• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کراچی والے بندو خان کے کباب اور ان کا تلا ہرا پراٹھا ، کون بھلا سکتا ہے؟۔۔۔۔۔احمد سہیل

کراچی والے بندو خان کے کباب اور ان کا تلا ہرا پراٹھا ، کون بھلا سکتا ہے؟۔۔۔۔۔احمد سہیل

بندو خان کے کباب کراچی کی شناخت ہے۔ ایک زمانے میں کہا جاتا تھا جس نے بندو خان کباب نہیں کھائے اس کو اپنے آپ کو کراچی والا کہنے کا حق نہیں ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بیرون کراچی سے جو لوگ سیر و تفریح اوراپنے رشتے دارون سے ملنے کےلیے کراچی آتے تھے۔ ان کی یہ تیں خواہشتات یا فرمائشیں اپنے میزبانوں سے ہوتی تھی کہ انھیں ساحل سمندر کی سیر کروائی جائے،وہ ٹرام میں بیٹھ کر شہر کراچی کی سیرکریں، اور بندو خان کے کبا ب کھائیں۔ راقم  سطور نے بھی ساٹھ ، ستر ۷۰ /۶۰ کی دہائی میں کئی بار بندو خان کے کباب چکن تکہ{ 1957 میں متعارف کروایا} ، بہاری کباب اور اس کا مشہور و معروف تلا ہو پراٹھا کھایا۔ میں جب بھی جیکب لائنز/ پرانی نمائش کے گرانڈ میں کرکٹ کھیلنے یا کرکٹ کا میچ دیکھنے جاتا تھا یا کیپری سینما میں فلم دیکھتا تھا تو بندو خان کے کباب اپنے دوستوں  یا گھر والوں کے ساتھ کھانا نہیں بھولتا تھا۔ میں نے وہاں 1965 میں چھ آنے کی کباب کی پلیٹ کھائی ہے۔ جس کے ساتھ املی، لال پیاز اور پودینے کا کچومر اور ہری موچیوں اور دھنیے کا رائتہ بھی ہوا کرتا تھا۔
بندو خان بہت شریف النفس انسان تھے۔ سفید داڑھی، کھلتا ہوا رنگ، سفید صاف ستھرا کرتا/ قمیض پاجامہ زیب تن کیا کرتے تھے۔ شاید ان کے منہ میں پان بھی ہوتا تھا۔ کالے فریم کا موٹا سا چشمہ لگاتے تھے۔ اپنے گاہکوں کو گاہک نہیں ” مہمان” کہا کرتے تھے۔ اور کباب کھانے والوں کے پاس آکر ذاتی طور پر ملتے تھے۔ اور بچوں سے بہت شفقت سے پیش آتے تھے۔ بندو خان کے اس ریسٹورنٹ میں ان کی ایک بڑی سی تصویر آویزاں  تھی۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت لیاقت علی خان اور ان کی اہلیہ رنا لیاقت علی خان ان کے کبابوں کی دلدادہ تھیں۔
بندو خان کی 1948 میں جیکب لائنز/ پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ { سابقہ بندر روڈ} پر چھوٹی سی کباب کی دوکان تھی۔ بھر 1957 میں ایم اے جناح روڈ پر باقاعدہ ریسٹورنٹ کھولا۔ پھر وہ دن بھی آیا جب ایک بلند وبالا عمارت بھی بندوخان پلا زہ کے نام سے یہاں  وجود میں آئی ۔کہتے ہیں کہ جس زمانے میں کراچی میں قائد اعظم کا مزار زیر تعمیر تھا تو صدر ایوب وہاں دورہ کرنے آئے۔ کسی نے ایوب خان کو بندو خان کے کباب کھلادئیے۔ انھیں یہ کباب بہت پسند آئے۔ ایوب خاں نے بنو خان سے ملنے کی فرمائش کی تو انھیں بندو خان سے جب ملوایا گیا اور ایوب خان سے پوچھا کی آپ کو کچھ چاہیے تو بندو خان نے ایوب خان نے کہا جناب مجھے اپنی کباب کی دوکان کے لیے جگہ چاہیے۔ تو صدر ایوب خان کی مدد سے انھیں ایم اے جناح روڈ پر زمین کاایک قطعہ الاٹ کردیا گیا۔ یہاں بندو خاں نے کباب ہاوس قائم کیا جو اب تک قائم ہے۔ بندو کان کی شہرت 1963 میں “حسن اسکوئر” کےسامنے میدان میں صنعتی نمائش لگی تھی۔ جہاں اب ایکسپو سنٹر ہے۔ وہاں بندو خان نے کباب کا اسٹال لگایا تھا۔ اور سرخ رنگ کا ایک بڑے پراٹھے کی شبیہہ نیون سائن کی شکل میں دور سے جگمگاتی نظر آتی تھی۔ جس نے بہت شہرت پائی۔ اور ان کا پراٹھا بہت مشہور ہوا۔ بندو خان کے کباب ہاوس کے گائے اور بکرے کےقیمے کے گوشت کے سیخ کباب کے علاوہ چکن تکہ، حلوہ ، قلفی ، آئس کریم، نان، روٹی اور ٹھنڈے میں سوڈا یعنی ٹھنڈے مشروبات ،سیون اپ، ببل اپ اور کولا کولا ہوا کرتے تھے۔ بندو خان کے انتقال کے بعد، اس ریستوران کی شاخیں کراچی میں گلشن اقبال، سندھی مسلم سوسائٹی ، ڈیفینس سوسائٹی، سوراب گوٹھ اور شمالی ناظم آباد میں کھولی گئی۔ خاص طور پر سردی کے دوران لوگ خاندان کے ساتھ کباب ، تکوں اور پراٹھونوں کا لطف اٹھانے یہاں آتے تھے۔ بندو خان کو کراچی کے متمدل خاندانون کی شادیوں اور دیگر تقریبات میں کباب تیار کرنے کے لیے بلاتے تھے۔ ہیوسٹن، ڈیلاس اور دوبئی میں اس خاکسار نے بندو خان کے نام سے قائم ” بندو خان کباب” کے ریسٹورنٹس پر کباب کھائے ہیں ں۔ جو جعلی اور نقلی ہیں۔ جو میں سب بندو خان کا نام استعمال کررہے ہیں۔ اس کا بندو خان کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان کبابوں میں کراچی والے بندو خان والے کبابوں کا ذائقہ نہیں ہوتا ہے۔ ۔ہیوسٹن { امریکہ} کے ایک” بندو خان کباب ہاوس” کے ریسٹورنٹ کے مالکان کا تعلق بندو خان کے خاندان سے بتایا جاتا ہے ۔ الحاج بندو خان کا انتقال 1987 میں ہوا ان کے انتقال کے بعد ان کے صاحب زادے غلام رسول نے اس کاروبار کو سنبھالا۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply