• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • دیوار گریہ کے آس پاس۔۔۔روایت : کاشف مصطفےٰ/تصنیف و تحقیق : محمدّ اقبال دیوان/قسط12

دیوار گریہ کے آس پاس۔۔۔روایت : کاشف مصطفےٰ/تصنیف و تحقیق : محمدّ اقبال دیوان/قسط12

(اسرائیل کا سفر نامہ ۔اپریل 2016 )
ادارتی تعارف
جناب محمد اقبال دیوان کی تصنیف کردہ یہ کتاب’’ دیوار گریہ کے آس پاس ‘‘کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔
اس سفر نامے کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔
کتاب کے ناشر محترم ریاض چودہری کی پیرانہ سالی اور صوفیانہ بے نیازی کی وجہ سے سرورق پر دیوان آاحب کا نام بطور مصنف شائع ہونے سے رہ گیا جس سے یہ تاثر عام کیا گیا کہ اس کے مصنف کوئی اور امیر مقام ہیں۔
یاد رہے کہ یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔انگریزی میں تحریر ان کی سفری یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا جو زیادہ تر مختصر پیرائے میں انگریزی زبان میں اسرائیل سے جناب دیوان صاحب کو بذریعہ ای میل موصول ہوئیں۔ ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے موصول شدہ ان ٹریول نوٹس کی مدد سے اپنے مخصوص انداز میں اسے اردو کے قالب میں ڈھالا۔ اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع کیا۔
اس کتاب کو لکھنے میں اور اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔یہاں  اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ یہ کاوش بیش بہا پہلے سے انگریزی یا کسی اور زبان میں کتاب کی صورت موجود نہ تھی۔ نہ ہی اس کا کوئی اور نسخہ اب تک کسی اور زبان میں معرض وجود میں آیا ہے۔ قارئین مکالمہ کی خاطر کچھ تصاویر جو کتاب میں موجود نہ تھیں وہ وضاحت مضمون کی خاطر نیٹ سے شامل کی گئی ہیں۔قسط مذکورہ میں ڈاکٹر صاحب کی اپنی تصویر کے علاوہ تمام تصاویر نیٹ سے لی گئی ہیں
ہما رے دیوان صاحب ڈاکٹر صاحب کے ہم زاد ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔ ان کی تین عدد کتابیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا اور تیسری پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ شائع ہوچکی ہیں۔ چوتھی چارہ گر ہیں بے اثر ان دنوں ادارہ قوسین کے پاس زیر طبع ہے۔ سرجن کاشف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔ قرآن الحکیم، بائبل اور تصوف کے حوالے دیوان صاحب کی اپنی تحقیق اور اضافہ ہے اور انگریزی ٹریول نوٹس میں شامل نہ تھا
ایڈیٹر ان چیف

انعام رانا

tripako tours pakistan

گزشتہ سے پیوستہ
یہ اس کلیساء سے بالکل جڑی ہوئی ہے مگر میں آپ کو بتاتا چلوں کہ فاتح ایران و فلسطین سیدنا عمر بن خطابؓ اس دن صلوۃ الجمعہ پڑھنے کے لیے جگہ کے انتخاب کا سوچ رہے تھے تو وہاں آئے ہوئے کچھ معززین نے رائے دی کہ مسلمان یہ نماز وقتی طور پر اس کلیسہء القائمہ میں ادا کرلیں۔اس تجویز کو سیدنا عمر نے سختی سے رد کردیا۔ آپ نے وہاں کہ راہب اعلیٰ کو یقین دلایا کہ ان کے اس مقام مقدس کا ہر قیمت پر احترام کیا جائے گا۔ ان کو عبادات کی کھلی آزادی ہوگی۔اس ملاقات میں خود راہب اعلی نے اس پیشکش کا اعادہ کیا کہ مسلمان صلوۃ ال جمعہ اگر کلیسہ القائمہ میں ادا کریں تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔سیدنا عمرؓ نے اس کی اس دعوت کو سن کر کہا کہ ہرگز نہیں اگر آج انہوں نے یہ رعایت کو اپنالیا تو ان کے بعد اس کو دیگر مسلمان اپنا حق سمجھ کر جتلائیں گے اور یہ کلیسا مسجد میں تبدیل ہوکر رہ جائے گا۔انہوں نے یہ کہہ کر سامنے میدان میں ایک کنکر پھینکا اور جہاں یہ کنکر جاکر گرا وہاں آپ نے دیگر مسلمانوں کی صلوۃ ال جمعہ کی امامت فرمائی۔موجودہ سادہ اور چھوٹی سی مسجدآپ کی حق گوئی اور انصاف و رواداری کے ثبوت کے طور پر اسی مقام پر تعمیر کی گئی ہے۔

صلوۃالجمعہ کا احوال انگریز ی میں ڈاکٹر صاحب کی کاوش جمیلہ

نئی قسط
آج ہمارا رخت سفر ہیبرون کی جانب ہے۔اسے عرب الخلیل کہتے ہیں۔ہیبرون  میں آج کے اسرائیل کا مکمل اور بھرپور نمونہ دیکھا جاسکتا ہے۔ عبرانی زبان میں لفظ ہیبرون کے کئی معنی ہیں:دوستی ، ملاپ۔۔۔۔۔۔ یہ شہر جیسے یروشلم کو دار السلام کہنا باعث تمسخر و تحیرّ ہے بالکل اسی طرح اپنے معنی سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ دنیا میں اگر کسی ایک شہر کو سیاسی طور پر آتش بداماں،منقسم اور باہمی مخاصمت میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہودیوں کے ہاں اگر یروشلم کا درجہ مکۃ المکرمہ جیسا ہے تو الخلیل کو مدینۃ الطیبہ کا سا مان لیں۔فلسطین عرب البتہ اسے اسلام کا چوتھا اہم شہر مانتے ہیں۔ یعنی مکۃ المکرمہ ، مدینۃ الطیبہ اور یروشلم کے بعد اسی کا نمبر آتا ہے کسی اور شہر کا نہیں۔سیدنا داؤد علیہ سلام نے جب تک اپنا دار الخلافہ یروشلم منتقل نہیں کیا تھا یہ ان کی مملکت کی راجدھانی تھا۔ اس شہر کو 700 برس تک مسلسل یعنی 1267  سے  مسلمانوں کے زیر انتطام رہنے کا بھی شرف حاصل رہا۔1967 کی جنگ میں اسرائیل نے اسے اردن سے چھین لیا۔

Hebron -H-1
The-WestBank-city-of-Hebron-is-split-into-2-parts-H1-controlled-by-the-Palestinian-Authority-and-H2-

فلسطین کے مغربی کنارے واقع یہ شہر بہت بڑا بھی اور اس کی صنعتی حیثیت بھی ہے۔ 1994 میں ناروے کے شہر اوسلو میں جو معاہدہ ہوا تھا اس کی رو سے اس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ ایک حصے کو H-1 کہتے ہیں جس میں آج کل یہاں تین لاکھ فلسطینی عرب رہتے ہیں۔اس کا انتظام فلسطین کی حکومت کے پاس ہے۔اسے آپ بلاشبہ شہر کا اسی فیصد علاقہ مان سکتے ہیں۔دوسرا حصہ جسے H-2 پکارتے ہیں اس میں ساڑھے سات سو اسرائیلی اور تیس ہزار فلسطینی عرب آباد ہیں۔ ان ساڑھے سات سو اسرائیلی گھس بیٹھیوں کی اعانت اور امداد ، حفاظت اور طمانیت قلب کی بندوقوں سے لیس ڈیڑھ ہزار فوجی ہر وقت ایستادہ رہتے ہیں۔ یعنی ہر پناہ گیر کی حفاظت پر دو فوجی ، گویا یہودی پناہ گیر نہ ہوئے سندھ اور پنجاب کے بڑے رینک والے پولیس افسر ہوگئے ۔
سر دست یہ فلسطینی آزادی تحریک کا مرکز ہے۔ فائرنگ ،بم دھماکوں، خنجر گھونپنے کی وارداتیں جن کا اخبار آپ تک پہنچتا ہے وہ واردتیں اسی شہر سے متعلق ہوتی ہیں۔اسرائیل نے جن یہودیوں کو یہاں بسایا ہے۔ ان کی اکثریت شدت پسند امریکی اور فرانسیسی یہودیوں کی ہے۔فرانس میں جو آپ کو تخریب کاری اورفسادات کی ایک تحریک برپا دکھائی دیتی ہے۔اس کے تانے بانے ماضی میں الجزائر، تیونس ، مصر اور تازہ ترین لیبیا میں فرانسیسوں کے مظالم سے جوڑے جاسکتے ہیں۔یہ یہودی پناہ گیرسرکاری سر پرستی میں قدیم فلسطینی آبادی پر مظالم ڈھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

شہر منقسم

ان مظالم کا بھیانک پہلو یہ ہے کہ ایک ہی نوعیت کے جرم میں ملوث یہودی اور عربوں کے لیے مختلف ضابطے اور سزائیں ہیں ۔ عربوں کے جرائم کا فیصلہ برق رفتار قہر بر مزاج فوجی عدالت میں ہوتا اور یہودی مجرم کا ایک تسلی بخش، دھیمے مزاج کی کومل سی مسکراہٹ والی سویلین عدالت میں۔یہاں رہنے والے ان عربوں کو جن کے پرانے گھر اہم شاہراوں پر واقع ہیں  حفظ ماتقدم کے طور پر انہیں اپنے گھر کے مرکزی دروازوں سے داخلے کی اجازت نہیں۔ وہ عقبی دروازے ، دیواروں سے کود کر یا کھڑکیوں کے راستے سے گھر میں داخل ہوتے ہیں، شرف انسانی کی ایسی توہین دنیا کے کسی اور شہر اور معاشرے میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

میرے نزدیک ہیبرون کے الخلیل پکارے جانے کی  وجہ بھی یہی ہے کہ یہ سیدنا ابراہیم علیہ سلام کا شہر ہے۔اپنی زندگی کا  بڑا حصہ انہوں نے اسی شہر میں بسر کیا۔ ان کی پیدائش عراق کی بستی اُر میں ہوئی تھی اور لیکن ان کا وصال الخلیل میں ہوا۔ اس وجہ سے شہر کو عربوں نے ان کے لقب سے موسوم کر رکھا ہے ا ن کا مدفن مبارک اسی شہر میں ہے۔ایک روایت کے مطابق اپنی حیات طیبہ میں ہی انہوں نے ایک قطعہ زمین خرید لیا تھا۔اس جگہ کو انہوں نے اپنے خاندانی قبرستان کا درجہ دے دیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اسی احاطے میں آپ کو ان کے صاحبزادے سیدنااسحق ؑ اور پوتے سیدنا یعقو ب کے مقابر عالیہ ملتے ہیں۔ان انبیاء کرام کی ازدواج محترم کی قبور بھی یہیں پر ہیں۔بادشاہ ہیرڈ نے ان مزارات کے اردگرد ایک حفاظتی حصار آج سے دو ہزار سال پہلے بنوایا تھا جو آج بھی محفوظ ہے اسی وجہ سے یہ تمام احاطہ اب حرم ابراہیمی اور انگریزی میںCave of the Patriarchs’ کہلاتا ہے۔

سیدنا اسحق اور ان کی اہلیہ کا مزار
مرقد سیدنا ابراہیم علیہ سلام
کاشف مصطفے صاحب کی دلداری
الخلیل ہیبرون کی مسجد ابراہیم

اس کے علاوہ چونکہ یہاں ہرمقابر کی ترتیب اس طرح ہے  کہ میاں بیوی کے مقابر ساتھ ساتھ ہیں لہذا اسے عبرانی زبان میں مرائت ہا مک فیلا Me’arat ha-Makhpela بھی کہتے ہیں۔اس احاطے کے زیر زمین مقابر میں سیدنا ابراہیم اور بی بی سارہ ،سیدنا اسحق اور ان کی اہلیہ رقا Rebecca, اور سیدنا یعقوب اور ان کی پہلی بیوی بی بی لیہ ابدی نیند سورہے ہیں۔ اس پورے احاطے کو ایک بلٹ پروف شیشے سے دو حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔مسلمانوں کی طرف بی بی سارہ سیدنا اسحق اور ان کی اہلیہ رقا کے مقابر ہیں اور دیگر یعنی سیدنا یعقوب، ان کی اہلیہ لیہ اور سیدنا یوسف علیہ سلام کے مزارات یہودی احاطے میں ہیں۔لطف و حیرت کی بات یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم کا مزار عالیہ آپ دونوں طرف سے دیکھ سکتے ہیں۔
شہر میں اکثر سیاح محض اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔اہل یہود تو آدم علیہ سلام کی زوجہ اور سیدنا یوسف علیہ سلام کا مرقد عالیہ بھی اسی مقام کو مانتے ہیں۔
ہم ہیبرون کے لیے جلد نکل آئے تھے۔ یروشلم سے اس کا فاصلہ حالانکہ کل چالیس کلو میٹر ہے مگر میرا ارادہ اس شہر کو اس کے تمام تر تضادات اور عداوات کی روشنی میں دیکھنے کا تھا۔ہم جب فلسطینوں والے علاقے جسے H-1 کہتے ہیں میں  داخل ہورہے تھے تو شہر کسی فتنہء تازہ کے لیے انگڑائی لے کر بیدار ہورہا تھا۔فلسطین شہر کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ اس کا وصف انتشار اور قدامت پسندی ہوتاہے۔ خواتین وہاں بہت کم دکھائی دیتی ہیں اور وہ بھی بہت لپٹی لپٹائی،کاریں بھی ان سڑکوں پر بہت کم دکھائی دیتی ہیں، زندگی البتہ ان کے گھروں کی بالکونی سے کسی نہ کسی صورت لٹک رہی ہوتی ہے۔دھلے ہوئے کپڑوں کی صورت میں کھیلتے ہوئے بچوں کی کلکاریوں میں۔ اس کی خاک آلود شاہراوں پر جابجا تعمیراتی سامان بکھرا ہوا تھا۔ہم  شہر کے وسط میں بڑی سی ابو صبیح حلوائی کی دکان کے سامنے رک گئے۔ان دنوں یہ سارا علاقہ دو قبائل کا مسکن ہے ایک کا نام ہے ابو صبیح تو دوسرا ابو سنانا کہلاتا ہے۔عبدالقادر کے دام الفت و شناسائی کے جال میں دونوں قبائل   بہت موثر انداز میں جکڑے ہوئے تھے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ موصوف خود ابو صبیح سے تعلق رکھتے ہیں تو دامن مناکحت میں ابو سنانا کو لپیٹ رکھا ہے۔حضرت کی کار کو دیکھتے ہی ہر طرف سے میکے اور سسرال والے دوڑ پڑے۔
چچا، ماموں، کزنز ، سالے مرحبا مرحبا کہتے کہتے ہمارے اردگرد جمع ہوگئے۔عربوں کے روایتی بوسوں اور گرم جوش معانقوں سے میرا برا حال ہوگیا ۔
شہر کی یہ مارکیٹ یوں بھی ایک خاندانی کاروباری مصروفیت ہے۔اس بازار تعلق داری میں اس نے   میرا تعارف یہ کہہ کر کرایا کہ میں اس کا گم شدہ کزن ہوں۔ میرے دادا ابو صبیح قبیلے کے فرد تھے۔ جن کو جنگ عظیم اول میں میرے پر دادا عدن لے گئے تھے۔میرے والد اعلیٰ تعلیم کے لیے وہاں سے انگلستان گئے تھے۔دوران قیام ایک نیک دل پاکستانی خاتون سے شادی ہوئی تھی ان لوگوں نے اس تعارف کو جی جان سے قبول کیا کیوں کہ چار جنریشن پہلے کا کوئی حوالہ وہاں موجود نہ تھا۔
یہ سب کچھ سنتے ہی میرے لیے ابو صبیح حلوائی کے کاریگر میدے کی سویوں ،بکری کے پنیر اور شہد سے کنیفہ تیار کرنے میں لگ گئے۔اسی دوران اس کا کوئی رشتہ دار بھاگ کے اپنے اسٹور سے لبان یعنی چھاچھ Butter Milkلے آیا۔ایک اور رشتہ دار جسے ایسے معاملات میں پیچھے رہ جانے سے نفرت تھی وہ بھاگ کر اپنے  اسٹور سے تازہ تازہ کاک ( اب آپ کو سمجھ میں آئے گا کہ سیدنا معین الدین چشتیؓ کے خلیفہء عظیم اور سیدنا فرید الدین گنج شکر کے مرشد محترم سیدنا خواجہ بختیار کے لفظ میں کاک سے مراد وہ نان ہیں جو انہیں دوران عبادت ایک طاق میں بھوک مٹانے کے لیے مل جاتے ہیں۔ بخارہ کے علاقے اوش میں بھی جہاں سے آپ کا تعلق تھا نان کو کاک کہتے ہیں) اور کھولتی ہوئی کافی کی کیتلی لے آیا۔میرے اس نودریافت خانوادے کی ہرگز یہ مرضی نہ تھی کہ میں اب عمر بھر ان کا ساتھ چھوڑ کر کہیں اور جاؤں مگر عبدالقادر نے انہیں سمجھایا کہ میرا ارادہ شہر یعنی H-1 اور H-2 دیکھنے اور حرم ابراہیمی میں صلوۃ الجمعہ ادا کرنے کا ہے۔
’’ No H-2 ‘‘ اس کے ایک رشتہ دار نے احتجاجاً اعلان کیا۔ میرے اس استفسار پر کہ وہاں جانے میں کیا قباحت ہے؟ تو وہاں موجود کسی فرد نے کہا کہ وہاں جو یہودی پناہ گیر بسائے گئے ہیں وہ شیطان کے جڑواں بھائی ہیں۔ ان سے قدیم اسرائیلی یہودی بھی نفرت کرتے ہیں۔ یہ بہت شدت پسند اور انسانیت سے عاری گروہ ہیں۔

وہاں جانے کی کوشش میں انہیں قائل کرنے میں اس لیے کامیاب ہوگیا کہ میں نے انہیں باور کرایا کہ میں وہاں موجود 30000 فلسطینوں کے حالات کا خود جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ میرا پختہ یقین ہے کہ فلسطینی عربوں میں موجود یہ مسلمان، برما کے روہنگیا ، چین کے یوگور مسلمان سینٹرل افریقن ری پبلک اور شام کے مسلمان اس وقت دنیا کے مظلوم ترین مسلمان ہیں۔ میں ان فلسطینیوں سے ملنا اور گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔
ممکن ہو تو میں وہاں موجود یہودی پناہ گیروں سے بھی ملنا چاہتا ہوں۔عین اسی لمحے ایک اور رشتہ دار آگے بڑھا۔ یہ PLO فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کا ایک سرگرم کارکن تھا۔وہ بتانے لگا کہ وہاں کے حالات اتنے کشیدہ ہیں کہ اگر تمہیں کچھ ہوجائے تو اس کی اسرائیل اور دنیا بھر میں کوئی شنوائی نہیں ہوگی۔ ۔یہاں فائرنگ، خنجر زنی اور گرفتاریاں روز مرہ کا معمول ہیں۔وہاں سیاح جانے سے گریز کرتے ہیں۔بڑے ٹور آپریٹر اپنے مہمانوں کو باقاعدہ اطلاع دے کر اسرائیلی فوج کی نگرانی میں لے جاتے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ آپ اس غیر ضروری مہم جوئی سے باز رہیں۔  مجھے لگا کہ وہ بہت غیر محسوس طریقے سے میرے لگاؤ کو بھانپ رہے ہیں بہت آہستگی سے یہ ضد جب انہیں بھی مہمان کی ضد سے آگاہی کا سفر نظر آنے لگی اور انہیں بھی یہ محسوس ہونے لگا کہ میں واقعی میں اپنے فلسطینی بھائیوں کے حالات زندگی اور ان کے کرب کا اندازہ خود وہاں کا مشاہدہ کرکے لینا چاہتا ہوں۔ یہ کھوج لگانا چاہتا ہوں کہ وہ کیا جذبہ اور تحریک ہے جس نے انہیں ان مشکل اور نامساعد حالات میں بھی وہیں قیام کرنے پر آمادہ کیا ہوا ہے۔تذبذب کی اس دھندلی فضا کو عبدالقادر نے اس طرح صاف کردیا کہ عین اس موقع پر باکسنگ رنگ میں موجود ریفری کی طرح اعلان کیا کہ مصطفے وہاں ضرور جائے گا ، وہ باز آنے والا نہیں مجھے وہاں جانے کے لیے ایک ایسا شخص درکار ہے جو اسے یہ سب کچھ دکھا سکے‘‘۔ ایک دو فون کال اور میرے لیے وہاں غسان صاحب کا بندوبست ہوگیا۔
وہ حضرت مجھے یہودی آباد کاروں کے علاقے H-2.میں مل جائیں گے۔عبدالقادر کے پاس گو پروانہء راہداری ہے ، وہ بھی وہاں کا باشندہ ہے مگر مجھے لگا کہ وہ جانے میں کچھ ہراساں ہے۔ سو
میں نے وہاں موجود اپنے میزبانوں کو اللہ حافظ کہا اور تنہا پیدل ہی چل نکلا۔مٹی سے اٹی سڑکوں پر چلتے چلتے،کچھ موڑ ادھر ادھر مڑتے میں ایک ایسی دیوار کے سامنے آن پہنچا جس کے پاس جگہ جگہ ریت کے تھیلوں سے بنے ہوئے بنکرز تھے جن کے اندر اور باہر دھوپ کے چشمے لگائے اسرائیلی فوجی تعینات تھے ان کی RPG رائفلوں کو بھی بخوبی دیکھا جاسکتا تھا۔
شہر کو دو حصوں میں بانٹنے کے لیے ایک زنگ آلودturnstile بھی لگا تھا۔دوسری طرف بھی کئی کمانڈو اور فوجی ہمیں چبھتی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ان فوجیوں کا تعلق نو بھرتی شدہ فوجیوں میں ہوتا ہے۔اسرائیل میں ہر نوجوان مرد و زن پر ترکی کی طرح فوجی تربیت لازم ہے۔انہیں جس مرحلے سے گزارا جاتا ہے اسے Aliyah (گھر واپسی )کہا جاتا ہے۔یہ ان کی لازمی ہدایت کا حصہ ہے کہ وہ خطرے کو بھانپتے ہی بندوقوں سے عربوں کو بھون دیں۔

پاکستان بھی اسرائیل کی طرح ایک نظریاتی مملکت ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہاں لازمی فوجی تربیت سے کیوں منہ  موڑا ہوا ہے جب کہ یہ قومی تشکیل، میعاریت،نظم وضبط، دہشت گردی کے خاتمے اور جاسوسی کے اندرونی نظام کے لیے بے حد موثر اور ناگزیر قومی ضرورت ہے۔

چیک پوسٹ پر میں نے اپنا پاسپورٹ ایک مستعد سنتری کے حوالے کیا۔جس نے میرے سراپے کا جائزہ لیا ۔بیگ کی تلاشی لی اور ایک حفاظتی گیٹ سے گزرکر آگے جانے کی اجازت دے دی۔یہ پہلا مرحلہ تھا۔
دوسری طرف کی سرحدی باڑ کئی عدد سیمنٹ کے بڑے بلاکس پر مشتمل تھی۔یہاں سوال جواب کا نیا مرحلہ شروع ہوا کہ میں H-2 علاقے میں کسے جانتا ہوں؟۔میرا صحافت سے کیا کوئی تعلق ہے؟۔ میرے انکار اور سرجن ہونے کی وضاحت پر وہ مطمئن ہوگیا اور مجھے آگے جانے کی اجازت دے دی۔

شہدا سٹریٹ المعروف بہ نسلی تعصب
نوشتہ ء دیوار
رات چھاپے کی بعد فسطینی مجاہد کے گھر کا حال
فلسطینی خاتون اسرائیلی کی شرپسندوں کے ہاتوں تضحیک

مجھے لگا کہ میرے قدم مجھے ایک شہر آسیب میں لیے چلے جاتے ہیں۔۔یہاں دکانیں بند ، ٹریفک نہ ہونے کے برابر۔غسان سے میری ملاقات شہدا اسٹریٹ پر طے تھی۔میں نے گوگل کے نقشوں کی مدد سے مغرب کی سمت سفر کرنا شروع کردیا۔آدھ کلومیٹر چل کر مجھے ایک سیاحتی بس دکھائی دی جو شاید یروشلم سے یہاں آئی تھی اور ایک خالی پلاٹ میں کھڑے ہونے کی کوشش میں تھی۔بس کے رکتے ہی اس میں دس مشٹنڈے بندوق بردار اسرائیلی فوجی کودے اور چار اطراف سے بس کو گھیرے میں لے لیا۔ ان کی اجازت سے پھر کوئی پچاس سہمے ہوئے سیاح بس سے اترے۔ میری مسکراہٹ نے ان میں سے ایک بوڑھی عرب عورت کوحوصلہ دیا ،جس نے پوچھا’’ کیا میں بھی عرب ہوں؟‘‘۔نہیں میں بھی سیاح ہوں آپ کی طرح۔ارے تو پھر آپ کا گروپ کہاں ہے؟ یہ اس کا اگلا سوال تھا۔میں تنہا ہی گھومتا ہوں۔آہستہ آہستہ رہائشی علاقے کی جانب بڑھتے ہوئے مجھے اب ایسے یہودی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دکھائی دے رہے تھے جن کا لباس و اطوار قدامت پسند انہ تھے یہ مختلف بائیسکلوں پر سوار تھے۔گلی کے ہر نکڑ پر اسرائیلی فوجی کھڑے تھے اور چند خواتین بھی روز مرہ کے سودہ سلف کی ٹوکریاں اٹھائے آجا رہی تھیں۔ ان سے مولی کے پتے باہر جھانک رہے تھے ۔مجھے وہاں بتایا گیا تھا کہ میں اس علاقے میں خواتین کی تصاویر لینے سے گریز کروں گو کہ یہ مناظر یقیناًکیمرے میں  محفوظ کرکے آپ کے ساتھ شئیر کرنے والے تھے ۔
دس منٹ کی واک کے بعد میں شہدا اسٹریٹ پر پہنچ گیا۔اس گلی کا ایک اور نام بھی ہے۔یعنیApartheid street,یعنی شاہراہ نسلی منافرت ۔
بہت برس پہلے ایک یہودی جنونی ڈاکٹر Baruch Goldstein, حرم ابراہیمی کے احاطے میں داخل ہوگیا تھا اور اندھا دھند فائرنگ کرکے اس نے تیس مسلمانوں کو دوران صلوۃ الجمعہ شہید کردیا تھا۔اسے مسلمانوں نے وہیں موقع پر دبوچ کر ماردیا جس کی وجہ سے ہنگاموں کا ایک طوفان کھڑا ہوگیا۔
یہ ہنگامے سارے فلسطین میں پھیل گئے جس کے نتیجے میں ناروے کے دار الخلافہ  اوسلو میں1994 میں معاہدہ ہوا۔اس معاہدے کی رو سے اب یہ شہر الخلیل دو حصوں میں تقسیم ہے حتی کہ حرم ابراہیمی بھی۔ اس کا ایک حصہ مسلمان اور دوسرا یہودیوں کے لیے مختص ہے۔مسلمان حصے میں سیدنا اسحق علیہ سلام، ان کی اہلیہ ربیکا اور بی بی سارہ کا مقابر ہیں ۔یہودی حصے میں سیدنا یوسفؑ ، سیدنا یعقوبؑ اور کے مقابر عالیہ ہیں۔سیدنا ابراہیم علیہ سلام کہ مقبرے کو دونوں حصوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔اس کو ایک عجب انداز سے منقسم کیا گیا ہے کہ بلٹ پروف شیشے سے مزار آدھا ادھر تو آدھا یہودی حصے میں آجاتا ہے

بیبرون -الخلیل کی شاہراہ شہدا
بازار
بیبرون کے بازار کا جالی دار سائبان

1994, سے پہلے شہدا اسٹریٹ کو یہودی کنگ ڈیوڈ اسٹریٹ کہتے تھے۔یہاں بڑا کاروباری مرکز تھا ، صدیوں پرانا ایک بازار جسے سوق کہتے تھے، اس شہر کی اہم علامت مانا جاتا تھا۔
سوق میں اکثر دکانوں کے مالکان عرب تھے۔ ان کو برباد کرنے اور ان کے لیے عرصہء حیات مزید تنگ کرنے کی خاطر اب ان یہودی پناہ گیر آباد کاروں کی حفاظت اور سیکورٹی کے نام پر اس شاہراہ اور ان دکانوں کو عربوں کے لیے مستقل طور پر نو گو ایریا بنادیا گیا ہے۔ عربوں کے وہ گھر جن کا رخ اور صدر دروازے اس مرکزی شاہراہ پر تھے ان پر اب یہ پابندی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں مرکزی دروازے سے داخل نہیں ہوسکتے بلکہ چوروں اور نقب زنوں کی طرح کھڑکیوں اور چور دروازوں سے یا دیواریں پھلانگ کر اندر آسکتے ہیں۔ پورے بارہ سال تک تو فلسطینیوں پر شہدا اسٹریٹ میں چھوٹے گروپوں کی شکل میں قدم رکھنے پر بھی پابندی تھی۔معمولی سی خلاف ورزی پر چوکیوں اور واچ ٹاوروں پر ایستادہ یہودی سپاہیوں کی گولی انہیں نشانہ بنا لیتی تھی۔2007 میں شدید بیرونی دباؤ میں آن کر اب یہ شرط نرم کردی گئی ہے پیدل ٹولیوں کو وہاں آنے کی اجازت ہے۔ لیکن گولی اب بھی ویسے ہی چلتی ہے۔ کاروں کو البتہ وہاں آنے کی اب بھی ممانعت ہے۔
Bait Hadassah Museum, کے سامنے سے گزرتے ہوئے میری نگاہ انہی  سہمے ہوئے سیاحوں پر پڑی جنہیں میں نے بس سے اترتے دیکھا تھا ۔ ایک چالاک یہودی گائیڈ اب انہیں اس عجائب گھر کے بارے میں بتارہا تھا۔میرے لیے اس عجائب گھر میں داخلے کا امکان بہت کم ہے۔

Advertisements
merkit.pk

یہاں موجود نواداررت کو اس انداز اور نقطہء نظر سے رکھا گیا ہے کہ یہودیوں کا اسرائیل پر حق ابتدائے آفرینش سے ثابت ہو گویا اسرائیل جنت کا حصہ تھا جہاں آدم علیہ سلام رہا کرتے تھے اور انہیں جنت سے بے دخل اس قطعہء مملکت سمیت کیا گیا۔عربوں کی بند دکانوں پر غلیظ عرب دشمن نعرے لکھے ہوئے تھے۔ایک جگہ بڑے الفاظ میں Free Israel کا نعرہ بھی درج تھا۔ یہ اسرائیل میں انتہائی دائیں بازو کی شدت پسند صیہونیت سوچ کا نعرہ ہے۔ ہیبرون کے اکثر یہودی پناہ گیر آباد کار اس سوچ کے حامی ہیں۔ سڑک کے خاتمے پر ایک سمینٹ بلاک کی اوٹ مجھے ایک گول متھلو سا نوجوان نظر آیا یہ غسان تھا ۔ مجھے اسے پہچاننے میں اس لیے دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا  کیونکہ مجھے اس کی تصویر دکھا دی گئی تھی۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply