• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکومتی اعلان۔۔۔عنائیت اللہ کامران

سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکومتی اعلان۔۔۔عنائیت اللہ کامران

ایک دور تھا جب پاکستان میں صرف پی ٹی وی کا طوطی بولتا تھا، یا پھر ریڈیو پاکستان سے ہوا کی لہروں پر پاکستان کی عوام کو “باخبر” رکھا جاتا تھا یا اخبارات کے ذریعے ملک کے حالات لوگوں تک پہنچتے تھے. سرکاری ٹی وی اور ریڈیو وہی کچھ دکھاتا اور بتاتا تھا جو حکومت چاہتی تھی جبکہ اخبارات قدرے آزاد تھے تاہم پرنٹ میڈیا کے ذریعے عوام تک خبر پہنچتے پہنچتے باسی ہو جاتی تھی.پھر حالات نے انگڑائی لی اور نجی ٹی وی چینلز کا دور آیا.یہ چینلز آئے اور چھا گئے. نجی ٹی وی چینلز نے پی ٹی وی کی اجارہ داری کا خاتمہ کر دیا اور لوگوں تک پل پل کی خبریں پہنچنے لگیں، یہ چینلز وہ کچھ بھی دکھانے لگے جو سرکار اس سے قبل سرکاری ٹی وی پر نہیں دکھاتی تھی تاہم پھر بھی نجی ٹی وی چینلز بہت کچھ نہیں دکھاتے تھے،چینل، ریڈیو اور اخبار سرکاری ہو یا نجی بہرحال عوام وہ کچھ دیکھنے سے محروم تھے جو وہ دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن سوشل میڈیا نے ان سب کی اجارا داری کا خاتمہ ہی نہیں کر دیا بلکہ ان کے لیے چیلنج بھی بن گیا کیونکہ اس کا ریموٹ استعمال کرنے والے کے ہاتھ میں ہے.ایک اندازے کے مطابق ملک میں 20 کروڑ افراد اینڈرائیڈ موبائل استعمال کرتے ہیں.اینڈرائیڈ ٹی وی چینلز کو ماضی کا قصہ بنانے جا رہا ہے.
اب سوشل میڈیا پر ہی لوگ وہی کچھ دیکھ اور پیش کر رہے ہیں جو وہ چاہتے ہیں. جلد ہی وہ دور آنے والا ہے جب سوشل میڈیا ہی الیکٹرانک میڈیا کی جگہ مکمل طور پر لے لے گا اور الیکٹرانک میڈیا کی افادیت محض آج کل کے پرنٹ میڈیا جتنی ہی رہ جائے گی.
سرکار پہلے ہی نجی چینلز سے پریشان تھی اوپر سے سوشل میڈیا نے تو سرکار کی نیندیں ہی حرام کر دیں، حالانکہ اقتدار کی مسند تک پہنچنے کے لئے موجودہ سرکار نے سوشل میڈیا کو بطور ایک مؤثر ہتھیار کے استعمال کیا اور اب بھی یہ استعمال جاری ہے.
سوشل میڈیا پر وہ کیا چیز ہے جو دستیاب نہیں ہے. سوشل میڈیا صارف جس قسم کا مزاج اور رجحان رکھتا ہے یہاں اپنے رجحانات کے مطابق اسے مطلوبہ مواد مل جاتا ہے. یہاں آپ کو ذاتی سرگرمیوں کے علاوہ سیاسی، سماجی، مذہبی، صحافتی ،تجارتی غرض ہر طرح کا مواد تھوک کے حساب سے ملے گا. سوشل میڈیا کا مؤثر و مثبت استعمال بھی ہے اور منفی بھی، موجودہ سرکار سے وابستگان کشتگان انقلاب سب سے زیادہ اسے مخالف پارٹیز کی پگڑیاں اچھالنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں، اردو کا محاورہ ہے “جیسا کرو گے، ویسا بھروگے، اسی طرح کشش ثقل کا نیوٹن کا ” ہر عمل کا ردعمل” والا اصول سوشل میڈیا پر خاص طور پر موجودہ حکومت کے حوالے سے صادق آتا ہے، جو کچھ کیا گیا اور جن کے خلاف کیا گیا وہاں سے اضافے کے ساتھ واپس آرہا ہے، چنانچہ سننے میں آرہا ہے کہ اب سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کی خیر نہیں ہے، حکومت اب ان کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے جا رہی ہے، مشرف دور میں نجی ٹی وی چینلز اور معروف اینکر پرسنز پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں، لیکن بالآخر یہ پابندیاں ختم کرنا پڑیں، ان پابندیوں کے خاتمے کے لئے صحافتی تاریخ میں ایک عظیم الشان جدوجہد کی گئی، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر قدغنیں لگانا قدرے آسان ہے لیکن سوشل میڈیا (فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ) کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ سوشل میڈیا کا ہیڈکوارٹر کہیں اور ہے وہاں ہماری حکومت کی دال نہیں گلتی، سو اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کے خلاف ہی کارروائی کی جائے، کریک ڈاؤن کا اعلان حکومتی سطح پر کیا جا چکا ہے، ہم خود ایسے مواد کے خلاف ہیں جو اسلام کے اخلاقی و شرعی اصولوں اور احکامات کے خلاف ہو، جس میں اسلام، پاکستان، نظریہ پاکستان اور جملہ مذاہب کی برگزیدہ ہستیوں پر طعن و تشنیع کی گئی ہو.
ہم ہر ایسی تحریر اور پوسٹ کے خلاف ہیں جس میں ایڈوب فوٹو شاپ کے ذریعے سیاستدانوں(چاہے وہ اہل اقتدار ہیں یا حزب اختلاف)، مذہبی و سماجی شخصیات کے چہرے بگاڑ کر پیش کئے جاتے ہیں، ایسی پوسٹس جن میں فوج اور سلامتی کے دیگر اداروں کے خلاف جھوٹی، بے سروپا اور من گھڑت باتیں کی گئی ہوں وہ بھی قابل مذمت ہیں، اسی طرح ذاتی یا سیاسی مفاد کی خاطر من گھڑت اور جھوٹے الزامات کے ذریعے سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے والی پوسٹس اپلوڈ کرنے والوں کے خلاف حکومتی اقدامات کی ہم تائید کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ باور کرانا بھی مقصود ہے کہ اگر حکومت سوشل میڈیا پر اپنے اوپر تنقید کو برداشت نہیں کر پا رہی اور اس کا حوصلہ اور اعصاب جواب دے گئے ہیں چنانچہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف پیدا ہونے والے ردعمل کو دبانے کے لئے یہ اقدامات کئے جا رہے ہیں تو معاف کیجئے گا حکومت سخت غلطی پر ہے.
حکومت کو سوشل میڈیا پر قدغنیں لگانے سے قبل سوشل میڈیا صارفین کو اس بات کی یقین دہانی کرانی چاہیے کہ وہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو زیرعتاب نہیں لائے گی.
ویسے اگر آزادی اظہار رائے کے بین الاقوامی اصول کے تحت دیکھا جائے تو حکومت کے یہ اقدامات درست نہیں ہیں، تاہم اگر حکومت واقعی یہ کریک ڈاؤن صرف ان عناصر کے خلاف کرنا چاہتی ہے جو جھوٹ، منافرت اور انتشار پر مبنی پوسٹس لگاتے ہیں تب بھی حکومت کو سائبر کرائم ایکٹ کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہئے اور صرف وہی لوگ ہی اس کریک ڈاؤن کا شکار بنیں جو سائبر کرائم ایکٹ کے تحت واقعی آتے ہیں.
اگر حکومت نے خود پر تنقید کرنے والے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس کا ردعمل حکومتی توقعات سے کہیں بڑھ کر سامنے آئے گا اور حکومت اس ردعمل کو برداشت نہیں کر سکے گی. ماضی میں پرویز مشرف حکومت نے بھی الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے پابندیاں عائد کی تھیں، حکومت کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے پرویز مشرف دور کی پابندیوں کو بھی دیکھ لے.
حکومت کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ فرض کریں وہ ملک کے اندر تو کریک ڈاؤن کر کے اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبا لے گی لیکن بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں اور آزادی اظہار رائے کے حق میں کام کرنے والی تنظیموں کی آوازیں کیسے دبائی گی؟
حکومت کی کوئی بھی ایسی کوشش یا عمل جس میں اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کا تاثر سامنے آیا تو بین الاقوامی سطح پر ملک کا امیج خراب ہو گا اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جہاں عوام کو اپنی رائے کے اظہار کی اجازت نہیں ہے.

عنایت اللہ کامران
عنایت اللہ کامران
صحافی، کالم نگار، تجزیہ نگار، سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ سیاسی و سماجی کارکن. مختلف اخبارات میں لکھتے رہے ہیں. گذشتہ 28 سال سے شعبہ صحافت سے منسلک، کئی تجزیے درست ثابت ہوچکے ہیں. حالات حاضرہ باالخصوص عالم اسلام ان کا خاص موضوع ہے. اس موضوع پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں. طنزیہ و فکاہیہ انداز میں بھی لکھتے ہیں. انتہائی سادہ انداز میں ان کی لکھی گئی تحریر دل میں اترجاتی ہے.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *