بھارت کا مکروہ چہرہ۔۔۔۔سید علی احمد بخاری

پلوامہ حملے کے بعد سے انڈین لیڈرشپ ،میڈیا بشمول عوام نے جس طرح سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا ہوا ہے اِس کے بعد بحیثیت مجموعی اِنڈین قوم کاوہ مکروہ اور بھیانک چہرہ دیکھنے کو ملا جس سے پاکستانی قوم نہ صرف ناواقف ہے بلکہ اکثر پاکستانیوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہو گا کہ انڈین عوام اور میڈیا پاکستان اور پاکستانیوں سے اِس قدر شدیدنفرت کرتے ہیں۔ انڈین قوم میں بحیثیت مجموعی پاکستان کے لئے نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اور وہ پاکستانیوں سے بغض، حسد اور کینہ میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے۔انڈین نہ صرف پاکستان اور پاکستانیوں سے نفرت کرتے ہیں بلکہ ہر اُس شخص سے بھی دشمنی مول لیتے ہیں جو پاکستان سے نفرت نہ کرتا ہو،چاہے وہ کوئی انڈیا کا اپنا عام آدمی ہو ، لیڈرہو،یا کوئی سلیبرٹی ہی کیوں نہ ہو۔

موجود حالات میں پاکستانی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔اِنڈیا نے پاکستان کے خلاف ایک نیا آپریشن “کولڈ سٹارٹ” شروع کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں،جس کے تحت پہلے مرحلے میں پاکستان کو عالمی طور پر ممکنہ حد تک تنہا کیا جائے گا،خاص طور پر ایران اور افغانستان کو پاکستان کے خلاف اِستعمال کرتے ہوئے اندرونی طور پر کمزور کیا جائے گا۔ ایران اور افغانستان سے ملحقہ سرحدوں پر کشیدگی بڑھا کر پاکستانی فوج کی توجہ منقسم کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف عسکری جارحیت کی جائے گی جس کا حدف پاکستان کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر نا ہے۔اور اِس جنگ میں انڈیا کو ایران اور افغانستان کے علاوہ درجنوں ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہو گی۔

tripako tours pakistan

ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستانی قوم متحد ہو کر اپنی مُسلح افواج کی پشت پر کھڑی ہو۔اور دشمن کی تمام چالوں کو خاک میں ملا نے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔اور ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ بیک وقت مشرقی،مغربی سرحدوں کے علاوہ اندرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے حکمتِ عملی ترتیب دیں۔اور یاد رہے کہ ایران اور افغانستان نہ ماضی میں پاکستان کے ساتھ مخلص تھے اور نہ حال میں ہیں اورنہ ہی مستقبل میں بھی اِن سے کوئی اَچھے کی امید رکھی جائے۔ ہمیشہ مشکل وقت میں اِن ممالک کے پاکستان کی پیٹھ میں چُھرا گھونپا ہے۔اور آئندہ بھی اِسی پالیسی پر کارفرما رہیں گے۔

کسی بھی ملک کی فوج کے لئے ایک ساتھ اتنے محاذوں پر مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہوتا جب تک کہ اس ملک کے عوام اپنی افواج کے شانہ بشانہ نہ کھڑے ہوں،اور پاکستانی قوم کے لئے یہ وقت بہت جلد آنے والا ہے۔ہمیں اپنی صفوں میں موجود دشمن کے ایجنٹوں کو بے نقاب کرنا ہو گا۔اور دشمنوں کی ہر طرح کی سازشوں کو ناکام بنانا ہو گا۔ اورہمیں انڈیا کی طرف سے پاکستان کو “ڈر گیا ہے پاکستان” اور آتنکستان ” جیسے توہین آمیز القابات دینے کا منہ توڑ جواب دینا ہو گا۔

Advertisements
merkit.pk

میں حکومت پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ انٹرٹینمنٹ اور فلموں کی بجائے ایک دو انڈین نیوز چینلز کو پاکستان میں دکھائے جانے کی اجازت دے،اگر ایسا ممکن نہیں تو کم از کم انڈین نیوز چینلز پر ہونے والے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کو مکمل طور پر پاکستانی چینلز پر دکھایا جائے کیا ، ایسا کرنے سے نہ صرف پوری پاکستانی قوم انڈیا کے حوالہ سے راہ راست پر آجائے گی،بلکہ دو قومی نظریہ کو عملی طور پر سمجھ جائے گی۔انڈین ذہنیت کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد میں اورعلامہ محمد اقبال ؒ اور قائد اعظم محمد علی جناح کی دوراندیشی کو دل سے سلام پیش کرتا ہوں ۔ جن کی وجہ سے ہمیں آزادی کی نعمت ملی ،ہمیں دل وجان سے اس کی قدر کرنی چاہیے ورنہ ہم بھی آج ہندو بنیے کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوتے ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و آبرو داؤ پر لگ چکی ہوتی۔ اور ہم اپنے ہی گھروں میں غیر محفوظ ہوتے۔اور ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کے لئے عالمی سطح پر آواز بلند کرنا ہو گی ، اور ان کی مدد کرنے کے لئے آگے آنا ہو گا،جو کہ اِس وقت تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں۔انڈین افواج نے اُ ن پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے۔اور وہ مساجد میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ کشمیری عوام کی مسلح جد وجہد آزادی کو کامیاب فرمائے اور کشمیر ی مسلمانوں کو آزادی کی نعمت عطا ء فرمائے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

سید علی احمدبخاری
سید علی احمدبخاری
سیّد علی احمد بخاری کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع حویلی سے ہے۔ ابتدائی تعلیم ضلع حویلی سے حاصل کی اور 2006 ء میں پنجاب ٹیکنکل بورڈ سےElectronics میں DAE کیا۔ B-Tech (Electronics & Telecom) آنرز کی ڈگری سرحد یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی پشاور سے2013 ءمیں حاصل کی- اِسکے بعدماسڑز اِن کمپیوٹرسائنس کی ڈگری ورچوئل یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی سے حاصل کی۔اِس کے ساتھ ساتھ آپ 2007 ءسے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات آزادکشمیر سے وابستہ ہیں۔آپ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں، اور حالاتِ حاضرہ ، ادبی اور دیگر سوشل سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔آپ ریفرل سسٹم (Direct Marketing ) سے تین سال وابستہ رہے۔آپ شروع ہی سے ٹیکنالوجی کے اِستعما ل کے لئے کوشاں رہے، 2006 ءمیں اپنے گاوٰں میں FM ٹرانسمیٹر بناکر دو ماہ تک تجرباتی ٹرانسمیشن کی- 2008 ء سے تا حال آپ انٹرنیٹ پر درجنوں بلاگز اور ویب سائٹس ، اور پیجز چلا رہے ہیں۔ اپنے ضلع کی پہلی ویب سائٹ بنانے اور چلانے کا اعزاز بھی آپ کے پاس ہے۔ آپ آزادکشمیر میں Android App ڈولپمنٹ کرنے والے چند سافٹ وئر ڈیولپرز میں شامل ہیں۔آپ گذشتہ کئی سالوں سے آزاد کشمیر کے دارلحکومت میں قیام پذیر ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply