جنون کی قربانی۔۔۔۔ ماسٹر محمد فہیم امتیاز

اس کا سانس پھولا ہوا تھا،نتھنے تیز تیز پھول اور سکڑ رہے تھے ،پسینہ بالوں سے بہتے بہتے جوگرز تک جا رہا تھا،آنکھوں میں ایک وحشت تھی ٹانگیں جواب دے رہیں تھیں مگر وہ پوری قوت مجتمع کیے دوڑے جا رہا تھا،اور ذہن میں صرف ایک ہی خیال کیا آج میں ہار جاوں گا ؟کیا آج میر ا ناقابل شکست کا ٹائٹل مجھ سے چھن جائے گا؟وہ اپنے سکول کے دور سے ٹاپ کرتا آ رہا تھا ہر دوڑ میں ، اور فوج میں آ کر بھی یہ ریت برقرار رکھی تھی لیکن آج سیر کو سوا سیر مل گیا تھا،زید اس سے کم و بیش 6سو میٹر آگے نکل گیا تھا، اور محض ڈھائی سے تین سو میٹر اختتامی لائن سے دور تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے زید جیت چکا تھا،زبیر سے ناقابل شکست کا ٹائٹل چھن چکا تھا کیونکہ سامنے زید تھا،لانس نائیک زید عالم جس کے متعلق پوری یونٹ میں مشہور تھا کہ وہ پیدا ہی رننگ کے لیے ہوا ہے،زیدکو رننگ کا جنون تھا،اس کے یاروں دوستوں کے مطابق یہ کھائے بغیر تو رہ سکتا تھا مگر دوڑے بغیر نہیں۔

ٹھٹھرتی رات میں سرد ہوا گالوں کو چیرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی،الفا ٹو جھیل کے پانی سے نمودار ہو کر ٹارگٹ کی طرف بڑھ رہا تھا کوئی آواز نہیں،چیتے کی چال چلتے ہوئے الفا ون،ٹو،تھری،اور فور پوزیشنز لے چکے تھے،سنائپر ان کھنڈرات کی مکمل ایریا ڈسکرپشن اور دہشتگردوں کی نقل و حمل سے مطلع رکھے ہوئے تھے بس بلیک زیرو کی کال کا انتظار تھا۔

سٹینڈ بائی سٹینڈ بائی ۔گو

گو کے ساتھ ہی چاروں الفا عقابوں کی طرح جھپٹے اور ایس ایم جیز کے دہانے دشمن پر کھول دیے۔پہلے جھٹکے میں ہی اطلاع شدہ 28 میں سے 11 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا اور باقی پوزیشن لے کر جوابی فائرنگ شروع کر چکے تھے۔

اقبال؛ اوئے زید اگر کبھی تمہارا چارج بن گیا اور قید وغیرہ ہو گی تو سب سے مشکل چیز کیا ہوگی تمہارے لیے؟

زید ؛ اوئے بالے دماغ کا علاج کروا یار اللہ نہ کرے مجھے کیوں ہو قید؟

اقبال؛ ہاہاہا یار صرف پوچھ رہا ہوں بتاو تو؟

زید ؛ یار اللہ نہ کرے کبھی قید ہو میرا سب سے بڑا نقصان دوڑ کا ہوگا،میرے لیے دوڑ رکنا مطلب سانسیں رکنا تمہیں معلوم تو ہے۔

اقبال؛ ہاہاہاہا مجھے پتہ تھا یار عجیب بندے ہو تم کسی کو تنخواہ کی فکر کہ تنخواہ کٹ جائے گی،کسی کو چارج کی کہ دستاویزات خراب ہوں گے،کسی کو بدنامی کی،کسی کو کوئی کسی کو کوئی اور تمہیں جیل میں بھی دوڑنے کی فکر۔

زید ؛ یار بالے تمہیں معلوم تو ہے دوڑ میرا جنون ہے،جس دن دس بارہ کلومیٹر دوڑوں نہ میرے حلق سے نوالہ نہیں اترتا۔

اقبال ؛ چل چل پھر نہ اپنی دوڑ کے قصیدے شروع کر دینا۔

زید ؛ ہاہاہاہا اچھا چل آ چلیں۔

اقبال ؛ کہاں۔

زید ؛ میدان میں دوڑ کے لیے۔

اقبال ؛ اور جا بھائی میرا دماغ خراب ہے جو تیرے ساتھ دوڑوں۔

زید ؛(قہقہہ لگاتے ہوئے) اکیلا ہی اتھلیٹک گراؤنڈ کی طرف بھاگنے لگا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں جائے گا۔

اور جاتا بھی کیوں سبھی کو معلوم تھا جہاں پر ہمارا سٹیمنا ختم ہوتا ہے وہاں سے زید صاحب کا ابھی وارم اپ شروع ہوتا ہے،یونٹ کے جتنے بھی لڑکے دوڑ پر جاتے تھے سبھی اتھلیٹکس گراؤنڈ کے چار چار یا زیادہ سے زیادہ پانچ سے چھ چکر لگاتے تھے اور زید دسویں چکر پر کہتا تھا ابھی تھوڑا وارم اپ ہوا ہوں۔

گولیاں سنسناتی ہوئی ہوئی کانوں کے پاس سے گزر رہیں تھیں،الفا ٹو کے نائیک نعمان اور سپاہی خالد جام شہادت نوش کر چکے تھے،دہشگردوں کی طرف سے بھاری اسلحہ راکٹ لانچر اور گرنیڈ کا استعمال شروع ہو چکا تھا،الفا ٹو اور تھری کو انگیج کرنے کی کال دے کر الفا ون اور فور بیک فٹ پر آ کر رش کرتے ہوئے دوسری طرف سے اپروچ بنا رہے تھے تاکہ پچھلی طرف سے جہاں مداخلت کا منصوبہ تھا، حملہ کر سکیں،اچانک ایک لانگ برسٹ آیا زید کے کندھے کو چھیلتا ہوا گزر گیا زید گھوم کر گرا اور دوبارہ اٹھ کر اگے بڑھنے لگا مگر اس کے تین میں سے ایک ہی ساتھی ساتھ تھا،لانگ برسٹ دو ساتھیوں کو شہادت کے مرتبے پر فائز کر چکا تھا۔

زید کو دور میں ملنے والے شاباش سرٹیفیکیٹ،میڈلز اور شیلڈز کا شمار نہیں تھا،انٹر یونٹ،انٹر سروسز،نیشنل لیول،آل پاکستان اوپن رننگ چیمپین شپ کی ٹرافیز سرفہرست تھیں،اب ایک ہی خواب باقی تھا انٹرنیشنل لیول پر پاکستان کی نمائندگی،پاکستان کے چہرے کے طور پر دنیا کے سامنے جانا،ایک برسوں پرانا خواب جس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے سالوں سے زید گراونڈ کو اپنے پسینے سے سیراب کر رہا تھا اور سالوں کی محنت نے جہاں اس کی ٹانگوں کو فولاد اور بدن کو کندن کر دیا تھا وہیں برسوں کے انتظار نے اس کے جنون کو بھی آگ دی تھی،اب جب میراتھن قریب آ رہی تھی،زید ایک ایک دن گن کر کاٹ رہا تھا،ورک آؤٹ کا دورانیہ دو گنا سے بھی تین گنا کر چکا تھا،صبح شام، سوتے جاگتے ڈیڑھ مہنے بعد ملنے والے گولڈ میڈل کو دیکھ رہا تھا،اپنی جیت کے ممکنہ الفاظ کانوں میں گونجتے رہتے تھے،انہی دنوں پتہ چلا وزیرستان آپریشن میں یونٹ سے مزید کمک جا رہی ہے،زید کی درخواست پر اسے سی او کے سامنے پیش کیا گیا۔

زید ؛ سر میں آپریشن پر جانا چاہتا ہوں۔

سی او؛ جوان ڈیٹیل ہو چکے ہیں اور ویسے بھی دو ماہ بعد تم میراتھن کے لیے جا رہے جس کے لیے سالوں تیاری اور اتنا انتظار کیا ہے۔

زید ؛ سر دو ماہ تک آپریشن ختم ہو جائے گا،سر میری نظر میں اے پی ایس کے بچوں کی تصاویر گھومتی ہیں میں بھی دو بچیوں کا باپ ہوں مجھے ایک موقع دیا جائے سر پلیز۔

سی او سے اپروول ملتے ہی اگلے تین دن میں زید اپنے 31 ساتھیوں سمیت آپریشنل ایریا پہنچ چکا تھا،زید کی فٹنس اور جنون کو دیکھتے ہوئے اسے فوراً الفا میں رکھا گیا تھا۔

تیز فائرنگ، چیخ چنگھاڑ،ہر طرف لگی ہوئی آگ ،گرنیڈ اور لانچر کے دھماکے قیامت کا سماں بنا رہے تھے،واکی ٹاکی گر چکے تھے لاسٹ سنائپر اپڈیٹ کے مطابق ابھی بھی 9 دہشتگرد باقی تھے جو کہ اسی پناہ گاہ میں سے مسلسل مزاحمت کر رہے تھے جس کی بیک سائیڈ پر زید اپنے ایک ساتھی کے ساتھ پہنچ چکا تھا،یہ ایک کھنڈر نما مکان تھا زید اور اسکا ساتھی کھڑکی پھلانگ کر اندر پہنچے راستے میں آنے والے تین کمروں میں پن نکال کر گرنیڈ پھینکے اور بھاگتے ہوئے اختتام پر موجود ہال تک پہنچے جہاں پر بقیہ دہشتگرد موجود تھے،وہاں موجود تین دہشتگرد فرنٹ پر موجود الفا ٹو اور تھری پر فائرنگ کر رہے تھے،زید نے دیوار کی آڑ لے کر لانگ برسٹ مارا اور تینوں تڑپ کر گرے دو موقع پر ہلاک اور ایک جسے صرف دو گولیاں لگی تھی اس نے ہاتھ سائیڈ پر کر کے بغل میں لٹکتی ہک کھینچ دی ایک فلک شگاف دھماکہ تھا اور پوری کھنڈر نما عمارت زمین بوس ہو گئی۔

آہستہ آہستہ اندھیرا چھٹا،وہ ہسپتال میں بستر پر موجود تھا،ہوش آتے ہی سب سے پہلا جو خیال آیا وہ یہی تھا،کہیں رننگ چیمپئن شپ گزر تو نہیں گئی؟اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں قریب بی پی چیک کرتی نرس سے تاریخ پوچھی

نرس ؛ سر 19 اکتوبر

زید ؛ نے بے اختیار ایک طویل ، اطمینان بھرا سانس لیا رگ و پے میں مسرت کی لہر دوڑ گئی کہ ابھی کافی دن باقی تھے آرام سے ڈسچارج ہو سکتا تھا،آپریشن یقیناً کامیاب ہو چکا تھا وہ دھماکے میں شہید ہونے سے بچ گیا تھا اب زید کے سامنے اس کی زندگی بھر کا خواب تھا،گیارہ دن بعد انٹرنیشنل رننگ چیمپئن شپ میں ایک سو چھیانوے (196) ملکوں میں زید پاکستان کی ترجمانی کرنے والا تھا،وہ پرجوش پراعتماد تھا کیونکہ اسے معلوم تھا وہ “دی بیسٹ” ہے،وہ دوڑ کے لیے پیدا ہوا ہے،دوڑنے میں اسے ہرانا کم از کم کسی انسان کے بس کی بات نہیں تھی۔

انہی سوچوں میں ڈوبے ہوۓ اس نے جوش سے لیٹے لیٹے ہی ٹانگ کو کک کرنے کی کوشش کی،لیکن ٹانگیں سن تھی شاید دوائیوں کے زیر اثر تھیں،اس نے ہاتھ لگا کر محسوس کرنا چاہا ٹانگوں کو۔

شلوار کا خالی کپڑا ہاتھ میں آ گیا۔

ایک لمحے کو تو زید بوکھلا ہی گیا،کچھ سمجھ ہی نہ آیا ،لیکن جیسے ہی تمام صورتحال اس پر واضح ہوئی،زید کا سانس اٹکنے لگا،چہرہ لٹھے مانند سفیدپڑگیا،اس کے پاوں تلے سے زمین نکل گئی،سر پر آسمان ٹوٹ پڑا،انٹرنیشنل رننگ چیمپئن کی ٹانگیں مزید اس کے وجود کا حصہ نہیں رہیں تھیں ۔

اس نے تیزی سے بے یقینی کے عالم میں پاگلوں کی طرح ٹانگوں کو خالی کپڑے میں ٹٹولا، پورے بیڈ پر پاگلوں کی طرح ہاتھ مارے، جلدی سے اٹھنے کی کوشش کی اور دوسرے ہی لمحے دھڑام سے بیڈ سے نیچے آ گرا،کافی چوٹ لگی مگر اسے پرواہ کب تھی ،جیسے ہی تھوڑا سنبھلا اس کی نظر اپنے جسم کے ساتھ جھولتی شلوار پر پڑی،ایک دلخراش چیخ اس کے منہ سے نکلی، نرسیں ، ڈاکٹرز اور اس کی بھائی بہن جلدی سے بھاگتے ہوئے اندر داخل ہوئے اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا،اس پر بے یقینی اور پاگل پن کی سی کیفیت طاری تھی،وہ مسلسل ہیجانی کیفیت میں معلوم نہیں کیا کیا بولے جا رہا تھا،اس کا خاندان اور ڈاکٹرز سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے اسے دلاسہ دے رہے تھے مگر یہ حقیقت تھی کہ بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی کرنے والے،ناقابل شکست رنر،جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ کھائے بغیر تو رہ سکتا ہے مگر دوڑے بغیر نہیں، لانس نائیک زید عالم دوڑ کا قومی چیمپن اور گولڈ میڈلسٹ انٹرنیشنل چیمپئن بننے سے چند دن پہلے اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہو چکا تھا،اس کے یار دوست بیلی جو اس کی فٹنس کے گواہ تھے سبھی جمع تھے کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا،کہ ہر وقت دوڑنے والا زید اب کبھی نہیں دوڑ پاۓ گا،اس نے اپنا جنون،اپنے خواب اپنی برسوں کی محنت اپنی زندگی بھر کی کمائی پاک سر زمین پر نچھاور کر دی تھی،یہاں وہ سبھی آنکھیں اشکبار تھیں جو زید کے جنون کی گواہ تھیں، ان کے آنسو شکوہ کناں تھے کہ خدایا زید کو شہادت کیوں نہ دے دی،کہ اس کی زندگی تو ختم ہو گئی مگر سانسیں چل رہی ہیں۔

ماسٹر فہیم(زید کا دوست اور پڑوسی) نے کمبل زید کی کٹی ہوئی ٹانگوں پر ڈالا اسی وقت موبائل پر نوٹیفیکیشن موصول ہوا اس نے موبائل نکال کر دیکھا،ٹیم سی ڈی سی کے ایک ڈیفینسو کمانڈر کی طرف سے ایک ویڈیو سینڈ کی گئی تھی ساتھ میں ڈسکرپشن تھی “پی ٹی ایم اور اے این پی کا مشترکہ احتجاج”۔

دروازہ کھلا،میجر ثقلین اندر داخل ہوئے پیچھے دو لڑکوں نے ایک ڈبہ اٹھایا ہوا تھا میجر صاحب آکر زید سے ملے حال احوال دریافت کیا، ڈبے میں سے گرد میں اٹے ہوئے کچھ کاغذات نکال کر زید کے سامنے کیے کچھ باتیں کیں ماتھا چوما اور واپس چلے گئے۔

ماسٹر نے ویڈیو پلے کی زور زور کے نعرے لگ رہے تھے، “یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” ،سامنے ایک رہنما کھڑا جوش سے تقریر کر رہا تھا یہ پوج نے امارا جینا حرام کیا ہوا ہے،ہمارے علاقے کا امن تباہ کیا ہوا ہے۔

ماسٹر نے ویڈیو دیکھی نزدیک ہی لیٹے زید کی جانب دیکھا اور سوچ میں محو ہوگیا ، کیسی زندگی ہے ان جوانوں کی؟ گالیاں کھاتے ہیں،طعنے سنتے ہیں،صبح و شام جان مارتے ہیں ،پھر بھی یہ جوان اس پاک سر زمین پر اس میں بسنے والوں پر اپنے خوشیاں اپنا گھر باہر اپنے بچوں کا باپ،اپنے بیوی کا شوہر،اپنی ماں کا اکلوتا سپوت تو قربان کرتے ہی ہیں ساتھ ساتھ اپنی خواہشات،اپنے خواب،اپنا پیشن،اپنے جینے کے مقصد تک کو وار دیتے ہیں۔

ماسٹر نے زید کی طرف دیکھا،جس کی آنکھیں بند تھیں آنسو بہہ رہے تھے،ماسٹر پاس بیٹھا اور بولا جانی غم نہ کر۔

زید نے آنکھیں کھولیں اور بولا بڈی یہ غم کے نہیں خوشی کے اور شکر کے آنسو ہیں۔

ماسٹر؛ حیرت سے زید کی طرف دیکھتے ہوئے۔۔زید!

زید ؛ ماسٹر میجر صاحب نے جو کاغذات دکھائے وہ خیبر پختونخوا کے 13 بڑے سکولوں میں دھماکوں کا پلان تھا،جو ان 28 دہشت گردوں کا ٹارگٹ تھے،سینکڑوں نہیں ہزاروں ماؤں کی گود اجڑنے والی تھی، آدھا ملک خون میں نہانے والا تھا،الحمداللہ آپریشن کامیاب رہا۔ماسٹر ہم نے نوچ لی وہ غلیظ آنکھیں جو اس خاکی مٹی کو لال کرنے پر تلی تھیں، زید میرا ہاتھ پکڑے کہہ رہا تھا،ماسٹر یار مقصد اتنا بڑا تھا قربانی چھوٹی کیسے ہو سکتی تھی،اللہ پاک نے بہت بڑی قربانی قبول لی ہے میری ماسٹر،، وہ صبر بھی دے گا،پاک سر زمین کی سلامتی کے بدلے جان کی قربانی بہت کم تھی میرے یارا اسی لیے اللہ پاک نے جنون کی قربانی لی ہے،میرے جنون کی قربانی۔

ماسٹر محمد فہیم امتیاز
ماسٹر محمد فہیم امتیاز
پورا نام ماسٹر محمد فہیم امتیاز،،ماسٹر مارشل آرٹ کے جنون کا دیا ہوا ہے۔معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ،سائبر ٹرینر،بلاگر اور ایک سائبر ٹیم سی ڈی سی کے کمانڈر ہیں،مطالعہ کا شوق بچپن سے،پرو اسلام،پرو پاکستان ہیں،مکالمہ سمیت بہت سی ویب سائٹس اور بلاگز کے مستقل لکھاری ہیں،اسلام و پاکستان کے لیے مسلسل علمی و قلمی اور ہر ممکن حد تک عملی جدوجہد بھی جاری رکھے ہوئے ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *