تاریخ کے قیدی۔۔۔روف کلاسرا/قسط3

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو اندازہ نہ تھا کہ پشاور میں پاکستان کے حق میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ اکٹھے ہو جائیں گے۔ دلی سے روانہ ہونے سے پہلے اسے علم تھا کہ پنجاب اور سرحد دو اہم صوبے ہیں‘ جہاںمسلمان بڑی تعداد میں ہیں اور مسلم لیگ یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ ان صوبوں کو پاکستان کا حصہ بنایا جائے ۔ اس لیے جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ہزاروں کی تعداد میں بپھرے ہوئے پٹھان دیکھے تو اسے یقین نہ آیا کہ جہاں مسلم لیگ کی حکومت بھی نہیں وہاں پاکستان کے حق میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ کیسے نکل آئے؟ جب اس نعرے لگاتے ہجوم کو پتہ چلا کہ وائسرائے گورنر کے گھر پہنچ چکا ہے تو ان کا جوش اور بے چینی مزیدبڑھ گئی ۔

تو اب کیا جائے ؟ مجمعے کو کیسے کنٹرول کیا جائے ؟ گورنر سرحد نے تجویز دی کہ اس کا ایک ہی حل ہے کہ پولیس یا فوج کے ذریعے کنٹرول کرنے کی بجائے لوگوں کو تسلی دی جائے کہ وائسرائے ہند ان کے مطالبے سننے کے لیے تیار ہیں ۔ گورنر کا کہنا تھا کہ اگر لارڈ ماؤنٹ بیٹن ان لوگوں کے پاس جا کر اپنا چہرہ دکھا دیں تو سب مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔ بارود اور بندوق کی بجائے دلیل استعمال کر لی جائے تو بہت بہتر رہے گا۔ ہزاروں کا یہ مجمع وائسرائے ہند پرحملہ کرنے نہیں‘ انہیں یہ پیغام دینے کے لیے جمع ہوا تھا کہ وہ پاکستان چاہتے ہیں ۔اگر وائسرائے وہاں چلے جائیں جس سے ان لوگوں کو یہ لگے کہ ان کی بات وائسرائے تک پہنچ چکی ہے تو انہیں تسلی ہوجائے گی کہ ان کا وہاں جمع ہونا ضائع نہیں گیا۔اس سے فساد ٹل جائے گا‘ ورنہ صورتحال بگڑ سکتی ہے۔
انگریز گورنر سرحد کی یہ تجویز ایک بم کی طرح فوجی کمانڈر اور پولیس سربراہ پر گری۔ دونوں نے بیک وقت کہا: ہرگز نہیں۔ یہ خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا۔ ہجوم میں سے کوئی بھی وائسرائے پر گولی چلا سکتا ہے۔ وہ اس کی اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ وائسرائے مجمعے سے ملیں ۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ایک لمحہ سوچا اور پھر گورنر سے کہا: ٹھیک ہے میں تیار ہوں۔ چل کر مجمع سے بات کرتے ہیں۔ ابھی انہوں نے قدم نہیں اٹھائے تھے کہ لیڈی ماؤنٹ بیٹن جو اَب تک خاموش کھڑی تھیں ‘ بول پڑیں کہ وہ بھی ان کے ساتھ مجمع میں جائیں گی۔ وائسرائے ہند کے لیے نئی مصیبت کھڑی ہوگئی تھی۔ پشاور ویسے بھی روایتی پٹھانوں کا شہر تھا‘ جہاں عورت کا سرعام پھرنا یا کسی سے ملنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ فوجی کمانڈر سے لے کر پولیس سربراہ اور ماؤنٹ بیٹن تک سب کچھ دیر کے لیے گھبرا گئے ۔ وہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے پشاور کی سڑکوں پر ہرطرف پھیلے ہجوم سے ملنے کے خلاف تھے اور یہاں لیڈی ماؤنٹ بیٹن ضد کررہی تھیں کہ وہ بھی ساتھ چلیں گی۔
آخر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے فیصلہ کیا اور بولے: اوکے آپ بھی ساتھ آجائو۔تھوڑی دیر بعد ایک جیپ نے وائسرائے اور ان کی لیڈی کو ریلوے سٹیشن کے قریب اتارا۔ گورنر اور وہ پیدل چل کر اس طرف جانے لگے جہاں دوسری طرف غصے سے بھرا ایک لاکھ کا مجمع پورے زور سے نعرے لگا رہا تھا۔ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا اور وہ ریلوے سٹیشن کے پشتے کے اوپر چڑھنا شروع ہوگئے۔ جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن اونچائی پر پہنچے تو اچانک میاں بیوی نے خود کو دور دور تک ان ہزاروں پگڑیوں سے صرف پندرہ فٹ کے فاصلے پر پایا۔ وہ دونوں اس کے لیے تیار نہیں تھے کہ مجمع ان کے اتنے قریب ہو گا۔ ہجوم کے نعروں کی آواز اتنی بلند اور تیز تھی کہ انہیں اپنے نیچے پشتے ہلتے محسوس ہورہے تھے ۔ اس ہجوم کا جوش و خروش ‘ چیخ و پکار‘ دھکم پیل اور ہلچل اتنی شدید تھی کہ ایک لمحے کے لیے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو محسوس ہوا کہ اس کا سر چکر ا رہا ہے۔ ایک لاکھ کے اس مجمع کی ہل چل سے جو مٹی اور گرد پھیل رہی تھی اس سے بھی فضا میں گرد آلود مناظر نظر تھے ۔
ہجوم کو دیکھ کر انگریز گورنر سرحد کو بھی شدید جھٹکا لگا۔ وہ پہلی دفعہ خوفزدہ ہوا۔ یہ تجویزاسی کی تھی کہ وائسرائے پٹھانوں کے مجمع سے چند منٹ کے لیے بات کر لے ۔ گورنر کو اب احساس ہوا کہ فوجی کمانڈر اور پولیس فورس کے سربراہ نے کیوں فوراً اس کی خوفناک تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ اس نے دور دور تک دیکھا تو اسے اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کی اس ایک لاکھ کے مجمع میں بیس ہزار نہیں بلکہ تیس چالیس ہزار تک رائفلز تو ضرورموجود ہوں گی۔ کوئی سرپھرا‘ خون کا پیاسا اپنی رائفل سے گولی چلا کر وائسرے ہند کو ایسے مار گراتا جیسے شکاری دریا کے کنارے مرغابیوں کو گولی مارتا ہے ۔ یہ سب سوچ کرگورنر کو ایک لمحے کے لیے یوں لگا کہ ہجوم اس وقت خوفناک موڈ میں ہے۔ گورنر کو خدشات نے گھیر لیا کہ کچھ نہ کچھ غلط ہونے والا ہے ۔ اسے لگا وہ تجویز دے کر پھنس گیا ہے۔وہ اپنی زندگی کی بھیانک غلطی کر بیٹھا ہے۔
دوسری طرف ماؤنٹ بیٹن اتنے بڑے ہجوم کو دیکھ کچھ دیر کے لیے حیران رہ گیا ۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے ۔ اس بپھرے ہجوم کی زبان پشتو تھی اور ماؤنٹ بیٹن کو پشتو کا ایک لفظ بھی نہیں آتا تھا۔ ماؤنٹ بیٹن کھڑا سوچ رہا تھا کہ اب وہ کیا کرے ۔اچانک لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو محسوس ہوا کہ ہجوم میں کچھ خاموشی سی ہونے لگی ہے۔ ہجوم کا شور بھی کم ہونے لگا تھا۔ ماؤنٹ بیٹن نہ سمجھ سکا کہ ایسی کیا بات ہوگئی ہے کہ وہ ہجوم جس کے نعروں سے ان کے نیچے کے پشتے تک ہل رہے تھیا‘ اب ایک جگہ رک سا گیا ہے۔ دراصل اس ہجوم سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی ملاقات اچانک ہورہی تھی ‘لہٰذا اس نے کوئی مخصوص لباس نہیں پہنا ہوا تھا۔ اس وقت جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن مجمع کے سامنے کھڑا ہوا تو اس نے مختصر بازوؤں والی شرٹ پہن رکھی تھی جو وہ برما میں اتحادی افواج کے کمانڈر کے طور پر پہنا کرتا تھا۔ اس کی اس شرٹ کا رنگ سبز تھا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی شرٹ کا سبز رنگ دیکھ کر ہجوم رک سا گیا۔ جیسے ان سب کو بریکیں لگ گئی ہوں۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بھی سمجھ نہ آئی کہ ہجوم کا غصہ اس کی شرٹ دیکھ کر کیوں کم ہونا شروع ہوگیا ہے۔
بعد میں اسے بتایا گیا کہ سبز رنگ کا اسلام میں بہت اہم مقام ہے ۔ ویسے بھی ہجوم میں پشتون زیادہ تعداد میں تھے جو ان مذہبی معاملات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔ اس ہجوم کو لاشعوری طور پر یہ احساس ہوا کہ جس گورے وائسرائے نے سبز رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور وہ ان سے بات کرنے آیاہے تو وہ اس پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ اس کی بات سنی جاسکتی ہے ۔
ہجوم کے ذہن میں یہ بات آئی کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن سبز رنگ پہن کر دراصل ان کے مذہب کو عزت دے رہا ہے اور وہ ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہاہے ۔ ان کا خیال تھا کہ جس نے سبز رنگ پہنا ہوا ہے وہ ان کا دشمن نہیں ہوگا۔
ماؤنٹ بیٹن نے اب بھی اپنی بیوی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں سختی سے دبایا ہوا تھا اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی نظریں سامنے ہجوم پر ٹکی ہوئی تھیں ۔ اس نے لیڈی ماؤنٹ بیٹن سے سرگوشی میں کہا: ان لوگوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلائو۔ دھیرے دھیرے اس خاتون نے ایک باوقار اور شاہی انداز میں اپنے خاوند کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر اوپراٹھانا شروع کیے ۔ایک لمحے کے لیے تو یوں لگا جیسے ہندوستان کی قسمت حد نظر تک پھیلے اس پشتون مجمع کے سروں کے اوپر پھیلے ان دو شاہی ہاتھوں میں وقتی طور پر پھنس کر رہ گئی ہو۔ وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور لیڈی ایڈوینا کے ہاتھوں کو اوپر جاتے دیکھ کر ہجوم میں ایک عجیب قسم کی خاموشی کا راج تھا۔اس خاموشی میں بھی کچھ سوالات تھے۔
جونہی لیڈی ایڈوینا نے اوپر خالی آسمان میں اپنا ہاتھ ہلانا شروع کیا تو اچانک اس خاموش ہجوم کا سناٹا ٹوٹا اور ایک تیزچیخ سنائی دی

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *