قومیت کا بت، دانشور اور ہمارا مستقبل۔۔۔۔آصف وڑائچ

مسئلہ یا معاملہ کوئی بھی ہو چونکہ ہمارا دانشور بات ہمیشہ سقوط ڈھاکہ سے شروع کرتا ہے لہذا طوعاً کرہاً مجھے بھی وہیں سے بات شروع کرنی پڑے گی. تو عرض ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ یقیناً ہماری تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جو ہمیشہ ہمیں غم زدہ کر دیتا ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے سانحے پر متعدد کتابیں لکھی گئیں ہیں جن میں درج ذیل کتب زیادہ معروف ہیں:

‘میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا’ کرنل صدیق سالک

‘البدر’ پروفیسر سلیم منصور خالد

‘شکست آرزو’ پروفیسر ڈاکٹر سید سجاد حسین (ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر)

‘پاکستان سے بنگلہ دیش کی ان کہی جدوجہد’ یہ کتاب سابق پاکستانی کرنل شریف الحق دائم نے لکھی جو 1971 میں پاکستان سے فرار ہو کر بھارت چلے گئے انہوں نے پاک فوج اور متحدہ پاکستان کی حمایتی جماعتوں کے خلاف لڑنے والی علیحدگی پسند تنظیم مکتی باہنی کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انھوں نے بلا کم و کاست سقوط ڈھاکہ کے اسباب و واقعات بیان کیے  ہیں۔ بعد ازاں کرنل موصوف شیخ مجیب کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں بھی شامل رہے تھے۔
معروف محقق جنید احمد کے علاوہ امریکہ کے سابق سیکریٹری خارجہ ہنری کسنجر نے بھی اس واقعے پر کتاب لکھی جس میں انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ اندرا گاندھی سقوط ڈھاکہ کے فوراً بعد مغربی پاکستان پر بھی جنگ مسلط کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں مگر ناسازگار حالات کے باعث وہ ایسا کرنے سے باز رہیں۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ’’آج ہم نے مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا اور دو قومی نظریہ بھی خلیج بنگال میں ڈبو دیا ‘‘ اُن کا یہ بیان مسلمانوں کے خلاف چھپی نفرت کا عکاس تھا۔ آج 46 سال بعد بھی بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی اسی نفرت کو لے کر چل رہے ہیں۔
حمود الرحمٰن کمیشن کے مطابق مشرقی پاکستان میں پاک فوج آپریشن کے دوران ہلاکتوں کی اصل تعداد 26 ہزار ہے جو کہ مکتی باہنی سے تعلق رکھنے والے مسلح علیحدگی پسند جنگجو تھے جبکہ مکتی باہنی نے متحدہ پاکستان کی حمایت کرنے والے لاکھوں بے گناہ شہریوں کا قتل عام کیا تھا جن میں سرکاری ملازمین، فوج اور پولیس کے جوان بھی شامل تھے۔
جنرل نیازی کے ہتھیار ڈالنے کی بنیادی وجہ وہاں کی سویلین آبادی کا جنرل نیازی کے خلاف دو بہ دو احتجاج تھا۔ چونکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کی سرحدیں نہیں ملتی تھیں، درمیان میں بھارت کا بہت بڑا علاقہ تھا چنانچہ بھارت نے پاک فوج کی سپلائی منقطع اور فضائی راستہ مسدود کر دیا تھا۔ ویسے بھی جب شدت پسند جتھوں کے ساتھ عوام بھی ریاست کے خلاف اٹھ کھڑی ہو تو فوج بھلا جنگ کیا لڑے گی۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کا یہ پروپیگنڈہ کہ پاکستانی جنگی قیدیوں کی تعداد 90 ہزار فوجیوں پر مشتمل تھی، درست نہیں، حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج کے جوانوں کی کثیر شہادتوں کے بعد تعداد تقریباً 34 ہزار رہ گئی ٔ تھی جبکہ پولیس، پیرا ملٹری اور سرکاری ملازمین کو ملا کر کل تعداد 90 ہزار کے قریب بنتی تھی۔
سقوط ڈھاکہ کے اہم کرداروں کا انجام کچھ یوں رہا کہ بھارت کے یوم آزادی کے دن یعنی 15 اگست 1975 کو ڈھاکہ میں مجیب الرحمن کو اس کے خاندان سمیت بے دردی سے قتل کردیا گیا، اس کی لاش دو دن تک اس کے گھر کی سیڑھیوں پر پڑی رہی، صرف اس کی بیٹی حسینہ واجد زندہ رہی کیونکہ وہ اُس وقت لندن میں زیر تعلیم تھی۔
4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو پھانسی پر جھول گئے۔
31 اکتوبر 1984 میں اندرا گاندھی اپنے محافظوں کے ہاتھوں قتل ہوگئی۔
جنرل یحییٰ خان رسوائی کے ساتھ خوفزدہ قیدی کی موت مرا۔ ہتھیار ڈالنے والا جنرل نیازی بھی بزدلی کے طعنے سہتے سہتے دنیا سے رخصت ہوا۔
سانحہ مشرقی پاکستان کا پس منظر کیا تھا اور سیاستدانوں اور جرنیلوں کا اس میں کیا کیا کردار رہا؟ کس کا کتنا قصور تھا وغیرہ وغیرہ چونکہ میرا بنیادی موضوع نہیں ہے اس لیے  جو احباب مفصل حالات جاننے میں دلچسپی رکھتے ہوں وہ مذکورہ بالا کتب کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
البتہ مجھے ان کتب کے مطالعہ سے اتنا ضرور معلوم ہوا کہ اس وقت کے حکمرانوں میں کوئی ایک بھی پنجابی اسپیکینگ نہیں تھا۔ اس لیے  سمجھ سے بالاتر ہے کہ بعض دانشور سقوطِ ڈھاکہ کے معاملے کو پنجابیوں کے ساتھ کیسے جوڑ دیتے ہیں حالانکہ سقوطِ ڈھاکہ سے قبل اور فورا بعد آنے والا حکمران بھی پنجابی نہیں تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ بنگالیوں کو پاکستان سے نہیں بلکہ چند جرنیلوں کی ڈکٹیٹرشپ سے مسئلہ تھا، انہیں اپنی مادری زبان کو لے کر کچھ تحفظات ضرور تھے لیکن ان کی بنیادی شکایات کسی مخصوص قوم سے نہیں تھیں بلکہ بڑھتی ہوئی غربت اور معاشی مسائل سے متعلق تھیں جو دیکھا جاۓ تو آج بھی دونوں ممالک میں جوں کی توں ہیں حالانکہ انہیں الگ ہوئے 46 برس بیت چکے ہیں۔
یہ حقیقت بھی تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ آمروں نے بنگالیوں کی شکایات دور کرنے یا ان کا کوئی متفقہ حل پیش کرنے میں خاص دلچسپی نہ دکھائی جس کے نتیجے میں بنگالیوں کے اضطراب میں روز افزوں اضافہ ہوتا چلا گیا جس سے پاکستان کے دشمنوں نے فائدہ اٹھایا۔ واضح رہے کہ یہاں فوجی ڈکٹیٹر کا ذکر کیا جا رہا ہے، فوج کا نہیں۔ فوج ایک ایسا ادارہ ہے جس میں تمام صوبوں کے عام عوام شامل ہوتے ہیں وہ کسی ایک جرنیل کی ذاتی ملکیت نہیں۔ تاہم فوج کا جوان اپنے کمانڈر کے ماتحت ہوتا ہے اور سنیر آفیسر کے آرڈر پر ایکشن لینا اس کی ڈیوٹی ہوتی ہے۔ دنیا کی ہر فوج کا یہی اصول ہے. فوج میں نسل، مذہب یا قومیت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اگر ایک پلاٹون میں تمام جوان پنجابی یا سندھی ہیں اور ان کا کمانڈر پختون ہے تو اس سے کمانڈر کی کمانڈ میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تمام پنجابی و سندھی جوان پختون کمانڈر کے ماتحت ہیں اور اس کے ہر آرڈر پر عمل کرنے کے پابند ہیں اور یہی اصول اس کے برعکس صورتحال میں بھی لاگو ہو گا کیونکہ فوج کی ٹریننگ ہی ایسی طرز پر ہوتی ہے جس میں مذہب، قومیت، رنگ و نسل سب پیچھے رہ جاتے ہیں جبکہ فوج کی اجتماعی طاقت اور مفاد ہر جوان کے لئے  مقدم ٹھہرتا ہے۔ ویسے بھی ڈکٹیٹرز کی غلطیوں کو پوری فوج یا کسی مخصوص قوم پر منتج نہیں کیا جاسکتا۔
سقوط ڈھاکہ کے تناظر میں جو کچھ ہوا یقیناً قابلِ مذمت تھا لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے دانشور کب تک اس کا رونا روتے رہیں گے۔ ہمیں اب اس کلیشے سے نکلنا چاہیے۔ قوموں کی زندگی میں ایسے ناگوار لمحات بھی آتے ہیں جن سے نمٹ کر انہیں آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ کیا ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے واقعات اس سانحہ سے بڑھ کر نہیں تھے؟ کیا جنگ عظیم اول اور دوم میں ہونے والی تباہی زیادہ بڑی نہیں تھی؟ یا جو کچھ اب بھارتی کشمیر، شام، فلسطین اور عراق میں ہو رہا ہے سقوطِ ڈھاکہ سے کہیں زیادہ بھیانک اور قابلِ مذمت نہیں؟ عظیم جنگوں کے دوران جرمنی، روس، جاپان اور یورپ کے اندر اسقدر مالی و جانی نقصانات ہوئے کہ وہاں کے لوگوں کو دہایئوں تک اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور آخر کار وہ ان دگرگوں حالات سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
آج ہمارے درمیان تیسری نسل پروان چڑھ چکی ہے۔ آج بیشتر لوگ ان تلخ واقعات کو فراموش کر چکے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں. ہماری نئی نسل کو ماضی کے جمگھٹوں سے نکل کر نئے چیلنجز کا سامنا کرنا چاہئے۔ تعمیر نو کے نئے خواب بننے چاہئیں۔ اس لئے میں تمام بزرگوں سے کہتا ہوں کہ آپ انہیں بار بار ماضی میں کیوں دھکیل دیتے ہیں؟ گزرے وقت کی ناپسندیدہ بازگشت انہیں کیوں سناتے ہیں ؟ نفرت کی بدبودار میراث اپنے بچوں کی گھٹی میں نسل در نسل کیوں انڈیلنے کی کوشش کرتے ہیں ؟ جو ہو گیا، سو ہو گیا، ماضی کے اندر جینے سے کیا حاصل، سانپ تو گزر گیا اب لکیر پیٹنے کا فائدہ؟ اسے ایک برا خواب سمجھ کر بھول کیوں نہ جائیں؟ جو لوگ اس تمام صورتحال کے زمہ دار تھے انہیں مرے بھی زمانہ بیت گیا، پھر بار بار ان لمحات کو یاد کر کے ان کی لاشوں کو رگیدنے اور گڑھے مردے اکھاڑنا چہ معنی دارد؟ بھلا ماضی کی تلخ یادوں میں نئی نسل کا مستقبل قربان کرنا کون سی دانشمندی ہے؟
دیکھا جائے تو پاکستان اختلافِ مذہب و قومیت کے لحاظ سے ایک ایسا بد نصیب ملک ہے جہاں کے عوام اپنے مرکز یعنی ملک کو بھول کر قوم پرستی کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ انہیں اس بیماری سے کیسے چھٹکارا دلایا جائے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ لیکن پاکستان میں یقیناً ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو وطن کی بقا کے لئے ہر ممکن جدوجہد کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ لہذا یہ خیال بھی باعث اطمنان ہے کہ چند شر پسند عناصر اس وطن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
یہ ٹھیک ہے کہ نفرت بے سبب پیدا نہیں ہوتی، اس کے کچھ مادی لوازمات ہوتے ہیں۔ کچھ تاریخی حالات ہوتے ہیں۔ ایسے محرکات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے نفرت پھلتی پھولتی ہے، پھر اس نفرت کے ساتھ کچھ مخصوص لوگوں کے خاص مفادات بھی جڑ جاتے ہیں یا جوڑ دئیے جاتے ہیں۔ تاکہ نفرت کی راکھ سلگتی رہے اور ایک دن جوالا مکھی بن کر پھٹ جاۓ۔ ان کا ساتھ دینے والے اس دھوکے میں ہوتے ہیں کہ شائد وہ اپنے نصب العین کی خاطر اپنے ضمیر کی آواز پہ لبیک کہہ رہے ہیں لیکن یہی جھوٹی طمانیت انہیں اپنی بالادستی قائم کرنے کے چکر میں نفاق کے بیج بونے پر مجبور کرتی ہے جس کا منطقی نتیجہ تشدد اور تباہی نکلتا ہے۔ نسل پرستی کا بنیادی سبق اپنے آپ پر غرور و تکبر اور دوسروں کی تحقیر پر مشتمل ہوتا ہے جس میں دوسرے سے نفرت کرنا یا کم از کم خود کو دوسری نسلوں سے بہتر سمجھنا ہوتا ہے جو کہ اسلامی نکتہ نظر سے بھی سراسر جہالت ہے۔ اسی جہالت کے خلاف انبیا بھی برسرِ پیکار رہے، حتیٰ کہ آخری رسول نے چودہ سو سال پہلے بھی یہی پیغام دیا تھا کہ کسی گورے کو کالے پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں  لیکن افسوس کہ جاہل اور متشدد نسل پرست رسول کی بات کو پھینک کر اپنے ان نام نہاد لیڈران کے پیچھے چلتے رہتے ہیں جو انہیں بند گلی میں پہنچا کر خود غائب ہو جاتے ہیں۔ لیکن دوستو اب ہمیں مزید بے وقوف نہیں بننا، اب ہمیں نفرت کی سلگتی آگ پر محبت کا پانی چھڑکنا ہے. طورخم سے لے کر لاہور اور لاہور سے لے کر کراچی تک امن کے دیپ جلانے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ میرے اکیلے کی خواہش نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی آواز ہے، ہمیں اپنے ہم وطنوں کے لئے بھائی چارے کی فضا قائم کرنا ہے. ورنہ یاد رکھیے آپ کے وطن کے مشترکہ دشمن تو پہلے ہی گھات لگائے بیٹھے ہیں کہ کب انہیں موقع ملے اور آپ کے مستقبل کو تاریک کر دیا جائے۔
نفرت کرنے والوں کو یورپ کی گزشتہ تین سو سالہ تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے جہاں ایک زمانے میں قومیت کا فلسفہ گھر گھر بکتا تھا. اور اس منحوس فلسفے نے یورپ کی کیا گت بنا کر رکھ دی تھی۔ ہمیں تو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں آزاد ملک حاصل کئے اور اس قلیل مدت میں ہم ابھی چند دشوار مسائل سے ہی گزرے ہیں۔ ابھی تو کئی انواع کے سیاسی، معاشی اور سماجی الجھنوں سے ہمارا سامنا ہو گا جنہیں سلیقے سے سلجھانے کے لئے شاید مزید سو سال درکار ہوں۔ ہمارے ملک کا محل وقوع بھی خاصا پیچیدہ ہے۔ ایسے میں ہم کیونکر ایک دوسرے سے نفرت کرنے کی خطرناک ذہنی عیاشی کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ اس ملک کے مختلف رنگ و نسل کے عوام کا سب سے پہلا فرض یہ بنتا ہے کہ وہ سب سے پہلے قومیت، لسانیت اور مسالک کی غلامی کا طوق اپنی گردنوں سے اتاریں کیونکہ ایک ملک کے باسی ہونے کا یک رنگا فخر یہی ہو سکتا ہے کہ اپنے آپ کو صرف اور صرف پاکستانی کہلوایا جاۓ اور کسی مقامی قوم پرست، جاگیردار یا سردار کی غلامی کرنے کی بجاۓ الٹا اسکی دولت، ثروت اور سرداری کا اس سے حساب مانگا جائے اور ایک مرکز پر جمع ہو کر مشترکہ نصب العین کی جانب مل کر قدم بڑھایا جائے۔
میں کہتا ہوں اپنے اور دوسروں کے برے ماضی سے سبق سیکھو، قوم پرستی کی تاریک راہوں میں اسقدر نہ کھو جاؤ کہ اپنے روشن مستقبل سے ہی ہاتھ دھو بیٹھو۔ اپنی مٹی اور اس کے فرزندوں کو عزت دو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کسی سے اس کے رہن سہن کا انداز چھین لو، اس کی زبان، اس کی ثقافت اور تاریخ چھین لو، نہیں ۔۔۔ میں تو چاہتا ہوں کہ تم اپنے وجود سے نفرت کا بیج مار دو۔ اس چنگاری کو بجھا دو جو تمھارے سینوں میں دہک اٹھتی ہے کیونکہ یہ نفرت اور چنگاری کسی اور کو نہیں، خود تمھارے ہی وجود کو راکھ میں بدل دے گی اور تم اس راکھ کے ڈھیر میں کہیں گم ہو جاؤ گے۔ آج افراتفری کی شکار اس بے رحم دنیا میں اس وطن کو اپنے سر کا بیش قیمت تاج سمجھو۔ پختون، پنجابی، کشمیری، سندھی،سرائیکی اور بلوچ اس تاج میں جڑے نگینے ہیں۔ اس تاج کو کبھی سر نگوں مت ہونے دو، صلح و آشتی کے رجحانات کو فروغ دو، باہمی سمجھوتے کے زریعے تمام مسائل کو حل کرنے کا چلن سیکھو۔
میں نسل یا مذہب کے پلیٹ فارم سے افراد کے یک جان ہونے پر یقین نہیں رکھتا۔ کیونکہ اگر میں مسلمانوں کے گھر پیدا ہوا ہوں تو اس میں میرا کوئی کمال نہیں، اگر پنجاب کے ایک جاٹ گھرانے میں میرا جنم ہوا تب بھی یہ میرا اختیار نہیں۔ یہی معاملہ سب کے ساتھ ہے. اگر آپ مسلمان کی بجائے کسی عیسائی کے گھر پیدا ہوتے تو ظاہر ہے عیسائی ہوتے، پختون یا کشمیری کی بجائے کسی پنجابی، سندھی یا کرد کے ہاں پیدا ہوتے تو ظاہر ہے انہیں میں سے کوئی ایک ہوتے۔
لہذا آج کے جدید دور میں محض نسل یا مذہب کی نسبت پر اکٹھا ہونا کوئی معانی نہیں رکھتا۔ آج کی تاریخ میں سب سے بڑی نسبت معاش کی نسبت ہے. آج کسی بھی ملک یا خطے کے لئے سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں برتری اور معاشی ترقی حاصل کرے۔
اہل مغرب کی جانب ہی دیکھ لیجیے، اگرچہ مشرقی اور مغربی یورپ کا ایک ہی مذہب ہے، لسانیت اور رہن سہن میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود مغربی یورپ مشرقی یورپ کو یورپی یونین یا دوسرے ترقی یافتہ مواقعوں میں دعوتِ شمولیت نہیں دیتا۔ ہم جانتے ہیں کہ جرمن اور فرینچ الگ الگ قومیں ہیں لیکن مالی مفادات کے حصول اور تحفظ کی خاطر وہ ایک ہیں۔ جبکہ دوسری جانب کروشیا، سلواکیہ اور زیک رپبلکن میں لسانی و مذہبی اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں لیکن اس کے باوجود زیک رپبلکن بہتر معاشی حالت کی بدولت یورپی یونین میں داخل ہونے میں کامیاب ٹھہرا اور باقی ممالک غریب ہونے کی وجہ سے ابھی تک یہ سہولت حاصل نہ کر پاۓ۔
اسی طرح جزیرہ نما عرب کی امارت، مفلس عرب ممالک کو اپنے برابر نہیں سمجھتے۔ بلکہ رشتے داروں میں اگر کوئی ‘ماڑا’ ہو تو کوئی اسے کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ پس معلوم ہوا کہ آج کے دور میں مذہب یا لسانیت انسانوں کو نہیں جوڑ سکتے، آج جو محرکات انسانوں کو ایک مرکز پر لاتے ہیں، وہ ہیں کسی ملک کی اجتماعی دولت، ٹیکنالوجی اور معاشرتی ترقی۔
لہٰذا اپنے ہی ملک میں پختون، پنجابی، سندھی یا کشمیری ہونا کوئی بین الاقوامی اہمیت نہیں رکھتا لیکن اگر آپ کا ملک ترقی کی منازل طے کرتا ہوا دنیا میں ایک نمایاں حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو تو تب بطور پاکستانی آپ کی مجموعی شناخت باعث فخر و طمانیت ٹھہرے گی۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب آپ اپنے اندر کا عصبیتی کیڑا مار دیں گے اور باہم مل کر ملک کی ترقی کے لئے کام کریں گے۔
یاد رکھیے جو قوم ہر وقت ماضی میں جیتی ہے وہ مستقبل نہیں سنوار سکتی کیونکہ جب کوئی پیچھے دیکھتے ہوئے آگے چل رہا ہو تو لازمی کسی گڑھے میں گرتا ہے۔ اگرچہ صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہونے والی ذہنیت کو بدلنا مشکل ہے اور جب تک پڑھے لکھے لوگ اور دانشور بیداری کی مہم نہ چلائیں اجتماعی ہئیت کی تشکیل دشوار ہے چنانچہ ملک کے دانشوروں کو جدید دنیا کے تناظر میں ایک نئے بیانیے کو فروغ دینا ہو گا اور ملک میں بسنے والی مختلف قومیتوں کو ایک مرکز پر لا کر ایک قوم بنانا ہو گا۔ ملکی نسبت اور صوبائی نسبت میں فرق سکھانا ہو گا. انہیں یہ بھی سمجھانا ہو گا کہ مقامی قومیت کے آگے اجتماعی بنیاد کو اکھاڑنا ہرگز دانشمندی نہیں کیونکہ فی زمانہ دنیا میں علم و آگہی کا ایک سیلاب امڈ پڑا ہے. مادی ترقی اور ملکی خوشحالی ہر ملک کا بنیادی مقصد ہے لہٰذا اس سیارے پر اگر قدرت نے ہمیں رہنے کے لئے ایک آزاد ٹکڑا زمین کا عطا کیا ہے تو ہمیں عصبیت بھلا کر زمین کے اس ٹکڑے کو قدرت کی نعمت سمجھنا چاہیے اور اس کے مجموعی مستقبل کی فکر کرنی چاہیے۔

آصف وڑائچ
آصف وڑائچ
Asif Warraich is an Engineer by profession but he writes and pours his heart out. He tries to portray the truth . Fiction is his favorite but he also expresses about politics, religion and social issues

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *