• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مولانا آزاد سے منسوب جھوٹ یا جھوٹی پیش گوئیاں، فیصلہ آپ کا۔۔۔ محمد عبدہ

مولانا آزاد سے منسوب جھوٹ یا جھوٹی پیش گوئیاں، فیصلہ آپ کا۔۔۔ محمد عبدہ

SHOPPING

پیش گوئی کا تعلق اندازے دعوے تجزیئے اور عزائم کی قبیل سے ہے ایسا ہوجائے گا ایسا ہوتا نظر آرہا ہے ایسا ہوکر رہے گا یہ تین جملے مختلف ذہنوں زبانوں اور زمانوں کا سفر کرکے پیش گوئی کا روپ دھار لیتے ہیں۔ ذہنی فرحت اور نفسیاتی آزار سے تحفظ کیلے خیالی پلاؤ نہایت زودہضم فارمولا ہے نامسائد حالات دشمن کی مخالفت کے باوجود کوئی بھی نیا گھر بن رہا ہو اور گھر کے افراد میں سے ہی دو چار دشمن کے ساتھ ملکر گھر کی تعمیر میں روڑے اٹکاتے ہوئے گھر کی کمزوری تباہی بارے باتیں کریں تو وہ پیشن گوئی نہیں ہوتی بلکہ ارادے اور عزائم ہوتے ہیں۔ نجومی اور تجزیہ کار یہی تو کرتے ہیں کسی نئے منصوبے پر پندرہ بیس باتیں کردیتے ہیں بعد میں آنے والے اس میں من پسند الفاظ شامل کرلیتے ہیں ان میں سے دو چار باتیں وقوع پزیر کچھ حد تک اپنے مطلب کے مطابق ہوجائیں تو پیش گوئیوں کا ڈھنڈورا پیٹ دیا جاتا ہے اور باقی جو جھوٹی ہوئیں ان پر بات کرنا گستاخی بے ادبی اور توہین سمجھ لی جاتی ہے۔

یہی حال مولانا آزاد مرحوم کی باتوں کا ہے کہا جاتا ہے آغا شورش کاشمیری نے مولانا آزاد سے ایک انٹرویو کیا تھا جس میں مولانا نے پاکستان بارے کچھ ارشادات فرمائے تھے اور کچھ خودساختہ دانشور اسے بیان کرنے میں بڑی خوشی محسوس کرتے ہیں لہذا اس انٹرویو بارے کچھ باتیں جان لیں تاکہ آپ کو پتہ چلے دانشور کا معیار قلم کیا ہے۔

کہا جاتا ہے یہ مبینہ انٹرویو مارچ اپریل 1946 ہوا تھا (آج تک کوئی اس تاریخ کا ثبوت پیش نہیں کر پایا)۔ نٹرویو کے بعد یہ دونوں نامور شخصیات نے کتابیں لکھیں، مضامین لکھے، انٹرویو دیے، ہزاروں لوگوں سے ملاقات کی، مولانا آزاد فروری 1958 میں اور آغا شورش 1975 میں وفات پاگئے اور وفات تک نہایت فعال صحافیانہ زندگی گزار کر رخصت ہوئے۔

یہ انٹرویو ان دونوں اصحاب کی زندگی میں کہیں نظر نہ آیا، انہوں نے اسے کہیں شائع کروایا نا اپنی کسی کتاب میں کچھ لکھا یا اشارہ دیا، کسی راوی سے کچھ بیان بھی نا کیا اور پھر  اس انٹرویو کی مبینہ تاریخ کے  42 سال بعد مولانا آزاد کی وفات کے 30 سال اور شورش کی وفات کے 13 سال بعد 1988 میں “مولانا ابوالکلام آزاد” نامی کتاب میں شائع ہوا۔

بیچ کے 42 سال یہ انٹرویو کہاں رہا کیوں سامنے نہیں آیا تاریخ دان اس پر بالکل خاموش ہیں یہ دنیا کے چند حیرت انگیز انٹرویو میں سے ایک ہے جو اتنا سچا تھا کہ آئے روز ایک سچائی ثابت ہورہی تھی مگر پھر بھی اسے سات پردوں میں رکھا جارہا تھا اور پھر جب آزاد کی کتاب کے اضافی صفحات چھاپے گئے جس میں گاندھی نہرو پٹیل کانگریس اور ہندو کی متعصب سوچ کو بےنقاب کیا گیا تھا تو ساتھ ہی یہ انٹرویو بھی سامنے آ گیا گویا ہندو کے عتاب سے بچنے کیلئے انہیں بھی خوش کیا گیا ہو۔

اصل میں ہوا یہ کہ مولانا کی کتاب سے ان کے کچھ جملے اٹھائے ان میں بہت سی باتیں شامل کیں اور یوں “مولانا آزاد کی پیش گوئیاں” کا منجن تیار ہوگیا۔

اس انٹرویو کا اپنا وجود جتنا مشکوک ہے اس میں لکھی بیشتر  باتیں اس سے زیادہ جھوٹ ہیں زیادہ نہیں صرف چند کا ذکر کرتا ہوں۔

پاکستان میں دوسرے ممالک کی طرح فوجی حکومت۔

پاکستان بن گیا تو نااہل سیاستدانوں کی وجہ سے یہاں بھی فوج حکمرانی رہے گی جس طرح کہ باقی کے اسلامی ملکوں میں ہے۔

جبکہ مارچ 1946 میں صرف چار مسلمان ملک آزاد تھے، سعودی عرب ایران اور افغانستان میں بادشاہت تھی اور ترکی میں جمہوریت، کسی بھی اسلامی مملکت میں فوج کی حکمرانی نہ تھی، اب یا تو یہ پیش گوئی جھوٹی ہے یا یہ بات مولانا کی نہیں ہے بعد میں ان کے سر منڈھ دی گئی ہے۔

مشرقی و مغربی پاکستان۔

مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے اختلافات ہوں گے اور علیحدہ ہوجائیں گے۔

اس سے بڑا جھوٹ شائد ہی کچھ اور بولا گیا ہو مشرقی اور مغربی پاکستان کی اصطلاح تقسیم پلان 1947 میں پہلی بار وجود میں آئی تو پھر سال پہلے مولانا کو ان ناموں کا الہام ہوا تھا۔

بنگال کی تقسیم۔

قیام پاکستان کو ناممکن بنانے کے لئے مولانا ابوالکلام آزاد نے آخری انگریز وائسرائے ہند لارڈ مونٹ بیٹن کو تجویز دی کہ اگر وہ تقسیم بنگال کا اعلان کردے تو بنگالی مسلمان مسلم لیگ کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور پاکستان وجود میں نہیں آسکے گا۔

لیکن انگریز حکمرانوں اور ہندو کانگریس کے تقسیم بنگال پر اٹل رہنے کے باوجود بنگالی مسلمانوں نے مسلم لیگ کا ساتھ نہ چھوڑا اور آدھے بنگال کو ہی پاکستان کا حصہ بنانے کے حق میں وٹ دے دیا۔ یوں مولانا ابوالکلام آزاد کی یہ پیش گوئی بھی حرف بہ حر ف غلط ثابت ہوئی۔

مولانا آزاد کا جھوٹ۔ ہندو موروثی مذہب ہے۔

مولانا کہتے ہیں۔ پارسی اور یہودی مذاہب کی طرح ہندو بھی موروثی مذہب ہے۔

جبکہ صرف پارسی اور یہودی موروثی مذاہب ہیں۔ ہندو ازم قطعاً موروثی نہیں۔ اگر ہندو موروثی مذہب ہوتا تو ہندو برہمن مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنانے کے لئے شدھی کی تحریک شروع نہ کرنا پڑتی اور نہ گاندھی یہ کہتے کہ مسلمانوں کو یا تو ہندو بنا لیا جائے گا یا غلام۔

کابینہ مشن پلان اور نہرو۔

مولانا ابوالکلام آزاد کیبنٹ مشن پلان کے زبردست حامی تھے۔ یہ مشن ہندوستان آیا تو مولانا کانگریس کے صدر تھے۔ مولانا کی پیش گوئی تھی کہ ان کے جانشین جواہر لال نہرو کیبنٹ مشن پلان تسلیم کئے رکھیں گے۔ اس لئے مولانا کانگریس کی صدارت سے پنڈت نہرو کے حق میں دستبردار ہوگئے

لیکن نہرو جب کانگریس کی کرسی صدارت پر بیٹھ گئے تو انہوں نے کیبنٹ مشن پلان مسترد کردیا۔ یوں مولانا کی یہ پیش گوئی بھی حرف بہ حرف غلط ثابت ہوئی جس کا مولانا کو عمر بھر افسوس رہا۔

علیحدگی والے علاقے دوبارہ ہندستان سے مل جائیں گے۔

جو صوبے ہندوستان سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیں گے وہ بہت جلد ہندوستان میں واپس آجائیں گے۔

مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش تو بنا دیا لیکن آج تک بنگلہ دیش نے بھی انڈین یونین کا حصہ بننے کی خواہش نہیں کی۔ گویا پاکستان بنگلہ دیش کے مسلمان اکٹھے رہیں یا علیحدہ لیکن دوبارہ ہندو کے ساتھ رہنے کو پسند نہیں کرتے اور یہی تو دو قومی نظریہ کی تصدیق ہے۔

پاکستان اور غیرملکی قرضے۔

پاکستان غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبا رہے گا۔

ویسے تو اس میں پیش گوئی کیا ہے۔ پھر بھی بات کرلیتے ہیں شروع کی دو دہائیاں پاکستان پر قرضے نہیں تھے اسکے بعد بھی معمولی قرضہ تھا۔ یہ تو ۱۹۸۸ کے بعد قرضوں کا بوجھ بڑھنا شروع ہوا۔ اور ۲۰۰۷ جب پاکستان کے قرضے ۳۶ ارب ڈالر تھے تب بھارت کے ۳۰۰ ارب تھے۔ ۲۰۱۲ میں پاکستان کے ۶۰ ارب بھارت کے ۳۹۰ ارب ڈالر تھے۔ اب پاکستان ۹۰ پر ہے تو بھارت ۵۰۰ سے اوپر جاچکا ہے۔ دنیا کا ہر ملک مقروض تھا اور اب بھی ہے ایسے میں یہ کاہے کی پیش گوئی  ہے۔

پاکستان میں اندرونی خلفشار اور صوبائی جھگڑے رہیں گے۔

دنیا کے ہر ملک کے اندر اندرونی خلفشار صوبائی و لسانی جھگڑے تھے اور اب بھی ہیں۔ حتی کہ آسٹریلیا سپین انگلینڈ جیسے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی یہ مسائل موجود تھے اور اب تو مزید بڑھ گئے ہیں۔ ایسے میں صرف پاکستان ہی مخصوص کیوں۔ بھارت اپنے اندرونی خلفشار اور صوبائی جھگڑوں کا خوفناک حد تک شکار ہے جس کے ۲۹ صوبوں میں سے ۱۴ میں علیحدگی کی عسکری تحریکیں چل رہی ہیں۔

پاکستان میں غیر ملکی کنٹرول رہے گا۔

دنیا کا کوئی ایسا ملک جو عالمی استعمار سے بچا ہوا ہو۔ جبکہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت شروع دن سے غیر ملکی اثرات میں گھرا ہوا ہے۔

دو قومی نظریہ پامال ہے۔

مولانا آزاد دو قومی نظریے کو پامال بحث قرار دیتے ہیں۔

دوسری طرف جب اسی دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آتا ہے تو بقول شورش کاشمیری مولانا آزاد خان عبدالغفار خاں اور صدر مجلس احرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کو اور ان کی وساطت سے احرار کو مسلم لیگ میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہیں۔ گاندھی جی کو پتہ چلا تو انہوں نے مولانا آزاد کو بھی مسلم لیگ میں شامل ہونے کا مشورہ دیا تھا۔

اے کے فضل الحق کی بغاوت۔

بنگالی بیرونی قیادت قبول نہیں کرتے اسی لئے مسٹر اے کے فضل الحق نے قائداعظم کے خلاف بغاوت کردی تھی۔

جبکہ تاریخ آج تک بغاوت کو ڈھونڈنے میں ناکام ہے اے کے فضل الحق نے قائداعظم کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کی تھی ان کی طرف سے پارٹی ڈسپلن کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں پر آل انڈیا مسلم لیگ کے آئین کی رو سے صدر مسلم لیگ قائداعظم نے انضباطی کارروائی کی تھی۔

مسٹر حسین شہید سہروردی بھی مسٹر جناح سے چنداں خوش نہیں۔

جبکہ حقائق کے مطابق قائداعظم سہروردی پر بہت اعتماد کرتے تھے اور سہروردی بھی قائداعظم کی رہنمائی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے۔

بنگالی باہر کی قیادت کو مسترد کردیتے ہیں

جبکہ یہ سراسر جھوٹ اور تاریخ سے لاعلمی تھی۔ بنگال کے پہلے غیر بنگالی مگر مسلمان حکمران سلطان بختیار خلجی سے لے کر جنرل ایوب خاں تک بنگالیوں نے کسی بھی حکمران کو اس لئے مسترد نہیں کیا کہ وہ غیر بنگالی تھا۔

پانی پر چھڑی رکھ دینے سے ایسا معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا ہے لیکن پانی جوں کا توں رہتا ہے۔ اور چھڑی کے ہٹتے ہی ظاہری تقسیم ختم ہوجاتی ہے۔

آج تک چھڑی ہٹی ہے نا پانی جوں کا توں ہوا ہے۔ اور نا ظاہری تقسیم ختم ہوئی ہے۔

میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہماری ثقافت اور تہذیب میں ایک ایسا جادو ہے کہ شائد آئندہ پچاس سال میں ہندستان کی سب سے بڑی آبادی مسلمان ہو۔

ستر اسی سال بعد بھی خطے کے تمام مسلمان ہندو سے زیادہ یا برابر کیا بمشکل آدھے ہوئے ہیں۔ اس پیش گوئی کے سچ ہونے کیلے شائد مزید ہزار سال انتظار کرنا ہوگا۔

بعض علما تو قائداعظم کے ساتھ بھی ہیں”۔ مولانا آزاد نے جواب دیا۔ “علما تو اکبر اعظم کے ساتھ بھی تھے۔ اسکی خاطر انہوں نے دین اکبری ایجاد کیا تھا۔ اسلام کی پوری تاریخ ان علما سے بھری پڑی ہے جن کی بدولت اسلام ہر دور میں سسکیاں لیتا رہا ہے”۔

گویا قائداعظم دین الہی ایجاد کرنے والے اکبر جیسے تھے اور قائد کا ساتھ دینے والے مولانا اشرف علی تھانوی ، علامہ شبیر احمد عثمانی ، پیر جماعت علی شاہ ، مولانا مفتی محمد شفیع ، مولانا محمد طاہر قاسمی ، مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی ، مولانا عبدالرؤف داناپوری ، مولانا آزاد سبحانی ، مولانا غلام مرشد ، مفتی محمد حسن عالم ، سید محمد علی ، حافظ کفایت حسین ، مولانا جمال فرنگی محلی، مولانا ہدایت الله فرنگی محلی، مولانا عبدالحامد بدایونی ، مولانا راغب احسن، پیر قمرالدین سیال شریف، پیر رضا شاہ گیلانی، پیر محمد حسین شیر گڑھ ، مولانا عبدالستار نیازی ، مولانا محمد بخش مسلم ، پیر غلام مجدد سرہندی ، پیر محمد ہاشم جان سرہندی ، پیر محمد عبداللطیف زکوڑی شریف ، پیر آف مکھڈ شریف اور پیر آف مانکی شریف وہ علما تھے جن کی بدولت اسلام ہر دور میں سسکیاں لیتا رہا ہے۔

مولانا آزاد ہر جگہ اپنی منطق سے کام لینے کے اتنے عادی ہوگئے تھے کہ مشکل سے کوئی ایسا واقعہ بیان فرماتے ہیں جو مغالطہ کا شکار نا ہو۔ جو شخص حالات و واقعات سے ناواقف ہو یا مولانا کے سوء ظن کے مطابق جس کا حافظہ کمزور ہو وہ بڑی آسانی سے مولانا کے مغالطہ کا شکار ہوجاتا ہے۔ مولانا آزاد پاکستان و قائداعظم کی بغض میں اتنا آگے نکل گئے تھے کہ اپنی خودساختہ من گھڑٹ تاویلات دینے سے بھی باز نا آتے تھے۔ اور حقیقت میں یہی بکاؤ علماء کا گروہ بھی تھا جو ہندو سے پیسے لیکر متحدہ ہندستان میں ہندو کی غلامی کو عین اسلام اور مسلمانوں کے علیحدہ وطن  کو گناہ سمجھتے تھے بلکہ علیحدہ وطن کی بات کرنے والوں پر کفر کے فتوی لگاتے تھے۔

جن مسلم ممالک میں اسلام نظام نافذ نا ہوا تو کیا ان ممالک کو  ہونا ہی نہیں چاہیے تھا اور ان کیا ان ممالک کو بننے سے روکنا چاہئے یا ان ممالک کی مخالفت کی جانی چاہیے۔ تجربہ گاہ ، تجربہ کرنے کا موقع دیتی ہے۔ ان علماء سُو کی منافقت یہ رہی کہ اسلام کے نفاذ کا بھی نعرہ لگاتے رہے اور تجربہ گاہ بنانے کی بھی مخالفت کرتے رہے جب تجربہ گاہ انکی مخالفت کے باوجود بن گئی تو اس کے ٹھیکیدار بھی بن بیٹھے یہ انتہا کے قدامت پرست موقع پرست کوتاہ نظر حالات سے لاعلم ابن الوقت اور منافق ثابت ہوئے۔ بات آزاد مرحوم سے شروع ہوئی اور آگے نکل گئی واپس موضوع پر آتا ہوں۔

مولانا آزاد کانگریس کے لیڈر تھے مسلم لیگ سے نفرت کرتے تھے بغض قائداعظم کا شکار تھے پاکستان کے نام سے طبیعت خراب ہوتی تھی مسلمانوں کی قومی انفرادیت ان کیلے ناقابل برداشت تھی دو قومی نظریہ سے اختلاف تھا تو یہ سب باتیں سمجھ آ سکتی ہیں لیکن کیا دنیا کے کسی آئین دستور سیاست اخلاق کی رُو سے اپنے سیاسی مخالفین بارے مولانا کو جھوٹ بولنے کا حق تھا کس کے اشارے پر سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے مولانا آزاد صریح جھوٹے بیان جاری کرکے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جان لیجئیے یہ نظریاتی اختلاف نا تھا۔ بلکہ ہندو سے محبت، پاکستان سے نفرت ، بغض قائداعظم اور مسلم لیگ سے دشمنی تھی کیونکہ مولانا خود فرما گئے تھے۔

پاکستان بارے فرماتے ہیں۔

“مسلم لیگ کی تجویز پر ہر ممکن نقطہ نظر سے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ (پاکستان) نا صرف مجموعی حیثیت سے ہندستان کیلے بلکہ خاص طور پر مسلمانوں کیلے بھی مضر ہے۔ میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ پاکستان کا لفظ ہی میری طبیعت قبول نہیں کرتی”۔

اسرائیل بارے فرماتے ہیں۔

اور جہاں تک یہودیوں کے قومی وطن کا مطالبہ ہے اس سے ہمدردی کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ وہ ساری دنیا میں بکھرے ہوئے ہیں۔ اور کسی بھی علاقے میں بھی نظم و انصرام پر کوئی اثر نہیں رکھتے۔

کہتے ہیں مولانا آزاد کی بات مان لیتے تو آج برصغیر پر مسلمانوں کی حکومت ہوتی۔ آزاد کا کوئی چاہنے والا آزاد کی کتابیں تقریریں کھنگال کر بتاتا کیوں نہیں ہے  کہ انگریز کے جانے کے بعد مولانا آزاد نے اپنے سے دُگنا ہندو پر حکومت کرنے یا ہندو کے ساتھ شرکت اقتدار کا کونسا آئینی طریقہ عملی نمونہ حل پیش کیا تھے۔ جس طرح مولانا نے کوئی عملی طریقہ بیان کرنے کی بجائے سیاسی حقائق سے دور خواب و خیال کی کتابی باتیں کی تھیں۔ اسی طرح آزاد کے پیروکار عقیدت و جذبات میں ڈوب کر الف لیلوی نظریات اقتباسات اور من گھڑت باتیں آزاد سے منسوب کرتے رہتے ہیں۔

مولانا آزاد کو یاد رکھنا چاہئے تھا اقلیت کا کوئی فرد بھی اپنی قوم ملت سے غداری کرنے کے بعد ایسا مقام حاصل نہیں کرسکتا کہ اکثریت اسے اپنا قائد مطلق تسلیم کرلے۔ اور تقسیم کے بعد کانگریس نے مولانا کے ساتھ جو سلوک کیا وہ اس بات کا گواہ ہے حیرت ہے مولانا کا پہلا دور علما سُو کے خلاف جہاد کرتے گزرا اور آخری دور میں مسلمانان ہند کو نقصان پہنچانے کیلے علما سُو کو خرید کر ہندو کے جھنڈے جمع کرتے رہے۔

SHOPPING

مولانا آزاد کا علم و ادب میں بہت کام ہے عظمت بیان کرنے کیلئے وہی کافی ہے مولانا کے کرم فرما کیوں الٹی سیدھی غیر تصدیق شدہ مشکوک جھوٹی باتیں ان سے منسوب کرکے جگ ہنسائی کا باعث بنواتے ہیں۔

SHOPPING

Avatar
محمد عبدہ
مضمون نگار "محمد عبدہ" کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور حالیہ کوریا میں مقیم اور سیاحت کے شعبے سے تعلق ہے۔ پاکستان کے تاریخی و پہاڑی مقامات اور تاریخ پاکستان پر تحقیقی مضامین لکھتے ہیں۔ "سفرنامہ فلپائن" "کوریا کا کلچر و تاریخ" اور پاکستانی پہاڑوں کی تاریخ کوہ پیمائی" جیسے منفرد موضوعات پر تین کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مولانا آزاد سے منسوب جھوٹ یا جھوٹی پیش گوئیاں، فیصلہ آپ کا۔۔۔ محمد عبدہ

  1. مولانا آزادؒ کی رائے اور سیاسی موقف سے کسی کو اختلاف ھونا کوئی اچبنے کی بات نہیں لیکن جو انداز تخاطب مضمون نگار نے اپنایا ھے اتہائی متعصبانہ اور تمام مواقع پرنہیں لیکن اکثر خلاف واقعات ھیں۔۔۔۔۔۔۔ میں صرف اتنا عرض کرتا ھوں کہ پاکستان کا وجود ایک حقیقت ھے اور ھم سب اس کے استحکام کے لئے کوشاں ھیں لیکن ۔۔۔۔۔ مولانا آزادؒ کی کردار کشی پر کہتا ھوں کہ ” پھونکوں سے یہ چراغ بجایا نہ جائے گا ” ۔(عتیق آزاد)۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *