• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • دیوار گریہ کے آس پاس۔۔روایت : کاشف مصطفےٰ/تحقیق و تحریر : محمدّ اقبال دیوان/قسط14

دیوار گریہ کے آس پاس۔۔روایت : کاشف مصطفےٰ/تحقیق و تحریر : محمدّ اقبال دیوان/قسط14

(اسرائیل کا سفر نامہ ۔اپریل 2016 )

ادارتی تعارف
جناب محمد اقبال دیوان کی تصنیف کردہ یہ کتاب’’ دیوار گریہ کے آس پاس ‘‘کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔
اس سفر نامے کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔
کتاب کے ناشر محترم ریاض چودہری کی پیرانہ سالی اور صوفیانہ بے نیازی کی وجہ سے سرورق پر دیوان  صاحب کا نام بطور مصنف شائع ہونے سے رہ گیا جس سے یہ تاثر عام کیا گیا کہ اس کے مصنف کوئی اور امیر مقام ہیں۔
یاد رہے کہ یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔انگریزی میں تحریر ان کی سفری یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا جو زیادہ تر مختصر پیرائے میں انگریزی زبان میں اسرائیل سے جناب دیوان صاحب کو بذریعہ ای میل موصول ہوئیں۔ ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے موصول شدہ ان ٹریول نوٹس کی مدد سے اپنے مخصوص انداز میں اسے اردو کے قالب میں ڈھالا۔ اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع کیا۔
اس کتاب کو لکھنے میں اور اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔یہاں  اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ یہ کاوش بیش بہا پہلے سے انگریزی یا کسی اور زبان میں کتاب کی صورت موجود نہ تھی۔ نہ ہی اس کا کوئی اور نسخہ اب تک کسی اور زبان میں معرض وجود میں آیا ہے۔ قارئین مکالمہ کی خاطر کچھ تصاویر جو کتاب میں موجود نہ تھیں وہ وضاحت مضمون کی خاطر نیٹ سے شامل کی گئی ہیں۔قسط مذکورہ میں ڈاکٹر صاحب کی اپنی تصویر کے علاوہ تمام تصاویر نیٹ سے لی گئی ہیں۔
ہما رے دیوان صاحب ڈاکٹر صاحب کے ہم زاد ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔ ان کی تین عدد کتابیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا اور تیسری پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ شائع ہوچکی ہیں۔ چوتھی چارہ گر ہیں بے اثر ان دنوں ادارہ قوسین کے پاس زیر طبع ہے۔ سرجن کاشف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔ قرآن الحکیم، بائبل اور تصوف کے حوالے دیوان صاحب کی اپنی تحقیق اور اضافہ ہے اور انگریزی ٹریول نوٹس میں شامل نہ تھا
ایڈیٹر ان چیف

tripako tours pakistan

انعام رانا

ڈاکٹر کاشف مصطفے کا نوٹ بر زبان انگریزی
ڈاکٹر کاشف مصطفے کا نوٹ بر زبان انگریزی حصہ دوم

گزشتہ سے پیوستہ
ڈیرھ میل کی مسافت کے بعد ہم ایک ایسی خانقاہ کے پاس پہنچے جو بند تھی۔اس کے کھلنے کے اوقات صبح نو بجے سے بارہ بجے واضح طور پر درج تھے مگر عبدالقادر کہا ں باز آنے والا تھا۔ وہاں موجود نوجوان گارڈ کے باپ کا رشتہ اللہ جانے کہاں سے ڈھونڈ نکالااسے بتایا کہ وہ تو پیدا بھی نہیں ہوا تھا جب اس کا باپ اور وہ سامنے والے باغ سے انگور چرا چرا کر کھاتے تھے۔ایسا پرانا اور گھناؤنا تعلق۔ گارڈ نے خاندانی کمزوری کو مزید تشہیر سے بچانے کی خاطر خانقاہ کے دروازے پھٹ سے کھول دیے۔ دروازہ کھلتے ہی ایک پلیٹ فارم پر نگاہ پڑی جس کے وسط میں شاہ بلوط کا درخت تھا اسے “Ibrahim’s Oak” یا بلوط ابراہیمی کہتے ہیں۔اسے چاروں طرف سیاینٹوں کی ایک دیوار نے گملے کی صورت میں گھیرا ہوا تھا۔اس درخت کے حوالے سے کئی روایات مشہور ہیں۔سیدنا ابراہیم علیہ سلام نے اسی کی چھاؤں میں ایک خیمہ میں اپنی عمر کا بڑا حصہ گزارا۔ یہیں آپ کو یہ بشارات ہوئیں کہ آپ کے دو عدد صاحبزادوں اور ایک کزن سیدنا لوط کو نبوت سے سرفراز کیا جائے گا اور یہ سلسلہ آپ کی دعا کے نتیجے میں سرزمین حجاز میں ہمارے محترم نبی آخر الزماں کی صورت میں محسن انسانیت کا روپ دھار کر پورا ہوا۔۔آپ ہی نے سیدنا لوط علیہ سلام کو یہیں سے صدوم اور گمراہ کی بستیوں کی جانب رخصت کیا تھا۔رشد و ہدایت کے پیغام کے ساتھ جب سیدنا لوطؑ رخصت ہورہے تھے اور صحرائے یہودا کی مسافت سامنے تھی تو آپ کی آنکھیں بڑا بھائی ہونے کے ناطے اشکبار تھیں۔یہاں یہ خیال بھی بہت عام ہے کہ گو اس درخت کی عمرلگ بھگ ساڑھے تین ہزار برس لیکن ہر سال اس میں کوئی نہ کوئی ہری شاخ پھوٹ پڑتی ہے۔جس سال کوئی شاخ نہیں پھوٹے گی اس سال دجال دنیا میں قتال اور فساد کے لیے قرب و جوار سے نمودار ہوجائے گا۔ہم نے گارڈ کا شکریہ ادا کیا اور باہر چلے آئے۔

نئی قسط

’’آج تو آپ نے بہت ہیبرون گھوم لیا ؟‘‘ ۔قادر کے لہجے میں ایک طنزیہ سی چھیڑ خانی تھی۔میں نے اس کا شکریہ ادا کیا کہ ’’ بطور سیاح یہ میرے لیے واقعی بہت انوکھا تجربہ تھا‘‘۔وہ اس جواب سے محظوظ ہوا اس نے اپنی حتمی رائے ظاہر کی کہ لوگ چونکہ یہاں بسوں اور بلٹ پروف گاڑیوں میں فوجیوں کے جلو میں آتے ہیں انہیں ہیبرون کا کوئی اندازہ ہو ہی نہیں سکتا۔۔ یہ کیسی سیاحت ہے۔اس نے اپنے مشاہدے کو احتجاج میں اس اعلان کے ساتھ بدلا کہ اسے شدید بھوک لگی ہے لہذا اس سے  پہلے کہ میں کوئی اور مطالبہ دید و شنید کروں پیٹ پوجاکرنا لازم ہوگیا ہے ۔
میں نے بھی کہا جو پہلا  ڈھابہ ملے وہاں کھانا کھائیں گے۔ہم پہاڑوں میں سے گزر رہے تھے اب سڑک پر کسی بستی کا کوئی نشان نہ تھا۔الخلیل کے اس بھونچال سے گرزنے کے بعد اب میری طبعیت میں عجب شانتی تھی اس نے جب یہ پوچھا کہ میں کیا کھانا پسند کروں گا تو میں نے بھی جواب دیا کہ پھیکے بے لطف عربی کھانے کھا کر میری طبیعت بے زار ہوگئی ہے مجھے تو پیٹ میں دھوم مچاتی مرچوں والے کھانے کی طلب ہے۔قادر میرے مطالبے پر گہری سوچ میں ڈوب گیا پھر اچانک پوچھنے لگا کہ کیا میں اصلاً پاکستانی ہوں۔مجھے اس کے اس سوال پر تاؤ آگیا اور میں نے اسے کہا کہ اگلی مرتبہ جب ملیں گے تو میں برتھ سرٹیفکیٹ ساتھ رکھوں گا۔نہیں مجھے ایک بات یاد آرہی ہے یہاں سے پانچ کلو میٹر دور حلحول کا قصبہ ہے۔چند سال پہلے تک وہاں پاکستانی کھانے مل جاتے تھے۔یہ کسی پاکستانی کا ہوٹل تھا۔مجھے لگا کہ ہوٹل اورمیرے مطالبے نے اسے بہت دور ماضی میں کہیں دھکیل دیا ہے۔
اس انجان محل ِ وقوع میں پاکستانی ہوٹل اور وہ بھی کسی پاکستانی کا یہ ایک ایسا انکشاف تھا کہ میں جو سیٹ پر اطمینان سے نیم دراز تھا اچھل کر بیٹھ گیا۔اس کے چہرے پر نگاہیں گاڑ کر یہ اطمینان کرنا چاہا کہ واقعی وہ ہوش و حواس میں ہے۔میں مذاق نہیں کررہا۔ میں یہاں بہت عرصے پہلے آیا تھا۔یہ حلحول کا  قصبہ ایسا نہیں کہ سیاح یہاں آئیں۔مجھے پتہ نہیں وہ پاکستانی اب تک زندہ ہے کہ نہیں۔وہ جب بھی کافی عمر رسیدہ تھا۔اس کا یہ انکشاف مجھے ایک ایسی غلط فہمی لگی جس پر میں نے پیشگی ہنسنا شروع کردیا۔میری یہ حرکت اسے ایک آنکھ نہ بھائی لیکن اس نے اپنی برہمی پر قابو پاتے ہوئے کہا کہ وہ زندہ ہوا تو تمہیں پاکستانی کھانا مل جائے گا۔ میں نے بھی اس کے جھوٹ کو گھر پہنچانے کے لیے کہا کہ 65 ممالک کی سیر کے بعد اگر کسی پاکستانی سے مجھے مل کر آج خوشی ہوگی تو وہ آج اور اسی قصبے حلحول میں ہوگی ۔ابھی چلو۔ فوراً چلو۔ آج کی شام اپنے پاکستانی کے نام۔۔۔۔

عشق کی داستان ہے پیارے
آگے اپنی زبان ہے پیارے

قادر کو جانے کیوں خیال آیا کہ میری زندگی میں اب تک کے تجربات اور تحیرات ناکافی ہیں گو کہ بہانہ طعام کا تھا جو داستان اب کھلنے والی ہے اس کا اندازہ تو اس بے چارے کو بھی نہ تھا وہ نادانستگی میں مجھے ہیبرون سے لے کر ایک ایسے دریائے محبت میں اتر گیا جو ایسا پایاب (کم گہرا جس میں پاؤں زمین کو لگ جائیں) بھی نہ تھا۔
حلحول، ہیبرون سے پانچ کلو میٹر دور ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ایک سوئی سی بستی،صاف ستھری ، کچھ سوگوار سی۔یہاں ٹریفک بہت کم اور بازار کچھ چپ چپ سے تھے۔لوگ بھی گھروں سے بہت کم
باہر دکھائی دے رہے تھے۔ وہ کار سڑک کنارے کھڑی کر کے کسی کا پتہ پوچھنے چل پڑا۔ میں سستانے اور باہر کا جائزہ لینے کے لے کار سے نکل آیا ۔ فضا میں ایک پہاڑی مقام کی سی سوندھی خوشبو تھی۔ایک لڑکا انگور بیچ رہا تھا ۔ میں نے دو شیکل کے خرید لیے۔یہاں حلحول کے پھل اور انگور پورے فلسطین میں بہت مشہور ہیں۔میرے منہ  میں وہ ایک شیرینی بن کر گھل گئے۔
اتنی دیر میں قادر نظر آیا اس کا چہرہ دمک رہا تھا گویا اسے وہ گم گشتہ تابوت سکینہ مل گیا ہو جسے یہودی ڈھونڈ رہے ہیں۔ آتے ہی اس نے اعلان کیا کہ میں بہت ہی نصیب دار ہوں وہ تمہارا پا کستانی ہم وطن بوڑھا ابھی تک بقید حیات ہے ۔اس نے میری خوش قسمتی کا سہرا ایک بوڑھے کے سر باندھا جس کے بارے میں وہ کھوج لگانے نکلا تھا۔مجھے اس کے لہجے کی کھنکھناہٹ بہت بھلی لگی۔یہاں حلحول میں پاکستانی ، میں سوچ میں پڑ گیا۔اس وقت وہ دکان پر بھی موجود ہے آؤ اس کے پاس چلیں۔ہم ایک پہاڑی ڈھلوان سے اتر کر نیچے آئے تو سڑک کے اختتام پر وہاں ایک مطعم تھا۔کھانے کا ہوٹل یعنی مطعم ابو داؤد ۔ یہاں سے ساری وادی کا خوب صورت نظارہ دیکھا جاسکتا تھا۔ مطعم سے کباب ،حمس اور نان کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں۔
مطعم میں داخل ہوتے ہی میری نگاہیں اس پاکستانی چہر ے کو ڈھونڈنے میں لگ گئیں جس کی دید کے لیے مجھے یہاں لایا گیا تھا۔کاؤنٹر پر ایک ادھیڑ عمر کا پھرتیلا عرب بیٹھا تھا جو طعام سے متعلق گاہکوں کے بلوں کی رقم کا لین دین کررہا تھا۔عین اس کے پیچھے ایک چھوٹی سی جگہ میں سر جھکائے گویا کہ حالت مراقبہ میں ہو، ایک بوڑھا بیٹھا تھا۔قادر نے ہماری آمد کا اعلان باآواز سلام سے کیا۔
کاؤنٹر پر بیٹھے مالک نے بہت خوش مزاجی سے ہمارے سلام کا جواب دیا اور ہمیں نشست اختیار کرنے کی دعوت دی۔قادر نے میرے اندازے کے مطابق اسے عربی میں کہا کہ میں ایک پاکستانی ہوں اور وہ مجھے اس کے والد سے ملانے لایا ہے۔یہ سن کر اس نے بوڑھے مرد کی جانب ابّی کہہ کر آواز لگائی۔قادر کہاں چوکنے والا تھا اس نے مصرعہ طرح لگایا کہ وہ ان سے ملانے کے لیے ایک پاکستان سے ایک بڑے خاص مہمان کو لایا ہے۔
مجھے نہیں لگتا کہ دنیا کا  کوئی اداکار ان جذبات کی عکاسی کرسکتا ہے جو اس وقت اس بوڑھے کے جھریوں زدہ چہرہ پُر انوار پر بادل بن کر چھا گئے۔ بے یقینی ، اضطراب ، طرب بے اختیار وہ کونسا رنگ تھا جو اس چہرے پر ان ساعتوں میں نمایاں نہ ہوا ۔ وہ بہت تیزی سے اپنی نشست سے اٹھ کر میری جانب بڑھتے چلے آئے۔یقین جانیے باپ کی انہی  کیفیات بے پایاں کا کچھ رفیق تو ان کا صاحبزادہ وہ کاؤنٹر پر بیٹھا غریب سیٹھ بھی تھا۔جس کے باپ کو یہ نعمت غیر مترقبہ یوں اچانک ملی تھی۔

بڑے میاں نے میرے پاس آن کر اسلام وعلیکم کہا اور میرے جواب کے بعد دوسرا سوال میری وطنیت پر داغ دیا۔اس کی برسوں سے گنگ اردو زبان پر عربی لب و لہجہ غالب آچکا تھا۔میرے جواب اثبات پر انہوں نے مجھے گلے لگایا ۔ اس گلے لگنے میں اس باپ کی شفقت کا رنگ چھایا ہوا تھا جو بہت عرصے بعد اپنے گم شدہ بیٹے سے ملا ہوا۔انہوں نے سب متجسس ناظرین مطعم کے سامنے اعلان کیا کہ وہ نصف صدی کے بعد پہلی مرتبہ کسی ہم وطن سے مل رہے ہیں۔ان کی آواز کپکپارہی تھی۔ آنکھیں اشک بار تھیں اور مسرت دیدنی۔ہر چار سو ایک نعرہء مرحبا بلند ہوا۔بیٹے نے فوراً ایک ٹیبل صاف کراکر نسبتاً ایک خاموش کونے میں ہمیں براجمان کرادیا۔قادر نے ہم دونوں کو  چھوڑ کر اپنے کھانے پینے کا اہتمام کیا اور وہ وہاں بیٹھے ہوئے عربوں کی ایک ٹولی میں گھس گیا۔
ایسے مواقع پر پاکستانیوں کا جو اگلا سوال ہوتا ہے وہ مجھے متوقع تھا اور جب انہوں نے میرے شہر کانام پوچھا تو میرا فی الفور جواب تھا ’’راولپنڈی ‘‘ ۔ چچا غالب کو کلکتے کے ذکر پر جو تیر دل میں لگا تھا( کلکتے کا جو تونے ذکر کیا اے ہم نشین۔۔اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے) کچھ وہی حال ان بزرگوار مشفق کا ہوا۔آنسووں کی ایک جھڑی بہہ نکلی جو ان کی سفید ریش کو چمکاتی ہوئی نم کرگئی۔ان کا آبائی تعلق روالپنڈی کے علاقے ٹینچ بھاٹا سے تھا اور نام تھا ر اجہ ممریز ۔اس دوران ان کا صاحبزادہ عربی کافی کی دو پیالیاں لے آیا۔اسے اپنے باپ کی نازک جذباتی کیفیت کی بہت فکر تھی۔جب اسے میری جانب سے یقین ہوگیا کہ ہر چیز قابو میں ہے تو وہ مسکراتا ہوا چل دیا۔
راجہ میمریز نے جو کہانی مجھے سنائی وہ عشق کی ایسی داستان ہے کہ دنیا کا بہترین فلم ساز اس پر سن فلاور، دی ٹرمینل، دی نوٹ بک یا دی تھیف آف دی بک قسم کی فلم بناسکتا ہے۔ اس قصہ ہیر رانجھا کو سنتے ہی پنجابی ایک دفعہ اور لٹ گئے آپ کو تو یاد ہی ہوگا کہ اردو کے ایک پرانے شاعر انشا نے کہا تھاع
سنایا رات کو جو قصہ وہ ہیر رانجھے کا
ہم اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
ان کی کہانی ان کی زبانی سنتے ہوئے مجھے کئی دفعہ لگا کہ میرے نیچے سے کبھی کرسی تو کبھی زمیں سرک گئی ہے اور میں فضا میں کسی ہپناٹائزڈ لمحے میں معلق ہوگیا ہوں۔
اس داستان الم ناک کا آغاز سن ساٹھ کی دہائی میں ہوا۔راجہ جی کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ وہ خود بھی ایک عام سے نوجوان تھے۔ان کی وہاں نان کاری بازار میں مصالحوں کا تھوک کا کاروبار تھا۔یہ راجہ جی کی دنیا نہ تھی۔وہ ہمہ وقت باہر جانے کے خواب دیکھتے تھے،ادھر ادھر سے پیسے جمع کرکے والد صاحب سے سفر کی اجازت مانگی تو انکار ہوگیا۔وہ باز نہ آئے لگے رہے لیکن والدین جب ٹس سے مس نہ ہوئے تو ایک دن چپ چاپ انہیں بتائے بغیر برطانیہ کے لیے روانہ ہوگئے۔ برطانیہ جانے کے لیے سن ساٹھ کی دہائی میں ویزہ مطلوب نہ ہوتا تھا ۔ ارادہ یہ تھا کہ چند ماہ بعد گھوم پھر کر آئیں گے تو ان کا شوق اور والدین کا غصہ دونوں ہی ٹھنڈے پڑ چکے ہوں گے۔

لندن پہنچ کر راجہ جی کو وطن عزیز کی کچھ زیادہ فکر نہ رہی ۔گھر سے لائی ہوئی جمع پونجی جلد ہی وہاں سیر و تفریح میں بھکس گئی۔اب کیا کریں سو ملازمتوں کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔نوکریوں کا وہاں ان دنوں ویساکال نہ تھا ،جیسا اب ہے۔ انگریز مالدار تھے ۔ہمارے ہاں سو جو دولت لوٹ کر لے گئے تھے وہ اب تک چل رہی تھی۔ٹونی بلیئر جیسے Losers اور مکار افراد ابھی تک وہاں وزیر اعظم نہ بنے تھے۔ راجہ صاحب کبھی ایک نوکری پکڑتے تو کبھی دوسری گزارا ہونے لگا۔جیب بھاری ہوئی تو حضرت کو پیرس دیکھنے کا شوق چرایا۔وہاں سے بیلجئم اور پھر ہالینڈ۔سارا یورپ کھنگال ڈالا۔
اسی دوران شومئی قسمت سے ان کی ملاقات لندن میں ایک اردنی رئیس زادے جمال سے ہوگئی۔وہ اردن کے ایک بڑے تاجر گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔لندن میں اسے اپنے لیے ایک قابل بھروسہ کیئر ٹیکر کی ضرورت تھی جو وہاں لندن میں اس کا گھر بار سنبھال سکے۔جمال نے معقول مشاہرے کے عوض راجہ جی کو اپنے ہاں ملازم رکھ لیا اور دونوں کی خوب نبھنے لگی۔
دو برس بعد جب تعلیم مکمل کرکے جمال نے واپسی کا رخت سفر باندھا تو راجہ جی کو بھی ساتھ ہی رکھ لیا۔وہاں ان کا بہت بڑا کاروبار تھا۔ان کے اردن میں کئی مقامات پر تعمیراتی پروجیکٹس چل رہے تھے راجہ صاحب جگہ جگہ گھومتے رہتے۔ حج کیا۔ شام دیکھ آئے۔
ایک دن جمال اور انہیں کاروبار کے سلسلے میں حلحول کے پاس ایک قصبے بیت العمر آنا پڑا تب حلحول اور بیت العمر دونوں ہی مملکت اردن کا حصہ تھے۔وہاں پہنچے تو شام ہوگئی تھی۔جمال میاں تو اپنے جائداد اور رشتہ داروں سے معاملات نمٹا نے میں لگ گئے۔ حضرت راجہ صاحب کو سگریٹ کی طلب نے ستایا تو آگ لینے نکل کھڑے ہوئے ۔ اس تگ و دو میں سیدنا موسیؑ کی طرح پیغمبری تو نہ ملی مگر بیوی مل گئی ۔قیام گاہ سے کچھ دور ایک ڈھلوان سے نیچے اترے تو سورج غروب ہورہا تھا۔ علاقہ پہاڑی تھا اور منظر دلفریب۔
راستے میں کسی سے ماچس مانگ کر سگریٹ سلگایا۔ایک درخت کے نیچے کسی پتھر پر سستا نے بیٹھے تو سامنے نگاہ پڑی۔ایک چھوٹے سے مکان کی بالکونی میں ایک نسوانی سایہ سر سرارہا تھا۔کچھ دیر بعد پردے  کے پیچھے سے وہ نکل کر سامنے بالکونی میں آیا تو وہ ایک دلکش و دل فریب دوشیزہ تھی۔ دونوں کی نگاہیں چار ہوئیں تو راجہ جی کی دنیا وہ دنیا بھی نہ رہی۔پورے فلسطین اور اردن میں بیت ال عمر کی حسیناؤں کی دھوم ہے۔ سارے عرب میں اپنے حسن کے حوالے سے مشہور خود ملک شام والیاں بھی انہیں اپنے سے حسین مانتی ہیں۔ہمیں اس تذکرے سے یہ خوف ہوگیا ہے کہ جس طرح سیالکوٹ اور شیخوپورہ کے فربہ اندام آڑھتی اور تھوک بیوپاری سوات، قندھار ، چترال کی حسیناؤں کو ایکسپورٹ کے نئے آرڈروں اور بڑھتی ہوئی خوشحالی سے دوسری بیوی بنانے پہنچ جاتے ہیں وہ اس راز دوروں کو جاننے کے بعد بیت العمر کا رخ نہ کرلیں۔

حلول
بیت ال عمر
بیت ال عمر
بیت ال عمر
انگش نوٹ 1
انگلش نوٹ حصہ 2
انگلش نوٹ حصہ 3

راجہ جی کا دل جس نے حسینہ نے چرایا وہ بی بی تو ان سب سے بڑھ کر تھی۔ایسا لگتا تھا کہ انسان بن گئی ہے کرن ماہتاب کی۔نگاہ ہٹانے کی تاب کس کو تھی۔اس کی پہلی نظر کیا اثر کرگئی کہ ایک بجلی گری اور راجہ صاحب ختم شد۔وہ بالکونی میں پردہ ٹھیک کرنے آئی تھی اور راجہ میمریز خان ٹنیچ بھاٹا والوں کی زندگی خرا ب کر گئی ۔مسکراہٹ کا جو تاثر اس کے چہرے پر پھیلا تھا وہ  اس کی دلی کیفیات کا بھی عکاس تھا۔ہمارے جیسا کوئی ہوتا تو کہہ دیتا کہ

اس دل کے دریدہ دامن میں دیکھو تو سہی ، سوچو تو سہی،

جس جھولی میں سے سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا

راجہ ممریز کی زندگی کا اگر آپ مشاہدہ کریں تو اس میں اپنے مرکز سے بچھڑ جانے کی بہتVULNERABILITY تھی۔

اس رات تو راجہ جی مانو انگاروں پر سوئے۔اس بے چاری کا حال بھی چاند میں کچھ خیال کرتے ہیں۔۔ میرؔ صاحب کمال کرتے ہیں والا ہی ہوگا۔مگر عورتوں کے معاملے میں اور خاص طور پر مریخ اور زہرہ پر بسی عرب عورتوں کے بارے میں باہو شاہ صاحب کا دامن تھام کر

دل دریا سمندروں ڈونگے،

کون دلاں دیاں جانے ہُو

کو ہی آخری خبر سمجھیں۔عاشق لوگ تو رملے کملے ہوتے ہیں دنیا بڑی سیانی ۔سو حضرت راجہ جی اگلے دن پر اس مقام اسی پتھر پر اسی و قت موجود تھے۔ ہماری جرات نہ ہوئی کہ پوچھ لیتے حالانکہ دیوآنند کی فلم تیرے گھر کے سامنے ان دنوں ہی ریلیز ہوئی تھی ممکن ہے راجہ صاحب گنگنا بھی رہے ہوں کہ اک گھر بناؤں گا رتیرے گھر کے سامنے۔چند لمحے گزرے تھے کہ وہ
دوشیزہ بھی پھر بالکونی میں آگئی ۔جانو کہ دونوں کادل کوئی وائی فائی کنکشن سے جڑا تھا۔اب کی بار  اس طرف سے بھی نگاہوں میں آشنائی اور قبولیت کا پیغام تھا۔اسی دعوت رفاقت کو راجہ جی نے جو ان دنوں اپنی بھرپور جوانی کے ایام کا لطف لے رہے تھے اور۔دل سے قبول کیا ممکن ہے وہ بھی ہمارے جیسے خوبرو بھی ہوں ۔وہ بیبیاں جو انگلستان میں ہمارے ساتھ پڑھتی رہی ہیں یا ہم پیشہ رہی ہیں۔ آپ ان سے تصدیق کرسکتے ہیں ۔ہم ان دنوں ایسے نہ تھے جیسے اب لوگوں کے پھٹے، پرانے ، سیاہ ،شکستہ دل جوڑ جوڑ کر ہوگئے ہیں ۔شام کے شہر حلب یعنی Aleppo جیسے۔راجہ جی کہ لیے اس بی بی کو اپنی بیوی بنانے کا فیصلہ عمر کے حساب سے کچھ مشکل نہ تھا۔دل آجائے تو مڑتے نہیں۔ کم بخت مرد ہوتے ہی ایسے ہیں ہمارے کچھ ہم عمر دوست آج بھی بے چینی سے ایشوریا رائے کی طلاق کا انتظار کررہے ہیں۔ہماری بات کو خاتون ہونے کے ناطے بہت دل پر نہ لیں۔ پنڈی کے سب مرد ایسے نہیں ہوتے۔ایک راجہ جی تھے ۔ایک ہم ہیں، ہماری بیگم گواہ ہیں۔
جس دن انہیں عمان لوٹنا تھا اس دن راجہ جی نے اپنی پریم کتھا سیٹھ جمال کو سنا ڈالی۔جمال کا معاملہ وہی تھا جو شکوہ جواب شکوہ کے وقت علامہ اقبال کا تھا کہ ع
کچھ جو سمجھا میرے شکوے کو تو رضواں سمجھا۔

جمال کے دل پر راجہ جی کی داستان الفت نے عجب رنگ جمایا۔اس نے روانگی میں ایک دن تاخیر کی اور اگلے دن عرب روایات کے مطابق تحفے تحائف سے لدا پھندا،گاؤں کے مکھیا کے ساتھ لڑکی کے گھر رشتہ لے کر پہنچ گیا۔باپ کو ،کم بخت کو پہلا اعتراض تو یہی تھا کہ ممریز ٹینچ بھاٹا ۔روال پنڈی کا ہے عرب نہیں۔اس کے آگاڑی پچھاڑی کا بھی کچھ پتہ نہیں۔جمال نے ٹوپی تو باپ کے قدموں میں نہیں رکھی مگر اس غریب پر ذاتی ضمانتوں اور اپنے تعلقات کا ایسا بوجھ ڈالا کہ وہ پسیج گیا ۔ ایک شرط منوانے سے پھر بھی باز نہ آیا ۔دولہے میاں اپنا Period of Probation پورا ہونے تک یہاں بیت ال عمر میں ہی رہیں گے ۔جب تک لڑکی والے ان کے چال چلن کے حوالے سے شکیبا نہیں ہوجاتے ۔ تب تک یہاں ٹکے رہنا ہے ۔ایک دفعہ یہ اطمینان قلب ان کی معصومہ اور اس کے والدین کو ہوگیا کہ وہ بھلا مانس ہے وہ اس کے بعد انہیں جہاں جا کر گھر بسانا ہو اس کی اجازت دیں گے۔ایک ہفتے بعد وہ سب عمان سے بارات لے کر آئے اور راجہ ممریز خان کا نکاح ہوگیا۔یہ سن 1966 کا موسم خزاں تھا۔
راجہ ممریز کے سسر کا ہوٹل یہی ہے جہاں ہم بیٹھے ہیں مطعم ابو داؤد۔وہ ان کا ہاتھ بٹانے میں لگ گئے۔ان کے انگور کے باغات بھی تھے۔راجہ جی میں بہت خوبیاں تھیں سسرال والے تو کیا اب سارا قصبہ ان کی شرافت اور رکھ رکھاؤ کے گن گاتا تھا۔دس ماہ گزرے تو اللہ نے انہیں احمد میاں سے نوازا ۔یہ  وہی حضرت ہیں جو کاؤنٹر پر بیٹھے ہیں۔راجہ جی کامنصوبہ تھا کہ بیٹے اور بیوی کے ساتھ راولپنڈی پہنچیں گے تو ناراض والدین کا دل چاند جیسی پیکرشرافت بہو اور گلابی اجلے پوتے کو دیکھ کر پرانے گلے شکوے بھول جائے گا۔مدتیں ہوئیں وہ گھر چھوڑنے کے بعدخط لکھتے تھے تو ان کی جانب سے پنڈی سے اس کے خط کا کوئی جواب بھی نہ آتا تھا۔تقدیر کے ہاں کچھ اور فیصلے لکھے تھے۔
1967 میں جنگ لگ گئی بیت ال عمر اور حلحول اردن سے چھن گئے۔ان پر اسرائیل قابض ہوگیا۔راجہ ممریز پاکستانی سے اسرائیلی ہوگئے۔نہ جہاں میں کوئی اماں ملی۔سرحدوں پر ایسے پہرے لگ گئے کہ وطن ہی بدل گیا۔اردن کا وہ علاقہ جہاں وہ رہتے تھے وہ اسرائیلی مملکت کا حصہ بن گیا۔ جمال سیٹھ کا وطن اردن ہوگیا تو ان سے بھی رابطہ نہ رہا۔تقدیر کے زلزلے نے راجہ جی کے سب پرانے رشتے برباد کر ڈالے۔سسر کا بھی کچھ عرصے میں انتقال ہوگیا۔لے دے کہ ایک سالا تھا اسے اسرائیلی فوجیوں نے  کسی غلط فہمی کی بنیاد پر گولیوں سے بھون ڈالا۔ سارا سسرال ختم ہوگیا۔ سسر کا کاروبار تنہا انہیں سنبھالنا پڑا ۔راجہ صاحب کے چار بیٹے ہیں تین بیٹیاں۔بیگم اللہ کو پیاری ہوگئی ہیں۔وطن واپس آن کر اولاد کو راولپنڈی دکھانے کا خواب اب گم گشتہ سرحدوں، امیگریشن حکام کی سرد مہری اور ان پر طاری بڑھاپے کی تھکاوٹ کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ پرانی جینز والی یادیں باقی ہیں۔
پنڈی کی وہ سن ساٹھ کے دنوں کی نیم اندھیری گلیاں دور کہیں دلوں میں اب بھی اپنے ٹمٹماتے قمقموں سے روشن ہیں۔راجہ صاحب اپنے لڑکپن کے ساتھیوں کے والدین کے ڈر سے چھپتے چھپاتے گھر لوٹنے کے مناظر نہیں بھولے۔سردیوں کے ایام میں انہیں یاد ہے کہ وہ چھت پر اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ دھوپ سینکا کرتے تھے۔ماں کے ہاتھ کا آلو گوشت اور توے سے اتارے ہوئے گرم پھلکوں کے لقمے اب بھی ان کے ہر ذائقہ ء طعام پر حاوی ہیں۔وقت مگر بہت ظالم ہے۔اب راجہ جی ایک فلسطینی ہیں۔ جس عورت کی خاطر سب کچھ چھوڑ دیا وہ بھی بے وفا نکلی۔ تین برس ہوتے ہیں ان کو داغ مفارقت دے کر ملک عدم کی راہی ہوگئی۔ راجہ جی اسے اس کا بھی دوش نہیں دیتے ۔ اسے کینسر نے بستر علالت پر لا پٹخا تھا۔ ورنہ وہ تو ایک پیکر وفا و حیا تھی۔وہ یوں چھوڑ کر جانے والی نہ تھی۔
اب راجہ جی کی بس ایک ہی تمنا ہے کہ   موت آئے تو اپنی شریک حیات کے پہلو میں تو انہیں بھی دفنا دیا جائے۔
راجہ صاحب کی داستان حیات سن کر مجھے بھوک اور وقت کا کوئی احساس ہی نہ رہا۔داستاں ختم ہوئی تو ۔ عبدالقادر وہاں پڑے تخت پر لمبی تانے سوچکا تھا۔ریستوراں گاہکوں سے خالی ہوچکا تھا لیکن راجہ جی  کی آنکھیں آنسووں سے بھر چکی تھیں ۔انہیں میزبانی کے باب میں کوتاہی کا احساس ہوا آنکھ سے آخری آنسو پوچھتے ہوئے بھرائی آواز میں معذرت کی کہ انہوں نے دل کا بوجھ ہلکا کرنے میں مجھے کھانے کا پوچھا تک نہیں۔درد اب جاکے اٹھا چوٹ لگے دیر ہوئی، والا معاملہ تھا۔
ان کے سوال کی بازگشت میں ۔ان کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے۔ان کے اور اپنے شہر پنڈی اور ان کے علاقے ٹے نچ بھاٹا کو یاد کرتے ہوئے میر ے دماغ میں، میرے دوست، میرے مہربان ومشفق  دیوان صاحب کاسنایا ہوا ،جون ایلیا کا وہ شعر گونج رہا تھا ع
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم میری آخری محبت ہو!

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے۔۔۔۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply