• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • افسوس ! ایسی جلدبازی کی ضرورت بھی نہیں تھی۔۔۔سید عارف مصطفٰی

افسوس ! ایسی جلدبازی کی ضرورت بھی نہیں تھی۔۔۔سید عارف مصطفٰی

ابھی وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے امن پسندی کے اظہار کے لیئے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے ۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ بہت سے لوگ انکے اس اقدام کی بہت تعریف کریں گے اور اسے پاکستان کی اخلاقی فتح سے تعبیر کریں گے اور اس مد میں پذیرائی کے بیانات میں خیرسگالی اور عظمت کی ایسی آندھیاں چلیں گی کہ انکی اس تقریر کی مخالفت کرنا بہت مہنگا پڑے گا کیونکہ ہرطرف سے انکے ‘متاثرین’ ٹوٹ پڑینگے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ، لیکن میں یہاں انکے اس اقدام کی جزوی مخالفت کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کیونکہ میری دانست میں اس سلسلے میں اس قدر جلد بازی اور اتاؤلے پن کی ضرورت ہرگز نہیں تھی ۔۔۔ اور یہاں ذیل میں اپنے نکتہ نظر کی وضاحت پیش کر رہا ہوں-

کون ہے جو اس سامنے کی حقیقت کو جھٹلاسکے کہ بھارتی طیاروں کی تباہی اور پائلیٹ کی گرفتاری کے بعد سے خطے کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور سرحدوں دونوں طرف کے عوام کی سوچ اور رائے اس تبدیلی سے اثر انداز ہوتی جارہی ہے جو درحقیقت پاکستان کو ملنے والے ایک زبردست موقعے کے مترادف ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے کہ جب اگرذرا صبر و تحمل اختیار کرکے پاکستان کی جانب سے موقع کی مناسبت سے ہشیاری سے چالیں چلی جائیں تو جنگی ذہنیت پھیلانے والے خونخوار مودی کی وحشت کی بازی اور انتخابی بساط یکسر پلٹ سکتی ہے اور ڈیڑھ ماہ بعد بھارت میں ہونے والے انتخابات کے نتائج اسے اقتدار کے سنگھاسن سے اٹھاکے فراموشی کے کچرہ دان پہ پھینک سکتے ہیں ۔۔۔ یہاں اس مرحلے پہ میں اپنی سوچ کو مزید واضح کرنے کے لیئے یہ کہنا چاہوں گا کہ اگرکوئی مجھ سے پوچھے کہ بڑی بدقسمتی کسے کہتے ہیں تو میرا جواب ہوگا ‘کسی ملنے والے اچھے موقع کو کھودینا، کیونکہ افراد ہوں یا اقوام ، اچھے مواقع سبھی کو ملتے ہیں صرف کم یا زیادہ کا کچھ فرق ضرور ہوتا ہے اور یہ فرق بھی اس لیئے ہوتا ہے کیونکہ کبھی کبھی یہ مواقع خود بخود مل جاتے ہیں اور کبھی انہیں بڑی حکمت و منصوبہ بندی سے پیدا کرنا پڑتا ہے، لیکن جو بھی صورت ہو ، جیت اس سے بروقت اور صحیح فائدہ اٹھانے والے کی ہوتی ہے ۔۔۔

بھارتی پائلیٹ کی گرفتاری بھی ایک بڑا موقع ہے ۔۔۔ ایسا موقع جو پوری 5 دہائیوں کے بعد پاکستان کو ملا ہے اور اگر پاکستان اس موقع سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھاپاتا تو آئندہ پھر ایسی ہی صورتحال کے رونماہونے بلکہ ہوتے رہنے کے لیئے بھی تیار رہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے بھارتی پائلیٹ کی رہائی ایک خوشگوار تاثر دے گی لیکن عملی طور پہ اسکا کوئی خاص فائدہ پاکستان کو پھر بھی نہیں مل سکے گا کیونکہ مودی کی پروپیگنڈہ مشینری اس معاملے میں بھی یہی غلط تاثر دینے کی بھرپور کوشش کرے گی کہ درحقیقت ایسا اس لیئے ہوا کہ پاکستان ( معاذاللہ ) اندر سے بھارت کی طاقت اور مودی جی کی بصیرت سے خائف ہوکے یہ عمل کرنے پہ مجبور ہوا ہے ۔۔۔ یہ باتیں میں اس لیئے کہ رہا ہوں کیونکہ گو کہ بھارت میں ہمیشہ ہی سے پاکستان کی مخالف حکومتیں برسراقتدار رہی ہیں لیکن عملی طور پہ اندرا گاندھی اور نریندر مودی سے زیادہ دشمنی کے جذبات کسی کے نہ تھے اور مودی تو گھٹیا پن کے معاملے میں اندرا سے بھی چار ہاتھ آگے نکل گیا ہے کیونکہ اندرا کسی نا کسی حد تک سیکولر تو تھی ، لیکن مودی تو اپنے ملک کی مسلم آبادی کی زندگی حرام کرنے اور اسلامی تہذیب و تمدن کے سبھی آثار مٹانے کے درپے بھی ہے –

میری دانست میں مناسب یہ رہتا کہ پاکستان بھارتی پائلیٹ کی رہائی کو مودی سرکار کی معافی سے مشروط کردیتا کہ وہ پاکستان میں جارحیت کرنے اور دراندازی کرنے پہ شرمسار ہے اور معذرت خواہ ہے – مجھے بخوبی اندازہ اور احساس ہے کہ مودی نے یہ بات تسلیم نہیں کرنی تھی اور وہ عالمی لیڈروں سے منتیں سماجتیں کرکے انہیں بیچ میں ڈالتا ۔۔۔ لیکن پھر اس سارے عمل کو پاکستان اپنی مرضی کے ٹائم فریم کی شرط پہ اس قدر ضرور لٹکا دیتا کہ بھارتی الیکشن ہوجاتے اور اس سارے عمل کی خفت کے مارے مودی کی کھٹیا کھڑی ہوجاتی اور بھارتی عوام اسے پاکستان میں دراندازی کی وجہ سے بھارت کو خوا مخواہ رسوا کرنے کی سزا ضرور دیدیتے ۔۔۔ اس حکمت عملی سے ہم اس موقع کو ایک حقیقی اور ٹھوس بہتری لاننے والا موڑ بناسکتے تھے لیکن افسوس کہ شاہ محمود قریشی جیسے امریکہ کے اشاروں پہ چلنے اگر وزیر خارجہ ہوں تو آپ ان سے بھرم بازی اور بڑھک بازی کی توقع تو کرسکتے ہیں لیکن قومی مفاد میں کسی بڑے اور حقیقی جرتمندانہ اقدام کی توقع عبث ہے ۔۔۔ اور اس لحاظ سے ہمارے وزیرخارجہ ان سے ہماری توقع پہ پورے اترے ہیں …!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *