اقلیتیں۔۔۔۔محسن علی

پاکستان   کے جھنڈے کا رنگ ہرا و سفید  ہے جس میں سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا  ہے جبکہ دوسرے معنوں میں امن کو یعنی اقلیت کو   امن فراہم  ہوگا۔  اس ضمن میں قائد اعظم کی گیارہ ستمبر کی تقریر  ایک   مستند حوالہ  ہے    اس حکومت میں آنےکے بعد  اقلیتوں میں سکھ  کا پشاور میں قتل ہوا ۔ تو دوسری جانب  آسیہ بی بی کی  رہائی  کی صورت ایک اچھا قدم اٹُُُھایا گیا۔ پھر خُرم جون کے اُٹھ جانے سے سوال کھڑے ہوئے ۔ یہ سب باتیں ریاستی سطح کی ہیں ۔

جبکہ اقلیتوں سے مُتعلق  ہمارا سماجی رویہ اب تک ابتر ہے ایک میڈیا ہاوس میں  جہاں ایک  لڑکی جوایڈمن میں صفائی کی سُپروائزر ہے پورے آفس کی کرسچن کمیونٹی کی ہے ۔مگر وہاں مالکان  دے لے کر ورکر اورمینیجر تک سب اُسے کچرا رانی کے نام سے پُکارتے ہیں یہ تضحیک آمیز رویہ آپریشن مینیجر ، آئی ٹی ہیڈ کاہے ۔  جو کہنے کو قابل لوگ ہیں معاشرے کے پڑھے لکھے اور  لاکھ روپے تنخواہ لینے والے ایک میڈیا آفس میں اس طرح کا رجحان خطرناک ہے ۔ جس پر ادارے کو  دینا چاہئے  ۔ ایسا ہی معاملہ شیعہ حضرات کو درپیش رہتا ہے۔اس بارے میں سماج کو بولنے  کی ضرورت ہے بصورت دیگر یہ لوگ  پاکستان سے جس تیزی سے نقل مکانی کررہے   ہیں ۔ یہ پاکستان کے لئے خطرناک ہوگا ۔ میری گزارش ہے  اہل قلم حضرات اس معاملے پر لکھیں اور بولیں۔

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *