• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • دیوار گریہ کے آس پاس۔۔روایت : کاشف مصطفےٰ/تحقیق و تصنیف : محمدّ اقبال دیوان/قسط16

دیوار گریہ کے آس پاس۔۔روایت : کاشف مصطفےٰ/تحقیق و تصنیف : محمدّ اقبال دیوان/قسط16

(اسرائیل کا سفر نامہ ۔اپریل 2016 )
ادارتی تعارف
جناب محمد اقبال دیوان کی تصنیف کردہ یہ کتاب’’ دیوار گریہ کے آس پاس ‘‘کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔
اس سفر نامے کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔
کتاب کے ناشر محترم ریاض چودہری کی پیرانہ سالی اور صوفیانہ بے نیازی کی وجہ سے سرورق پر دیوان صاحب کا نام بطور مصنف شائع ہونے سے رہ گیا جس سے یہ تاثر عام کیا گیا کہ اس کے مصنف کوئی اور امیر مقام ہیں۔
یاد رہے کہ یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔
انگریزی میں تحریر ان کی سفری یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا جو زیادہ تر مختصر پیرائے میں انگریزی زبان میں اسرائیل سے جناب دیوان صاحب کو بذریعہ ای میل موصول ہوئیں۔ ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے موصول شدہ ان ٹریول نوٹس کی مدد سے اپنے مخصوص انداز میں اسے اردو کے قالب میں ڈھالا۔ اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع کیا۔

اس کتاب کو لکھنے میں اور اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔یہاں  اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ یہ کاوش بیش بہا پہلے سے انگریزی یا کسی اور زبان میں کتاب کی صورت موجود نہ تھی۔ نہ ہی اس کا کوئی اور نسخہ اب تک کسی اور زبان میں معرض وجود میں آیا ہے۔ قارئین مکالمہ کی خاطر کچھ تصاویر جو کتاب میں موجود نہ تھیں وہ وضاحت مضمون کی خاطر نیٹ سے شامل کی گئی ہیں۔قسط مذکورہ میں ڈاکٹر صاحب کی اپنی تصویر کے علاوہ تمام تصاویر نیٹ سے لی گئی ہیں
ہما رے دیوان صاحب ڈاکٹر صاحب کے ہم زاد ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔ ان کی تین عدد کتابیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا اور تیسری پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ شائع ہوچکی ہیں۔ چوتھی چارہ گر ہیں بے اثر ان دنوں ادارہ قوسین کے پاس زیر طبع ہے۔ سرجن کاشف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔ قرآن الحکیم، بائبل اور تصوف کے حوالے دیوان صاحب کی اپنی تحقیق اور اضافہ ہے اور انگریزی ٹریول نوٹس میں شامل نہ تھا۔
ایڈیٹر ان چیف انعام رانا

tripako tours pakistan
سرجن کاشف مصطفے کا انگریزی نوٹ اور پھر بیان اپنا

گزشتہ سے پیوستہ
جب میں ایسے ایک مقام کے قریب رکاوٹیں عبور کرکے پہنچا تو آہ و بکا اور عزا داری کا ایک عجب منظر تھا ، توریت کا باآواز بلند ورد جاری تھا۔اسی تگ و دو میں مجھے ایتھوپیا والے حضرت شائم آمون دکھائی دے گئے۔وہ بھی دیوار سے لپٹے ہوئے تھے۔ میں بہت خاموشی اور احترام سے ان کے پیچھے جاکر کھڑا ہوگیا۔اپنا سیاہ چہرہ وہ دیوار کی جانب کیے دیوانہ وار کبھی آگے ہوتے تو کبھی پیچھے۔انہیں حرکات میں ذرا توقف ہوا تو ان کا چہرہ مجھے دیکھ کر کھل اٹھا۔ لمحے بھر کا توقف کیے بغیر انہوں نے با آواز بلند میری مذہبی رواداری، کشادہ دلی اور وسیع المشربی پر مسرت کا بے پایاں و بے حساب اظہار کیا ۔ وہ جتانے لگے کہ قدامت پسندمسلمان یہاں نفرت کے مارے نہیں آتے اور روشن خیال ڈر کے مارے۔ سو میں ان کے اپنے اندازے اور بیانیے کی رو سے کہیں درمیان میں بے خانماں حیرت و حسرت کا مارا، برباد کھڑا ہوں ساحل پہ۔
نئی قسط

اپنی ایستادگی وسطی کی وجہ سے مجھے یہ بھی ادراک ہوا کہ حضرت شائم آمون بہت چہک رہے ہیں ، متجسس ہیں، مبتلائے حیرت ہیں۔ میں نے ان تمام جذبات بے جا کو اپنے اظہار مختصر کی پتلی نائیلون کی ایک ہی رسی سے باندھنا مناسب سمجھا اور انہیں بتایا کہ میراا یک یہودی مریض ہے۔ جو جاں بہ لب ہے،سفر سے قاصر ہے۔ وہ خواہشمند تھا کہ میں اس کا یہ تعویز مطالبات بہ حضور الہی پیش کردوں۔
جس سرعت سے انہوں نے اپنی خدمات اس فریضہ گمنام کو انجام دینے کے لیے پیش کیں اس سے مجھے لگا کہ میں ان کی نظروں میں کچھ سرخرو سا ہوچلا ہوں۔وہ آہستگی سے دیوار کے سیدھے جانب وہاں موجود انبوہ گریہ زاراں کو کاٹ کر آگے بڑھتے رہے۔لکڑی کے اس برج پر سے جس سے غیر مسلموں کو اس احاطے میں آنے کی قطعی اجازت نہیں وہاں پہنچ کر انہوں نے مجھے اس دعائیہ رقعے کو رکھ دینے کی تجویزاس لیے دی کہ یہ حصہ اس معبد سلیمانی کے قریب ترین ہے جسے کم بخت رومی جرنیلوں نے تاراج کرڈالا تھا۔میری اس قربت کی وجہ سے اس کی قبولیت کے امکانات مزید روشن ہوجائیں گے۔میں نے اس تجویز کو مناسب جانا ۔ ان کوتاہ قد یہودیوں میں اپنی پوٹھاری بلند قامتی کا لابھ لیا اور دو ایک دوسرے سے قدرے ناراض دو قدیم اینٹوں کے درمیانی فاصلے میں سفید کاغذ پر لکھا ،سرخ دھاگے سے بندھا ،وہ دعائیہ رقعہ اڑس دیا۔

میرا اپنا خیال تھا کہ میں ان سے تخصیص مقام کے حوالے سے ضرور پوچھوں گا مگر وہ میرا دماغ پہلے ہی ناپ کر بیٹھے تھے کہنے لگے کہ’’ وہ محاورہ تو سنا ہے نا کہ دیواروں کہ بھی کان ہوتے ہیں۔اس محاورے کا تعلق اسی دیوار سے ہے‘‘۔انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور کمال محبت سے مجھے باہر احاطے کی طرف لے چلے۔ میں نے غور سے ان کا چہر دیکھا   تو جانے کیوں مجھے اس بوڑھے چہرے میں ایک روحانی سرور کی کیفیت دکھائی دی۔ اس پر ایک ایسی چھلکن تھی جسے وہ سنبھال نہیں پارہے تھے کہنے لگے کہ ’’کچھ دل پتھر کے ہوتے ہیں اور کچھ پتھروں کا بھی دل ہوتا ہے‘‘،جب انہیں احساس ہوا کہ وہ کچھ زیادہ ہی بول رہے ہیں تو لجاہٹ سے کہنے لگے کہ میرا مت پوچھو ، اب بوڑھا ہوگیا ہوں۔ دیگر اشیا کی طرح جذبات بھی ٹھیک سے سنبھال نہیں پاتا ۔ مجھے یقین نہیں کہ پھر کبھی یہاں آنے کی مہلت ملے گی ۔ویسے بھی میرا یہاں آج آخری دن ہے۔میں لوٹ کے جارہا ہوں‘‘
’’مجھے آپ کے جذبات کا پورا ادراک ہے گو میرے محسوسات کی شدت ان کی ہم رکاب نہیں‘‘ میں نے بھی انہیں اپنا شانہء تسلی سونپ دیا۔وہ مزید خوش ہوئے تو مجھے سیدنا داؤد علیہ سلام کے مزار عالیہ پر لے جانے کی پیشکش کر بیٹھے۔ یہ میرے لیے بونس تھا۔ہم اپنی یاترا کا اختتام وہیں پر کرتے ہیں۔
ماؤنٹ زیون شہر کی دیوار حصار سے باہر کی جانب ہے۔
روایت ہے کہ عثمانی خلیفہ سلیمان عالی شان کے حکم پر جو دو انجینئر شہر کا ارد گرد دیوار حصار و حفاظت بنا رہے تھے وہ نادانی و نالائقی کی وجہ سے اس جبل صیہون( ماؤنٹ زائن ) کو دیوار سے باہر رکھ بیٹھے۔سلیمان عالی شان جب افتتاح کے لیے آیا تو اس قدرناراض ہوا کہ ان کا انجنیئر صاحبا ن کا پروانہء اموات جاری کردیا۔میں جب آمون شامون کے اس نو افراد کے قافلہء حبشہ کے ساتھ چلا تو مجھے لگا کہ ان کے ساتھ قدم ملا کر چلنا کتنا مشکل ہے۔ سب ہی ایتھپوین مرد و زن پیدائشی ایتھلیٹ ہوتے ہیں۔
سیدنا داؤد علیہ سلام مورخین کی تحقیق کی رو سے شہرکے جنوب مشرق میں مدفون ہیں۔
مورخ جوزیفس بیان کرتا ہے کہ بادشاہ ہیرڈ نے ان کے مرقد عالیہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی اس کا خیال تھا کہ وہاں ایک عظیم گنجینہء گوہر موجود ہے۔جب وہ حجرہ تدفین میں داخل ہوا تو ایک شعلہ سا لپک کر اس کے تعاقب میں دوڑ پڑا ، بمشکل پیچھا چھوٹا تو سب کی ہمت ایسی ٹوٹی کہ کوئی اس مہم جوئی پر دوبارہ رضامند ہی نہ ہوا۔
سیدنا عیسی ابن مریم کے دنیا سے چلے جانے کے 135 سال بعد یہاں’’ بغاوت بارخوخبا ‘‘ برپا ہوئی اور یہ مرقد عالیہ برباد ہوکر لٹ گیا۔ہزار سال تک یہودی مورخین اور مفتیان دین اس کی کھوج کرتے رہے حتی کہ بینجمن ٹیو ڈیلا کو کہیں سے اچانک ماؤنٹ ذیون پر ا ایک چرچ کی مرمت کے دوران اس مرقد اکرام کا پتہ چل گیا اور بس پھر کیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے موجودہ مرقد کھڑا ہوگیا۔اس مرقد کے احاطے میں داخل ہوں تو پہلی نظر ایک سنہری مجسم پر پڑتی ہے جوبربط(HARP) بجارہا ہے۔ مرقد میں داخل ہونے کا دروازہ تنگ ہے۔یہاں انگریزوں کے بنائے ہوئے ہمارے پرانے برجوں اور پیرس کی لور آرٹ گیلری کی طرح فوٹو کھینچنا سخت منع ہے خلاف ورزی کرنے والے کو حوالہء پولیس کردیا جاتا ہے۔
پہلی منزل پر اب بھی اس بازنطینی چرچ کی کچھ باقیات موجود ہیں۔ اس کے چھوٹے سے کمرے میں آپ سیدنا داؤد علیہ سلام محو استراحت ہیں۔یہاں بھی مشتاقان دید اور عقیدت کا ایک انبوہ کثیر جمع تھا۔ہر طرف ہل ہل کر توریت پڑھی جارہی تھی یہاں پہنچ کر شائم آمون اور ان کے قافلے عقیدت میں شامل افراد نے اپنے چوغوں سے اپنے اپنے تورات کے نسخے کھینچ نکالے اور جھوم جھوم کر یک زباں ہوکر ان کا ورد شروع کردیا۔
میرے مسلک کے حساب سے فاتحہ لازم اور وہاں کے مخاصمانہ ماحول کی وجہ یہ غیر معقول اصرار تھا۔میرے چار سو قدامت پسند یہودی موجود تھے۔ہر کوئی ہاتھ اٹھا کر ہل ہل کر اپنی عقیدت کا اظہار کررہا تھا ، میں نے بھی ہمت پکٹری اور فاتحہ کے لیے ہاتھ بلند کرلیے۔ میری رسم فاتحہ پر کسی نے کوئی ابروئے اعتراض کو بلند نہ کیا تو میں نے شائم سرکار کے کان میں آہستگی سے کہا کہ میں باہر اس کمرے میں جہاں سیدنا داؤد کا مقبرہ عالیہ ہے وہاں ان کا منتظر ہوں گا۔ایک بیان کے مطابق اس مقبر سے متصل ایک کمرہ وہ بھی ہے ، جہاں سیدنا عیسی ابن مریم نے اپنا آخری طعام کھایا تھا۔انگریزی میں اسے Last Supper کہتے ہیں۔اسے مشہور بنانے والوں میں لینوارڈو ڈا ونچی کی اس نام کی شاہکار پینٹنگ بھی ہے۔خود ہمارے اپنے صادقین کی شہرت کا باعث پیرس میں ان کی بنائی ہوئی یہ پینٹنگ بنی۔ یہ سن پچاس کے آخری سال تھا۔ شغال ،گوگاں اور پکاسو اور دیگر افراد نے بہت بھیانک تصاویر بنانے کے آغاز کردیا تھا۔ صادقین پر اس تحریک کا رنگ بہت غالب تھا۔ صادقین کی طعام آخر والی یہ تصویر خود سیدنا عیسیؑ کے حواری دیکھ لیتے تو جو تلوار پیٹر نے رومی سپاہیوں کو گرفتاری کے وقت مارنے کے لیے اٹھائی تھی مگر جسے سیدنا عیسی کے اس مشہور عالم قول کے حوالے سے واپس داخل نیام کرلیا تھا کہ ” Smite not. For those who live by the sword , die by the sword”.

سیدنا دائود یہ ساز بجاتے تھے
ڈاونچی کا آخری عشائیہ
طعام گاہ برائے آخری عشائیہ
صادقین کا آخری عشائیہ

اس سے کم از کم صادقین کا سر ضرور قلم کردیتے۔اس کمرے میں جہاں تیرہ افراد کی یہ آخری دعوت طعام ہوئی تھی یہاں پانچویں صدی تک ایک چرچ ہوتا تھا اس کا نام صیہون مادر کلیسہء کل ” Zion Mother of all churches” اسی زمانے میں اس کمرے کی شہرت آخری طعام گاہ کے طور پر ہوئی تھی۔یہ ایک خالی کمرہ ہے دیواروں پر کشید کردہ تصاویر وقت کے ساتھ معدوم ہوتی چلی گئی ہیں۔یہاں چندتصاویر کھینچ کر میں باہر آگیا۔شائم اور ان کے رفقائے دین بھی چلے آئے ۔ انہیں ہوٹل اور ہوائی اڈے پہنچنے کی جلدی تھی۔شائم نے مجھے بہت گرم جوشی سے گلے لگایا پھر ملنے کے وعدے وعید ہوئے فون نمبر کا لین دین بھی ہوا۔میں نے وعدہ کیا کہ’’ میں ایتھوپیا کی قدیم بستی اکسم Axum دیکھنے آؤں گا۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہودیوں کا گم شدہ تابوت سکینہ یہاں ایک کلیسہ میں موجود ہے۔اس کا مزہ تم سے اہل علم و سلوک کی رفاقت میں اور بھی آئے گا‘‘اس نے مجھ پر گہری نگاہ ڈالی اور کہنے لگا کہ تمہارے اندر جو ایک کھوجی سیاح چھپا ہوا ہے اسے قرار نہیں آئے گا۔

historian like you”
He gave me a deep look “I know you will come, the explorer میں اگر زندہ ہوا تو تمہیں یہ سب حتی کہ وہ تابوت سکینہ بھی بہت ہی قریب سے دکھاؤں گا۔ یہ وعدہ ہے۔
رات ہوٹل میں جو لمبی تان کر سویا تو فون کی گھنٹیوں نے نیند کو صور اسرافیل کی طرح برباد کردیا۔میری ہیلو سے پہلے ہی دوسری طرف سے گالم گلوچ طعنوں تشنوں کے وار پر وار ہونے لگے۔اگلی جانب سے میرے پاکستانی، ناقابل اعتبار ہونے سے لے کر خود پسند ، اپنی ذات میں  انجمن ہر طرح کی شائستہ دشنام تھی ۔ یاد نہیں آرہا تھا کہ دنیا میں اب ایسا کون سا انسان زندہ نہیں بچا جو مجھ سے اتنا بے تکلف ہو کہ نیند سے یوں جگائے۔
میں نے تکلفاً پوچھ لیا کہ ’’حضرت اپنا تعارف تو کرائیں‘‘
میرے اس اصرار نے ان کے اشتعال میں مزید اضافہ کیا میں وہ ہوں جو تمہاری کھال اتار کر تمہیں جنوبی افریقہ میں مگر مچھ کے تالاب میں پھینک سکتا ہے۔میں تمہارا دوست احمق لانس ہوں‘‘
مجھے یاد آیا کہ لانس لاسرسن جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والاAnaesthetist, تھا۔ہم جوہانسبرگ میں کئی برس تک آپریشن کے دوران رفیق کار ہوتے تھے۔اس نے پانچ سال پہلے الیا Aliya” کیا تھا الیا( گھر واپسی)۔کیا لاجواب انسان تھا۔ دیانت تو اس کی  ہڈیوں کے گودے میں سمائی تھی،محبت اس کے ہر عمل کا حصہ تھی اور قابلیت میں اپنی مثال آپ۔وہ ایک ہسپتال میں شعبہ بے ہوشی Anesthesia کا سربراہ تھا۔ فون بند ہوا تو میرے دماغ میں وقت کا پہیہ الٹا گھومنے لگا۔ یاد آیا کہ آٹھ برس پہلے مجھے مملکت چاڈ میں تعینات اقوام متحدہ کے ادارے سے منسلک ایک ڈاکٹر صاحب کا فون آیا تھا۔وہ میرے پاس ایک پانچ سال کے بچے کو بغرض علاج بھیجنا چاہتے تھے ۔اس کی سانس کی Tracheaنالی ایک عجیب بیماری کی وجہ سے اب قریب قریب مکمل بند ہوچکی تھی۔اگر اسے مستقل طور پر وین ٹی لیٹر سے جوڑے رکھو تو وہ زندہ رہ سکتا تھا ورنہ وہاں سے ہٹتے ہی مرنے کے قوی امکانات تھے۔۔
بچے کو چاڈ سے جب میرے ہسپتال لایا گیا تو میرا اپنا حال برا تھا کیوں کہ میری معلومات اس بیماری کے حوالے سے نہ ہونے کے برابر تھیں۔دنیا کے مختلف ممالک میں دوستوں کو پیشہ ورانہ رہنمائی کے لیے فون کیا تو وہاں بھی ایک ٹھنڈی سانس سنائی دی۔ریسرچ اور لائبریریاں سبھی خاموش تھیں۔بچہ مسلمان گھرانے کا تھا اور چاڈ میں رہنے کی وجہ سے والدین انگریز ی سے نابلد۔
مجھے دیکھتے تو اللہ اللہ کی صدائیں بلند کرتے تھے ، رو رو کر دعائیں کر تے تھے۔یہ لڑکا ان کی چار بیٹیوں کے بعد پیدا ہوا تھا۔میرے لیے کسی اس کیس کو چھیڑنا جس کی مجھے معلومات ہی نہ ہوں پیشہ ورانہ آداب کی خلاف ورزی تھی مگر دوسری طرف انسانی جان کا مسئلہ تھا۔کئی دفعہ سوچا جی کڑا کرکے والدین کو جواب دے دوں کے بچے کو واپس لے جائیں۔بالآخر میں نے ہمت پکڑی والدین کو اعتماد میں لیا اور ایک بے حد خطرناک طبی طریقہ کار اختیار کرنے کا سوچا۔مجھے اس کے لیے ایک بے حد مضبوط اعصاب والے اور اتنے ہی قابل Anesthetist کی ضرورت تھی۔ ڈاکٹر لانس کو طبی تفصیلات اور ضروریات سے آگاہ کیا تو تاؤ کھاگیا کہ میں پاگل تو نہیں ہوگیا۔مجھے جب اس نے بضد دیکھا اور والدین کو پر اعتماد تو میرا ساتھ خوش دلی سے دینے پر رضامند ہوگیا۔۔
ہم نے اگلے دن ایک جانور کے دل سے وہ بڑی شہ رگ Aorta نکالی جو دل سے نکل کر باہر دماغ تک جاتی ہے۔اس کے ساتھ ضروری پیوند کاری کی تاکہ اسے انسانی جسم کے لیے قابل قبول بنادیا جائے۔بچے کی اپنی سانس کی نالی نکال دی اور یہ نالی لگادی۔صرف آپریشن میں ہی گیارہ گھنٹے لگے۔اللہ کا شکر ہے اس آپریشن نے مجھے دنیا بھر میں بطور ایک ماہر سرجن کے شہرت بخشی۔اس میں شاید جہاں میرے اپنے والدین بچے کے  ماں باپ کی دعاؤں کا رول تھا وہیں ڈاکٹر لانس کی اس دن میرے ساتھ لمحہ بہ لمحہ موجودگی اور مدد کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، جس دن بچہ ہسپتا ل سے اپنے پیروں پر گھر جارہا تھا سارا ہسپتال اظہار تشکر سے اشک بار تھا۔ اللہ اسے ہر بیماری اوربلا سے محفوظ رکھے وہ ان دنوں تیرہ سال کا گھبرو شہزادہ ہے۔لانس کو میری موجودگی کی اطلاع ڈاکٹر کلور لی نے دی تھی۔ اسے تمہارے ہوٹل کا نام یاد تھا لہذا تمہیں تلاش کرنا کچھ ایسا مشکل ثابت نہ ہوا۔ آپ کو تو یاد ہوگا کہ یہ کلور لی وہی نیک دل بی بی ہے جس کا ہم نے اپنی دوسری قسط میں تذکرہ کیا تھا ۔ اس بے چاری کا پاکستانیوں نے فیس بک پر ناک میں میں دم کردیا ہے۔ مدتوں کی شادی شدہ ، ازدواجی طور پر آسودہ ، دنیا میں اپنے پیشے میں نامور افراد اور اپنے دین سے خوش اس خاتون کو کوئی اپنی بیوی بنانا چاہتا ہے تو کوئی مسلمان کرنا چاہتا ہے تو کوئی مرد ہشیار و بے کار اس سے اسرائیل میں پاکستانیوں کے لیے ملازمت کے مواقع تلاش کرنے کی فرمائش کرتا ہے)

لانس کا فون بند ہوا تو میرے دل کو ایک عجیب سی سوگواری اور بے زاری نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس لیے نہیں کہ کل میں اسرائیل سے رخصت ہونے والا تھا بلکہ اس لیے کہ مجھے آج اہل خانہ کے لیے شاپنگ کرنی تھی۔یہ میرا سب سے اہم مسئلہ ہے کہ میں بلا ضرورت کسی دکان میں داخل ہوکر بھاؤ تاؤ کروں۔ایک تو میرے پاس وقت کی ہمیشہ کمی رہتی ہے۔دوسرے بازاروں میں وقت بہت ضائع ہوتا ہے۔ان مراکز تجارت چاہے وہ میلوں پر پھیلے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز ہوںیا کسی پرانے شہر کے تنگ اور پررونق بازار۔ ان سب میں مجھے یکساں گھٹن کا احساس ہوتا ہے۔بیگم کے اور پیروں کے پاس خالی ہاتھ جانے میں بڑا نقصان ہے۔بیگم کو جانے کس نے بتایا تھا کہ بحیرہ مردار کا کیچڑ بہت اچھا مڈ ماسک سمجھا جاتا ہے۔
بچوں کے لیے بھی کچھ لینا تھا۔سو بادل ناخواستہ خود کو بستر سے سمیٹا اور ناشتے کے بعد عبدالقادر کو اپنا مسئلہ بتایا تو آدھے گھنٹے بعد اس کا بیٹا عمار میری رفاقت کے لیے حاضر تھا۔ عمار بالکل میرے بیٹے جیسا ہے بیس برس کا۔ پر اعتماد ،چال میں پھرتی، بدن ماشاء اللہ توانا اور مزاج گلستان کی ہواؤں جیسا ، اس پر یہ کہ یروشلم کی ہر گلی، دکان اور دکانداروں کی چال بازیوں سے واقف۔یروشلم کے بازاروں میں مجھے اسے بھاؤ تاؤ کرتے دیکھ کر لگا کہ اسے کراچی میں ایک خریداری ٹریننگ اسکول کھول دیا جائے تو تربیت کے لیے آنے والی خواتین کا ایسا رش ہوگا کہ جیسا پولیس اور کسٹمز میں میں بھرتی کے لیے آنے والوں کا ہوتا ہے۔ خریداری کے لیے وہ دکاندار سے مکالمہ ایسا کرتا تھا جیسے ہم ہندوستان سے کبھی کشمیر کی بات کیا کرتے تھے۔اس کے دلائل طویل،بے رحمانہ، اور براہ راست الزام تراشی پر مبنی ہوتے تھے۔امریکہ اگر اسے اپنے تیل کی خریداری کی دلالی پر لگا دے تو عربوں کو بیس ڈالر فی بیرل سے ایک ٹکا اضافی نہ مل پائے۔اکثر مجھے غریب دکاندار پر رحم آجاتا جو پورا پورا دن گاہک اور سودے کے انتظار میں کے لیے بیٹھے ہیں۔

یروشلم کا بازار
یروشلم کے بازار کا ایک اور منظر
میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے

شاپنگ کے انہی  لمحات میں اس نے مجھ پر بھی اپنی چالاکی کا جال پھینکا اور اس کا آغاز اس نے ایک غیر محسوس سی ستائش سے کیا۔اس میں ایک سی ترغیب اور انا پرستی کا مساج تھا۔وہ آہستگی سے گویا ہوا کہ میرے والد کے مطابق مجھے مہم جوئی کا بہت جنون ہے۔
میں نے بھی اس فریب میں براہ راست کودنے کی بجائے ایک محتاط رویہ اپنایا اورجواباً وضاحت کی کہ ایسا کچھ خاص نہیں۔اس کے باوجود اس کی ناپختہ کاری حاوی ہوگئی اور وہ کہنے لگا کہ یہودیوں کے دو اہم انبیا کے مزارات نبی زکریا اور نبی ابسلام کے مزارات میں لے جاسکتا ہوں۔’’وہاں تومیں پہلے ہی ہو آیا ہوں‘‘ میں نے بھی اپنے تمنائی کا حوصلہ کچھ پست کرنے کی ٹھانی۔’’ارے نہیں وہاں اندر جانے کی ایک سرنگ ہے۔جو ان کے زیر زمین مقابر تک لے جاتی ہے۔ہمیں ان خفیہ راستوں کا بہت علم ہے۔ اب میرے اندر کا انڈیانا جونز بیدار ہوگیا۔ہم اکثر ان راستوں سے وہاں چلے جاتے ہیں تو کوئی قدیم سکہ یا اور تاریخی نوادر مل جاتا ہے جسے ہم چپ چاپ لے آتے ہیں اور مہنگے داموں بیچ دیتے ہیں۔
سچ بتائیں ان نوادرات کا ان اندھیرے مقابر اور زمین میں دھنس چھپ کر رہنا بہتر ہے کہ  ان کے عوض ہماری جوانی کے بہتر ایام اور سب کے لیے دید و درشن کے مواقع کا بہم ہونا۔مجھے اس کی دلیل میں جواں سال توانائی کی ایک دانائی بھری توجہیہ محسوس ہوئی۔
تم ان نوادارت کا کیا کرتے ہو؟ اب میں نے سوال کیا
ہم انہیں بیچ دیتے ہیں ‘‘ اس نے بھی مختصر سا جواب دیا۔
کسے اور کتنے پیسوں میں؟‘‘ یہ میرا گلا سوال تھا
میرے سوال پر اس کا چہرہ ایک فاتحانہ مسکراہٹ سے چمک اٹھا وہ بتانے لگا کہ اس کہ کسی ساتھی کو ایک سکہ ملا تھا جسے ایک یہودی بیوپاری نے وہ سکہ سو ڈالر کا خریدلیا تھا۔ مجھے لگا کہ سکندر اعظم کے سکے کی قیمت میں یہودی ہر حال میں فائدے میں رہے اور مسلمان اس خطرے اور محنت  کے  عوض فائدہ نہیں اٹھا پائے۔یہ سکہ بالآخر برطانیہ یا امریکہ میں ہزاروں ڈالر کے عوض بیچا گیا ہوگا۔اس کی دعوت میں میرے تجسس کی سیرابی کا بہت سامان تھا مگر پھر بھی میں نے اپنے پیشے، عمر اور مراتب کے اعتبار سے اسے  ناقابل عمل جانا۔وہ مقامی نوجوان تھے ، کم عمر اور مہم جو، میرا بطور سیاح وہاں قیام ویسے بھی بہت نازک مرحلہ تھا اور ایسے میں کسی بد انتظامی اور بگاڑ کے نتائج ناخوشگوار ہوسکتے تھے۔میں نے اسے اگلی دفعہ کا وعدہ کرکے جان چھڑائی۔اسے میرے جواب سے مایوسی ہوئی مگر عین اس لمحے اس کے فون پر عبدالقادر کا فون آگیا۔ وہ مجھ سے گفتگو کا خواہشمند تھا۔اس نے میرے شاپنگ کے تجربے کا احوال لینے کے بعد ایک بم گرادیا۔آج رات ایک بڑے ڈنر کا میں نے اہتمام کیا ہے۔میرا سارا گھرانہ تم سے ملنے کا خواہشمند ہے اور وہ سب جمع ہوں گے سو آپ نے ضرور آنا ہے۔ میں نے اپنی بیوی سے فرمائش کی ہے اورکہا ہے کہ میرا پاکستانی بھائی آرہا ہے۔بہترین طعام تیار کرو۔ میں نے دھمکی دی ہے کہ اس کی خاطر مدارات میں کوئی کسر رہ گئی تو اب بھی کئی خواتین مجھ سے شادی پر رضامند ہیں۔میرا خیال ہے کہ وہ اس دھمکی کے بعد ایسا عمدہ کھانا بنائے گی کہ تمہارا جی خوش ہوجائے گا ۔ وہ ویسے بھی بہت عمدہ کھانے بناتی ہے۔‘‘
اس کا یہ اعلان سن کر مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا۔ بد بخت نے پوچھے بغیر، میرا پروگرام جانے بنا اپنی طرف سے یہ اہتمام کرلیا تھا۔میں ڈاکٹر لانس اور اس کے طبی قبیلے کو کیا جواب دوں گا۔برسوں کی دوستی بگڑ جائے گی۔
ہم سرجن بہت کم وقت میں بہت بڑے فیصلے کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ ایک جانب میرے لیے ایک غریب آدمی کا جذبہء خیر سگالی تھا تو دوسری طرف ایک دوست کی پر تکلف دعوت۔دوست کو سمجھانا اور گریز کرنا آسان تھا۔اس دعوت میں جاکر میری انا کو تسکین ضرور ملتی مگر قادر کو انکار کرکے دل کو جو گھاؤ لگتا وہ بہت عرصے تک مندمل نہ ہوپاتا۔سو میں نے بھی فوری حامی بھر لی کہ اس کے گھر آنا بالکل ایسے ہی ہوگا جیسا میں اپنے بھائی کے گھر کی پورے خاندان کی دعوت میں شریک ہوا ہوں۔۔
میر ے لیے اب سب بڑا مرحلہ ڈاکٹر لانس کو سمجھانے کا تھا چونکہ وہ خود بے دیانت دار انسان ہے لہذا میں نے اس کے معاملے میں سچ کی طاقت کو سب سے بہتر جانا۔ جب اسے قادر کی دعوت کا بتایا تو وہ چونکہ خود بھی بہت انسان دوست اور فطرتاً غریب پرور اور محبتیلا انسان ہے لہذا خوش دلی سے مجھے معاف کردیا۔اس کی خوش دلی نے مجھے اور بھی ریزہ ریزہ کردیا کیوں کہ اس نے میری معذرت کو اس عمدہ وضاحت سے تقویت بخشی کہ ہم تو میرے اگلے دورے میں جوہانسبرگ میں پھر اکھٹے ہوں گے یہ غریب لوگ بے چارے تم سے پھر کب مل پائیں گے ، تمہارا ان کے ہاں جانا زیادہ لازم ہے۔لیکن تم پاکستانیوں پر تو کم بختوں پر شیطان بھی بھروسہ نہیں کرتا۔کائنات میں ایسی خود غرض اور بے اصول مخلوق تو اللہ نے شاید جانوروں میں بھی پیدا نہیں کی۔کوئی اور ہوتا تو مجھے پاکستان اور پاکستانیوں کی شان میں ایک لفظ برداشت نہ ہوتا مگر ڈاکٹر لانس یہ لائسنس صرف پرانی دوستی کی وجہ سے لے رہا تھا کیوں کہ اس کا بیانیہ جب اس جملے پر ختم ہوا کہ شاید یہ ہی برائیاں ہیں جس کی وجہ سے تم دنیا میں میرے بہترین دوست ہو تو اس کی زہر افشانی شیرینی ہزار رنگ بن کر روح میں گھل گئی۔ اس فون کے اختتام پر میری شاپنگ بھی تقریباً مک گئی اور میں اپنے مسجد الاقصی والے گروپ سے ملنے چل پڑا.
عصر کے وقت میں مسجد الاقصی القدیم پہنچ گیا۔عین اس مقام پر جہاں آقائے دو جہاں نبی محترم محمد مصطفے ﷺ نے آج سے قریباً چودہ سو سال قبل صلوۃ الانبیا کی امامت کی دو رکعت دنیا کی اس تیسری   مقدس ترین مسجد کے در و بام پر اک نگاہ رخصت ڈالی اور چل دیا۔مسجد الاقصی جدید کے باہر سیاحوں کا ایک انبوہ کثیر جمع تھا۔اتوار کو یہاں اور قبتہ الصخری میں غیر مسلموں کو آنے کی اجازت ہوتی ہے۔میری خوش قسمتی کۃ  شیخ نائف، حاتم اور نبیل انصاری تینوں ہی مجھے ڈیوٹی پر موجود مل گئے۔وہ بڑی خندہ پیشانی سے سیاحوں کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔
سیاح رخصت ہوئے ، عصر کی نماز ختم ہوئی تو ہم اپنے مخصوص مقام پر آن بیٹھے۔ہمیں دیکھ کر بہت سے وہ افراد بھی آن بیٹھے جنہیں میں نے اپنے قیام کے دوران چھوٹے موٹے طبی مشورے دیے تھے۔سب ہی میری رخصت پر دل گرفتہ تھے، گلے لگا کر عرب رسم کے مطابق گالوں کا بوسہ دیتے تھے،سب ہی مصر تھے کہ اگلے دورے میں میرا قیام ان کے آستانہ عشق پر ہوگا۔میرے لیے انہیں بھی اللہ حافظ کہنا گراں تھا تو ان تین اعلی ہستیوں کو بھی جو اس مقام عظیم کے خادمین الحرمین ہیں۔ان کی محبت ، تعلق میں لگاؤ نے میرا دل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جیت لیا تھا ۔ان کی معلومات میرے لیے فلسطین اور عربوں کے مسائل کو سمجھنے کے لیے مشعل راہ بنی تھی۔ تاریخ کا جو کیپسول انہوں نے میرے حلق سے انڈیلا تھا وہ تو ایسا تھا کہ اس کو سمجھنے کے لیے کئی کتب اور لیکچر درکار ہوتے ۔مجھے پہلے حاتم اور پھر نبیل انصاری نے گلے لگایا۔شیخ نائف البتہ آب دیدہ ہوئے میرے دونوں ہاتھ اپنے نرم مشفق ہاتھوں میں لیے اور کہنے لگے کہ ہم تو چراغ سحری ہیں اب بجھے کہ تب لیکن زندگی رضائے الہی سے بہت بھرپور اور مکمل گزاری ہے اب ایک ہی تمنا ہے کہ مسیح علیہ سلام اور مہدی موعود دنیا میں تشریف لائیں تو ان کا اس احاطے میں خیر مقدم کرسکوں۔یہیں پر ان کی امامت عالم کا جلوہ برپا ہوگا ۔ وہ جب یہاں اپنی دو رکعات صلوۃ ادا کرلیں گے تو عالم فانی میں ایک جنگ عظیم Armageddon برپا ہوجائے گی۔ تم مسافر ہو اللہ مسافر کی دعا جلد سنتا ہے تم میرے لیے یہ دعا کرنا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے مجھے ایک پیکٹ عطا کیا کہنے لگے میرے پوتے کے لیے اس میں ثوب اور میری پوتی کے لئے اس میں حجاب ہے انہیں بتانا کہ یہ ان کہ فلسطینی عرب دادا کا تحفہ ہے
دل گرفتہ و دل بہ گریہ میں رخصت ہوا تو قبتہ الصخری کا سنہری گنبد شام کے سورج کی آخری کرنوں کو بوسہ دے کر رخصت کررہا تھا۔ مسجد اقصی کی بے رنگ پتھریلی دیواروں پر میں نے ایک نگاہ ڈالی ۔ وہ سارا گروپ مجھے بوجھل قدموں سے ہاتھ ہلاتے ہوئے رخصت ہوتا دیکھ رہا تھا۔ یہ میرے اپنے لوگ تھے جن سے میرا دل مل گیا تھا ،جی تو چاہا کہ میں بھی پھوٹ پھوٹ کر روؤں مگر سیاح کا ضبط اور غرور آڑے آگیا۔میں بہت آہستگی سے مسلمانوں کی مکہ المکرمہ، مدینہ المنورہ کے بعد تیسری اہم عمارت سے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوا نکل آیا کہ مجھے اس کی زیارت کا شرف باکمال احسن ہوا۔

ہم سب آج سات بجے شام جمع ہوں گے۔میں نے تل ابیب کے بہترین ڈاکٹروں کو ہمارے بہترین ہوٹل میں تم سے ملانے کے لیے ڈنر پر بلایا ہے سات بجے شام میں تمہیں لینے ہوٹل آجاؤں گا۔تیار رہنا۔
یہ میرے لیے بڑی خوشی کی بات تھی۔اسرائیل میں اس وقت دنیا بھر کے بہترین ڈاکٹر جمع ہیں۔میرے لیے پرانے ساتھیوں سے بھی ملنے کا موقع  تھا اور ان میں سے اکثر وہ تھے جو کہیں نہ کہیں میرے ساتھ کانفرنسوں وغیرہ میں شریک رہے تھے۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply