• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • دیوار گریہ کے آس پاس۔۔۔۔روایت : کاشف مصطفےٰ/تصنیف و تحقیق : محمدّ اقبال دیوان/قسط11

دیوار گریہ کے آس پاس۔۔۔۔روایت : کاشف مصطفےٰ/تصنیف و تحقیق : محمدّ اقبال دیوان/قسط11

(اسرائیل کا سفر نامہ ۔اپریل 2016 )
ادارتی تعارف
جناب محمد اقبال دیوان کی تصنیف کردہ یہ کتاب’’ دیوار گریہ کے آس پاس ‘‘کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔
اس سفر نامے کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔
کتاب کے ناشر محترم ریاض چودہری کی پیرانہ سالی اور صوفیانہ بے نیازی کے باعث سرورق پر دیوان صاحب کا نام بطور مصنف شائع ہونے سے رہ گیا جس سے یہ تاثر عام کیا گیا کہ اس کے مصنف کوئی اور امیر مقام ہیں۔
یاد رہے کہ یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔
انگریزی میں تحریر ان کی سفری یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا جو زیادہ تر مختصر پیرائے میں انگریزی زبان میں اسرائیل سے جناب دیوان صاحب کو بذریعہ ای میل موصول ہوئیں۔ ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے موصول شدہ ان ٹریول نوٹس کی مدد سے اپنے مخصوص انداز میں اسے اردو کے قالب میں ڈھالا۔ اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع کیا۔
اس کتاب کو لکھنے میں اور اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔یہاں  اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ یہ کاوش بیش بہا پہلے سے انگریزی یا کسی اور زبان میں کتاب کی صورت موجود نہ تھی۔ نہ ہی اس کا کوئی اور نسخہ اب تک کسی اور زبان میں معرض وجود میں آیا ہے۔ قارئین مکالمہ کی خاطر کچھ تصاویر جو کتاب میں موجود نہ تھیں وہ وضاحت مضمون کی خاطر نیٹ سے شامل کی گئی ہیں۔قسط مذکورہ میں ڈاکٹر صاحب کی اپنی تصویر کے علاوہ تمام تصاویر نیٹ سے لی گئی ہیں
ہما رے دیوان صاحب ڈاکٹر صاحب کے ہم زاد ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔ ان کی تین عدد کتابیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا اور تیسری پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ شائع ہوچکی ہیں۔ چوتھی چارہ گر ہیں بے اثر ان دنوں ادارہ قوسین کے پاس زیر طبع ہے۔ سرجن کاشف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔ قرآن الحکیم، بائبل اور تصوف کے حوالے دیوان صاحب کی اپنی تحقیق اور اضافہ ہے اور انگریزی ٹریول نوٹس میں شامل نہ تھا
ایڈیٹر ان چیف

انعام رانا

tripako tours pakistan
ہیبرون پر ڈاکٹر کاشف مصطفے کا مختصر انگریزی نوٹ

گزشتہ سے پیوستہ
میرے مشاہدے میں یہ ایک عجیب بات آئی کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی آنکھیں جتنی جلدی کسی بھی مرقد اور بزرگ ہستی کے ذکر غم انگیز پر رو رو کر سوجھ جاتی ہیں ،یہودیوں کے ہاں یہ معاملہ صرف دیوار گریہ تک محدود ہے۔ وہ ان مزارات یا ان ہستیوں کے دکھ بھرے تذکرووں پر ہرگز نہیں روتے ۔ ان مواقع اور مقامات پر ایک پروقار خاموشی ان کا وطیرہ رہتی ہے ہاں البتہ ان مزارات پر وہ ہل ہل کر تورات ضرور پڑھتے ہیں۔ہل ہل کر کسی مقدس کتاب کی تلاوت پر مجھے وہ چھ سالہ بچی یاد آئی جو پہلی دفعہ ناروے سے بستی بختاں والا سرگودھا اپنی بی ایریا لیاقت آباد کراچی والی امی جان کے ساتھ آئی تھی۔ صبح سویرے جب اس نے اپنی جانماز پر دادی کو زور زور سے ہل ہل کر قرآن پڑھتے دیکھا تو اس کار خیرکی وضاحت اپنی انگارہ بر زبان ماں سے چاہی ۔جس نے اسے بہت پیار سے سمجھایا کہ’’ بیٹا تمہاری دادی اماں اپنے فائنل امتحان کی تیاریاں کررہی ہیں‘‘
نئی قسط
سیدہ راحیل جو سیدنا یوسف علیہ سلام کی والدہ محترمہ تھیں ان کے مرقد عالیہ کے احاطے میں میری نگاہ وہاں موجود ایک یہودی خاتون کچھ وردکرتے ہوئے ایک اونی سرخ دھاگے کو مرقد کے گرد لپیٹ کر اس میں پھونک پھونک کر گرہیں باندھ رہی تھی۔ اسے وہ بہت احتیاط سے لپیٹ کرایک چھوٹے سے پرس میں بھی رکھ رہی تھی۔ میرا خیال ہے کہ یہ شاید وہ ایسی خواتین کی کمر کے گرد باندھتی ہیں جن کو بچے کی ولادت کے درد میں کمی اور زچہ کو آرام پہنچانا مقصود ہو۔
ہم وہاں سے فاتحہ خوانی کے بعد واپس یروشلم لوٹ آئے۔ میں مسجد اقصی کے قریب اتر گیا۔قادر بھی دن بھر کی مسافت سے ہلکان ہوگیا تھا اور گھر جاکر آرام کرنے کا متمنی تھا۔اس نے جب کل کا پروگرام پوچھا تو میں نے کہا الخلیل یعنی ہیبرون ۔ یہ نام سنتے ہی وہ ایک دم متفکر سا ہوگیا۔اس نے یقین دہانی کی خاطر پوچھا کہ’’ کیا میں واقعی ہیبرون جانا چاہتا ہوں ۔یہ جانتے بوجھتے بھی کہ ہمہ وقت یو ٹیوب اور دنیا بھر کا میڈیا وہاں ہنگاموں اور مار دھاڑ کی خبریں دکھا رہا ہوتا ہے؟‘‘۔ میں نے بھی ذرا حوصلہ دکھاتے ہوئے جواب دیا ’’جی ہاں میرا سیدنا علی مرتضیؓ کے اس قول میں بہت پختہ یقین ہے کہ موت ہی زندگی کی محافظ ہے۔اسی وجہ سے سیاحت میں میری دل چسپی ناقابل سمجھوتہ ہے‘‘۔’’تو پھر کل صبح چھ بجے تیار رہنا‘‘۔ یہ کہہ کر وہ رخصت ہوگیا اور میں اس کی کار یروشلم کے خراماں ٹریفک میں آہستگی سے غائب ہوتی دیکھتا رہا۔میں بھی ان تنگ گلیوں میں ٹکراتا ، بھاگا بھاگا سا بڑھتا رہا ۔دکاندار ، وہی مال و منال کے سودوں میں مصروف تھے۔چیک پوسٹوں والے بھی اب کچھ صورت شناسا سے ہوگئے تھے اور مجھے مغرب کے لیے اقصی میں جماعت مل گئی۔

الخلیل
الخلیل کی چیک پوسٹ
بازار دمشق

میراارادہ یہ تھا کہ صلوۃ المغرب کے بعد حاتم، نبیل انصاری یا شیخ نائف کے ساتھ اپنے مذاکرات جاری کرکے علم کی پیاس بجھاؤں گا مگر وہ کہیں دکھائی نہ دیے۔مجھے یکایک یاد آیا کہ آج تو جمعرات ہے اور وہ سب مسجد رابعہ میں ذکر کی محفل برپا کرکے بیٹھے ہوں گے ۔
مغرب سے عشا ء کے درمیان میرا کلینک بھی ہوگیا تو میرے پاس کچھ اور مصروفیت نہ تھی۔ یروشلم میں چھ سو میٹر کا ایک پتھریلا، بل کھاتا راستہ ہے جو بیچ بازار سے گزرتا ہے اسے عرب طریق الالام یعنی شاہراہء کرب کہتے ہیں ۔اس شاہراہ کی تصدیق عیسائیوں کے تمام فرقے کرتے ہیں۔ان سب کا اتفاق اس پر بھی ہے کہ سیدنا عیسی ؑ کی گرفتاری Garden of Gathsheme, سے عین مقام سے ہوئی تھی جہاں آج کل چرچ آف آل نیشنز یا کلیسہء آلام  موجود ہے۔

طریق الآلام
طریق الآلام
طریق الآلام کا تیسرا پڑاؤ
شاہراہ الم
کلیسہ آلام
کلیسا مقبر مقدس
مقبر مقدس کا اندارونی منظر

چاروں بائبلوں میں یعنی متی، لوکا۔ یوحنا اور مارکس میں اس رات کا احوال ایک دوسرے سے مختلف ہے ۔ جن لمحات میں سیدنا عیسیؑ اپنے گیارہ حواریوں کے ساتھ وہاں مفرور تھے تو بارہواں حواری Judas Iscariot,ْ غائب تھا ۔ وہی دغا باز، رومی سپاہیوں اور یہودی راہبوں کو لے کر وہاں پہنچا۔مرحلہ شناخت کا تھا۔ لہذا طے ہوا تھا کہ ان حواریوں میں مروج رسم کے مطابق یہ بدبخت جسے ہستی کو چومے گا ۔وہی سیدنا عیسیؑ ہوں گے اسی وجہ سے انگریزی زبان میں بظاہر پیار کا وہ عمل جو دھوکا دہی کی نیت سے کیا گیا ہو اسے  kiss of judas کہتے ہیں ۔اسے حضرت عیسیؑ کو پکڑوانے کی رشوت چاندی کے چالیس سکے ملی تھی ۔
جوڈاس کو جب یہ علم ہوا کہ عیسیؑ علیہ سلام مصلوب کردیے گئے ہیں تو بہت دل گرفتہ ہوا۔ وہ اس  مقام پر آیا اور اپنی رشوت کی رقم راہب کے سامنے مٹی پر پھینک دی اور باہر جاکر ایک چبوترے پر خودکشی کرلی۔بابئل میں متی اور لوکا کا بیان ایک دوسرے سے اس حوالے سے قطعی مختلف ہے۔
سیدنا عیسیؑ کی گرفتاری ، مقدمے ، سزا کے حوالے سے بہت تحقیق ہوئی ہے۔۔انہیں جمعے کی اس رات ایک سے دو بجے کے درمیان گرفتار کیا گیا تھا۔کل چھ مقدمے چلے جن تین یہودی قانون کے مطابق اور تین رومن قانون کے مطابق الزام یہ تھا کہ وہ خود کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔ مملکت روم سے بھی وفادار نہیں اور یہودی مذہب کی بھی توہین کرتے ہیں۔
یہ الزامات ایسے نہ تھے کہ ان کی وجہ سے انہیں مصلوب کیا جاتا۔ آخر کار انہیں رومی گورنر Pilate یعنی کے سامنے پیش کیا گیا۔یہ سیاسی مقدمہ سا بن گیا اور وہ اتنی کڑی سزا کے حق میں نہ تھا اس کی بیوی بھی اس معافی دینے کے حق میں تھی لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ یروشلم کے عوام کو سیدنا عیسیؑ کے خلاف بہت مشتعل کیا گیا تھا ،وہ اس بات پر رضامند نہ تھے کہ ان کی جان بخشی جائے ۔ پیلاطس نے اپنے تئیں کچھ قانونی موشگافیوں کا سہارا لینا چاہا۔ اس نے تجویز دی کہ مصلوب کرنے کی بجائے سیدنا عیسیؑ کو چالیس کوڑوں کی سزا دے کر رہا کردیا جائے۔اس وقت جب گورنر نے یہ تجویز یروشلم کی بپھری ہوئی عوام کے سامنے رکھی تو وہ مزید مشتعل ہوگئے جس پر اس نے اپنا آخری قانونی پتہ پھینکا۔
یروشلم کے گورنر کو اختیار تھا کہ وہ اس مقدس دن یعنی Passover, تھا یہ یہودیوں کا موسم بہار کا وہ ہفتۂ جشن ہے جو وہ فرعون سے غلامی کی نجات کی یاد میں مناتے ہیں۔ اس دن وہ  کسی   بھی ایک قیدی کی مکمل سزا معاف کرسکتا تھا۔ اس دن ایک بے رحم قاتل Barabbas, اور سیدنا عیسی کو ان دو میں سے کسی ایک کو معاف کیا جاسکتا تھا۔ کیوں کہ باراباس کی سفاکیت اور جرائم پیشہ زندگی سارے یروشلم کے سامنے تھی لہذا نمونے کے طور پر پہلے اسے اور بعد میں عیسی ؑ کو عوام کے  سامنے پیش کیا گیا۔ خلق یروشلم نے معافی کی رعایت اس قاتل بارا باس کو دی سیدنا عیسیؑ کے بارے میں ان کا غم و غصہ برقرار رہا اور ان کے مصلوب کیے جانے کی سزا برقرار رہی۔خلق خدا کا یہ ظالمانہ فیصلہ سن کر سیدنا عیسیؑ مسکرادیے اور سر تسلیم خم کردیا۔
آخر کار فیصلے پر عمل درآمد کی گھڑی آگئی ۔ سیدنا عیسی ؑ صلیب لے کر اس طریق آلالام یعنی Via Dolorosa پر جمعہ کے دن تین بجے چل پڑے۔اس واک کی یاد میں اب یہاں ہر جمعے کو ٹھیک تین بجے ایک محفل عزادری منعقد ہوتی ہے۔اس طریق آلالام کے کل چودہ پڑاؤ ہیں ۔۔انیسویں صدی کے آغاز سے مختلف تحقیقات کے بعد اس موجودہ راستے کو مستند مان لیا گیا جو 600 میٹر طویل ہے اور قلعہ انطونیو سے کنیسہ القائمہ تک چلا جاتا ہے۔ہر پڑاؤ سے منسوب اپنی ایک داستان کرب و الم ہے۔

وہ چبوترہ جہاں عیسی علیہ سلام نے گرفتاری سے پہلے عبادت کی
صلیب سے اتارے جانے کے بعد سیدنا عیسیؑ کو اس چبوترے پر لٹایا گیا تھا
عزاداران عیسیؑ

میرا اصل ارادہ تو یہ تھا کہ میں الخلیل یعنی Hebron, سے ان عزادوروں کے ماتمی جلوس میں شامل ہوں گا مگر مجھے پھر خیال آیا کہ جانے پھر یہ موقع ملے نہ ملے میں دو سومیٹر کے لگ بھگ چل کر اپنے ہوٹل والی شاہراہ پر جارہا تھا تو میری نگاہ دو عدد کیتھولک راہباؤں پر پڑی جو دو تنگ گلیوں کے سنگم پر سر نگوں کھڑی تھیں۔ایک کونے پر کانسی کی ایک تختی بھی نصب تھی جس پر بہت واضح طور پر “VIA Dolorosa” لکھا تھا۔ میں بھی ان کے پاس پہنچ گیا اور بات چیت سے معلوم ہوا کہ وہ اس ماتمی جلوس میں شریک ہونے آئی ہیں جو ان چودہ مقامات آہ و بکا سے گزرے گا۔
میرے اس سوال پر کہ’’ کیا میں بھی اس سلسلہ اعزاداری کا حصہ بن سکتا ہوں حالانکہ میں ایک مسلمان ہوں؟‘‘ تو ان میں سے جو عمر رسیدہ تھی وہ ہنس پڑی اور کہنے لگی کہ ’’ہم سب اُس ایک ہی شعور الہی کا توحصہ ہیں‘‘۔عیسائیوں کی مقدس ترین مسافت یا یاترا کا ایک رکن یہ ہے کہ اس طریق الالام کا سفر کریں، ۔دوسرے دریائے اردن جہاں سیدنا عیسی ؑ نے ڈبکی لگا کر بتپسمہ لیا تھا اسی مقام پر وہ بھی غسل تقدیس کریں۔

اس شاہراہء کرب یعنی طریق الالام کا ذکر تھا ۔اس شاہراہ کی تصدیق عیسائیوں کے تمام فرقے کرتے ہیں۔ان سب کا اتفاق اس پر بھی ہے کہ سیدنا عیسی ؑ کی گرفتاری Garden of Gathsheme, سے عین مقام سے ہوئی تھی جہاں یہ چرچ آف آل نیشنز یا کلیسہء آلام  موجود ہے۔
چاروں بائبلوں میں یعنی متی، لوکا۔ یوحنا اور مارکس میں اس رات کا احوال ایک دوسرے سے مختلف ہے ۔جن لمحات میں سیدنا عیسیؑ اپنے گیارہ حواریوں کے ساتھ وہاں مفرور تھے تو بارہواں حواری Judas Iscariot,ْ غائب تھا ۔ وہی دغا باز، رومی سپاہیوں اور یہودی راہبوں کو لے کر وہاں پہنچا۔مرحلہ شناخت کا تھا، لہذا طے ہوا تھا کہ ان حواریوں میں مروج رسم کے مطابق یہ بدبخت جس ہستی کو چومے گا وہی سیدنا عیسیؑ ہوں گے۔ اسی وجہ سے انگریزی زبان میں بظاہر پیار کا وہ عمل جو دھوکا دہی کی نیت سے کیا گیا ہو اسے Judas of a kiss کہتے ہیں ۔اسے حضرت عیسی کو پکڑوانے کی رشوت چاندی کے چالیس سکے ملی تھی ۔ آج کل اس مقام پر ایک چرچ موجود ہے جس کا نام کلیسہء آلام یاChurch of All Nations, کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
جوڈاس کو جب یہ علم ہوا کہ عیسیؑ علیہ  السلام مصلوب کردیے گئے ہیں تو بہت دل گرفتہ ہوا۔ وہ اس  مقام پر آیا اور اپنی رشوت کی رقم راہب کے سامنے مٹی پر پھینک دی اور باہر جاکر ایک چبوترے پر خودکشی کرلی۔بابئل میں متی اور لوکا کا بیان ایک دوسرے سے اس حوالے سے قطعی مختلف ہے۔
سیدنا عیسیؑ کی گرفتاری ، مقدمے ، سزا کے حوالے سے بہت تحقیق ہوئی ہے۔۔انہیں جمعے کی اس رات ایک سے دو بجے کے درمیان گرفتار کیا گیا تھا۔کل چھ مقدمے چلے جن تین یہودی قانون کے مطابق اور تین رومن قانون کے مطابق الزام یہ تھا کہ وہ خود کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔ مملکت روم سے بھی وفادار نہیں اور یہودی مذہب کی توہین کرتے ہیں۔یہ الزامات ایسے نہ تھے کہ ان کی وجہ سے انہیں مصلوب کیا جاتا۔ آخر کار انہیں رومی گورنر Pilate یعنی پیلاطس کے سامنے پیش کیا گیا۔یہ سیاسی مقدمہ سا بن گیا اور وہ اتنی کڑی سزا کے حق میں نہ تھا اس کی بیوی بھی اس معافی دینے کے حق میں تھی لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ یروشلم کی رعایا اس بات پر رضامند نہ تھی ۔
یروشلم کے گورنر کو اختیار تھا کہ وہ اس مقدس دن Passover, یعنی جس دن یہودیوں کو فرعون سے نجات ملی تھی کسی بھی ایک قیدی کو معاف کرسکتا تھا۔ اس دن ایک بے رحم قاتل Barabbas, اور سیدنا عیسی کو ان دو میں سے کسی ایک کو معاف کیا جاسکتا تھا کیوں کہ باراباس کی سفاکیت اور جرائم پیشہ زندگی سارے یروشلم کے سامنے تھی لہذا نمونے کے طور پر پہلے اسے اور بعد میں عیسی ؑ کو عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔وہ لوگ جو خلق خدا پر اللہ سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں وہ جان لیں کہ خلق خدا نے  قاتل کو معاف اور نبی معصوم کو مصلوب کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کا نام دنیا ہے ۔عوام کا مطالبہ سن کر سیدنا عیسی نے مسکراتے ہوئے ایک ہی جملہ کہا تھا Forgive them. They knoweth not. (الہی انہیں معاف کردے ۔ یہ لاعلم ہیں)۔سیدنا عیسیؑ آخر کار اپنی صلیب لے کر اس طریق آلام پر جمعہ کے دن تین بجے چل پڑے۔اس واک کی یاد میں اب یہاں ہر جمعے کو ٹھیک تین بجے ایک تقریب منعقد ہوتی ہے۔اس طریق آلام کے پہلے چودہ پڑاؤ ہوتے تھے اب یہ کل نو ہیں۔انیسویں صدی کے آغاز سے مختلف تحقیقات کے ذریعے موجود راستے کو مستند مان لیا گیا جو 600 میٹر طویل ہے اور قلعہ انطونیو سے کنیسہ القائمہ تک چلا جاتا ہے۔ہر پڑاؤ کی اپنی داستان کرب و الم ہے۔

پہلا پڑاؤ
شاہراہِ الم پر پڑاؤ

میرا اصل ارادہ تو یہ تھا کہ میں الخلیل یعنی Hebron, سے ان عزادوروں کے ماتمی جلوس کا حصہ بنوں گا مگر مجھے پھر خیال آیا کہ جانے پھر یہ موقع ملے نہ ملے ۔سو اپنا ارادہ بدلا ویسے بھی میری نگاہوں کے سامنے پہلے پڑاؤ کا بورڈ لگا تھا۔ میں نے ان میں سے ایک راہبہ کو پوچھا کہ’’ کیا میں بھی  ان کے ساتھ Via Dolorosa, کے اس سلسلہ اعزاداری کا حصہ بن سکتا ہوں حالانکہ میں ایک مسلمان ہوں؟‘‘ تو ان میں سے جو عمر رسیدہ تھی وہ ہنس پڑی اور کہنے لگی کہ ’’ہم سب اس ایک ہی شعور الہی کا حصہ ہیں‘‘۔عیسائی حج کا ایک رکن یہ ہے کہ اس طریق الالام کا سفر کریں، دریائے اردن جہاں سیدنا عیسی ؑ نے ڈبکی لگا کر بتپسمہ لیا تھا وہیں وہ بھی غسل تقدیس کرے۔پہلا پڑاؤ وہ مقام ہے جہاں مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا اور ان پر رومی سپاہیوں کی جانب سے بے انتہا تشدد کیا گیا۔اس دوران ایک عوام کی ایک خاصی بڑی تعداد بھی ان کا مذاق اڑاکر اُن کے اردگرد ناچتی کودتی رہی۔ دوسرے پڑاؤ سے آپ نے اپنی صلیب اٹھائی اور آپ کے سر پر کانٹوں کا تاج پہنایا گیا ۔ ایک عدد کانٹا زور سے آپ کے رخسار مبارک پر کچھ آپ کی پیشانی پر بھی چبھ گئے۔ ان خراشوں سے خون رسنے لگا ۔تماش بین آپ کی تضحیک کرتے ہوئے ’ یہودیوں کے بادشاہ کی آمد۔ مرحبا مرحبا‘ کے نعرے لگاتے رہے۔
تیسرے پڑاؤ پر ایک چھوٹا سا خوبصورت آرمینی چرچ موجود ہے۔ سیدنا عیسیؑ اس مقام پر تشدد اور تھکاوٹ سے صلیب کے بوجھ سے نڈھال ہوکرگر پڑے تھے۔چوتھے پڑاؤ پر چونکہ اس دن یہودیوں کا مقدس تہوار پاس اوور تھا لہذا ایک مجمع سڑک کے اطراف موجود تھا ۔رومی سپاہی آپ پر کوڑے برساتے جاتے تھے۔اتنے میں اس مقام پر سیدہ مریم مجمع کو چیرتی ہوئی باہر نکلیں۔ دونوں ماں بیٹوں نے ایک دوسرے کو خاموشی سے دیکھا ، ماں نے بیٹے کے چہرے کے زخم پونچھے لیکن سپاہیوں نے ایک زور کا  کوڑا سیدنا عیسیؑ کو رسید کیا اورمسافت اندوہ جاری رکھنے کا حکم دیا۔
پانچویں پڑاؤ سے ایک ڈھلان کا آغازہوجاتا ہے جو اس ٹیلے کی جانب اٹھتی چلی جاتی ہے جسے عربی میں ال جل جثہ اور انگریزی میںGolgotha کہتے ہیں۔یہاں یہ بیان دل چسپی سے خالی نہ ہوگا کہ سیدنا عیسی علیہ سلام اکہرے بدن کے تھے۔ان کے لیے اتنی بھاری صلیب لے کر چٹان پر چڑھنا آسان نہ تھا۔وہ بہت قلیل الطعام ( کم خوراک )اور قلیل المنام (کم نیند والے) تھے ،جب کہ صلیب کا اپنا ہی وزن ایک سو تیس کلوگرام کے لگ بھگ تھا۔
تیسرے پڑاؤ سے ہی میری ہم قدم ان اطالوی راہباؤں کی آہوں کا آغاز ہوچکا تھا جو یہاں تک پہنچ کر باقاعدہ سسکیوں اور آہ و زاری میں بدل گیا۔ان کے لیے اب اس عمودی ڈھلان اور سیڑھیوں پر چڑھنا مشکل ہورہا تھا۔ سانس بھی پھولنے لگی تھی ایسے میں اس عمر رسیدہ راہبہ نے میرا بڑھایا ہوا ہاتھ شکریے سے تھام لیا۔انہیں رومن سپاہیوں میں میری طرح کا نیک دل سائمن سرئین تھا جس
جس نے سیدنا عیسیؑ کو اس مقام پر صلیب اوپر تک ڈھونے میں مدد کی ۔چھٹے پڑاؤ پر حضرت ویرونیکا آگے آئیں اور اپنے رومال سے سیدنا عیسیؑ کے چہرہ مبارک سے خون صاف کیا ۔یہ رومال آج بھی پوپ کی راجدھانی ویٹکن کے کلیساSaint Peter’s Basilica Rome, میں موجود ہے۔خاکسار اس کی زیارت باسعادت سے بھی مستفید ہوچکا ہے ساتویں پڑاؤ پر سیدنا عیسیؑ ایک مرتبہ پھر سے نڈھال ہوکر گر پڑے۔
آٹھویں پڑاؤ سے جہاں آج کل ایک چھوٹی مگر مصروف مارکیٹ ہے وہاں سے گزرتے ہوئے سیدنا عیسی علیہ سلام کی نگاہ آہ و بکا میں مصروف چند خواتین پر پڑی یہ آپ کی خفیہ پیروکار تھیں۔ آپ نے یہاں رک کر ایک چھوٹا سا خطبہ ارشاد فرمایا۔یہاں آپ پر ایک دفعہ پھر سے کوڑے برسائے گئے۔ نواں پڑاؤ وہ ہے جہاں سیدنا عیسی علیہ سلام تیسری مرتبہ گرے۔یہاں سے ایک ا ندھا موڑ آتے ہی ہم سیدھے ہاتھ پرکنیسۃ القائمہ یعنیChurch of the Holy Sepulchre آجاتا ہے۔اس کی ان عیسائیوں کے ہاں بہ لحاظ تقدیس وہ اہمیت ہے۔

holographic image in church of holy sephulchure

طریق الالام کے بقایا چار پڑاؤ اسی کلیسا کے احاطے میں ہیں جنہیں رومی شہنشاہ کانسٹنٹائن نے بنایا تھا اسی کے عہد میں عیسائیت کو بہت فروغ ہوا۔ایک روایت کے بموجب وہ صلیب جو ان کے عقیدے کے مطابق سیدنا عیسی کو مصلوب کرنے کے وقت استعمال ہوئی اسے اس کی والدہ نے کھوج نکالا تھا۔یہ صلیب نائٹ ٹمپلرز چراکر اسکاٹ لینڈ لے گئے تھے اب یہ اسکاٹ لینڈ کے روزا لن چرچ میں چھپاکر رکھی گئی ہے۔خاکسار پچھلے دنوں ایک پیشہ ورانہ کانفرنس میں اسکاٹ لینڈ گیا تو اس کی زیارت کابھی شرف حاصل ہوا یہ قصہ کسی اور وقت۔ کنیسہء ال قائمہ میں مین گیٹ کے ساتھ پڑاؤ نمبر دس ہے۔یہاں مزید تحقیر کے لیے سیدنا عیسیؑ کو برہنہ کردیا گیا تھا۔
۔وہ اس حالت برہنگی میں چند قدم آگے لے جائے گئے اور ایک ہال میں داخل ہوئے۔یہ ہال شاید وہ مقام ہے جسے لاطینی میں cavalry اور یونانی زبان میں اسے Golgotha کہتے ہیں عربوں نے بھی اسی یونانی لفظ کو مشرف بہ عربی کرکے ال جل جثہ پکارنا شروع کردیا ہے۔یہ وہ جائے عبرت تھی جہاں مجرموں کو کڑی سزائیں دی جاتی تھیں۔ہم اس مقام پر جب پہنچے جہاں سیدنا عیسی
مصلوب ہوئے تھے تو رات ہوچکی تھی۔ہال میں تھوڑے سے افراد تھے اس مقام پر جہاں سیدنا عیسیؑ مصلوب ہوئے اب ایک صلیب پر ہالوگرافک عکس موجود ہے ۔اب میری ہم سفر راہبائیں غم سے نڈھال ہوکر گھٹنوں کے بل گر پڑی تھیں اور روئے چلی جاتی تھیں۔ ان کا غم سمجھ بھی سکتا ہوں اور اس پوری تاتیخ سے بھی کما حقہ آگاہ ہوں ان کے عقائد سے اختلاف رکھنے کے باوجود م اتفاق میں ان کے جذبات مکمل احترام کرتا ہوں۔

Golgotha-ال جل جلۃ

۔میرے عقیدے کی راہیں جدا ہوئیں تو میں نے ان مبتلائے درد و الم بی بیوں کو سسکتا بلکتا چھوڑا اور چل پڑا ۔سیڑھیاں اتر کر چرچ کے مین ہال میں ایک گول سے پلیٹ فارم پر وہ سنگ مسیحائی ہے جہاں سیدنا عیسی کا جسد مبارک بی بی مریم کی گود میں رکھا تھا وہ اشکبار تھیں۔اس پتھر کے عین اوپر تصاویر کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے ایک میں بے جان عیسی ابن مریم کو والدہ کی گود میں پڑا دکھایا گیا ہے۔
یہاں وہ مرقد ہے جس میں سیدنا عیسی کو دفن کیا گیا تھا دن میں لمبی قطاریں ہوتی ہیں مگر رات کو تھوڑے سے لوگ تھے سو میرا نمبر جلد ہی آگیا۔لائن چل رہی تھی اور میں بھی شیشے کے سے چمکتے خوب صورت موزایئک فلور پر آگے بڑھتا رہا۔دیواروں پر عیسی علیہ سلام، جنت،فرشتوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔داخلے کے دروازے پر بیس فیٹ کے قریب اونچی موم بتیاں روشن تھیں،اس کے علاوہ چھت سے لٹکے کئی فانوس اور قندیلوں سے وہ سارا ماحول جگ مگ کر رہا تھا۔ہم تین کو اس مرقد میں داخل ہونے دیا گیا۔میرے علاوہ ایک ہسپانوی جوڑا بھی وہاں اظہار عقیدت کے لیے آیا تھا۔ یہاں ماربل کا ایک ایسا تختہ موجود ہے جس پر صلیب سے اتارے جانے کے بعد سیدنا عیسیؑ کو لٹایا گیا تھا۔عیسائی مورخین کے مطابق مصلوب ہونے کے تیسرے دن جب اس مرقد کو کھولا گیا تو یہ مر کزانوار بناہوا تھا۔ اس میں سے خوشبوؤں کی لپٹیں اٹھرہی تھیں ۔ یہ نور بتدریج ان الفاظ میں بدل گیا کہ ’’ وہ یہاں نہیں وہ تو بلندیوں کی جانب چلا گیا ہے‘‘جانے کیوں جب میں نے انگریزی میں یہ الفاظ نا دانستہ طور پر دہرائے تو ان کا اس جوڑے پر بہت گہرا اثر ہوا ۔شوہر نے ایک ہاتھ سے بیوی کا اور دوسرے سے میرا ہاتھ تھام لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔مجھے لگا کہ میں تو اپنے عقیدے کی رو سے یہ مصلوب ہونے والی غلط العام داستان الم اور اس طرح کی دور افتادہ عزا داری سے بالکل ہی لاتعلق ہوں۔اس کے باوجود میں نے جذبات انسانی کے احترام میں ان کی رفاقت اس وقت تک نبھائی جب تک لائن مارشل نے ہمیں باہر نہ کردیا اب بیوی نے بھی میرا ہاتھ تھام لیا اور میں بھی ہسپانوی زبان میں بولنے لگا۔ان کے منہ  سے ہسپانوی لفظ Gracia” یعنی شکریہ بار بار ٹپک رہا تھا۔وہ اب ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آسمان کی جانب کسی ایسی روشنی کو دیکھ رہے تھے جو اس کائنات میں صرف ان کا حصہ تھی۔اس کلیسہء القائمہ سے نکل کر جب میں باہر شاہراہ پر آیا  تو کئی اور یاتری صلیبیں اٹھائے اس طرف آرہے تھے اور میں تھا کہ ایک اور سحر میں مبتلا تھا ۔ یہ میرے سیدنا عمر بن خطابؓ کی مسجد کا بورڈ تھا جس نے میری توجہ اپنی جانب کھینچ لی تھی۔

Advertisements
merkit.pk

یہ اس کلیساء سے بالکل جڑی ہوئی ہے مگر میں آپ کو بتاتا چلوں کہ فاتح ایران و فلسطین سیدنا عمر بن خطابؓ اس دن صلوۃ الجمعہ پڑھنے کے لیے جگہ کے انتخاب کا سوچ رہے تھے تو وہاں آئے ہوئے کچھ معززین نے رائے دی کہ مسلمان یہ نماز وقتی طور پر اس کلیسہء القائمہ میں ادا کرلیں۔اس تجویز کو سیدنا عمر نے سختی سے رد کردیا۔ آپ نے وہاں کہ راہب اعلیٰ کو یقین دلایا کہ ان کے اس مقام مقدس کا ہر قیمت پر احترام کیا جائے گا۔ ان کو عبادات کی کھلی آزادی ہوگی۔اس ملاقات میں خود راہب اعلی نے اس پیشکش کا اعادہ کیا کہ مسلمان صلوۃ ال جمعہ اگر کلیسہ القائمہ میں ادا کریں تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔سیدنا عمرؓ نے اس کی اس دعوت کو سن کر کہا کہ ہرگز نہیں اگر آج انہوں نے یہ رعایت کو اپنالیا تو ان کے بعد اس کو دیگر مسلمان اپنا حق سمجھ کر جتلائیں گے اور یہ کلیسا مسجد میں تبدیل ہوکر رہ جائے گا۔انہوں نے یہ کہہ کر سامنے میدان میں ایک کنکر پھینکا اور جہاں یہ کنکر جاکر گرا وہاں آپ نے دیگر مسلمانوں کی صلوۃ ال جمعہ کی امامت فرمائی۔موجودہ سادہ اور چھوٹی سی مسجدآپ کی حق گوئی اور انصاف و رواداری کے ثبوت کے طور پر اسی مقام پر تعمیر کی گئی ہے۔
جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply