دانشور بننے کے اجزائے ترکیبی۔۔۔عبدالحنان ارشد

آج میں آپ کو دانشور بننے کے چیدہ  چیدہ طریقے بتاؤں گا۔ جن پر عمل کرکے آپ وطنِ عزیز کے ایک جانے پہچانے  دانشور بن سکتے ہیں۔ اور لوگوں میں آپ کا سکہ چلے گا۔

سب سے پہلے تو آپ پاکستان کی مشہور شخصیت کی لسٹ بنائیں اور پھر آپ نے جیسے تیسے کرکے ان لوگوں کے ساتھ تصویریں اتروانی ہیں اور گاہے  بگاہے  انہیں فیسک بک پر لگاتے رہنا ہے اور کوشش کرنی ہے تصویر ایسی ہو جس سے عوام الناس کو یہی تاثر ملے کہ  آپ کی اس شخصیت کے ساتھ بہت پرانی دوستی اور یارانہ نہایت گہرا ہے۔ تصویروں کی تعداد زیادہ ہونی چاہیے تاکہ روزانہ ہی کی بنیاد پر فیسک بک کی دنیا میں ڈالی جا سکے۔
اتنی سی کوشش کے بعد آپ کو یقین رکھنا چاہیے آپ دانشوری کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ چکے ہیں۔ اب بس آپ منزل سے زیادہ دور نہیں ہیں۔
پھر اس کے بعد آپ نے کوشش کرنی  ہے فیس بک کے سارے بڑے دانشور آپ کی فرینڈ لسٹ کا حصہ ہوں۔ اور ان کی ہر ایک بات سے حتی الوسع ٰٰٰ  اُن سے اختلاف کرنا ہے۔ ہو سکے تو طنز یا ٹھٹھہ اڑا دیں تاکہ اُن صاحب کے دوست احباب کو خبر ہو جائے مارکیٹ میں کوئی اور بھی آ گیا ہے اور وہ آپ کو یک مشت دوستی کی ارضیاں ارسال کرنا شروع کر دیں۔
اپنی وال پر آپ نے ہفتہ وار سٹیٹس لگاتے رہنا ہے کہ بلاک لسٹ بڑھتی جا رہی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ میری فرینڈ لسٹ سے بلاک لسٹ زیادہ وسیع ہو جائے۔ ایسے یا اس سے ملتے جلتے لکھے سے بھی کام چلایا جا سکتا ہے۔ لوگوں کو یہ لازمی باور کرواتے رہیں  کہ میں آپ کو فرینڈ لسٹ میں شامل کرکے آپ پر بہت بڑا احسان کررہا ہوں۔ اور ایک دم سے کسی کی فرینڈ ریکویسٹ قبول بھی نہیں کرنی بلکہ اس بات کا حساب رکھنا ہے جب ارضی آئی کو ہفتہ دس دن ہو جائیں پھر ہاتھوں کو قبول کرنے کی زحمت  دینی ہے۔
اوّل دن سے ایک بات ذہن نشین کر لینی ہے کہ کسی عام بندے کو آپ نے فرینڈ ریکویسٹ نہیں بھیجنی۔ لیکن خواتین کے لیے خصوصی رعائیت یا پیکج اپنانا ہے اگر کوئی خوبصورت دوشیزہ نظر آئے  تو  فوراً فرینڈ قبول کرنے کی کوشش کریں کہ بات کچھ عرصہ بعد نکاح تک ہی پہنچ جائے۔ پوچھیں تصویر آپ کی اپنی ہے، جو بھی جواب آئے تو آگے سے لکھیں مجھے لگا تھا اتنی خوبصورت لڑکی ہی اتنا پیارا جواب دے سکتی تھی، آپ کو تو تحریریں لکھنی چاہئیں آپ اپنا ٹیلنٹ ضائع کررہی ہیں۔ انہیں باور کروائیں وہ دنوں میں ہی ملک کی صفِ اوّل کی لکھاری بن سکتی ہے بس کچھ رہنمائی کی ضرورت ہے اور مجھ سے بہتر آپ کی رہنمائی کوئی اور کرہی نہیں سکتا۔ جمعہ جمعہ ساری صنفِ نازک کے انباکس میں جائیں، اور پوچھیں ابھی تک لکھنا کیوں نہیں شروع کیا۔ اتنا وقت ضائع کرکے تم پاکستانی قوم کا نقصان کررہی ہو۔ ان کی ہر ایک پوسٹ پر آپ نے لائیک اور کمنٹ لازمی دینا ہے۔ چاہے لائیک کرنے والے آپ واحد شخص ہی کیوں نہ ہوں۔ لیکن ساتھ ساتھ بھول کربھی کسی اپنے صنف والے کی پوسٹ پر لائیک اور کمنٹ کا بٹن نہیں دبانا ایسا کرنے سے آپ کا اپنا ریٹ کم ہو گا۔ لیکن اگر کسی کے کچھ لکھے میں املاء کی غلطی مل جائے تو لاؤ لشکر لے کر پہنچ جانا ہے اور ایسے ظاہر کرنا ہے جیسے بابائے اردو مولوی عبدالحق آپ ہی کے گھرانے سے تھے۔ اور اس بات پر آپ سے زیادہ عالم برزخ میں خود مولوی عبدالحق کو فخر ہے۔ کوشش کریں اپنے لکھے کو متعدد گروپس اور لوگوں کو ارسال کرتے رہیں ۔ تاکہ سب کو  آپ کے بارے میں معلوم ہوتا رہے اور اپنے لکھے میں اپنے برابر کے دانشوروں کو ٹیگتے رہیں تاکہ اُن کی وجہ سے عام جنتا بھی اُدھر پرکھٹ ہو سکے۔ جس کا مستقبل قریب میں فائدہ آپ کو ہی ہونا ہے۔ آپ کی وال پر اگر آپ سے کوئی اختلاف کرے اور آپ کو اس کے سوال کی کاٹ نہیں مل رہی تو آپ نے چپ کرکے انہیں بلاک کردینا ہے۔ تاکہ بھرم بھی قائم رہے اور کارواں بھی چلتا رہے۔ اگر کوئی آپ کی شان میں گستاخی کرے تو رپلائی کریں آپ کی یہ آخری غلطی ہے آئیندہ آپ کو بلاک کی گمنام دنیا کے حوالہ کیا جائے گا۔ تاکہ لوگوں کو آگے سے کان ہو جائیں۔ آپ کے لکھے پر جو کمنٹ آئیں تو آپ نے دیکھنا ہے اگر تو کمنٹ کرنے والے سے آپ کو کوئی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے تو اُن کے کمنٹ پر دل کا نشان بنانا ہے اور جواب بھی لازمی دینا ہے۔ جس سے آپ کو فائدہ حاصل تو ہو سکتا ہے لیکن بس معمولی سا، تو ان کے کمنٹ پر لائیک کا بٹن دبانے  پر ہی اکتفا کرنا ہے اور جوابی کمنٹ لکھنے کا تو سوچنا بھی نہیں۔ جن لوگوں سے آپ کو کچھ فائدہ نہیں مل سکتا سوائے تحریر پر لائیک کے تو انہیں نظرانداز کرنا آپ کو اپنا وطیرہ بنانا ہو گا۔ اور صنف نازک کے حوالہ سے آپ میری بجائے اپنے دل کی سنیں۔
آپ نے پوری دنیا اور خصوصاًً  ملک میں جو بھی مسئلہ چل رہا ہے  اُن پر سب سے پہلے لکھنے کی بھرپور کوشش کرنی ہے۔ بیشک مسئلہ آپ کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے لیکن آپ نے ٹانگ بھرپور انداز میں اٙڑانی ہے۔ جیسی بھی ہو ایک عدد تحریر ضرور لکھ دینی ہے۔ آپ کے حقائق ٹھیک ہوتے ہیں یا غلط اس کی سر دردی آپ نے نہیں لینی۔ اگر غلط بھی ہو جائیں تو معافی نہ مانگیں بس لکھ دیں میں نے اس مسئلہ کو ایسے سمجھا تھا۔ سب لوگ آپ کے ہی گن گاتے  پھریں گے۔۔
اب جبکہ آپ کی فین فالونگ بڑھ گئی ہے اور لوگ آپ کی تحریر پڑھے بغیر ہی تعریف کے ڈونگرے برسانے شروع ہو چکے ہیں اور آپ دو، تین سو لائیک والے دانشور بن چکے ہیں تو اب آپ نے طے کرنا ہے آپ نے کس طبقے کا نمائندہ دانشور بننا ہے۔ کیونکہ اب آپ باقاعدہ دانشور ہیں تو اب آپ دونوں کشتیوں کے مسافر نہیں بن سکتے۔ آپ نے طے کرنا ہے آپ نے دائیں والوں کا ساتھ دینا ہے یا بائیں والوں کا۔
اگر تو آپ دائیں والوں کے نمائندہ بننا چاہتے ہیں تو آپ نے پاکستان میں ہونے والے ہر مسئلہ کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دینا ہے۔ لوگوں کو یہ باور کروانا ہے کہ ساری دنیا ہماری دشمن ہے۔ سعودی عرب یا پھر ایران والوں سے مال پکڑنا ہے۔
اگر آپ بائیں بازو والوں کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے ہر صورت پاکستان کو گالیاں دینی ہیں، ہر شے کا ذمہ دار مذہب کو قرار دینا ہے۔ فوج کے خلاف جتنا بول سکیں اتنا بولنا ہے۔ باہر والی این جی اوز سے پیسے پکڑنے ہیں۔ اور کوشش کرنی ہے آپ کو ایک آدھ بار گمشدہ کردیا جائے تاکہ بیرونی ملک پکا ویزہ ملنے میں آسانی ہو۔اور کسی بھی سوال اٹھانے والے کو دلیل کے بجائے گالیوں سے جواب دینا ہے۔ اور منافقت کسی پر ظاہر نہیں ہونے د ینی۔

جیسے جیسے آپ  دانشوری کے مراحل طے کرتے جائیں گے کی اعلی آپ نے ان نکات پر مزید سختی سے عمل کرتے رہنا ہے۔

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *