ایک تہلکہ ہر وقت درکار ہے۔۔۔محمد اظہار الحق

ایک مرحوم دوست ایک لکھاری کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ انہیں ہمیشہ ایک ممدوح چاہیے۔ ہمیں بھی بطور قوم ہمیشہ ایک تہلکہ درکار ہے۔ کبھی کبھی ذہن میں سوال کا بلبلہ اٹھتا ہے کہ کیا ہم ایک نارمل قوم ہیں؟ ہمیں ہمیشہ ایک بیرونی سہارا درکار ہے۔ کبھی ہماری سوئی اس بات پر اٹک جاتی ہے کہ امریکہ ہمارے ساتھ دوستی کیوں نہیں نبھاتا؟ پھر امریکہ کی بے وفائیاں یاد کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ دھاڑیں مار مار کر روتے ہیں، جیسے امریکہ نے خون سے محبت نامہ لکھ کردیا تھا۔ ہمارے سیاست دانوں میں سے کتنے ہیں جنہوں نے امریکہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے؟ کتنے صحافی اور اینکر پرسن ہیں جو یورپ کی تاریخ سے آشنا ہیں؟ معاشی ترقی کی پڑیاں بیچنے والوں میں سے کتنوں کو معلوم ہے کہ جاپان کی صنعتی ترقی میں زائے بیٹسو (Zaibatsu) کا کیا کردار ہے؟ ہم بزرجمہر ہیں، دانشور ! ہمارے پاس ہر بیماری کا علاج ہے۔ مطالعہ ہمارا صفر ہے۔ قوموں کی تاریخ سے نابلد ہیں۔ ملکوں کی اقتصادی تاریخ سے مکمل ناآشنا ہیں۔ اس پروردگار کی قسم، جو احمقوں کو ارب پتی بنا کر، عقل مندوں کا امتحان لیتا ہے، ہماری پارلیمنٹ میں بہت سے ایسے نمونے بھی تشریف فرما ہیں جو بجٹ تو دور کی بات ہے، اٹلس تک نہیں پڑھ سکتے۔ ہمیں تہلکہ چاہیے۔ ہم ہمہ وقت ایک Hype کے بھوکے ہیں۔ ایک غل غپاڑہ، شوروغوغا ضروری ہے۔ چند ماہ پہلے ہمارے سروں پر سی پیک سوار تھا۔ اقتصادی ترقی سی پیک نے لانی تھی۔ سیاسی استحکام بھی سی پیک کے ذمہ تھا۔ بھارت سے مقابلہ بھی اسی کو کرنا تھا۔ بیروزگاری کا خاتمہ بھی اسی کے سر تھا۔ زراعت کی ترقی بھی سی پیک نے دینا تھی۔ بس یہ بتانے کی کسر رہ گئی تھی کہ سی پیک ہی ہمیں بتائے گا کہ صبح اٹھ کر دانت صاف کرنے ہیں۔ گوشت پکا کر کھاتے ہیں، بدن پر پتے نہیں، کپڑا لپیٹتے ہیں۔ آگ پتھر رگڑ کر نہیں، ماچس سے جلائی جاتی ہے اور رہائش غاروں میں نہیں مکانوں میں رکھی جاتی ہے۔ پنجاب سے بلوچستان تک، کراچی سے گلگت تک، گوادر سے پشاور تک، بہاولپور سے کوئٹہ تک۔ جو کچھ بھی کرنا تھا سی پیک نے کرنا تھا۔ گویا پہلے ہم صفر تھے۔ ہمارے پلے کچھ بھی نہ تھا۔ پھر سعودی ولی عہد تشریف لائے، وہ ہمارے معزز مہمان تھے۔ حرمین شریفین سے ہماری وابستگی ڈھکی چھپی نہیں۔ جس سرزمین پر مقدس پائوں پڑے، اس کی مٹی ہمارے لیے سرمہ ہے۔ عرب خود مہمان نوازی میں ضرب المثل ہیں۔ ان کی آمد پر مسرت کا اظہار فطری تھا اور لازم بھی۔ خارجہ امور کے حوالے سے یہ نئی حکومت کی کامیابی تھی۔ گزشتہ دور حکومت میں بھارت نے شرق اوسط میں پے در پے کئی سفارتی فتوحات حاصل کیں۔ ہم پسپا ہوتے رہے۔ اس پس منظر میں اتنی اہم شخصیت کی آمد سفارتی محاذ پر کامیابی کی دلیل تھی۔ مگر جس طرح ہم نے ولی عہد کے دورے میں مستقبل کے سبز باغ دیکھے، اس پر ہنسنے کو جی چاہتا ہے اور رونے کو بھی، چند اعلانات دیکھیے۔ ’’معیشت مضبوط ہوگی۔ ‘‘ ’’بڑی سرمایہ کاری آئے گی۔ ‘‘ ’’3 ارب ڈالر کا تیل موخر ادائیگی پر ملے گا۔‘‘ ’’سعودی عرب، گرانٹ، قرضہ کی مد میں 8 ارب دے گا۔‘‘ ’’دورے سے تعلقات کو نئی جہت ملے گی۔‘‘ یہ مشتے نمونہ از خروارے ہے۔ استقبال بجا، مسرت بھی جائز، مہمان نوازی بھی ہمارا فرض مگر خدا کے بندو یہ تو سوچو کہ تمہاری معیشت اس دورے سے ‘اس سعودی سرمایہ کاری سے کیسے مضبوط ہوگی؟ کیا اس سے پہلے ملک میں سرمایہ کار نہ تھے؟ وہ کہاں گئے؟ کیوں چلے گئے؟ کیا افتاد آن پڑی تھی کہ انہوں نے کارخانے اٹھائے اور ویت نام، بنگلہ دیش، ملائیشیا اور دوسرے ملکوں کا رخ کیا؟ پھر سعودی سرمایہ کاری اسی سرزمین پر ہوگی جہاں آپ رہ رہے ہیں، کیا آپ کی ٹیکس پالیسیوں میں توازن آ گیا ہے؟ کیا نئے کارخانہ داروں کو سال کے بارہ ماہ، ہفتے کے سات دن، دن کے چوبیس گھنٹے بجلی ملتی رہے گی؟ گیس کی سپلائی یقینی ہوگی؟ کیا امن و امان کی صورت مثالی ہو چکی ہے۔ اگر ان سطور سے کوئی یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ ہم سعودی سرمایہ کاری پر خوش نہیں، یا اس کی اہمیت کم کر رہے ہیں یا دودھ میں مینگنیاں ڈال رہے ہیں تو وہ غلطی پر ہے ؎ چوبشنوی سخن اہل دل، مگو کہ خطاست سخن شناس نہ ای جان من! خطا ایں جاست اہل دل کی باتوں کو غلط نہ سمجھو، مسئلہ یہ ہے کہ تم سخن شناس نہیں۔ کوئی بیرونی طاقت، کسی ملک کی معیشت کو مضبوط نہیں کرسکتی۔ یہ ایک ملک کا اندرونی نظام ہے جو معیشت کو مضبوط یا کمزور کرتا ہے۔ آپ نے زمین میں ہل چلایا نہ بیج بویا، ابر پارے ہر روز کیوں نہ پانی انڈیلیں، ایک ڈنٹھل بھی نہیں اگے گا۔ پہلے یہ تو دریافت فرمائیے کہ اپنے سرمایہ کار کہاں چلے گئے؟ سرکاری محکمے آپ کے سرخ فیتوں کے پہاڑ اکٹھے کئے ہوئے ہیں۔ برآمد کنندگان سے پوچھیے کس عذاب سے گزرتے ہیں۔ صنعتکار مسلسل غیر یقینی صورت حال سے دوچار رہتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ دنیا کے معروف برانڈ جیسے سی کے، نائیکے، اڈی ڈاس، مارک اینڈ سپنسر، بربری، باس، آئیکیا اور بے شمار دوسرے اپنی مصنوعات سری لنکا، بھارت، ویت نام، بنگلہ دیش اور ملائیشیا سے بنوا رہے ہیں۔ ہش پپی کے جوتے بھارت میں بنتے ہیں۔ شاید ہی کوئی برانڈ پاکستان سے یہ خدمات لیتا ہو۔ آپ کے ملک میں تو ایئرلائنیں ہی نہیں آتیں۔ آپ کی اپنی ایئرلائن کے کسی جہاز کی کوئی گارنٹی نہیں۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے اندر کی فضا صنعت کاروں کے لیے بدستور حوصلہ شکن رہے تو سعودی سرمایہ کاری کیا آپ مریخ پر آزمائیں گے؟ زراعت میں سعودی شراکت پر بغلیں بجائی گئیں۔ آج تک سیلابوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی نہ بن سکی۔ ڈیم ہم سے اتنے بھی نہ بنے جتنے ہمارے ہاں ایک نیم خواندہ فیملی بچے پیدا کرتی ہے۔ جنوبی پنجاب اور سندھ میں سینکڑوں برس پرانا جاگیردارانہ نظام چل رہا ہے۔ ہاری اپنی مرضی سے ووٹ تو کیا دے گا، اپنی مرضی سے اپنی بیوی کو بھی اپنے جھونپڑے میں نہیں لے جا سکتا۔ بلوچستان میں ہزاروں سال سے ایک قدیم سرداری نظام چلا آ رہا ہے جسے تبدیل کرنے کی کسی میں ہمت ہے نہ فکر نہ ادراک۔ کھیتوں سے پیداوار منڈی تک لے جانے میں کسانوں کا کچومر نکل جاتا ہے۔ گنے کے کاشتکاروںکو کئی کئی سال شوگر مافیا ادائیگیاں نہیں کرتا۔ یہ سب کچھ تو تبدیل نہ ہو مگر سعودی عرب آ کر جادو کی چھڑی سے زراعت کو چار چاند لگادے۔ سرکاری ادارے بدعنوانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ گیس کا کنکشن لینے میں گھروں کے مالک درجنوں جوڑے جوتوں کے توڑ بیٹھتے ہیں۔ آج بھی حالت یہ ہے کہ ہائوسنگ سوسائٹیوں کو دارالحکومت کا ترقیاتی ادارہ این او سی نہیں دے رہا۔ گیس کا محکمہ یہ این او سی مانگتا ہے۔ لوگ مایوسی میں ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ ٹریفک کا نظام دنیا کے بدترین نظاموں میں سرفہرست ہے۔ ایک ڈمپر یا ٹرالی کا وحشی ڈرائیور کسی کو بھی قتل کرسکتا ہے۔ اسے سزا ملنے کا کوئی امکان نہیں۔ عین وفاقی دارالحکومت میں، پچانوے فیصد موٹرسائیکلوں کی پچھلی بتی نہیں جلتی۔ سینکڑوں گاڑیاں رات کو سامنے والی لائٹ کے بغیر چل رہی ہیں‘کوئی پوچھنے والا نہیں۔ آج تک نئے پلازے کھڑے کرنے والوں کو پارکنگ کی جگہ مہیا کرنے پر کوئی نہ مجبور کرسکا۔ تھانوں میں ایس ایچ او نہیں ملتا۔ سرکاری سکولوں کالجوں میں اساتذہ مرضی سے جاتے ہیں۔ وفاقی سیکرٹریٹ جا کر دیکھیے، اکثریت گیارہ بجے سے پہلے آنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ بازار دن کے ایک بجے کھلتے ہیں۔ دن کی روشنی ضائع ہورہی ہے۔ راتوں کو سارے بازار بارہ بجے تک جگمگ جگمگ کرتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر تو دور کی بات ہے، پٹواری عام سائل سے بات نہیں کرتا۔ اس صورت حال میں چین اور سعودی عرب کے ساتھ کرۂ ارض کے پچاس مزید ممالک بھی آ جائیں تو آپ کی قسمت نہیں بدل سکتے۔ کیونکہ آپ کو خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *