جماعت اسلامی کی’’ توصیف‘‘،جواب آں غزل

طاہر یاسین طاہر
ہر انسان کا اپنا سچ ہوتا ہے وہ اسی کو ہی سچ مانتا ہے، اسی کو سنتا ہے اور اسی کی تشہیر چاہتا ہے۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کا رویہ یہی ہے۔انھیں پہلے تو پاکستان کی تقسیم پہ ہی اعتراض تھا۔اللہ کے فضل سے ملک بن گیا تو نئی سازشوں کی راہ نکال لی انھوں نے۔اپنے عہد کے تقاضوں سے دس صدیاں پیچھےرہنے والے کس طرح جدید سماجی رویوں کی رہنمائی کر پائیں گے؟اگر امریکہ مدد نہ دے تو کیا یہ قربانی کی کھالوں اور زکوٰۃکے پیسوں سے پولیوں کے خلاف مہم چلا سکتے ہیں؟کئی اور مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں۔ذات کے خول میں اسیر،سماجی رویوںپر اپنی رائے کو ترجیح دینے والے تاریخ کے کسی تاریک افق میں گم ہو جاتے ہیں۔ تاریخ سےکسی کی رشتے دار نہیں، مولوی مگر چاہتا ہے کہ وہ تاریخ کا ’’فرسٹ کزن‘‘ بنا رہے۔کون ہے جو محمود غزنوی کو ہماری نصابی کتب کےعلاوہ یاد کرتا ہے؟جن کا ہیرو ہی لٹیرا ہو وہ کیسا نظام دیں گے؟
یاروں کی خامشی کا بھرم کھولنا پڑا
اتنا سکوت تھا کہ مجھے بولنا پڑا
ہدف اقتدار ہوتا ہے نہ کہ اسلامی نظام۔مذہبی سیاسی جماعتوں ،جو بہر حال فرقہ وارانہ مسلکی جماعتیں ہیں، کا المیہ یہ ہے کہ ساری کی ساری خود کو اسلام کی نمائندہ اور انسانیت کی نجات دھندہ سمجھتی ہیں۔اصلاً مگر یہ ایک دوسری کی ضد،جماعت اسلامی ہو یا جمعیت علمائے اسلام(ف)،مولانا ابو الخیر کا سیاسی گروہ ہو یا مولانا سمیع الحق کا طالبانی سیاسی نظام،مولانا عبد العزیز لال مسجد والے ہوں یا کالعدم اہلسنت ولجماعت کے فاروقی و لدھیانوی،کالعدم لشکر طیبہ جو عالمی دہشت گردانہ فہرست کے بعد جماعت الدعوہ کہلاتی ہے،وہ ہو یا کوئی بھی ایسی سیاسی جماعت جو اپنے منشور میں شریعت شریعت کے نام پر چندہ لیتی ہو،کیا ان کا ہدف ایک عادلانہ اسلامی معاشرہ ہو سکتا ہے؟ یا فرقہ وارانہ بنیادوں پر حد بندیاں؟بے شک فرقہ وارانہ حد بندیاں اور قتل و غارت گری۔
اسلام ایک آفاقی دین ہے۔مذہبی سیاسی جماعتوں نے اسے محض عباداتی دین بنا کر قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ظواہر پرست ملائیت چندہ اور کھالیں تو جمع کر سکتی ہے جدید عہد کے تقاضوں کو اس کا فہم ادراک نہیں کر سکتا۔ یہ المیہ ہے،اور سچ بھی یہی ہے۔جو ایک دوسرے کی مسجد میں نماز ادا نہیں کر سکتے وہ کیسے پورے معاشرے کے لیے یکساں نظام دیں گے؟میرے کالم کے’’ردعمل‘‘ میں جماعت اسلامی کی ’’توصیف‘‘ میں لکھا گیا کالم مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کی عدم برداشت پہ دال ہے۔لکھنے والے نے فرمایا کہ جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمان صاحب کی جمعیت کو علیحدہ دیکھا جائے؟ سوال مگر یہ ہے کہ ایم ایم اے کے زمانے سے؟ ضیا الحق کے زمانے سے؟یا ان دنوں سے؟توصیف صاحب جماعت اسلامی کی توصیف میں کہتے ہیں کہ جماعت کے کسی رہنما اور وزیر مشیر پہ کرپشن چارجز نہیں۔ بالکل یہ خوبی ہے، مگر کے پی کے میں جماعت اسلامی کے ایک وزیر کی کرپشن بارے جو اشتہار اخبارات میں چھپا اسے کیا کہا جائے گا؟مذہبی جماعتوں نے معاشرے میں ’’عسکری کرپشن‘‘ کو بھی رواج دیا۔مجھے جماعت اسلامی کے اس عہدیدار کا نام یاد نہیں آ رہا جس کے گھر میں القاعدہ کا دہشت گرد چھپا ہوا تھا۔جماعت اسلامی سمیت کالعدم اہل سنت والجماعت،اور دیگر جماعتیں کالعدم تحریک طالبان کی سہولت کار بھی ہیں۔کیا نون لیگ نے جب کالعدم تحریک طالبان کے دہشت گرد کمانڈروں سے مذاکرات شروع کیے تھے تو اس میں طالبان کی نمائندگی لال مسجد والے مولوی عبدالعزیز نہیں کر رہے تھے؟ مولوی عبد العزیز اور جماعت اسلامی میں گہرا فکری ربط کون نہیں جانتا؟ کیا اس مذاکراتی ٹیم میں جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر ابراہیم موجود نہیں تھے؟کیا منور حسن جو جماعت اسلامی کے سابق امیر تھے کالعدم تحریک طالبان کے دہشت گردوں کے بارے ان کے ہمدردانہ بیانات ہم آسانی سے بھول جائیں؟مکرر عرض ہے کہ نام نہاد مذہبی جماعتوں کو اگر اس بات کا یقین ہو کہ انھیں عوامی پذیرائی ملے گی تو وہ عسکری ونگ کیوں ترتیب دیں؟ وہ ووٹ کے لیے فتوے کا سہارا کیوں لیں؟
ان کا ہدف ایک دو سیٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اگر ایسا نہ ہوتا ،تو پاکستان میں پانامہ لیکس پر تھوڑی بہت اپوزیشن کرنے والی جماعت اسلامی جو کرپشن کے خلاف ٹرین مارچ بھی کرتی رہی وہ آزاد کشمیر میں نون لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیوں کرتی؟اگر واقعی نون لیگ کی حکومت کرپٹ ہے تو جماعت اسلامی کی قیادت کو یہ کیسے یقین ہو گیا تھا کہ پاکستان میں کرپشن کرنے والی جماعت آزاد کشمیر میں کرپشن نہیں کرے گی؟ اسے بھی چھوڑ دیں۔جب جماعت اسلامی نواز حکومت پہ کرپشن اور لوٹ مار کا الزام لگاتی ہے تو پھر جہلم میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوار کے مقابل نون لیگ کے امیدوار کوووٹ کیوں دیتی ہے؟نئے پاکستان کے جس حلوے کا ذکر جماعت اسلامی کے جن قصیدہ نویس نے کیا انھیں یاد رہے کہ کے پی کے میں جماعت’’ حلوہ کی اتحادی ‘‘ہے۔مجھے جماعت اسلامی یا کسی اور مذہبی جماعت سے ذاتی پرخاش نہیں۔ مگر میں پوری دیانت سے سمجھتا ہوں کہ اقتدار کی شدید ترین خواہش کے باوجود مذہبی جماعتیں دو چار سیٹوں، ایک دو وزارتوں اور کمیٹیوں سے آگے نہیں جا سکتیں۔
آخری تجزیے میں پاکستان میں نہ تو کوئی اسلامی جماعت ہے اور نہ ہی کوئی قابل فہم اسلامی تحریک اٹھی۔ہر مسلک کا مولوی اپنے چند جبہ فروش مولویوں کے مشورہ سے اپنے ’’فہم ِاسلام‘‘ کو ہی کل اسلام سمجھتا ہے۔وہ جو اسلام میں اجتہادی رویوں کے ہی قائل نہیں وہ جدید عہد کی علمی و سائنسی ضروریات کو اسلامی تعلیمات سے کیسے ہم آہنگ کریں گے؟مذہبی سیڑھی لگا کر پارلیمان تک توجایا جا سکتا ہے وزارت عظمیٰ تک نہیں۔مذہبی سیاسی جماعتوں کا کردار اس سے بڑھ کر نہیں کہ نون لیگ یا پی ٹی آئی سے اتحاد کر لیں۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب تو پی پی پی سے بھی سیاسی اتحاد کر لیتے ہیں۔مذہبی جماعتوں کی ناکامی کے بے شمار وجوہات میں سے ایک ان کا معاشرے میں مذہب کے نام پر تشدد اورخطے میں نجی جہاد کی پشت بانی ہے۔ اس کا روبار سے البتہ مذہبی جماعتوں کے مدرسے ایئر کنڈیشن ہو گئے۔علامہ اقبال مولویانہ فریب کاریوں کوبھانپ گئے تھے ،اسی لیے تو کہا کہ
یہی شیخ ِ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھتا ہے
گلیم ِ بوذرؓ و دلق ِاویسِ ؓ چادر ِ زہراؑ

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *