• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ماں بولی” کو زندہ رکھئیے، ہریانوی رانگھڑی یا کھڑی کو ایک ہی متفقہ نام دیجئیے

ماں بولی” کو زندہ رکھئیے، ہریانوی رانگھڑی یا کھڑی کو ایک ہی متفقہ نام دیجئیے

ماں بولیوں کے عالمی دن کے موقعے پہ فقیر نے مادری زبان میں ایک پوسٹ لگائی۔

کئی احباب نے اِستعجاب اور لاعلمی کا اظہار کیا کہ
” کیا یہ زبان پاکستان میں بھی بولی جاتی ہے ؟”
انکی حیرانگی بجا ہے کیونکہ انڈیا کے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے آنے والے تمام مسلمانوں کو یو پی کے مہاجرین کی نسبت سے من حیث المجموعی “اردو سپیکنگ ” کہا جانے لگا۔
جبکہ مشرقی پنجاب کے اضلاع امرتسر جالندھر لدھیانہ پٹیالہ و انبالہ کے لوگ پنجابی سپیکنگ تھے۔
اسی طرح موجودہ ہریانہ کے مختلف اضلاع کرنال، روہتک حصار، سہارنپور وغیرہ سے ہجرت کر کے آنے والے “کھڑی بولی” رانگھڑی یا زمانہ موجود میں ہریانہ کی نسبت سے “ہریانوی” کہلانے والی زبان بولنے والے بھی بکثرت تھے۔
اتفاق سے یوپی، سی پی سے ہجرت کرنے والے کراچی میں منتقل ہوئے ۔
مشرقی پنجاب سے آنے والے مسلمانوں کو تقریباً پنجاب میں ہی آباد کیا گیا(اسی لئیے میں خود کو مُہاجر نہیں کہتا کیونکہ ہم پنجاب سے پنجاب میں ہی منتقل ہوئے ۔
دوسری وجہ یہ کہ ہریانہ سے کراچی تک کا علاقہ ” اِنڈس ویلی” کہلاتا ہے، وادی سندھ کی تہزیب و تمدن سے منسوب ہے ”
یوں اِس حوالے سے فقیر ” سَن آف سوائل” “زمین ذادہ ”
دوسرے معنوں میں “دھرتی کا پُتر “ہے)
چونکہ کراچی نئیے ملک کا دارالحکومت بنا تو یو پی سے ہجرت کرنے والے مہاجرین کا غلبہ ہوگیا ۔
اسطرح انڈیا کے مختلف علاقوں سے ہجرت کرنے والے تمام افراد “مہاجر” کہلانے لگے۔
جب کراچی والوں نے خود کو “اردو سپیکنگ” کہلوانا شروع کیا تو مختلف علاقوں کے مختلف زبانیں بولنے والے خاص کر ہریانوی یا رانگھڑی بولنے والوں کو بھی “اردو سپیکنگ” کہا جانے لگا ۔
آغاز میں تو ہریانوی بولنے والے سمجھ ہی نہ پائے کہ اِس زبان کو کیا کہا جائے۔
چونکہ رانگھڑی راجپوتوں سے منسوب ہے جبکہ حقیقت ہے کہ مختلف قوم ذاتوں کے سے تعلق رکھنے والے افراد شیخ ،قریشی، صدیقی، انصاری، مرزا بدرجہ اتم یہی زبان بولتے ہیں
اور یہ اقوام راجپوتوں سے تعداد میں کہیں زیادہ ہیں تو وہ خود کو رانگھڑ کیوں کہلوائیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بتدریج اردو کو اپنالیا اور اردو سپیکنگ کہلوانے لگے
میرے خیال ہ میں رانگھڑی کہنے سے اس زبان کا کینوس محدود ہوجاتا ہے۔
چونکہ ہریانوی اردو سے زیادہ مماثل ہے اسلئیے شروع میں ہم لوگ اسے “گلابی اردو” بھی کہتے رہے۔(رفتہ رفتہ یہ اردو میں ہی ڈھل گئی )
یعنی رانگھڑی ،کھڑی ،گلابی اردو یا برج اردو اور اب ہریانوی،
ایک ہی زبان کے مختلف نام ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جسطرح سابقہ ملوہی، ملتانی، ریاستی، کہلانے والی ایک ہی زبان کو 1966 میں ملتان میں منعقدہ اجلاس میں متفقہ طور پہ “سرائیکی ” کا نام دیا گیا بعین اسی طرح رانگھڑی ہریانوی کھڑی زبان کو بھی متفقہ نام دیاجانا چاہئیے۔
یہ حقیقت محل نظر رہے کہ جب سے جنوبی پنجاب کے لوگ
” سرائیکی” نام پہ متفق ہوئے تو اس زبان نے بے تحاشا ترقی کی۔
خواہ ریاست بہاولپور کے بسنے والے ہوں ملتان کے یا بلوچستان سے نقل مکانی کر کے جنوبی پنجاب میں سکونت اختیارکرنے والے بلوچ ہوں سب خود کو سرائیکی کہلوانے لگے ہیں اور سرائیکی بولنے لگے ۔
جب ہریانوی رانگھڑی کا ایک ہی نام ہوگا تو انڈین مشرقی پنجاب، راجھستان سے ہریانہ تک کراچی سے اندرون سندھ اور پنجاب کی کثیر آبادی جو ایک ہی زبان مختلف لہجوں میں بولتی ہے سب ایک ہی لڑی میں پروئے جائیں گے۔
پہلے مرحلے میں ایک نام منتخب کیا جائے ،ہریانوی بولنے والے کمپلیکس سے نکلیں اور اپنی علیحدہ شناخت پہ اِسرار کریں ۔
ہریانوی اہلِ زبان دانشوروں کو چاہئیے کہ پہلے مرحلے میں مردم شماری کے زبانوں کے خانے میں زبان کا “متفقہ نام” شامل کرائیں ۔ دنیا کی علاقائی زبانوں میں اسے بھی شمار کیا جائے ۔
ملک کی تمام یونیورسٹیز میں ہریانوی ڈیپارٹمنٹ قائم کرائے جائیں ۔
ابتدائی تعلیم ہریانوی زبان میں حاصل کرنے کا آپشن دیا جائے ۔۔
مندرجہ بالا اقدامات سے اپنی “ماں بولی” کو زندہ رکھا جاسکتا ہے الگ شناخت قائم رکھی جا سکتی ہے، اپنی زبان کی بہتر طریقے سے تعمیر و ترویج کی جا سکتی ہے۔

گل ساج
گل ساج
محمد ساجد قلمی نام "گل ساج" مظفر گڑھ جنوبی پنجاب ۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *