• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • قرآن کتابِ واحد جو ہر لمحہ دنیا میں بغیر سمجھے پڑھی جارہی ہے۔۔۔۔غیور شاہ ترمذی

قرآن کتابِ واحد جو ہر لمحہ دنیا میں بغیر سمجھے پڑھی جارہی ہے۔۔۔۔غیور شاہ ترمذی

کافی پہلے پڑھا تھا کہ القرآن پاک دنیا کی تاریخ میں واحد کتاب ہے جو گذشتہ چودہ سو سال سے روئے زمین پر اتنے تسلسل سے پڑھی جارہی ہے اور ہر وقت، ایک ایک وقت میں، بلکہ ایک ایک لمحہ میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں آدمی اس کو مسلسل اور تواتر سے اس طرح پڑھ رہے ہیں کہ اس تلاوت میں ایک سیکنڈ کے ایک ہزارویں حصہ کا بھی وقفہ نہیں آتا۔ روئے زمین کا اگر نقشہ ہمارے سامنے ہو اور اس کو سامنے رکھ کر اس دعویٰ پر غور کیا جائے کہ چودہ سو برس سے لے کر اس لمحہ تک اور آئندہ جب تک یہ دنیا موجود ہے ایک سیکنڈ کا وقفہ اس روئے زمین پر ایسا نہیں آیا کہ اس وقفہ میں لاکھوں آدمی کہیں نہ کہیں قرآن پاک کی تلاوت نہ کر رہے ہوں تو ذرا سا غور کرنے سے یہ حقیقت واضح اور صاف ہو جاتی ہے، اور یہ صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ دنیا میں ایک لمحہ کے لئے بھی کہیں ایسا نہیں ہوتا۔

اسے یوں سمجھتے ہیں کہ روئے زمین پر ایک ارب بیس کروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔ دنیا کے نقشے پر نظر ڈال کر دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اس زمین کے جنوب مشرقی کونے میں فجی اورآسٹریلیا کے علاقے شامل ہیں۔ فجی میں ایک لاکھ سے زائد مسلمان رہتے ہیں۔ اسی طرح آسٹریلیا میں دس لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں، جو اکثر و بیشتر آسٹریلیا کے بالکل جنوب مشرق کے علاقہ نیو سائوتھ ویلز میں رہتے ہیں۔ جب فجی اورآسٹریلیا میں صبح کی نماز کا وقت ہوتا ہے اور یہ یاد رہے کہ دنیا میں صبح سب سے پہلے فجی اورآسٹریلیا ہی میں ہوتی ہے, تو وہاں کے مسلمان کیا کرتے ہوں گے؟ آپ مان لیجئے کہ نماز پڑھنے والوں کا اوسط مسلمانوں میں بہت کم رہ گیا ہے۔ فرض کر لیں کہ مسلمان قوم میں بہت سے لوگ لا مذہب اور بے دین ہو گئے ہیں اور ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں رہ گیا ہے۔ (کوئی مخالف زیادہ سے زیادہ یہی فرض کر سکتا ہے)۔ لیکن اس بات سے کوئی بڑے سے بڑا مخالف اسلام بھی اختلاف نہیں کر سکتا کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد میں سے دس فی صد لوگ ضرور نماز پڑھتے ہوں گے۔ اگر صرف دس فیصد لوگ بھی نماز پڑھتے ہوں تو گویا کم از کم ایک لاکھ مسلمان اس علاقے میں ایسے ضرور ہیں جو روزانہ علی الصباح فجر کی نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں، اور کھڑے ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں۔ (مسلمانوں میں ہمیشہ سے یہ طریقہ چلا آرہا ہے کہ وہ فجر کی نماز کے بعد بقدر توفیق قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں)۔ مان لیجئے کہ اس وقت قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے ان دس فیصد میں بھی دس فیصد ہیں تو پھر بھی کئی ہزار مسلمان وہ ہیں جو قرآن پاک کھول کر تلاوت کر رہے ہوں گے، اور جو باقاعدہ تلاوت نہیں کرتے وہ بھی کم از کم نماز میں سورةفاتحہ اور سورة اخلاص وغیرہ کی تلاوت ضرور کرتے ہیں۔ اول تو یہ تعداد لاکھوں میں ہے۔ لیکن بڑے سے بڑا مخالف بھی چند ہزار کا اعتراف ضرور کرے گا اور نہیں کرتا تو آپ اسے فجی اور آسٹریلیا لے جا کر دکھا دیجئے۔

اس کے بعد جب آسٹریلیا میں فجر کی نماز کا وقت ختم ہونے لگتا ہے تو انڈونیشیا میں فجر کی نماز کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ انڈونیشیا میں بیس کروڑسے زائد مسلمان بستے ہیں- پورے انڈونیشین ملک میں ساڑھے پانچ ہزار جزائر ہیں جو تین ہزار میل کے رقبے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مشرق سے لے کر مغرب تک جزائر کا ایک لمبا سلسلہ آپ نقشہ پر دیکھ لیجئے۔ ان بیس, پچیس کروڑ کی آبادی میں اگر دس فیصد بھی نماز پڑھتے ہوں تو پہلے مشرقی علاقہ میں فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے پہلے مشرقی جزائر میں فجر کی نمازوں سے سلسلہ کا آغاز ہوتا ہے، پھر وسطی جزائر میں پھر آخر میں مغربی جزائر میں۔ یاد رہے کہ انڈونیشیا کے مغربی جزائر ملائیشیا کے ساتھ ایک ہی عرض بلد پر واقع ہیں۔ یوں فجر کا وقت ملائیشیا اور انڈونیشیا میں بیک وقت شروع ہو جاتا ہے، اور جونہی وہاں یہ سلسلہ ختم ہوتا ہے تو بنگلہ دیش میں شروع ہو جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں ختم ہوتے ہی بھارت میں شروع ہو جاتا ہے جہاں بیس کروڑ کے لگ بھگ مسلمان رہتے ہیں۔ ابھی بھارت کے مسلمان نماز پڑھ ہی رہے ہوتے ہیں کہ فجی میں ظہر کا وقت داخل ہو جاتا ہے وہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔

اب گویا دو سلسلے ہوگئے۔ اس روئے زمین پر تلاوت قرآن پاک کی دو لہریں چل رہی ہیں، یہ دو لہریں یا سلسلے یا دو (Waves) جو مشرق سے شروع ہو کر مغرب کو جار ہی ہیں- ہندوستان میں ابھی یہ لہر ختم نہیں ہوتی کہ پاکستان میں شروع ہوجاتی ہے اور پاکستان کے بعد پورا سنٹرل ایشیا، پورا افغانستان ،پورا چین جہاں کروڑوں مسلمان آباد ہیں اس لہر میں شامل ہو جاتے ہیں،اور یوں اس وسیع و عریض خطہ میں تلاوت قرآن کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے- پاکستان کی کل ابادی میں اگر 20 کروڑ بھی مسلمان ہیں تو ایک محتاط اندازہ کے مطابق ان میں سے اگر 8 فیصد مسلمان بھی قرآن پڑھتے ہوں تو کم وبیش ستر اسی لاکھ مسلمان پاکستان بھر میں فجر کے وقت تلاوت اور نماز میں مشغول ہوتے ہیں- (اگرچہ یہاں تلاوت قرآن کرنے والوں کی اصل تعداد اس سے بہت زیادہ ہے)۔

جب نماز فجر کا یہ سلسلہ مصر تک پہنچتا ہے تو فجی میں عصر کا وقت داخل ہو چکا ہوتا ہے۔ اس طرح بیک وقت تین سلسلے شروع ہو جاتے ہیں، اور جب یہ سلسلہ آگے پہنچتا ہے اور مراکش میں داخل ہوتا ہے تو پیچھے فجی میں مغرب کا وقت داخل ہو جاتا ہے ۔ اب چار سلسلے ہو گئے اور جب امریکہ میں جہاں نوے لاکھ سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں فجرکا وقت داخل ہو چکا ہوتا ہے اور وہ فجر کی نماز پڑھنا شروع کرتے ہیں تو فجی میں عشاء کا وقت شر وع ہوجاتا ہے، یوں روئے زمین پر نماز و تلاوت کے پانچ سلسلے ایسے چلتے رہتے ہیں کہ جن میں چاروں طرف سے تسلسل قائم رہتا ہے۔ اس میں کبھی وقفہ نہیں ہوتا۔ اگر کسی کو شک ہوں تو وہ ٹیلیفون کرکے معلوم کر سکتا ہے کہ دنیا میں کہاں کہاں اس وقت کون کون سی نمازیں ادا کی جارہی ہیں اور کہاں کہاں تلاوتیں ہو رہی ہیں۔ یوں بھی دنیا کا نقشہ سامنے ہو، نمازوں کے اوقات اور دنیا میں مسلمانوں کی تعداد کا علم ہو اور سورج کی حرکت کا اندازہ ہو تو ٹیلی فون کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ نقشہ سے ہی پتہ چل جائے گا کہ چوبیس گھنٹے میں نماز و تلاوت کی ہر وقت یہ پانچ روئیں مسلسل اور متواتر چلتی رہتی ہیں، اور روئے زمین پر کہیں نہ کہیں ہزاروں، لاکھوں مسلمان قرآن پاک کی تلاوت یا قرآن پاک کے کسی ایک حصہ کی تلاوت یا سماعت کر رہے ہوتے ہیں۔

اس اعتبار سے اگر ہم یہ کہتے ہیں تو درست کہتے ہیں کہ القرآن وہ واحد کتاب ہے جس پر یہ لفظ اس کمال اور بھر پور طریقہ سے صادق آتا ہے کہ کسی اور کتاب پر صادق نہیں آتا اور دنیا میں کوئی بھی کتاب ایسی نہیں ہے جو اتنے تسلسل کے ساتھ اور اتنی کثرت کے ساتھ پڑھی جار ہی ہو کہ اس میں چودہ سو (1400) سال سے کوئی وقفہ ہی نہ آیا ہو۔ وقفہ آ ہی کیسے سکتا ہے، اس تسلسل میں ایک منٹ یا ایک سیکنڈ کا وقفہ بھی اس لیے نہیں آ سکتا کہ پانچ روئیں متواتر چل رہی ہیں۔ لہذا القرآن ایسا نام ہے کہ یہ کسی اور کتاب پر پورا اتر ہی نہیں سکتا۔

قرآن پاک تو اللہ پاک کی طرف سے نازل کردہ آخری الہامی کتاب ہے جو پوری دنیا میں ہر وقت پڑھے جانے کے بوجود بھی پڑھنے والوں کی زندگیوں پر کچھ قابل ذکر اثر نہیں چھوڑ رہی- اس بات کی وضاحت سمجھنے کے لئے تصور کرتے ہیں (ویسے تو جو ہماری اخلاقی اقدار چل رہی ہیں, ان میں یہ ممکن نہیں کہ ایسا ہو- مگر فرض کر لیتے ہیں) کہ کوئی غیر مسلم ہم سے متاثر ہو کر ہم سے یہ پوچھے کہ ہم اسے کوئی ایسی کتاب دیں جسے پڑھ کر وہ اسلام کے بارے میں کچھ سمجھ سکے- اس سوال کے جواب میں ہر فرقہ اسے اپنے یہاں سے درجنوں کتابیں مختلف موضوعات پر مہیا کرنے کی کوشش کرے گا- لیکن اگر وہ غیر مسلم یہ شرط رکھ دے کہ اسے صرف وہی کتاب دی جائے جس پر تمام فرقے متفق ہیں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں- اس سوال کے جواب میں ہمارے پاس صرف ایک ہی کتاب باقی رہے گی جسے القرآن الحکیم کہتے ہیں جو اللہ پاک کی طرف سے نازل ہونے والی آخری کتاب ہے-

یہاں تک تو بات ٹھیک پہنچی- اب مزید فرض کر لیتے ہیں کہ وہی غیر مسلم اگر یہ سوال پوچھ لے کہ صاحب جی, “یہ قرآن کریم جو آپ مجھے اسلام سمجھنے کے لئے دے رہے ہیں, کیا آپ نے اسے رموز زندگی سمجھنے کے لئے خود بھی پڑھا ہے یا صرف مجھے اس کی تلقین کرتے ہیں اور خود اسے ایک عادت کی طرح بغیر سوچے سمجھے پڑھتے ہیں”- اس سوال کے جواب میں راقم سمیت 95% سے زیادہ مسلمانوں کی گھگھی بندھ جانی ہے اور شرمندگی سے ہم اس غیر مسلم سے آنکھیں چار نہیں کر سکیں گے-

آج کی دنیا کے تمام مسلمان ممالک میں جرائم کی شرح سب سے زیادہ ہے, یا وہاں بنیادی انسانی حقوق تک بھی لوگوں کو میسر نہیں ہیں, فرقہ واریت, ایک دوسرے کی تکفیر اور مخالفین کی نسل کشی جاری ہے- عوام مجبوریوں, محرومیوں اور پریشانیوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں جبکہ حکمران طبقہ عیش و عشرت کے مزے لوٹ رہا ہے- ایک سکول کے طالب علم سے بھی اس سوال کا جواب پوچھیں گے تو وہ بتائے گا کہ ایمان بالقرآن کا تقاضہ ہے کہ ہم قرآن سمجھ کر پڑھیں، اللہ تعالیٰ نے قرآن پر ایمان لانے کے اوّلین اور بنیادی تقاضہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِہٖ۝۰ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ۝۱۲۱ۧ (البقرہ)

ترجمہ: ہم جس کو بھی کتاب دیتے ہیں اس کو ایسا پڑھتے ہیں جیسے اس کے پڑھنے کا حق ہے ایسا کرنے والے ہی لوگ اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں۔ جو کوئی کتاب کے ساتھ ایسا نہ کرے پس ایسے ہی لوگ گھاٹا پانے والے ہیں-

اللہ پاک ہم سب کو قرآن پاک سمجھ کر پڑھنے اور اپنی زندگیوں کو قرآن کی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی توفیقات عطا فرمائیں تاکہ ہم سارے اختلافات مٹا کر اپنی اور دوسروں کی زندگیاں فلاح و بہبود اور اخروی نجات کے حصول کے لئے ڈھال سکیں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”قرآن کتابِ واحد جو ہر لمحہ دنیا میں بغیر سمجھے پڑھی جارہی ہے۔۔۔۔غیور شاہ ترمذی

  1. بہت عمدہ تحریر۔
    اکثریت مسلمان درحقیقت دین اسلام سے دور ہے کلمہ پڑھ کہ مسلمان تو ہو گئے لیکن اسلام کی اصل روح سے ناواقف ہیں ۔
    رسولِ اکرم محمد مصطفٰے صلی اللہُ علیہِ وَ آلہ وسلم کی تعلیمات پہ عملدرآمد نہیں کر رہے کیونکہ آپ فرماء کے گئے تھے کہ اے لوگو تم میں دو چیزیں چھوڑ کہ جا رہا ہوں ان سے تمسک رکھنا ۔ ( قرآن ۔ اہلِ بیت علیہ اسلام)
    جو کوئی بھی ان دونوں سے ہدایت لے گا وہ دنیا و آخرت میں کامیاب رہے گا ۔

    1. متشکرم ۔۔ حضور عالی
      کوشش کرتا رہتا ہوں کہ اپنے دوستوں کے معیار کے مطابق کچھ لکھ سکوں۔
      امید ہے کہ کبھی نہ کبھی کامیابی ہو ہی جائے گی۔

Leave a Reply to غیور شاہ ترمذی جواب منسوخ کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *