ہم اخلاقی پستی میں کیوں گر چکے ہیں ؟۔۔۔ محمد فیاض حسرت

یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب غورو فکر کرنے کے بعد آسانی سے مل جاتا ہے ۔اخلاقی پستی دو بڑے عناصر کی وجہ سے وجود میں آتی ہے ۔ ایک صحیح تربیت کا نہ ہونا اور دوسرا عزتِ نفس کا مٹ جانا ۔اخلاقی پستی کی دلیل اچھی تربیت کا فقدان اور عزتِ نفس کا مٹ جانا ہے ۔ کہتے ہیں کہ مہذب قوموں کی اخلاقی سطح بہت بلند ہوتی ہے ۔ تو کیا ہم مہذب قوم نہیں ؟ جی نہیں ۔ مہذب قوم بننے کے لیے باقی اہم چیزوں کے ساتھ قوم کی اخلاقی سطح بلند ہونا ضروری ہے ۔ ہائے ہم ہیں کہ اخلاقی پستی کا شکار ہیں ! وہ پستی جس کے بعد بلندی کے سفر کے آغاز میں بھی ہمیں کئی برسوں کی مسلسل محنت درکار ہے ۔

راقم نے قانون دان ، حبیب اللہ خان صاحب سے پوچھا کہ ہمارے ملک میں ناحق لوگوں کی جانیں لینے کا سلسلہ کیوں شروع ہوا اور یہ سلسلہ کیسے ختم ہو گا ؟

انہوں نے بڑی تفصیل سے جواب دیا چونکہ میری تحریر کا موضوع اخلاقیات ہے تو اُس جواب میں سے اخلاقیات کا حصہ میں بیان کروں گا ۔ فرمایا کہ عزتِ نفس ، اخلاقی پستی اور جرائم کا گہرا ربط ہے ۔ آپ یوں سمجھیے کہ ایک آدمی کی عزتِ نفس کیوں ختم ہو جاتی ہے ؟ اِس کی مثال انفرادی نوعیت کی لیں تو وہ ایک گھر سے واضح آپ کو مل جائے گی لیکن یہاں سوال قوم کے متعلق ہے تو مثال بھی قوم کے متعلق دینی چاہیے ۔ یہ مثال ہی نہیں بلکہ حقیقت ہے ۔ کسی آدمی کو کوئی مسئلہ درپیش ہو اور اسے اس مسئلے کے حل کے لیے ملک کی ہائی لیول مینجنٹ یا میڈل لیول مینجمنٹ کے پاس جانا ضروری ہو اور جب وہ آدمی اپنا مسئلہ لے کے وہاں جاتا ہے تو اُس کی کوئی شنوائی نہیں کی جاتی ۔یہاں تک کہ اُس سے کوئی یہ بھی نہیں پوچھتا بھئی تم کیوں آئے ہو ؟ وہ آدمی اپنے مسئلے کے حل کے لیے بہت جگہوں پر جاتا ہے لیکن ہر جگہ  اُسے کوئی مثبت رسپانس نہیں دیتا ۔ اُسے دھکے مار کے وہاں سے واپسی کی راہ دکھائی جاتی ہے۔ اُس آدمی کے ساتھ اس طرح کا معاملہ پیش ہونا اُسے منفی سوچ و فکر میں مبتلا کر دیتا ہے ۔ یوں اُس کی عزتِ نفس بھی ختم ہو نا شروع ہو جاتی ہے

عزتِ نفس یعنی غیرت انسان کے اندر ہونا یہی ہے کہ وہ کوئی برا کام کرنے کا خیال کرے تو اُسے خیال آتا ہے اگر لوگوں کو معلوم پڑا تو وہ میرے بارے کیا سوچیں گے یا میں دوسرے آدمی کو کوئی غلط بات کہوں تو وہ میرے بارے کیا سوچے گا ؟ اور سننے والے کیا سوچیں گے ؟ یعنی اُسے اپنی ذات کو کسی بھی طور گندہ کرنا گوارہ نہیں ہوتا ۔ لیکن اگر بھری محفل میں کوئی کسی کی ذات کو برا کہہ دے تو اکثر یہی ہوتا ہے کہ برا کہنے والے آدمی کی عزت ِ نفس کا خاتمہ شروع ہو جاتا ہے پھر اُسے فرق نہیں پڑتا کہ وہ کوئی غلط کام کرے تو دوسرے اس کے بارے میں کیا سوچیں گے ، وہ کسی کو غلط بات کہے تو دوسرے اس کے بارے کیا رائے رکھیں گے ۔اُسے اپنی ذات کے گندہ ہونے میں کوئی برائی محسوس نہیں ہوتی ۔ جب معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے تو وہ آدمی جرائم کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے ۔یوں اُس آدمی کی اخلاقی سطح منفی رخ اختیار کرتی کرتی اخلاقی پستی کا شکار ہو جاتی ہے ۔ آدمیوں سے ہی قوم بنتی ہے اور ہماری قوم میں اخلاقیات کی کمی اسطرح کے رویوں کی بدولت ہے ۔

تحریر کے شروع میں ایک جملہ کہا تھا وہ پھر دہرانا چاہتا ہوں ۔ ہائے ہم ہیں کہ اخلاقی پستی کا شکار ہیں ! وہ پستی جس کے بعد بلندی کے سفر کے آغاز میں بھی ہمیں کئی برسوں کی مسلسل محنت درکار ہے ۔خدا کرے کہ ہم یہ واپسی کا سفر شروع کرنے میں جلد کامیاب ہو جائیں ۔ آمین

محمد فیاض حسرت
محمد فیاض حسرت
تحریر اور شاعری کے فن سے کچھ واقفیت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *