سفید ریچھ کے بعد پہاڑی بھیڑئیے کا شکار۔ چوہدری کاشف سلیمی

ایک نو جوان وکیل  ہاتھ میں کلاشنکوف پکڑے خوست کے پہاڑوں پر کھڑا ہو کر ، روس کے جانے کے بعد ، سوچا کرتا تھا کہ روس تو نمٹ گیا ، اگلا نمبر امریکہ کا لگانا ہے، کیسے لگائیں گے کہ روس تو پڑوس میں تھا اور امریکہ بہت دور ۔

یہ بیس سال پہلے کی بات ہے۔ تب طالبان نے افغانستان پر حملہ شروع کیا تھا، گلبدین کی فوج سروبی میں ایک طرف طالبان اور دوسری طرف دوستم سے Image result for afghan mujahidبرسرپیکار تھی  کہ ایک دن ایک کمانڈر نے اس وکیل کو  کماندانی مین بلوایا اور قہوہ کا کپ تھماتے ہوئے سوال کیا کہ تمہارے خیال میں اس صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاھیے؟ تو اس نوجوان وکیل نے تنکے سے زمین لے کر نقشہ بناتے ہوئے ، اپنی چھوٹی سی داڑھی کو سہلاتے ہوئے پوچھا کہ یہ بتایا جائے کہ مجاہد اہم ھے یا قبضہ اور سامان جنگ ؟ جس کے جواب میں کمانڈر نے کہا کہ مجاہد ۔ اس نوجوان وکیل کا دوسرا سوال تھا کہ کیا طالبان اور دوستم آپس میں دشمن ہین یا دوست ؟تو جواب ملا کہ دشمن ۔ جس کے بعد اس نوجوان وکیل نے کہا کہ اس صورتحال میں ہم کو سروبی خالی کر دینا چاہیے اور ایک طرف ہو کر طالبان اور دوستم کو آپس میں لڑنے دیں جو فاتح ہو گا اس کو بعد میں دیکھ لیا جائے۔ اس کے لئے بھاری ضروری سامان جنگ کا جلد از جلد انخلا کیا جائے اور کسی دن ایک ہی رات مین یک دم سروبی خالی کر دیا جائے اس سے ہمارا جانی نقصان بہت کم ہو گا ۔ جس پر کمانڈر نے اس نوجوان وکیل کے مشورہ کو مرکز تک پہنچانے کا وعدہ کیا ۔ وہ وکیل وہاں زیادہ دن نہ رہا اور واپس آگیا ۔ جس کے کچھ عرصہ بعد گلبدین نے اسی طرح ایک روز اچانک سروبی خالی کر دیا۔

تب سوچا کرتے تھے کہ سفید ریچھ کا شکار ہم نے افغانستان مین کامیابی سے کرلیا لیکن اس پہاڑی بھیڑئیے کا نمبر کب آئے گا ۔ یہ سب سوچتے وہ نوجوان وکیل بوڑھا ہو گیا کہ ایک دن امریکہ پہاڑی بھیڑیا اپنے تمام لاؤ لشکر کے ساتھ ہوائی فورس کی مدد سے انہی پہاڑوں پر آگ برسانے لگا جہاں وہ نوجوان وکیل کبھی رہا کرتا تھا، سو گو اب وہ وہان نہی تھا لیکن دل وہاں ہی تھا۔

وہ ایک ایک خبر پڑھتا ، ہر لمحہ نظر رکھتا ، بس ایک فرق تھا کہ پہلے وہ اکیلا تھا اور اب اس کے پاؤن میں بیڑی ڈالی جا چکی تھی دو بچے ننھے ننھے گود میں تھے سو اب وہ سیگرٹ سلگائے اندر اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ، ویسے بھی اب وہ چستی نہ تھی کہ جو محاذ کے لئے لازم ھوتی ہے۔  وقت گزرتا گیا، اتحادی فوج اب آسمان سے زمین پر اتر چکی تھی اور دوبدو لڑائی جاری تھی۔ افغانستان فتح ہو چکا تھا اور اس سے نکلنے والے جواھرات ، افیم ، ہیرے ، اور نیم افزودہ یرینیم نے امریکہ کو اپنی گرفت میں لے لیا ، اسی دوران اتحادی افواج عراق پر چڑھ دوڑیں اور وہاں بھی آسمان سے بارود کی بارش ہوئی۔

یہاں تیسرا مرحلہ شروع ہوتا ھے۔ عراق پر حملے کے بعد ، امریکہ اپنے آخری دو دشمنوں کی طرف متوجہ ھوا ، لیکن اس سب میں اتحادی افواج میں شدید اختلافات ہو چکے تھے  جس وجہ سے جب امریکہ نے ایران پر حملے کا سگنل دیا تو اس مجاھد کو اس کے والد نے اپنے کمرے میں طلب کیا۔ اس کے والد کی آنکھوں مین کرب تھا ، انہوں نے اس سے پوچھا ، وکیل صاحب ، ذرا مجاھد بن کر جواب دو کہ کیا امریکہ ایران پر حملہ کر پائے گا اور اگر کر پایا تو اگلا ہدف کیا ہو گا ۔ یہ سوال اس وکیل کو اسی چوٹی پر لے گیا جہاں وہ اپنی داڑھی سہلاتے سوچا کرتا تھا کہ امریکہ کا نمبر کب لگے گا۔ اس نے چند لمحے سوچنے کے بعد سر اوپر اٹھایا اور اپنے والد کی آنکھوں مین دیکھتے ہوئے کہا ، “ابوجان ، پریشان نہ ہوں ، یہ کبھی نہی ھو گا ، امریکہ ایران پر کبھی حملہ نہی کر پائے گا ، ویسے اگلا ھدف ہم ھیں لیکن ہم اس کو ایران پر حملہ نہی کرنے دیں گے” ، والد نے پوچھا وہ کیسے ؟۔ تو اس نے دور خلاؤں مین دیکھتے ھوئے کہا کہ یہ ابھی میں نہیں بتا سکتا لیکن میرا وجدان کہتا ہے کہ اب شکار شروع ہونے  والا ہے ۔  والد نے پوچھا کس کا شکار تو اس وکیل نے کہا،  “پہاڑی بھیڑئے کا شکار ، امریکہ کا شکار”

 

چوہدری کاشف سلیمی، ایک وکیل درویش جو خود کو کھوجنے میں گم ہے

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *