شیطان کا دائرہ کاراورانسانی اختیار۔۔۔سیدہ ماہم بتول

SHOPPING
SHOPPING
”انسان اپنی فطرت کے لحاظ سے کوئی مجرم اور فسادی وجود نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو نہایت اچھی صلاحیتوں اور نہایت اعلیٰ قابلیتوں کے ساتھ پیدا کیا۔ یہ اگر گناہ میں مبتلا ہوتا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ یہ کوئی ازلی و ابدی گناہ گنہگار ہے بلکہ اس کی یہ ہے کہ وہ اختیار کی اس نعمت کو جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو مشرف فرمایا ہے، غلط استعمال کرنے کے فتنہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس فتنہ میں اس کو شیطان مبتلا کرتا ہے اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی وسیع آزادی پر جو چند پابندیاں عائد کر دی ہیں ، شیطان انسان کو ورغلاتا ہے کہ بس یہی پابندیاں ہیں جو اس کے سارے عیش و آرام کو کرکرا کئے ہوئے ہیں ۔ اگر وہ ان کو جرأت کرکے توڑ ڈالے تو بس اس کیلئے ترقی و کمال اور عیش و آرام کے تمام دروازے کھلے ہوئے ہیں ۔ شیطان کے ان مشوروں کا فائدہ چونکہ انسان کو نقد نظر آتا ہے اس وجہ سے وہ اس کے چکمے میں آجاتا ہے اور اپنی فطرت کے اعلیٰ تقاضوں کے خلاف گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔“
جب انسان کمال و معنویت کی طرف اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے تو شیاطین کا ایک گروہ اسے فریب دینے اور بہکانے میں مشغول ہوجاتا ہے تاکہ اسے کمزور کرکے راستے سے بھٹکا دیا جائے۔اس مسئلہ کو اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ آپ کسی ایسی منزل کی طرف گامزن ہوں جہاں آپ کبھی پہلے نہیں گئے ہیں اور آپ کے سفر کا سارا دار و مدار شاہراہوں یا عام راہوں پر لگے ٹریفک اور روڈ مارکر بورڈس پر ہی ہو لیکن کوئی شر پسند آکر اس پورے راستے سے ان سب کو ہٹا دے تو ظاہر سی بات ہے کہ آپ کا اپنی منزل تک پہنچنا بہت دشوار ہوجائے گا۔ اسی طرح کمال و معنویت کے سفر میں ایک مؤمن کی توجہ کو مقصد سے ہٹانے کے لئے بہت سے شیاطین بیٹھے رہتے ہیں جو اسے حق سے گمراہ کرنے اور راہ ہدایت سے بھٹکانے میں اپنا پورا زور لگا دیتے ہیں لہذا جب کوئی مؤمن یاد خدا کے سہارے اس کی طرف بڑھنا شروع کرتا ہے تو اسے ہمیشہ خلوص اور صداقت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے۔اگر یہ ہتھیار اس کے پاس ہیں تو کوئی بھی شیطان اسے گمراہ نہیں کرسکتا۔
چونکہ اللہ تعالٰی اس مؤمن کے لئے حق و نور کی طاقت ایک شہاب رحمت بنا کر اس کے افق زندگی پر روشن کردیتا ہے کہ جس کے ذریعہ وہ شیاطین کے خفی و جلی بچھائے ہوئے جال کو پہچان لیتا ہے۔ لیکن اگر انسان دنیا پرستی،شہرت اور دیگر منفی صفات و احوال میں مبتلا ہوجائے تو ظاہر ہے وہ شیاطین کے جال میں پھنس جاتا ہے ورنہ اگر انسان اپنی پاک و صاف فطرت کی ہمراہی کرے تو کبھی کوئی شیطانی حملہ اس پراثر نہیں کر سکتا۔
اگرچہ شیطان کی چالوں اور سازشوں کے متعلق بہت سی ایسی روایات ملتی ہیں جن سے اس کی قدرت اور رسوخ کا پتہ چلتا ہے جیسا کہ نقل ہوا ہے:شیطان خون کے مانند انسان کی رگ و پئے میں سما جاتا ہے۔ (1)
قرآن حکیم میں ارشاد خداوند ہے:
 اِنَّ کَیۡدَ الشَّیۡطٰنِ کَانَ ضَعِیۡفًا
ترجمہ: شیطان کی عیاریاں یقیناًًً ناپائیدار ہیں۔ (2)
 شیطان کی عیاریاں یقیناً ناپائیدار ہیں۔ عیاری یعنی مکر و حیلہ اور بے حقیقت عیاری ہمیشہ ناپائیدار ہوتی ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں کے لیے ایک ابدی درس ہے کہ عیاری بے حقیقت ہے اور بے حقیقتی ناپائیدار ہوتی ہے۔ لہٰذا مومنین کو اپنے بے حقیقت دشمن سے خوف نہیں کھانا چاہیے۔
چونکہ انسان کے پاس وہ ہتھیار ہے کہ شیطان کا وار جتنا شدید بھی ہو وہ اس سے اپنا دفاع اور بچاؤ کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہو جاتا ہے۔ وہ افراد کہ جو باطل چکروں میں پڑ جاتے ہیں یہ ایک بار ہی اٹھ کر شیطان کے جال میں نہیں پھنستے بلکہ ان کے لئے بہت سے ایسے اسباب بنتے ہیں کہ شیطان کا جال اور اس کی چالیں اسے جکڑ لتی ہیں وگرنہ شیطان کو اللہ نے انسانوں پر اتنا اختیار نہیں دیا کہ وہ ان کے بُرے یا بھلے پر قارد ہو بلکہ صرف وہ وسوسہ ڈالتا ہے’’یوسوسُ فی صدور الناس‘‘ جس کے مقابل انسان کو اللہ نے ارادہ دیا ہے۔
اگر انسان ارادہ کرلے تو شیطان کا کوئی حربہ اس پر کارگر نہیں ہوسکتا۔
امام کاظم علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:
’’فَإِنَّهُ أَضْعَفُ مِنْکَ رُکْناً فِی قُوَّتِهِ وَ أَقَلُّ مِنْکَ ضَرَراً فِی کَثْرَهِ شَرِّهِ إِذَا أَنْتَ اعْتَصَمْتَ بِاللَّهِ وَ مَنِ اعْتَصَمَ بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِیَ إِلى صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ‘‘ (3)
ترجمہ: ابلیس اپنی تمام طاقت و قدرت کے باوجود تم سے کمزور ہے اور اپنی تمام بُرائیوں کے باوجود تمہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کرسکتا جب تک تم اللہ تعالٰی کی پناہ میں ہو چونکہ جو شخص اللہ کی پناہ میں چلا گیا اسے صراط مستقیم مل گئی۔
پس شیطان کو زیر کرنے کے لئے کسی توب، بندوق اور ٹینک کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ آپ کا ارادہ جتنا قوی ہوگا شیطان آپ سے اتنا ہی دور رہے گا اور کچھ وہ اعمال بھی ہمیں روایات میں ملتے ہیں جن سے شیطان کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور اس کا رنج و الم چھپائے نہیں چھپتا۔ چنانچہ ایک دن رسول اکرم ﷺ نے شیطان کو دیکھا کہ بہت کمزور و نحیف ہوچکا ہے حضرت ﷺ نے سوال کیا: تجھے کیا ہوا؟ شیطان نے جواب دیا: یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ کی امت کے ہاتھوں مشکلات و زحمات میں گھر چکا ہوں۔ رسول خدا ﷺ نے فرمایا: لیکن میری امت نے تیرے ساتھ ایسا کیا کیا ہے؟ شیطان نے کہا: یا رسول خدا ﷺ آپ کی امت کی یہ 6 عادتیں ایسی ہیں کہ مجھ میں انہیں دیکھنے اور برداشت کرنے کی طاقت نہیں رہتی۔
(1) جب یہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو سلام کرتے ہیں۔
(2) اور مصافحہ کرتے ہیں۔
(3) جب کسی کام کرنے کا وعدہ کرتے ہیں تو انشاء اللہ کہتے ہیں۔
(4) گناہ کرکے استغفار کرلیتے ہیں۔
(5) جب وہ آپ کا نام سنتے ہیں تو درود و سلام پڑھنے لگتے ہیں۔
(6) ہر کام کا آغاز کرنے سے پہلے’’بسم الله الرحمن الرحیم‘‘ پڑھتے ہیں۔ (4)
 چونکہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو انسان کے بہکانے کی مہلت دے کر انسان کو اس دنیا میں ایک سخت امتحان میں ڈالا ہے، اس وجہ سے اس کی رحمت مقتضی ہوئی کہ وہ انسان کی ہدایت اور اصلاح کے معاملہ کو تنہا اس کی عقل و فطرت ہی پر نہ چھوڑے بلکہ اس کی فطرت کو بیدار رکھنے اور اس کی عقل کو کجرویوں اور گمراہیوں سے بچانے کا بھی سامان کرے تاکہ جو ہدایت کی راہ اختیار کرنا چاہیں وہ بھی علیٰ وجہ البصیرۃ اختیار کریں اور جو گمراہی کی راہ پر جانا چاہیں وہ بھی پوری طرح اتمام حجت کے بعد جائیں ۔ نبوت و رسالت و امامت کے قیام سے اصل مقصود یہی چیز ہے اور اس امتحان گاہ عالم میں انسان کیلئے اصلی سرمایہ تسکین و تسلی و درحقیقت یہی انبیاء و آئمہ علیہم السلام کی تعلیمات ہیں ۔ اگر یہ چیز انسان سے چھن جائے تو پھر انسان ہر فتنہ کا بڑی آسانی سے شکار ہوسکتا ہے، کیونکہ اس کی فطرت کے اندر جو خلا ہیں وہ صرف انبیاء و آئمہ علیہم السلام کی تعلیم کی پیروی سے ہی بھر سکتے ہیں۔ اس کے بغیر انسان کیلئے شیطان کے فتنوں سے مامون ہونا ممکن نہیں ہے‘‘۔
مآخذ:
(1) بحارالانوار، جلد 6، صفحہ 18۔
(2) سورہ النساء، آیه 76۔
(3) بحار الانوار، جلد 1، صفحہ 157۔
(4) فضایل و آثار صلوات، صفحہ 33۔
(5) ولایت انٹرنیشنل۔
التماس دعا
SHOPPING

سیدہ ماہم بتول
سیدہ ماہم بتول
Blogger/Researcher/Writer

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”شیطان کا دائرہ کاراورانسانی اختیار۔۔۔سیدہ ماہم بتول

  1. بہت عمدہ تحریر ہے! ہاں، شیطان کو اللہ تعالیٰ نے انسان پر کوئی تسلط و غلبہ نہیں دیا ہے، وہ صرف وسوسہ ڈالتا ہے، باقی انسان خود اس کے پیچھے چلتا چلا جاتا ہے۔ اگر وہ تقویٰ اختیار کرلے یعنی اپنے اوپر کنٹرول حاصل کرلے تو شیطانی وسوسے سے نکل سکتا ہے۔ بہت عمدہ!!!!!!

  2. مگر میرے ساتھ جو جنات یا شیاطین ہیں وہ مجھے جسمانی اذیت بھی دیتے ہیں کبھی میرے جسم کا کوئی حصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے کبھی گرم مقعد پر چبکے لگاتے ہیں کبھی میری گردن خود بخود گھوم جاتی ہے وہ مجھ سے ہم کلام بھی ہوتے ہیں بڑی گندی بکواس کرتے ہیں کبھی ہونے والے واقعات کا بتاتے ہیں میں اپنے آپ میں انھیں محسوس کرتا ہوں اور ایسا میرے بچپن سے ہو رہا ہے اب وہ میری بیوی بچوں کا گھر چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں یہ جادو ہے ہے کچھ اور

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *