میں تماشائی ہوں

میں نے انسان کو بغیر کپڑوں کے دیکھا۔ میں نے اس کا کپڑوں تک رسائی کا سفر دیکھا۔ آپ انسان ہیں سو میں ہی نہیں ،ہم سب تماشائی ہیں۔ہم نے مزہب بنتے اور اجڑتے دیکھے ہیں،تہزبیں شروع ہوتی ہوئیں ،عروج تک جاتی ہوئیں۔۔۔۔زوال پر آتی ہوئیں۔۔۔۔ ذلیل و خوار ہوتی ہوئیں دیکھیں۔ انسان کے بچپن ، جوانی، بڑھاپے کا سفر بھی اس تماشے کی بھی ایک کمال داستان ہے۔
میں تماشائی اس لئے ہوں کہ اگر میں انسان ہوتا تو ظالم، جابر، جاہل،چور، ڈاکو نہ جانے کیا کیا ہوتا یا پھر بردبار و اعلی اخلاق کی مسند پر فائز ہوتا۔ سو ان میں سے کسی کو بھی اختیار کرنے سے پہلے تماشائی ہونا ضروری ہے۔ ابھی تو تمشائی ہونے کی حیثیت سے میں نے کپڑوں تک رسائی کا سفر، تہذٰٰیب کے حالات دیکھں ہیں۔ انسان کا رہن سہن تو ابھی دیکھا نہں۔ میں نے جب انسان کا پہلا قتل دیکھا، سوچا کہ یہ تماشا ختم ہونے سے پہلے میرا تماشا ختم کر دیا جائے۔ لیکن مجہے کہا گیا ، نہں ابھی تجھے بہت کچھ دیکھنا ھےاورفیصلہ کرنا ھےکہ تجھے کیا کرنا ھے۔ سو فیصلے کے لئے اور ڈرامہ دکھایا گیا۔
مے نے دیکھا کہ اسلام کو دنیا کے سامنے ایک خدائی مزہب کی صورت میں پیش کیا گیا۔ میں ایک بچپن سے ایک مسلمان ھوں، سو مجھے اسلام کو دیکھنے میں مزہ آیا۔ میں نے دیکھا کہ اس مزہب میں خدا نے محمد(ص)کے زریعے انسان کی تمام ضروریات کے حل بتائے،حقوق بتائے ، فن شہنشاہی سکھا دئے مے نے دیکھا کہ محمد (ص) کو ماننے والے مسلمان کہلائے۔ یہ مسلمان بائیس لاکھ مربع میل تک حکمران بنے۔ آہستہ آہستہ آپس میں تقسیم ہوتے گئے اور اس ریاست کو تقسیم کرنے لگے۔ان سپوتوں میں سے ایک سپوت محمد بن قاسم کو اسلام کا جھنڈا لہرانے کے لئے برصغیر بھیجا گیا،جس نے اسلام کا پرچم لہرایا اور امن کا پیغام دیا۔برصغیر میں ایسا امن قائم ہوا کہ ہندو اور سکھ مسلمانوں کی عیدین پر پرشاد تقسیم کرتے ، عاشور پر سبیلیں لگاتے ، مسلمان ان کی ہولی پر خود بھی رنگوں میں ڈوب جاتے۔ کبڈی مسلمان جیتتا تو میدان میں ہندو کندھوں پر اٹھا لیتے۔ مسلمان اس جہان فانی سے کوچ کرتا تو سکھ جنازے کے دوسری طرف کھڑے ہو جاتے۔۔۔۔۔۔پھر گھر آتے اور کہتے فاتحہ پڑھ لو۔۔۔۔پھر کیا دیکھتا ہوں جس طڑح اسلامی سلطنت کا شیرازہ بکھرا ہونہی برصغٰیر میں ہوا۔۔۔۔۔اچانک ماحول خراب ہوا، فضا بدل گئ۔۔۔۔۔مزہب کے نام پر قتل گری شروع ہوئی اور سکون نام کی طاقت ناپید ہو گئ۔۔۔۔۔۔۔میں نے دیکھا کے باپ کے گلے میں جوان
بٰیٹے کی انتڑیوں کا ہار ڈالا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔دادے کے سامنے پوتے کے ٹکڑے ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔ باپ کے سامنے اس کی بہو کو پوتے کی موجودگی میں مار دیا جاتا ہے، کہیں ایک بھائی کی بہن اپنی برہنگی پر سر دیوار پر دے مارتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی جان کت حصول کے لئے ریل کی پٹڑی سے چھلانگ لگا لیتا ہے ۔۔۔۔۔ پھر امن کی تلاش میں ہی قصہ جاری رہتا ہے، میں خاموش تماشائی ہی رہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔غلط کوئی نہیں ، غلط میں ہی تھا کیوں کہ میں تمشائی بنا رہا اور تماشہ لگانے والوں کو سمجھ نہ سکا ۔۔۔۔پھر کیا ہوا،فیصلہ ہوا ،یہ ارض مقدس وجود میں آئی ۔۔۔۔۔۔ جسے مسجد سے تشبیہ دی گئ ۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں پہلی ریاست بنتی ہے جس کا وجود اسلام ۔۔۔۔ لا الہ الا لله ۔۔۔۔۔۔۔۔کی بنیاد پر ہے۔۔۔۔۔۔میں نے سوچا کہ اب تماشہ ختم ہو چکا ۔۔۔۔۔۔۔ سب مسلمان سکون سے رہیں گے ۔۔۔۔۔۔ میں بھی انسان بن جاؤں گا، اب تماشہ ختم ہو جائے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔۔۔۔۔ مجھے پھر تماشائی بنا دیا گیا ۔۔۔۔ صوبے کے نام پر تماشائی، مسلک کے نام پر تماشائی، آخر کیوں ؟؟؟؟؟؟
اتنا کچھ دکھانے کے بعد بھی میں انسان نہں بن سکتا؟؟؟؟ مجھے انسان بننا ہے، کردار بننا ہے، اقبال کا شاہین بننا ہے۔۔۔۔۔۔میں نے اپنی آنکھوں سے جو مناظر دیکھے ، جو ڈرامے دیکھے ان کی مدد سے مجھے اپنے آپ کو بنانا ہے۔
میں پھر دیکھتا ہوں کہ انبیاء کے وارث علماء (بحوالہ حدیث) جن میں سے بعض نے اس اہمیت کا غلط فائدہ اٹھایا اور لوگوں کو تقسیم کر دیا۔ اب اس ارض مقدس میں زبانوں پر تو ایک دوسرے کو غیرمسلم کہا جا رہا ہے ، لیکن یہ زہنوں میں بھی نقش ہوتا جا رہا ہے ۔ اب تو یہ سچ میں تماشہ ہونے لگا ہے ۔ ان حالات کو دیکھ کر لگتا ہے مجھے یہ زبردستی تماشائی والی زندگی ترک کرنا پڑے گی ۔۔۔۔۔۔ اور اپنی فطرت کو اصل فطرت پر لانا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔آؤ تماشائیو ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہم تماشائیوں کی وجہ سے ہی تماشے لگتے ہیں ،آج سے انسان بنو ، کردار بنو ، شاہین بنو، فیصلہ کرو تمہیں کیا کرنا ہے،نہیں تو آنے والے بھی تماشائی رہیں گے۔

عمیر ارشد بٹ
عمیر ارشد بٹ
مرد قلندر،حق کا متلاشی، علاوہ ازیں سچ سوچنے اور بولنے کا عادی ہوں۔ حق بات کہتے ہوۓ ڈرنے کا قائل نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *