سیدنا داؤد علیہ سلام کا اندرونی منظر
نبی داؤد علیہ سلام کا مجسمہ
داعش کے ہاتھوں موصل عراق میں سیدنا یونس کے مزار عالیہ کی بربادی
داعش کے ہاتھوں موصل عراق میں سیدنا یونس کے مزار عالیہ کی بربادی-ایک اور منظر

راجہ صاحب نے جب مجھے کھانے کا پوچھا تو مجھے ایسا لگا کہ میری رال اندر ہی اندر کہیں ٹپک پڑی ہے۔راجہ صاحب نے میری اشتہاء کو یوں اور بھی آتش شوق سے ہم کنار کیا کہ انہوں نے ہم پنڈی والوں کا پسندیدہ کھاجا کیا ہے، وہ مصر تھے کہ وہ یہ سب پکوان عمر عزیز کے اس حصے میں بھی میرے لیے خود ہی تیار کریں گے۔سچ مانیے تو میرے لیے اب اس پیشکش سے انکار کا کوئی جواز نہ بچا تھا۔
کھڑکی سے باہر دیکھا تو سامنے سرخ اور نارنجی سورج پہاڑی ڈھلوانوں پر ادھر ادھر بکھرے گھروں پر سے اپنی آخری کرنیں سمیٹ رہا تھا۔ان گھروں کے برآمدوں میں اور دالانوں میں ا ب دھیمے دھیمے قمقمے ٹمٹمارہے تھے۔انگوروں کے باغات میں البتہ جگنو وں کے جھرمٹ دکھائی دے رہےتھے ۔حلحول تاریخ کے گمنام صفحات میں سانس لیتا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔عوام کی ایک بڑی اکثریت اس سے لاتعلق اور ناآشنا ہے۔مجھے جانے یہ خیال کیوں گھیرے بیٹھا ہے کہ میں یہاں شاید دوبارہ کبھی بھی نہ آ پاؤں۔میرے جیسے من موجی کو جس کو شہر شہر گھومنے کا بہت اتفاق ہوتا ہے یہ سوگوار کیفیت کم ہی اپنی گرفت میں لیتی ہے۔آج کچھ ایسا ہی ہے معاملہ ہے۔
اس سوگواری کا سودا میں نے تجسس کے لالچ سے عین اس وقت کرڈالا جب راجہ صاحب مجھے چھوڑ کر باورچی خانے کی طرف بڑھنے لگے ۔ میرے اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہاں کوئی تاریخی عمارت یا مقام دل چسپی ہے تو راجہ صاحب نے ایک مانوس سی حیرت کا اظہار کیا ۔ ایسی حیرت جو ہر پنڈی وال کو اس وقت ہوتی ہے جب اس سے کوئی اپنا کوئی انہونا سوال کرے ۔ راجہ صاحب کا بھی خیال تھا کہ حضرت داؤد کو یروشلم اور گرد و نواح کی بستیاں بسانے کا مشورہ شاید میں نے دیا تھا۔ وہ حیرت سے فرمانے لگے کہ کیا مجھے یہ نہیں معلوم کہ سیدنا یونس علیہ سلام کا مزار اسی شہر میں ہے۔
سیدنا یونس کے مقبر عالی کے حوالے سے پچھلے دنوں کچھ تصاویر اور دل خراش مناظر میں نے میڈیا پر دیکھے تھے۔اسے داعش نے موصل عراق کے قریب برباد کردیا تھا۔میں نے جب ان مناظر کو ذہن میں حوالہ بنا کر پوچھا تو ایک اچھے پاکستانی کی طرح وہ دامن بچا گئے اور کہنے لگے تاریخ کا تو مجھے کوئی پتہ نہیں مگر سب لوگ کہتے ہیں کہ مسجد یونس یہاں ہے اور آپ کا مدفن بھی۔یہاں سے وہ زیادہ دور نہیں اگر ہیبرون کی سیاحت نے مجھے تھکا نہیں دیا تو میں وہاں جاسکتا ہوں۔تب تک کھانا تیار ہوجائے گا۔

حلول کا قصبہ
جبل صیہون

میں نے جھٹ پٹ اجازت لی اور چل پڑا۔حلحول کی خاموش گلیوں پر سر شام ہی ایک خاموش سی سوگواری نے چادر ڈال دی تھی۔ہوا میں خنکی بھی تھی۔سارے اسرائیل اور فلسطین میں یہ وہ واحد مقام ہے جہاں سردیوں میں تواتر سے برف پڑتی ہے۔اپریل کی اس شام میں چٹکیاں لیتی خنکی تھی۔ چندسو میٹر چلنے کے بعد میرے سامنے کہیں سے خود بخود مسجد یونس نمودار ہوگئی۔مسجد کے اندر داخل ہونا بہت خوشگوار تجربہ تھا، امام صاحب اگر مجھے ہارلے ڈیوڈسن موٹر سائیکل پر سوار ڈربن جنوبی افریقہ یہ برمنگھم کی کسی شاہراہ ہفتے کی رات ملتے تو بغیر گٹار کے بھی راک اسٹار لگتے۔مجھے سے ملے تو بہت خوش ہوئے۔یہاں بہت ہی کم سیاح آتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو شاید یہ بھی ہو۔مغرب کی نماز کی امامت سے فارغ ہوکر وہ مجھے مسجد کے کونے میں ایک مقبر کے پاس لے گئے۔فاتحہ خوانی سے فارغ ہوکر میں نے راجہ صاحب والا سوال ان سے بھی کرڈالا وہ کہنے لگے دنیا میں صرف دو مزارات کو مستند سمجھو سیدنا ابراہیمؑ اور ہمارے آقائے دوجہاں محمد مصطفے ﷺ کا مسجد نبوی میں مزار۔باقی سب مقابر کے بارے میں اس قدر تضادات ہیں کہ حاضری کا موقع  ملے تو عزت سے فاتحہ پڑھو جو مسلمان پر ایسے موقعے پر فرض ہے ۔دوسروں کے جذبات اور عقیدت کا احترام کرو اور چپ چاپ رخصت لو۔اسی میں عافیت ہے۔ میں نے اس موقع پر اپنی رائے ظاہر کی کہ سیدنا یونس کا معاملہ ایسا ہے کہ تین مقامات پر آپ کی تدفین ظاہر کی جاتی ہے۔
ایک تو موصل کے پاس نینوا میں ،دوسرا مشہد جو اسرائیل کا ایک قصبہ ہے اور تیسرا یہ ہمارا حلحول۔میرا خیال ہے کہ چونکہ وہ نینوا کی بستی جو اس وقت بابل اور اب عراق میں واقع ہے اس بستی میں بغرض تبلیغ دین اسلام بھیجے گئے تھے لہذا یہ بات ممکن نہیں کہ وہ یہاں آئے ہوں۔میرے اس معترضانہ مشاہدے کو انہوں نے بہت خاموشی سے سنااور پھر کمال آہستگی اور مقام شائستگی سے یوں گویا ہوئے کہ ممکن ہے انہیں وہاں اللہ کی عذاب کی آمد کی اطلاع دی گئی ہو۔ وہاں کے لوگ بہت سرکش و باغی تھے۔وہاں کا طبقہ ء اشرافیہ آپ کی غربت اور بے چارگی کو بہت تحقیر سے دیکھتاتھا ان کو بہت ایذا بھی پہنچاتا تھا۔اسی لیے وہ چل پڑے ہوں۔

۔قصے یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ کہ وہ تیونس کی جانب بحری راستے سے چلے جائیں ان کا اپنا فیصلہ تھا۔ اللہ کی جانب سے ابھی یہ حکم نہیں آیا تھا۔اللہ نے ان کی اس کشتی کو مبتلائے طوفان کردیا اس زمانے میں یہ رسم تھی کہ اگر سمندی کشتی کسی طوفان کا شکار ہوجائے تو لوگ تیروں کے ذریعے فال نکالتے تھے کہ کہیں مسافروں میں کہیں کوئی ایسا مسافر تو نہیں جو مالک سے جان چھڑا کر خیانت اور چوری کرکے بھاگ رہا ہو۔ اسے کشتی سے سمند رمیں پھینک دیا جاتا ۔سیدنا یونس ن کا نام ہر مرتبہ فال نکالنے پر جب سامنے آیا تو ان ناخداؤں کو یہ باور کرنا مشکل تھا کہ وہ مجرم ہیں کیوں کہ ان کی اور دیگر مسافروں کی اکثریت آپ کے تقوے اور اعلی کردار سے بخوبی آگاہ تھی ۔امام صاحب نے میری جانب بہت غور سے دیکھا اور فرمانے لگے نیک لوگ اگرکوتاہی یا حکم عدولی کرتے ہیں تو ان کی سزا عام آدمی سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اس لیے کہ اس طرح کے افراد کی کوتاہی کے مضمرات اور بگاڑ عام آدمی کی کوتاہی اور حکم عدولی سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔معاشرہ اس کی وجہ سے بہت اتھل پتھل کا شکار ہوتا ہے۔۔بالآخر انہیں کشتی سے پھینک دیا گیا اور ایک بڑی مچھلی شاید وہیل نے انہیں نگل لیا۔وہ اس کے پیٹ میں کتنے دن رہے اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ کم از کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ چالیس دن بتائی جاتی ہے۔ وہاں ان کا ورد بس آیت کریمہ تھی جو سچی توبہ کا سب سے پہلا اعتراف ہے۔اللہ کو اس توبہ استغفار پر رحم آگیا اور انہیں مچھلی نے جافا کے پاس ساحل پر آن کر باہر اگل دیا۔اس وقت ان کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔مچھلی کے پیٹ میں قیام کی وجہ سے آپ کی جلد وہاں موجود تیزابیت نے جھلسا دی تھی۔ایک محتاط اندازے کے مطابق اس پر فضا مقام تک آن پہنچے۔یہ جو مقبرہ ہے اسی کمرے میں ہے جہاں آپ نے سال بھر قیام کیا تھا۔یہیں پر آپ کی خوراک کے انتظام کے لیے کدو کادرخت بھی اگا دیا تھا۔ ان کا زیادہ تر وقت عبادت میں گزرتا تھا۔سال بھر کے قیام کی وجہ سے ہی قصبے کو حل (قیام) حول (سال ) بھر کہتے ہیں۔امام صاحب کہنے لگے کہ صحت یاب ہوکر وہ نینوا لوٹ گئے تھے۔واپسی کا سفر ان کے لیے بہت خوشگوار ثابت ہوا ۔ ان کی قوم اپنی پرانی روش ترک کرکے دین الہی کو اپنا چکی تھی۔اللہ نے ان پر اپنی مہربانیوں کا باب پھر سے کھول دیا تھا۔یہاں تاریخ کو ایک دو شاخہ چبھ جاتا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں عمر کا باقی حصہ انہوں نے اپنے لوگوں میں ہی گزارا ، یہیں آپ کا وصال ہوا اور یہیں وہ مزار تعمیر ہوا جسے داعش نے موصل میں ڈائنائیٹ سے اڑا دیا ۔ایک بیان یہ بھی ہے کہ وہ واپس یہاں حلحول لوٹ آئے تھے۔ یہی ان کا مدفن سمجھا جاتا ہے ۔ میں نے سوال کیا کہ اگر یہ مزار انہیں کا ہے اور یہ تعویز موجود ہے تو ان کی اصل قبر کہاں ہے؟۔
کمرے کے نیچے ایک بہت بڑا غار ہے ۔ وہ گویا ہوئے۔اس تک رسائی ناممکن سی ہے۔شاید وہ مقبر وہاں ہو۔

میں نے امام صاحب کا اس سیر حاصل تعارف پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور معطم ابو داؤد کی جانب لوٹ آیا۔یہاں اس وقت گاہکوں کی بھرمار تھی۔قادر صاحب راجہ صاحب کے بیٹے کے اسسٹنٹ منیجر گلا سنبھالے بیٹھے تھے۔ مجھے ان کا سا لوگوں کے دل میں جلد گھر کرنے کا ہنر نہ آیا۔راجہ صاحب مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ ہم نے اپنی پرانی مخصوص نشستیں سنبھالیں۔ ویٹر بھاگم بھاگ مٹی کی دہکی ہوئی دو بڑی ہانڈیاں اٹھا لایا ۔ڈھکن ہٹے تو اندر سے خوشبو بن کر راولپنڈی برآمد ہوگیا۔میرے مشام جاں روشن ہوگئے۔

چکن کڑھائی پر پتلے کترے ہوئے ادرک کے ٹکڑے۔ہری مرچیں اور تازہ ہرا دھنیا۔ ساتھ ہی دال ماش جو اگر کھانے میں شامل نہ ہو تو ہم پوٹھواری سات کورس کے ڈنر سے بھی بھوکے ہی اٹھ آتے ہیں۔نان بھی بالکل ہمارے جیسے تھے۔اللہ اللہ کیا مہربانیاں ہوئیں۔ کھانا ختم ہوا تو قادر چھوٹے بچوں کی طرح پہلو میں آن کر بیٹھ گیا کہ صاحب لوٹ چلیں اندھیرا چھا گیا ہے۔راجہ صاحب نے بھی اس کی انگریزی سن لی وہ تو بہت عمدہ انگریزی بولتے ہیں۔وہ میرا ہاتھ تھام کر بولے جانے کی باتیں جانے دو۔میری داستاں تو سن لی پاکستان کا کوئی احوال نہیں ہوا۔میرے پنڈی کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا کیسی محفل ہے کہ ابتدا ہی نہیں۔میرا شہر مجھے بھول گیا تو کیا ہم نہ اسے بھلا سکے۔میں نے ان کی یہ فرمایش سن کر قادر کو کہا کہ یہاں نہ میری بیوی ، نہ میرے بچے۔ہوٹل میں کوئی میرا منتظر بھی نہیں لیکن تمہاری ضد ہے تو چلتے ہیں۔راجہ صاحب نے کچھ ایسی ملتجی نگاہوں سے قادر کو دیکھا کہ وہ بھی دھوپ میں رکھی برف بن گیا۔فون کرکے بیگم کو بتایا کہ یہاں حل حول میں وہ اپنے کسی بھولے بسرے کزن کے پاس رات کو قیام کرے گا۔ دس بارہ سال بعد بیوی کو میاں کی اورفرشتوں کو مولوی کے رزق کی  کوئی فکر نہیں رہتی ۔سو وہ بھی خوش ہوئی ہوگی۔قادر نے کزن کے گھر کا راستہ لیا اور راجہ صاحب میرا بازو تھام کر مجھے اپنے گھر لے چلے ۔تین کمروں کے گھر میں وہ اپنے دو عدد بڑے بیٹوں اور ان کے اہل و عیال کے ساتھ رہتے ہیں۔ان کا گھر ایک چھوٹی سی پہاڑی چوٹی پر واقع ہے گھر پہنچتے ہی انہوں نے اپنے الخلیل، بیت عمر،حل حول میں بکھرے ہوئے خانوادے کے دیگر افراد کو فون پر بلوالیا۔وہ بھی ایک کے بعد ایک آناً فاناً پہنچ گئے۔کون تھا جو نہ آیا ہو، بہوئیں، بیٹے بیٹیاں پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں۔ مجھے بھی ایسا لگا میرے اپنے گھر کے لوگ جمع ہوگئے ہیں۔
دس بجے تک وہ سب رخصت ہوگئے تو ہم برآمدے میں کرسیاں ڈال کر بیٹھ گئے ایسا لگا کہ ان کے ہاتھ میری صورت میں الہ دین کا جن ہاتھ لگ گیا ہے جو ان کے لیے پلک جھپکتے ہی پنڈی طشتری پر اٹھا لائے گا۔ان کے ذہن میں پنڈی کے حوالے سے سوالات کا ایک طوفان تھما ہوا تھا۔جو کچھ یادوں میں سمایا تھا سب ہی نکال کر میرے سامنے رکھ دیا ، وہ افراد اور مناظر تو سبھی بدل گئے۔ اب ان کو کہاں سے ڈھونڈیں۔میرا مسئلہ یہ تھا کہ کچھ افراد جن کا وہ پوچھ رہے تھے وہ میری پیدائش سے پہلے ہی کہیں ادھر ادھر ہوگئے
میرے بڑوں سے میں نے کچھ کا سر سری سا احوال سن رکھا تو سو بیان کرتا رہا تاکہ ان کے دل خوش فہم میں پنڈی کے بارے میں جو یادیں باقی ہیں وہ میری بے احتیاطی سے کہیں نادانستہ طور پر چکنا چور نہ ہوجائیں۔جب وہ تذکرہ چھیڑتے تو میں گاہے بہ گاہے سوالات یا تجزیے کا ہلکا سا تڑکا لگا دیتا تھا۔میری ایک ہی کوشش تھی کہ ان کے خوابوں اور خیالات کا پنڈی میری حق گوئی اور بے باکی کیوجہ سے کہیں ان سے نہ چھن جائے۔اگلی صبح میری آنکھ کچھ دیر سے کھلی ۔ بہت دیر تک یقین نہ آیا کہ میں کہاں آرام فرما ہوں۔کھڑکی سے باہر دیکھا تو قصبہ حلحول بھی میری طرح اونگھ ہی رہا تھا۔راجہ صاحب نے میرے لیے خصوصی طور پر ناشتے پرپراٹھے بنوائے۔ناشتہ ختم ہوا تو قادر بھی طلوع ہوگیا۔۔رخصت ہوئے تو راجہ ممیریز آف ٹینچ بھاٹا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔انہیں اپنا چھوٹا بھائی راجہ سلطان یاد آگیا اس کا بابو محلے میں موٹر سائیکلوں کا شو روم ہے۔ان کا حکم تھا کہ پنڈی پہنچ کر میں اسے ضرور ڈھونڈوں اور جب میں سرکاربری امام جاؤں تو ان کی جانب سے چادر ضرور چڑھاؤں۔میں نے سب وعدے پورے کرنے کی بات کی اور نیم خوابیدہ حلحول سے چل پڑا۔یروشلم کے راستے میں میری سوچوں کو کوئی کنارہ نہیں مل پارہا تھا۔ ہر مسافت کا انجام زندگی بھر کی جدائی نہیں ہوتا مگر تقدیر اگر کوئی رکاوٹ کھڑی کردے تو کوئی ویزہ کوئی پاسپورٹ کوئی سواری اس کے دوسرے پار نہیں جاسکتی۔

راجہ ممریز کے ہاں سے واپسی پر میرے ذہن میں تقدیر سے متعلق بہت سے سوالات منڈلاتے رہے۔میں ان کی زندگی کو لمحوں کی ایک ایسی خطا سمجھتا ہوں جس کی سزا صدیوں کو ملی۔عبدالقادر بھی غیر محسوس طریقے پر تمام مسافت کے دوران چپ تھا۔اسے ممکن ہے راجہ ممریزکے بارے میں کچھ کچھ معلوم ہو مگر وہ ان کے پنڈی کے پس منظر اور بقول پن جاب کے عظیم شاعر وارث شا ہ کے بقول د کھ درد وچھوڑے عمراں دے عاشقاں صادقاں دی تقدیر ہووے کا کوئی درد اور ادراک نہ رکھتا تھا۔اس کی سرخ آنکھوں کے بارے میں میرے سوال پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رات بھر تاش کھیلتا رہا ہے ۔
یروشلم پہنچ کر اس نے مجھے ہوٹل پر اتارا اور خود اپنی نیند کی کمی پوری کرنے گھر چل دیا۔ہوٹل کی لابی میں مجھے دیکھ کر منیجر رفیق صاحب اپنی سیٹ سے اچھل پڑے اور بھاگ کر میری طرف آئے ۔ میری سلامتی کی انہیں فکر تھی۔یہ تفکر ان کے چہرے پر بھی عیاں تھا اور تواتر سے پوچھے گئے سوالات میں بھی۔

میں نے انہیں جب حلحول میں اپنے قیام شب کا بتایا تو انہوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ان کا اصرار تھا کہ ایسی کوئی نوبت آئے تو میں انہیں ضرور بتاؤں۔ان کا خیال تھا کہ میں بے رحم موساد کے ہاتھ لگ گیا ہوں۔وہ کہہ رہے تھے کہ اسرائیل میں سنگ دل قانون تو بہت ہے مگر حقوق نہیں۔ان کے ہاتھ لگ جاؤ تو زندہ برآمد ہونا مشکل ہے۔ان کے چہرے پر تفکرات اور ان کے جذبات میں امڈتی سچائی دیکھ کر مجھے معافی مانگنے میں اور جلدی سے کمرے کا رخ اختیار کرنے میں ہی عافیت دکھائی دی۔شاور لے کر کپڑے تبدیل کرکے میں جب ٹیرس پر آیا تو دن ابھی اپنے شباب پر تھا۔میرا دل نہ چاہا کہ میں یہ عرصہ اس کمرے میں گزار کر وقت ضائع کروں انہی  لمحات میں مجھے پر یہ کوتاہی عیاں ہوئی کہ میں نے یہاں کی اہم ترین عمارت دیوار گریہ تو ابھی تک دیکھی ہی نہیں ۔یہ سوچنا تھا اور اگلے دس منٹ میں خاکسار یروشلم   کی سڑکوں پر موجود تھا۔ دیگر شہروں کی نسبت یروشلم میں ایک اپنائیت ہے۔میں اس کا نفسیاتی تجزیہ کروں تو اس کے عوامل میں مجھے فلسطنیوں کی خود داری،دل بری، مجبوری،مظلومیت کے ساتھ ساتھ اس شہر کی وقت کے ساتھ مسلسل ہم آغوشی اور تاریخی بہاؤ کا بھی بہت ہاتھ ہے۔یہی وجہ ہے کہ مجھے یہاں کہ لوگوں سے ایک فطری میلان محسوس ہوتا ہے۔۔یروشلم نے مجھے دوست کے گلی محلے اور بیٹھک کی مانند اپنا لیا ہے سیوں تو ہر شہر کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔آپ کی طبیعت کے سر اس شہر کے مزاج سے مل جائیں تو یہ احساس یگانگی محسوس ہوتا ہے۔
مجھے اور میرے دوست اقبال دیوان کو نیویارک کی جدیدیت ، دولت اور امارت میں ایک شور اور آپ کو دبوچ لینے والی خصلت کا احساس ہوتاہے۔ لندن بہت گستاخ اور نسل پرست ہے اور برسلز کا ذائقہ بیمارکے سوپ جیساہے ۔ان سب سے ہٹ کر یروشلم ایسا ہے کہ جیسے لڑ کی میکے میں آگئی ہو یا بھٹکا ہوا داد محمد یونان سے خجل خوار ہونے کے بعد واپس پنڈ دادن خان آگیا ہو۔یہاں تکلف برطرف ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اس کی ہواوں کا ہر جھونکا آپ کو خوش آمدید کہہ رہا ہے۔

بس ہماری دعا نہیں سنتا

آج اس کی تنگ گلیوں سے گزرا تو اس میں ایک عجب سی اپنائیت کا احساس ہوا۔میں نے اس کی تین بڑی نشانیاں ازبر کرلی ہیں۔ یہ تینوں حیرت ناک طور پر مذہبی عمارات ہیں۔ایک تو ہماری اپنی مسجد اقصی ہے دوسرا کلیسہ آلام ہے اور تیسری وہ آہوں سے تپتی ہوئی اوراشک ہائے عصیاں سے تر دیوار گریہ۔یہ ایک دوسرے کی ضد میں سب کی سب ایک کلو میٹر کے دائرے میں گھسی ہوئی ہیں۔شہر والوں نے سوچا ہے کہ اہل عقیدت خود ہی تقدیس کے شیرے میں لتھڑے اور اپنے جنون کی راستی پر مُصر انہیں ڈھونڈ لیں گے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی نشاندہی کے لیے کوئی بورڈ کہیں نصب نہیں۔قربتوں میں دوری کا یہ ہی ادارک بے پایاں ہے جو میرے سفر نامے کا عنوان بنا ہے۔میں نے بھی قانون کی مناسبت سے جس میں ایک اصطلاح ADVERSE POSSESSION طویل جبری قبضہ استعمال ہوتی ہے جسے مناسب قانونی اہلیت نہ ہونے پر عدالت بادل ناخواستہ قابض کے حق کے طور پر استعمال کرتی ہے ۔ یہ قبضہ سر دست مملکت اسرائیل کا ہے اہل یہود کو نے اپنے اصل دشمن عیسائی اتنے برے نہیں لگتے جنہوں نے ان کی بستیاں تاراج کردی تھیں۔ قیمتی خزانے لوٹ لیے تھے۔ ان کا داخلہ یروشلم میں مدتوں ممنوع قرار د ے رکھا تھا کیوں کہ وہ تو وطن چھوڑ کر یورپ آسٹریلیا ، کینیڈا اور امریکہ بھاگ رہے ہیں مگر فلسطینی اور عرب مسلمان ان کے لیے سوہان روح بنے ہوئے ہیں۔اسے اپنا مرکزی نقطہء حوالہ بنایا ہے۔
اس ایک کلومیٹر میں پتھریلی ، بل کھاتی اوپر نیچے ہوتی گلیوں کا جو جال ہے وہ ایک عام سیاح کے لیے بہت الجھاؤ کا باعث ہوسکتا ہے مگر ایک دفعہ محل و وقوع سے آشنائی ہوجائے تو کھیل بچوں کا ہوجاتا ہے۔ میں آپ کو سمجھاتا ہوں کیسے ؟دمشق گیٹ سے آپ سیدھے چلتے چلے آئیں تو ایک سہ راہا آجاتا ہے۔دھیان رکھیں یہ پہلا سہ راہا ہے۔بائیں جانب مڑجائیں تو مسجد اقصی آجاتی ہے۔دائیں ہاتھ کا مڑنا آپ کو کلیسہء آلام تک لے جائے گا اور سیدھے چلتے جائیں تو دیوار گریہ آپ کا راستہ روک لے گی۔
کلیسہء آلام Church of seplechur کے ارد گرد حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔مسجد اقصی کے محافظ تھوڑے اور جذبہء ایمانی سے لیس ہیں۔دیوار گریہ کا معاملہ ایسا ہے کہ اس کے احاطے میں داخل ہونا ایسا ہی گویا آ پ سندھ یا پنجاب پولیس کے آئی جی صاحب کے دفتر یا نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں داخل ہورہے ہیں ۔جا بجا فوجی ، ہر طرف دھاتی کھوجی(metal detectors)۔سادہ لباس، رنگیں ادا غنچہ دہن ،شیریں سخن خفیہ پولیس کی Kerv Maga میں سیکھی سکھائی سیاح نما حلف یافتہ کارکنان بقول چچا غالب ع اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے۔
آزمائش اور احتیاط کے ان سب مراحل سے گزر کر میں ایک بڑے سے احاطے میں آن پہنچا۔اس احاطے کے سامنے سیدھے ہاتھ کی جانب یروشلم کے یہود کا علاقہ ہے اور بائیں جانب دیوار گریہ۔یہاں سیاحوں کے درمیان اسرائیلی خفیہ پولیس کے اہل کار یوں گھل مل گئے تھے جیسا ہماری طرف کی عورتوں کی آنکھ میں کاجل۔بہ لباس درست فوجی ان کے علاوہ تھے۔

ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں
ہو حلقہ ء یاراں تو بریشم کی طرح نرم
دعا کی عرضیاں

دیوار گریہ کی زیارت پر کسی کے لیے کوئی پابندی نہیں لیکن ہفتے والے دن جو اہل یہود کا یوم سبات ہے اس دن صرف یہود ہی یہاں آسکتے ہیں۔ مشتاقان دید کے لیے ستر پوشی کی شرط البتہ ہمارے مدرسوں والی ہے۔ٹی شرٹ اور نیکروں میں مرد اور عورتیں دونوں ہی نہیں آسکتے ،عورتیں ٹخنوں  سے اوپر والے اسکرٹ پہن کر نہیں آسکتی ہیں۔آدھی آستین مرد کی ہو یا عورت کی ، دونوں پر پابندی ہے۔سر ڈھانپنا دونوں کے لیے لازم ہے۔
سعودی عرب اور ایران کی طرح ان کے شرطے (مذہبی پولیس ) بھی بہت سنگ دل اور حجت ناآشنا ہیں۔وہ تو بھاولپور کے آموں پر قربان جائیے کہ پاکستان میں بچت ہوگئی اور بقول اس وقت صدر بننے والے غلام اسحق خان کے جنرل صاحب کا جہاز ہوا میں پٹ گیا۔ ورنہ بقول قیوم نظر
تم چلے جاؤگے رہ جائیں گے سائے باقی
رات بھر ان سے میرا خون خرابہ ہوگا
ان کے شرطوں میں ایک یہ زمین بھی نئی نکلی ہے کہ ان مذہبی پولیس والوں میں چاق و چوبند خواتین بھی حفاظت دین یہود کے لیے بھرتی کی گئی ہیں۔مجال ہے ان کی دید بانی اور دیدہ دلیری سے کوئی بچ کر اپنی مرضی کا لباس پہن کر یہاں آجائے۔بحث کی ان کے پاس بھی گنجائش نہیں۔لباس درست نہیں تو دید کا یارا بھی نہیں۔
اس کے برعکس ہمارے ہاں تو پولیس کے جو اسپیشل یونٹوں میں چن چن کر تیری میری بیبیاں بھرتی کی گئی ہیں وہ نقلی برانڈز کے پرس اور چشمے لگا کر اصلی ہتھیاروں سے سیاست دانوں کے اپنے جیسے بیٹوں کی حفاظت کے لیے رکھا گیا ہے ۔ ان کی محافظین خصوصی کی پوسٹنگ اگر یہاں دیوار گریہ پرہوتی اور ان کی ڈیوٹی کے دوران یہودی عقیدے کے مطابق دیوار کے اس پار سے کانا دجال آکر دنیا کو تہس نہس کردیتا تو اپنے سیاسی تعلقات کے نشے میں سرشار ان پولیس والیوں کو اس کی آمد کی اطلاع بھی سما ٹی وی کے خبر نامے سے ملتی۔
اہل یہود کے ہاں دیوار گریہ سب سے مقدس مقام تصور کیا جاتا ہے۔یہ ہی وہ مقام ہے جہاں سیدنا داؤد علیہ سلام نے کی آمد سے ایک ہزار سال پہلے ایک عبادت گاہ کی تعمیر کا آغاز کیا۔اسے بابل کے بادشاہ نے تعمیر کے 586 سال بعد برباد کردیا، ستر سال بعد یہودی کچھ آسودہ حال ہوئے تو پھر سے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا آغاز ہوا۔یہاں ان کے بادشاہ ہیرڈ نے سیدنا عیسی ابن مریم کی آمد سے انیس برس قبل بہت توسیع اور ترقی کا کام کیا۔اس کے بعد روم کے بادشاہوں کی جانب سے ایک اور عذاب نازل ہوا اور اس کو لوٹ کر تاراج کردیا گیا۔ان کا تابوت سکینہ بھی اسی دوران غائب  ہوگیا۔موجودہ دیوار چونکہ اس احاطے کی بیرونی دیوار تھی لہذا اسے درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا۔یہودیوں کے لیے وہ اس ہیکل سلیمانی کی آخری نشانی ہونے کی وجہ سے مقدس ترین مقام بنی ہوئی ہے۔
جب رومی یہاں حکمران بن گئے اور بعد میں یہ حکمران لادینیت چھوڑ کر عیسائیت کو اپنا بیٹھے تو انہوں نے یہودیوں پر بہت سختیاں کیں،یروشلم سے انہیں نکال باہر کردیا گیا۔ انہیں اس شہر میں سال بھر میں صرف ایک دفعہ آنے کی اجازت ملتی تھی۔اس محرومی پر یہودی بہت دل بہ گریہ و دل گرفتہ ہوتے تھے۔ سال میں ایک دفعہ یہاں آتے تو دیوار کو لپٹ کر روتے تھے،عیسائی حاکمین اور ان سے وابستہ افراد کے لیے یہ بہت قابل تمسخر و تضحیک  کا موقع  بن جاتا۔انہوں نے ہی اس دیوار کو دیوار گریہ کا نام عطا کیا۔ خود یہودی اسے دیوار گریہ نہیں کہتے۔وہ اسے اپنی عبرانی زبان میں ’’ کوتل ‘‘ مغربی دیوار کا نام دیتے ہیں۔اس کی دراڑوں میں وہ اپنے دعائیں اور تحریری مطالبات اور منتیں اڑس دیتے ہیں۔یہ اب ایک اچھا خاصا بین الاقوامی کاروبار ہے۔وہ یہودی جو یہاں پہنچ نہ پائیں وہ ای میل کے ذریعے یہ دعائیں اور منتیں بھجوادیتے ہیں جو ان کی جانب سے یہاں اڑس دی جاتی ہیں۔
میری تحویل میں بھی میرے ایک یہودی کرم فرما کی دی ہوئی ایک ایسی ہی منت ہے۔مجھے اس کسی مناسب مقام پر ٹھونسنا ہے۔

جب میں ایسے ایک مقام کے قریب رکاوٹیں عبور کرکے پہنچا تو آہ و بکا اور عزا داری کا ایک عجب منظر تھا ، توریت کا باآواز بلند ورد جاری تھا۔اسی تگ و دو میں مجھے ایتھوپیا والے حضرت شائم آمون دکھائی دے گئے۔وہ بھی دیوار سے لپٹے ہوئے تھے۔ میں بہت خاموشی اور احترام سے ان کے پیچھے جاکر کھڑا ہوگیا۔اپنا سیاہ چہرہ وہ دیوار کی جانب کیے دیوانہ وار کبھی آگے ہوتے تو کبھی پیچھے۔انہیں حرکات میں ذرا توقف ہوا تو ان کا چہرہ مجھے دیکھ کر کھل اٹھا۔ لمحے بھر کا توقف کیے بغیر انہوں نے با آواز بلند میری مذہبی رواداری، کشادہ دلی اور وسیع المشربی پر مسرت کا بے پایاں و بے حساب اظہار کیا ۔ وہ جتانے لگے کہ قدامت پسندمسلمان یہاں نفرت کے مارے نہیں آتے اور روشن خیال ڈر کے مارے۔ سو میں ان کے اپنے اندازے اور بیانیے کی رو سے کہیں درمیان میں بے خانماں حیرت و حسرت کا مارا، برباد کھڑا ہوں ساحل پہ۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply