امی جان کے نام کُھلا خط۔۔۔۔ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ

پیاری امی جان آداب

امید ہے آپ بخیرو عافیت ہوں گی اور حسب معمول ابا اور بھابھیوں کا جینا حرام کررہی ہوں گی۔ کتنا اچھا لگتا ہے جب آپ ابا پہ گلا پھاڑے چیختی اور پلو پھیلا پھیلا کے بھابھیوں کو کوسنے دیتی ہیں۔ گھر میں آپ کی وجہ سے ہروقت رونق سی لگی رہتی ہے، ذرا جو سناٹا ہوتا ہو۔ بھئی مجھے تو بڑی ہنسی آئی جب بڑی بھاوج کو آپ نے گلاس کھینچ کرمارا اور ان کی ماں کو سنائیں تو وہ پھپھک پھپھک کر رونے لگی۔ حد ہے جذباتی پن کی ایسا بھی کیا بچپنا کہ انسان ذرا سی دو چار صلواتیں بھی برداشت نہ کر سکے اور رونے بیٹھ جائے۔

سچی بات بتاؤں میں تو ہمیشہ اپنے میاں کے سامنے ہی روتی ہوں مجھے روتے دیکھ کے وہ ایسے جذباتی ہوتے ہیں اور جا کے اپنی اماں بہنوں کو وہ وہ ڈھائی ڈھائی من کی سناتے ہیں کہ بس اللہ دے اور بندہ لے۔ پھر میں ہی باہر نکل کر انھیں اپنی قسم دے کے کمرے میں لاتی ہوں دل کی بھڑاس بھی نکل جاتی ہے اور سب کی نظروں میں اچھی بھی میں ہی بنتی ہوں۔ میری ساس تو ایسی سیدھی کہ آج تک میری اس چالاکی کو سمجھ ہی نہیں سکیں بلکہ الٹا مجھ سے کہتی ہیں دلھن تم ذرا بدو کو سمجھایا کرو، اتنا غصہ نہ کیا کرے۔ میں دل ہی دل میں ہنستی ہوں اور اوپر سے ڈیڑھ من کا سر ہلا کے کہتی ہوں جی امی جان میں ضرور سمجھاؤں گی۔ ہی ہی ہی ہے نا مزے کی بات۔

آپ کی دعا سے میں بھی خیریت سے ہوں اور آپ کی ہدایات پہ چلتے ہوئے یہی کام اپنے گھر میں سر انجام دے رہی ہوں جو آپ وہاں کر رہی ہیں۔ ساس میری بڑی سیانی بیانی بنتی ہیں، سارا خاندان ان سے مشورے کیا کرتا ہے مگر میرے آگے ان کی بھی عقل پانی بھرنے چلی جاتی ہے۔ میں اس بات پہ بہت فخر محسوس کرتی ہوں کہ مجھے آپ جیسی تیز طرار امی ملیں۔ پلیز اس لفظ پہ آپے سے باہر نہ ہوجایئے گا دراصل آپ کی شخصیت کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی اور لفظ ذہن میں آتا ہی نہیں یہی لفظ ہے جو آپ کی پوری شخصیت کو کھول کر بیان کردیتا ہے۔

جب جب آپ کی صحبت سے فیضیاب ہوکر میکے سے لوٹتی ہوں تو خود میں ایک نیا کمینہ پن محسوس کرتی ہوں۔ حسد۔ خودغرضی اور بے شرمی پہلے سے بڑھ جاتی ہے۔ اس بار جب میں آئی تو میری بڑی گند گھر رہنے آئی ہوئی تھی۔ ہی ہی ہی ارے بھئی سمجھی نہیں؟ گند سے میرا مطلب ہے بڑی نند۔ مجھے آگ تو بہت لگی مگر پھر میں نے آپ کی نصیحتوں کو یاد کیا کہ مجھے آگ لگانی تو ہے مگر اپنے اندر نہیں بلکہ اپنی ساس نندوں کو۔ بس یہی سوچ کے دل کو تسلی دی اور بنا سلام کیے سیدھی کمرے میں جا کے لیٹ گئی۔

شام کی چائے بھی اسی نے بنائی اور رات کا کھانا بھی۔ میں تو تھکن کا بہانا کرکے کمرے سے نکلی ہی نہیں جب کھانا تیار ہوگیا اور دسترخوان لگ گیا تو ہی نکلی دیکھا تو نند صاحبہ نے کھانے میں اچار گوشت اور مٹر پلاؤ بنایا ہوا تھا سلاد رائتہ املی پودینے کی چٹنی آہا خوب ہرا بھرا دسترخوان تھا بیٹی کے آنے پہ بڑھیا یوں ہی ضیافتیں کرتی ہے خیر میں بھی اپنے نام کی ایک ہی ہوں خوب لمبے لمبے ہاتھ مارے اور دل پیٹ بھر کے کھایا بلکہ چن چن کے مرغی کی ساری رانیں اور اچھی اچھی بوٹیاں اپنے ہاتھ سے اپنے اور میاں بچوں کی پلیٹوں میں ڈال دیں بے چاری نند کے حصے میں موغی کی گردن ہی آئی ہی ہی ہی۔

ہے نا مزے کی بات۔ اتنی محنت کے بعد مرغی کی گردن چچوڑنی پڑی۔ خیر میں کھانا کھا کے ہاتھ دھونے کچن میں گئی تو دیکھا نند چائے بنا رہی تھی اور کھونٹی پہ اس کا دوپٹہ لٹک رہا تھا بے چاری نے گرمی کی شدت سے گھبرا کے ٹانگ دیا ہوگا میں نے آو دیکھا نہ تاؤ اسی سے ہاتھ پونچھ لئے۔ ہی ہی ہی اسے پتہ بھی نہیں چلا جب دیکھے گی تو سر پہ ہاتھ رکھ کے روئے گی نیا سوٹ پہن کے آئی تھی کمینی بھلا آپ ہی بتائیں یہ کون سا انصاف ہے کہ میں پرانا سوٹ پہنوں اور وہ نیا سوٹ پہن کے اترائے۔ آپ نے دیکھا آپ کی بیٹی نے کیسا گھر سنبھال رکھا ہے کوئی نہیں جو میرا مقابلہ کرسکے۔ اور ایسی اوچھی حرکتیں تو میں نے سب آپ ہی سے سیکھی ہیں آپ میری صرف ماں نہیں بلکہ استاد بھی ہیں اسی لئے تو میں آپ سے اتنا پیار کرتی ہوں چلیں۔ اب آپ آرام کریں اگلے خط میں مزید احوال سناؤں گی۔

آپ کی لاڈلی
پروین عرف پینو
ضلع چچی کی مولیاں
پاکستان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *