• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • دیوار گریہ کے آس پاس۔۔روایت : کاشف مصطفےٰ/تحقیق و تصنیف : محمدّ اقبال دیوان/قسط10

دیوار گریہ کے آس پاس۔۔روایت : کاشف مصطفےٰ/تحقیق و تصنیف : محمدّ اقبال دیوان/قسط10

(اسرائیل کا سفر نامہ ۔اپریل 2016 )
ادارتی تعارف
جناب محمد اقبال دیوان کی تصنیف کردہ یہ کتاب’’ دیوار گریہ کے آس پاس ‘‘کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔
اس سفر نامے کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔
یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔یہ انگریزی میں تحریر ان کی سفری یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا جو زیادہ تر مختصر پیرائے میں اسرائیل سے جناب دیوان صاحب کو بذریعہ ای میل موصول ہوئیں۔ ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے موصول شدہ ان انگریزی ٹریول نوٹس کی مدد سے اپنے مخصوص انداز میں اسے اردو کے قالب میں ڈھالا۔ اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع کیا۔
اس کتاب کو لکھنے میں اور اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔یہاں اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ یہ کاوش بیش بہا پہلے سے انگریزی یا کسی اور زبان میں کتاب کی صورت موجود نہ تھی۔ نہ ہی اس کا کوئی اور نسخہ اب تک کسی اور زبان میں معرض وجود میں آیا ہے۔ قارئین مکالمہ کی خاطر کچھ تصاویر جو کتاب میں موجود نہ تھیں وہ وضاحت مضمون کی خاطر نیٹ سے شامل کی گئی ہیں۔قسط مذکورہ میں ڈاکٹر صاحب کی اپنی تصویر کے علاوہ تمام تصاویر نیٹ سے لی گئی ہیں۔
ہما رے دیوان صاحب ڈاکٹر صاحب کے ہم زاد ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔ ان کی تین عدد کتابیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا اور تیسری پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ شائع ہوچکی ہیں۔ چوتھی چارہ گر ہیں بے اثر ان دنوں ادارہ قوسین کے پاس زیر طبع ہے۔ سرجن کاشف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔ قرآن الحکیم اور تصوف کے حوالے دیوان صاحب کی اپنی تحقیق اور اضافہ ہے اور انگریزی ٹریول نوٹس میں شامل نہ تھا
ایڈیٹر ان چیف

انعام رانا

ڈاکٹر صاحب کا انگریزی نوٹ اور پھر بیاں اپنا

گزشتہ سے پیوستہ
یروشلم سے باہر نکلتے ہی آپ بہت تیزی سے سطح سمندر سے نیچے اترنا شروع کردیتے ہیں۔سیدنا موسیؑ کا مزار بھی سطح سمند رسے تین سو فیٹ نیچے ہے ۔یہ حال شہر جیریکو کا ہے جو850 فیٹ نیچے ہے۔یہ بلندی یہ پستی ،جغرافیہ کو بھی بہت تیزی سے بدل دیتی ہے۔ راستے پر ریت کے ٹیلے اب اونچے ہوتے جارہے ہیں۔
ارے یہ کیا وہی اونٹ بدستور اسی بددلی اور بے نیازی سے اسی پیڑ کے نیچے بیٹھا تھا جو ہمیں مزار کی جانب جاتے ہوئے دکھائی دیا تھا۔نو کلو میٹر کے فاصلے کے بعد ہم شہر جیریکو میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جیریکو۔ دریا اردن کے مغربی کنارے پر ہے اس کا شمار کیٹ گری ’’اے‘‘ کے علاقوں میں ہوتا ہے جس کا مطلب یہ کہ یہودی یہاں نہیں داخل ہوسکتے۔شہر کے آغاز میں ہی ایک وارننگ بورڈ بھی ہے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی ہم قدیم شہر کی ہماہمی میں پڑ جاتے ہیں۔جیریکو کا عربی نام اء ریحا بمعنی’’ معطر‘‘ ہے۔شہر میں داخل ہوتے ہی آپ کو اس فضائے معطر کا احساس ہوجاتا ہے۔
یہ شہر میں نے عرض کیا تھا کہ حضرت عیسی ؑ کی پیدائش کے نو ہزار سال پہلے سے آباد ہے ۔ اس میں اور شہر دمشق میں ایک ضد سی لگی ہوئی ہے کہ دونوں میں قدیم ترین شہر کونسا ہے جو مسلسل آباد چلا آرہا ہے۔قدیم شہر اتنے چھوٹے نہیں ہوتے لہذا میرا ووٹ دمشق کے حق میں جاتا ہے

نئی قسط
عبدالقادر کے اس معصوم پیار کی متلاشی خاتون کو چکمہ دینے کے بعد ہم خراماں خراماں گفتگو کرتے ہوئے پکنک ایریا کی جانب آگئے۔یہ ایک چھوٹی سی پہاڑی کے دامن میں تھا جیسے ہی ہم ساحل کے قریب پہنچے عبدالقادر نے مجھے کہنی مار کر بائیں جانب دیکھنے کا اشارہ کیا۔ پہلے تو میری سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا دکھا رہا مگر ذرا غور کرنے پر دیکھا تو قطار در قطار انسانی جسموں کا ایک شیرازہ بکھرا پڑا تھا ۔ یہ وہ افراد تھے جو کالی سمندری کیچڑ میں لتھڑے ہوئے پڑے غسل آفتابی کے شوق میں ساکت پڑے تھے۔
وہ کہنے لگا کہ اہل مغرب کا خیال ہے کہ اس سمندر کی کیچڑ اور پانی میں بڑی شفا اور حسن افزا خصوصیات ہیں ،یہاں آن کر وہ اس کیچڑ میں لتھڑ جاتے ہیں۔ یہ کیچڑ جب ان پر سوکھ کر ایک مڈ ماسک بن جاتی ہے تو اوپر ایک قدرتی چشمہ ہے۔ جہاں وہ اسے اپنے گناہ سمجھ کر دھولیتے ہیں۔تم اگر یہ عمل کرنا چاہو تو بتاؤ۔ مجھے قادر کی آنکھ میں دیکھ کر یقین آگیا کہ یہ اس کی بدمعاشیوں کے نئے انداز ہیں۔۔

خاک میں لپٹے ہوئے پیار میں نہلائے ہوئے

’’نہیں میں رسم و رہ ء دنیا نبھانے کے لیے بس اس میں  کچھ دیر تیروں گا یہ دیکھنے کہ لیے کہ یہ پانی کسی کو بھی ڈبوتا کیوں نہیں؟‘‘ میں نے اسے ذرا پرے کیا۔
میں نے پیراکی کا لباس پہنا اور آہستگی سے دنیا کے اس عجیب سمندر میں اتر گیا۔آپ اگر دنیا کے مختلف سمندر وں میں باقاعدہ اس سے  پہلے غسل کرچکے ہوں تو آپ کو یہ معلوم ہوچکا ہوگا کہ ہر سمندر کا پانی اپنا  کچھ الگ ہی مزاج رکھتا ہے جس میں موسمیاتی اور ماحولیاتی اثرات بہت جدا ہیں۔ بحیرہ ہند کے مڈغساکر کی ہریالی میں کچھ اور تو ایران کے قریب آن کر کچھ اور مزاج ہوں گے۔تھائی لینڈ میں اس کی مستی کچھ اور ہوگی ڈربن جنوبی افریقہ میں اس کے تیور کچھ اور۔ بحرہء مردار کا پانی مجھے بہت چپ چپا سا لگا جیسے اس میں تیل کی چکناہٹ ہو۔یہ چلو بھرنے پر دیگر پانیوں کی نسبت گراں بھی محسوس ہوتا ہے۔میں دور تک چلا گیا اور سمندر گہرا ہوتا گیا مگر یہ کیا جیسے ہی میں نے بیک اسٹروک کیا مجھے لگا کہ میں تو ایک بستر آب پر لیٹا ہوں۔ میں کوئی بہتا ہوا شہتیر ہوں۔۔میر تقی میر کی طرح میں نے دست طمع دراز کرنے کی بجائے دونوں کو سمیٹ کر سر کے نیچے رکھ لیا۔پانی میں گناہ گار انگلیوں کی سی گدگداہٹ تھی جو مساج کے وقت محسوس ہوتی ہے بشرط یہ کہ یہ مساج کراتے وقت آپ داتا دربار کے باہر کے میلے غریب غربا مالیشیوں یا استنبول کے گرانڈ بازار کے روایتی ترکی حمام کے کسی پہلوان کے ہتھے نہ چڑھے ہوں۔

ساحل سمندر
ترکش حمام کے مزے

مجھے بہت دیر کسی رسیوں کے جھولے hammock کے سے ہلکوروں کا مزہ آتا رہا45 منٹوں کے بعدجب میں پانی سے باہر آیا تو ساحل پر عبدالقادر فرینچ سیاحوں کی ایک ٹولی کو لیے بیٹھا تھا جنہیں اس نے بہت کامیابی سے یہ باور کرایا تھا پانی کے حوالے سے میری تحقیقات کا دائرہ بہت وسیع ہے اور میں نے یہاں کچھ دریافتیں بھی کی ہیں جو میں عنقریب مزید تحقیق کر کے کسی سائنسی جریدے میں شائع کروں گا ۔کہ میں دنیا کا ایک بہت گنی آب۔ و۔ ارضیا ت کا ماہر پروفیسر ہوں۔میرے پانی سے باہر آتے ہی وہ میری جانب لپکے۔ قادر نے مجھے آنکھ ماری ایک بوڑھا شخص جو اس گروپ کا سیاح تھا مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے عقیدت سے دہرا ہوگیا۔اس نے اپنا نام آندرے بتایا۔ مجھے بے چینی سی ہونے لگی کہ اللہ جانے اس نے انہیں میرے بارے میں  کونسے راگ سنائے ہوں گے۔ایک سایہ دار کیبن میں جب ہم سب بیٹھ گئے تو آندرے پوچھنے لگا کہ ۔۔۔۔۔اگر قرون وسطی کے عیسائی یہ سمجھتے تھے کہ یہ ذخیرہ آب اگر اللہ کی جانب سے مطعون اور لعین ہے تو وہ اس پانی کا جو دریائے اردن اس میں گراتا ہے اس کے بارے میں کیا کہیں گے کیوں کہ اس آب مقدس میں تو حضرت عیسیؑ نے ڈبکیاں لے لے کر یوحنا کے ہاتھوں بتپسمہ لیا تھا یعنی غسل تقدیس۔ اس سوال سے میں یقین جانیے کچھ بوکھلا سا گیا لیکن میری اس کییفیت کو بھانپ کر عبدالقادر نے عجیب توجیہہ یہ کہہ کر پیش کی کہ حیرت کی بات ہے یہی سوال میں نے بھی مقامی عرب ہونے کے ناطے پروفیسر سے پوچھا تھا اور اس کا جواب انہوں نے مجھے یہ دیا تھا۔
اہل عقیدت کو جب اس حماقت کا احساس ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دریائے اردن کا پانی تو عیسائیوں کی لیے سب سے پاکیزہ ہو ہمارے آب زم زم جیسا اور اس کے برعکس بحیرہء مردار کا یہ ملعون پانی لیکن پروفیسر نے بتایا کہ یہ پانی جو دریائے اردن کا ہے وہ سمندر کی جانب آتے آتے ہی اس میں گرنے سے پہلے ہی خشک ہو کر ریت میں مل جاتا ہے۔اس کی یہ وضاحت سن کر عیسائی چہرے شادمان ہوگئے۔عبدالقادر کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی اور سیاحوں کی آنکھوں میں میری علمیت کی دھاک کے حریری پردے جھلملارہے تھے۔
اب کہاں چلیں؟ عبدالقادر نے سگریٹ جلاتے ہوئے پوچھا
عبدالقادر میں نے سوچا ہے کہ اس خرافات سے بچنے کے لیے آئندہ میں ہر جگہ داخلہ فیس ادا کروں گا۔
آؤ سارہ کا بت نمکین دیکھتے ہیں۔ میں نے تجویز دی
وہ کہیں آوارہ گردی کرنے چلا گیا ہے میں ایک سنکی امریکی سیاح کے ساتھ دو ہفتے پہلے یہاں آیا تھا۔
ہم پورا دن اس کی تلاش میں خجل خوار ہوتے رہے۔کئی اور لوگوں سے پوچھا۔ سب نے یہی بتایا کہ سارہ یہاں کئی ہفتوں سے دکھائی نہیں دی ۔ایسا لگتا ہے کہ وہ بحیرہ مردار کی پاتال میں مدفون اپنے پرانے پڑوسیوں سے گپ شپ کے لیے گئی ہو۔چلو تو ہم جنوب میں گمراہ اور صدوم کے خرابے کی جانب چلتے ہیں
میری تجویز پر اس کا چہر ہ ایک دم سخت ہوگیا وہاں اس منحوس و ملعون بستی کی جانب آپ کیوں جانا چاہتے ہیں۔اللہ نے اس جگہ کو مطعون کیا ہے ۔اس بستی پر اللہ کا عذاب آیا ہے۔ہمارے نبی ﷺ نے وہاں مسلمانوں کو جانے سے روکا ہے۔

صدوم اور گمراہ کی ایک برباد نشانی

عبدالقادر تم جانتے ہو کہ میں تاریخ کا رسیا ہوں۔میں خود ان بستیوں کی بربادی کا مشاہدہ کرکے ان افراد کو یہ ٹھوک بجا کر باور کرانا چاہتا ہوں کہ یہ کوئی خالی خولی قصے کہانیاں نہیں۔
’’ چلو ٹھیک ہے۔‘‘ وہ بادل ناخواستہ میری درخواست پر راضی تو ہوگیا مگر اس شرط پر کہ وہ وہاں سے دور گاڑی کھڑی کریگا اور وہ میرے ساتھ وہاں تک نہیں جائے گا۔وہاں مجھے پیدل اکیلے ہی جانا ہوگا۔
اس راستے پر چلتے ہوئے میں نے غور سے ایک ایک چٹان اور پتھریلے وجود کو دیکھا لیکن   سارہ نافرمان کا وہ مجسمہء عبرت کہیں دکھائی نہ دیا۔ وہ ہی مجسمہء عبرت جس کے بارے میں عرب مورخ و سیاح مقدسی نے بھی لکھا ہے کہ چالیس فیٹ کا وہ بت ایک عرب عورت کا ہیولا لگتا تھا جو خوف، عبرت سکتے اور پشیمانی سے اپنی بستی کو بدترین عذاب میں مبتلا دیکھ رہی ہو۔ پچاس کلو میٹر کے قریب جاکر وہ ایک درخت کے نیچے رک گیا۔ اب اس مقام سے میں آگے نہیں جاؤں گا۔اشارہ کرکے مجھے کہنے لگا کہ سیدھے اسی سمت میں دو کلو میٹر جاکر وہ بستی ہے اگر آپ بضد ہیں تو وہاں تک آپ کو پیدل جانا ہوگا۔

میں نے ہمت پکڑی اور چل پڑا۔ سیاحت جوان مردی کا تقاضا کرتی ہے۔ میرے وہ دوست جو میرے جنون سیاحت پر رشک کرتے ہیں وہ خود اپنے کمرے کے باتھ روم تک کا سفر  بھی رو رو کر کرتے ہیں۔سامنے صحرائی سڑک، سفید اڑتی ہوئی ریت، سورج عین سر پر۔ میں چلا جارہا تھا۔میرے پاس بس ایک فون ایک ہیٹ اور پانی کی ایک بوتل تھی ۔ریت پر چلنا کتنا مشکل کام ہے اس کا احساس مجھے اس دن ہوا۔سفر بلاوجہ طویل لگتا ہے۔ریت بھی ناہموار ہوتی ہے کہیں گہری تو کہیں  واجبی سی۔ ریت میرے جوتوں میں بھی گھس گئی تھی۔میں نے ورزش اور غذا سے اللہ کی مہربانی سے خود کو بہت فٹ رکھا ہے مگر یقین جانیے سوا دو کلو میٹر کا یہ سفر میرے لیے بھی آزمائش تھا۔اب مجھے مٹی کا ایک بہت بڑے پیالے جیسا خرابہ نظر آیا یہاں کوئی بورڈ نہ تھا۔ عرب بدو اسے دشت لوط کہتے ہیں۔ یہاں صرف ٹیلے تھے مجھے لگا کہ ایک بڑے سے ٹیلے کے نیچے وہ سب بدبخت دفن تھے جوسیدنا لوط علیہ سلام کے پیغام کا مذاق اڑاتے تھے اور ہم جنس پرستی کی علت میں پڑے تھے یہاں تک اللہ کا عذاب آگیا۔
مقامی بدو اسے دشت لوط ؑ کہتے ہیں مگر اسے آپ ایران اور بلوچستان کی سرحد پر واقع صحرا سے مکس اپ نہ کریں وہ بھی بہت بے رحم اور بے آب و گیا ہ ہے اور دنیا کے پچیس بڑے صحراؤں میں شامل ہوتا ہے۔

دشت لوط

مجھے یقیناًخیال آیا کہ میں کسی بے نام بڑی سی قبر پر کھڑا ہوں ۔اللہ جب کسی کو ذلت دے تو اسے کوئی دور نہیں کرسکتا۔ اہل صدوم کی ذلت کی اس سے  بڑی کیا علامت ہوگی کہ یہ گناہ ہی اس  شہر کے نام یعنی صدوم سے منسوب ہوگیا ہے انگریزی میں مرد ہم جنس پرست کو Sodomite کہتے ہیں۔ویرانگی میرے لیے کوئی نئی کیفیت نہیں میرے بے چین قدم مجھے الاسکا امریکہ کے  ان سرد مقامات پر بھی لے گئے جن کی بستیوں میں آپ رہیں تو تین ماہ بعد آپ کو سرکار اس قربانی کا باقاعدہ مشاہرہ دیتی ہے ۔ میں افریقہ کے ان جنگلوں میں بھی گھوما ہوں جہاں سورج کی کرنوں کو درختوں کی شاخوں سے چھن کر آنے میں الجھن ہوتی ہے۔یقین جانیے جو گھن اور کراہت آپ کو اس مقام پر محسوس ہوتی ہے وہ کہیں بھی شاید نہ ہو۔جنس کے کاروبار والی ان تجارت گاہوں میں بھی جو اب بھی اللہ کے عذاب سے محفوظ ہیں وہاں بھی  ان کے لعنتی ہونے کا وہ احساس نہیں ہوتا جو اس مقام مکروہ پر ہوا۔
بحیرہ مردار والے دشت لوط میں میرے لیے وقت گزارنا مشکل ہو رہا تھا۔چند تصاویر لینے کے بعد میں نے وہاں سے کچھ سنگریزے سمیٹے چونکہ جیب میں ماچس نہ تھی لہذا ان کی آتش زدگی کا جائزہ لینا محال تھا۔میرے کچھ رفقاء جو پہلے کبھی وہاں گئے تھے وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ کنکر آگ کے قریب آتے ہی بھڑک اٹھتے ہیں۔

گندھک کے سلگتے ہوئے پتھر جن کی آسمان سے برسات ہوئی

واپسی کا سفر اس لیے بھی گراں گزرہا تھا کہ اس  خرابہ ء جہاں کی گواہی میرے کاندھوں کا بوجھ سا بن گئی تھی ۔ عبدالقادر کے پاس پہنچا تو وہ مزے سے ایک درخت کے نیچے کار میں سورہا تھا۔ میں نے جگایا تو اس نے خاموشی سے کار اسٹارٹ کی مگر جب اس کی نگاہ میرے ہاتھ میں تھامے ہوئے کنکروں پر پڑی جنہیں میں خاموشی سے اپنا سفری تھیلا کھول کر اندر ڈالنے کا ارادہ کررہا تھا تو اس کے چہرے پر یکایک کرختگی طاری ہوگئی اور اس نے مجھ سے تحکمانہ لہجے میں پوچھا’’ یہ کیا وہاں سے چنے ہوئے سنگریزے ہیں‘‘؟میں نے جب اثبات میں سر ہلایا تواس نے یکایک کار کو اتنے زور سے بریک مار کر روکا کہ ٹائر گھسٹنے کی صدا فضا میں چیخ بن کر گونجی۔اس نے مجھے انہیں یہیں پر پھینک دینے کا حکم دیا۔اس کے لہجے میں ایک ایسی وارننگ تھی کہ میں نے فوراً ہی وہ سنگ ریزے کار کی کھڑکی سے باہر پھینک دیے۔
یہاں ایک عجیب سے ادارک نے مجھے گھیر لیا جو میرے عرب مسلمانوں سے تعلق میں ایک گہرے تجربے کی بنیاد پرہے ۔عرب مسلمان بھلے سے عمل میں ہمارے برابر یا پیچھے ہوں ۔دین اور اس سے وابستہ قرآنی تصورات اور نظریات کے حوالے سے بہرحال وہ ہم سے بہت کھرے ، واضح ، سچے اور گہرے ہیں۔ ہمارے ہاں شرک ، شخصیت پرستی کی وجہ سے ہم بعض برگزیدہ انسانی ہستیوں کی اپنے کرامات اور قربانیوں کے حوالے سے عیسائی مذہب والا یسوع مسٰیح کا سا درجہ دے دیتے ہیں ۔ ہمارے ہاں غیر اللہ کی سمجھ بھی بہت مبہم اور بسا اوقات تو بالکل ہی غیر اہم سمجھی جاتی ہے۔دینی لحاظ سے ہمارے بہت باعمل افراد بھی ایک اندھی تقلید کا شکار رکھائی دیتے ہیں ۔ کچھ ملتا جلتا حال ہمارے علماء کا بھی ہے جو اپنے لیے ہمہ وقت توجیہی رعایت ڈھونڈتے ہیں۔عربوں کے ہاں ایسا نہیں۔ وہ دین کو سمجھ کر ، ٹھونک بجا کر اپناتے ہیں۔
میں سمجھ گیا کہ عبدالقادر عذاب الہی کی یہ علامات ان بستیوں یا میرے اسباب سفر میں شامل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ہم نے دس منٹ تک کوئی مزید گفتگو نہیں کی مگر پھر ایک گہری نظر میری جانب ڈال کر وہ گویا ہوا کہ ’’میری آپ سے استدعا ہے کہ اللہ نے جن پر لعنت بھیجی اور برباد کردیا، ان کی نشانیاں ہم اپنی بستیوں میں محض تجسس کی خاطر بھی کیوں لائیں۔‘‘ میں نے وضاحت پیش کی کہ میرا دماغ سائنس اور تاریخ سے بہت کچھ سیکھتا ہے میرے بہت سے دوست ایسے ہیں، جو ان قصوں اور واقعات کو پرانے وقتوں کی تخیلاتی اختراعات سمجھتے ہیں۔میں انہیں قائل کرنے کے لیے انہیں سمیٹ کر لایا تھا۔
’’ڈاکٹر صاحب‘‘ عبدالقادر نے بہت دھیمے مشفقانہ لہجے میں کہا ۔ ہم عقیدے کے ایک گہرے سمندر میں حکم الہی سے بہہ رہے ہیں۔جن کے سوال ہیں وہ اور ان کی سائنس جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے جب ایک اندھے کونے میں سر ٹکرانے کے لیے جاپہنچیں گے تو انہیں اپنی سعی ء ناکام کا خود ہی اندازہ ہوجائے گا ۔آپ ان بستیوں کی نحوست اپنی بستی اور گھروں تک کیوں لے جانا چاہتے ہو؟‘‘۔
اس نیم خواندہ اسرائیلی عرب ٹیکسی ڈرائیور کے اس مختصر سے بیانیے نے میرے لیے فہم و ادارک، شعور وہ آگاہی کے وہ باب کھول دیے جو پہلے نیم مقفل تھے ۔ میری جانب سے نہ الفاظ، نہ جرات اظہار مل پا رہی تھی۔ میں نے جب بھیگے ہوئے عجز سے شکریہ ادا کیا تو اس نے میرے کندھے پر زور سے ہاتھ مارا اور کہنے لگا ’’آؤ تمہیں قمران کے غاروں کی طرف لے چلیں‘‘۔

قمران کے غار
قمران کے کھڑکی نما غار

ہم خاموشی سے بحیرہء مردار کے شمالی کنارے تک جاپہنچے۔سڑک کے اختتام پر عبدالقادر نے اپنی کار پارک کی اور ہم سڑک سے نیچے اتر کر ساتھ ساتھ تک صحرا میں کوئی دس منٹ تک چلتے رہے یہاں تک کہ  ہمارے عین مقابل چونے کے بلند و بالا ٹیلے اور پہاڑیاں دکھائی دینے لگے۔ان پہاڑیوں کی چوٹیوں پرایسا لگتا تھا کہ کچھ کھڑکیاں بنی ہوئی ہیں۔یہ دراصل چھوٹے چھوٹے کمرے نما غار  تھے۔یہاں سے  قدیم مذہبی صحائف کا ایک متنازعہ ذخیرہ ملا ہے جنہیں دنیا Dead Sea Scrolls کے نام سے جانتی ہے۔یہ متنازعہ اس لیے ہیں کہ یہ دو طرح کی عبرانی، ایک طرح کی آرمینائی، ایک طرح کی لاطینی اور عربی زبان میں بھی موجود ہیں۔
ان کی دستیابی بھی قدرت کا ایک انوکھا کارنامہ ہے جس نے دنیائے علم و فکر کے علاوہ عیسائیت اور یہودیت کو بھی ایک بہت بڑے اہتمام رازداری میں جکڑ لیا۔ سن 1946/47کا زمانہ تھا۔صحرائے یہودا کی ایک ایسی دوپہر جو اپنے جغرافیہ اور ماحول کے حساب سے تو یہاں صدیوں پرانی دوپہروں سے قطعی مختلف نہ تھی مگر اس دن یہاں ایک عجیب اتفاق ہوا۔
قریب کی کسی بستی سے آئے ہو تین چرواہے محمد ،خلیل موسی اور جمع محمد جو آپس میں کزن بھی تھے ساری شام مل کر بھیڑیں چراتے رہے ۔شام کو جب انہوں نے گنتی کی تو چرواہا محمد جسے سب عرف عام میں الذہب یعنی بھڑیا پکارتے تھے اس کی ایک بھیڑ ریوڑ سے غائب تھی۔اس کی تلاش میں وہ ایک غار کے دہانے پہنچے جو کنواں نما اور گہرا تھا۔ ۔ان تینوں کزنز نے یہ دیکھنے کے لیے کیا غار میں اترنا محفوظ ہوگا اس کی عمودی گہرائی کا جائزہ لینے کے لیے ایک پتھر پھینکا جو بجائے اس کے کہ تہہ سے ٹکراتا کسی مٹی کے برتن سے ٹکرایا اور وہ ٹوٹ گیا۔
یہ بہ احتیاط اندر اترے اور کچھ مسودات سمیٹ کر وہاں غار سے لے آئے۔

بحیرہ مردار کے اوراق انجیل
بحیرہ مردار کے اوراق انجیل کے بارے میں چھ نکات

کئی دنوں تک وہ تینوں وہاں سے ملنے والے مسودات کو اوراق اپنے خیموں کے باہر لٹکائے رہے کہ مبادا کوئی گزرنے والا انہیں دیکھ کر صحیح قیمت ادا کردے۔جب وہاں کامیابی نہ ہوئی تو وہ اپنے قبیلے کے ایک دانا ابراہیم کے پاس گئے جس نے ان بوسیدہ اوراق کو دیکھ کر انہیں دفاتر بے معنی کہہ کر مسترد کردیا۔ان تینوں کو نہ جانے کیوں یہ یقین تھا کہ یہ کوئی معمولی اوراق پارینہ نہیں۔یہ انہیں شہر بیت اللحم کے موچی مسٹر کانڈو کے پاس لے گئے جو پیشے سے تو جفت ساز یعنی موچی تھا مگر نورادات کا کام بھی کرلیا کرتا تھا۔اس نے ان سب کی قیمت بمشکل سات برطانوی پونڈ ادا کی۔ یروشلم کے ایک قدامت پسند عیسائی راہب یوشے سموئیل نے ان میں سے چارہ مسودے موچی کانڈو سے سو ڈالر میں خرید لیے وہ امریکہ منتقل ہوا تو یہ بھی وہاں جاپہنچے جنہیں بالآخر یادین نامی ایک اسرائیلی ماہر آثار قدیمہ نے خرید کے اسرائیلی سرکار کو دے دیے۔ ان دنوں یہ اسرائیل کے کسی عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ڈھائی لاکھ ڈالر کی وہ رقم اسے اس لیے پوری نہ مل پائی کہ ان کو ملک میں لاتے وقت عیسائی پادری نے ان کی کسٹمز کو مطلع نہ کیا تھا۔ یہ قصہ جب عام ہوا تو بہت سارے خزانے کے کھوجی وہاں قمران کے غاروں تک پہنچ گئے۔
انہیں مسودوں میں کپڑے سے بنے ہوئے کاغذ ،جانوروں کی کھالوں پر کچھ اہم زیر زمین مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ایک نقشہ تو تانبے کی پلیٹوں پر بھی منقش ہے۔آخر الزکر اس لیے بہت اہم اور خفیہ ہے کہ اس میں ان 64 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں خزانے مدفون ہیں۔
تلاش بسیار کے بعد بھی یہ خزانے برباد ہیکل سلیمانی کے  تہہ خانوں سے نہیں مل پائے۔ کچھ حلقوں کی جانب سے یہ الزام بھی بہت تواتر سے لگایا جاتا رہا ہے کہ شاید یہ خزانے ان Templar Knight نے چرالیے جنہیں پاپائے روم کے حکم پر ہیکل سلیمانی کی بربادی اور یروشلم پر اہل یہود کے اقتدار پر خاتمے یعنی پہلی صدی عیسوی پر یہاں مسجد القصی القدیم میں ٹھہرایا گیا۔
ان قدیم مسودات کی تاحال تعداد 938 تک جاپہنچی ہے۔ ان میں قدیم ترین مسودہ دو ہزار سال پرانا ہے ۔ ان اوراق میں مکمل تورات یعنی عہد نامہء عتیق یا Old Testament موجود ہے جسے ایک یہودی قبیلے کے افراد Essene.نے سیدنا عیسیؑ کی آمد سے سو سے تین سو سال پہلے تحریر کیا۔اس میں صرف ان کی کتاب Esther غائب ہے جس میں یہودیوں کے لیے سیدنا عیسیٰ کی اطاعت لازم قرار دی گئی اور یوں یہ سلسلہ داراز ہوکر دین اسلام کی پیرو ی تک آن پہنچتا ہے ۔ شیخ احمد دیدات صاحب کے علم میں یہ بات لائی گئی تھی کہ ان میں بائبل کا وہ حذف شدہ حصہ بھی موجود ہے جو Paracletos یعنی ایک فارقلیط بمعنی ایک نجات دہندہ کہہ کر پکارا گیا اور اس عالی مرتبت ہستی کی آمد کا مژدہ سنایا ہے اس حصہ کی تمام تر علامات ہمارے نبی ہمارے محمد مصطفےٰ ﷺ کی نبوت سے متعلق ہیں۔
کچھ عرصے قبل تک تو ان غاروں تک سیاح کو جانے کی اجازت تھی مگر پھر ان جگہوں پر حادثات ہونے لگے اور حکومت کی جانب سے پابندیاں عائد کردی گئیں۔ وہ تینوں کزنر جنہوں نے اسے دریافت کی غربت کا ہی شکار رہے دو تو اس جہان فانی سے سدھار گئے ہیں البتہ جمعہ محمد اب بھی جیریکو کے   قریب ایک چھوٹی سی بستی میں گمنام زندگی گزار رہا ہے۔
قمران سے چلے تو سورج آسمان سے قہر برس رہا تھا۔دن بھر سے ہم نے کچھ کھایا پیاء بھی نہ تھا ۔ایسے میں قادر کو سیدہ راحیل (Rachel )کے مرقد مبارک کی زیارت کی سوجھی۔آپ سیدنا یعقوب علیہ سلام کی چھوٹی بیوی اور سیدنا یوسف علیہ سلام اوران کے بھائی بن یامین کی والدہ محترمہ تھیں۔ وہ چاہتا تھا کہ ہم یروشلم واپسی سے پہلے یہ زیارت بھی کرلیں۔ تینوں مذاہب یعنی اسلام ، عیسائیت اور یہودی ان میں سیدنا یوسف کی مردانہ وجاہت اور جمال دل نشین کے بارے میں یک زبان اتفاق ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث اس طرح سے بیان کرتی ہے کہ نبی محترم ﷺ نے فرمایا کہ’’ جب ان کی ملاقات معراج پر سیدنا یوسف علیہ سلام سے ہوئی تو مجھے ایسا لگا کہ دنیا کا سارا حسن اگر دو برابر حصوں میں تقسیم کردیا جائے تو نصف کے حق دار صرف یوسف علیہ سلام ہوں گے اور بقایا نصف ساری دنیا کے حصے میں آیا ہے‘‘۔ ان کے حسن کا بہت غالب حصہ انہیں اپنی والدہ محترمہ سے ملا تھا گو کسی جگہ یہ مذکور نہیں کہ بی بی راحیل خود بھی حسن و جمال میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں۔ ان کا انتقال بیت اللحم جاتے ہوئے عین اس مقام پر ہوا تھا ۔ اہل یہود کے ہاں وہ مادر بنی اسرائیل کے طور پر بہت تقدیس و تحریم کے لائق سمجھی جاتی ہیں۔
اہل یہود کے مذہبی لٹریچر میں ایک روایت کے بموجب جب حضرت یوسف علیہ سلام قافلے سے دامن چھڑکر بھاگ کر اپنی والدہ کے مرقد پر پہنچے اور انہوں نے پکارا کہ’’ ماں یہ مجھے کہاں زبردستی اپنے فائدے کے لیے جاتے ہیں؟‘‘ تو مرقد سے آواز آئی تھی کہ ’’میرے لخت گر تمہارا ان کے ساتھ چلے جانا ہی تمہارے لیے رہتی دنیا تک باعث توصیف و عظمت بنے گا۔ اہل یہود کے ہاں جب کبھی یہودیوں پر مشکلات نازل ہوئیں وہ اپنی داد رسی کے لیے مادر بنی اسرائیل کی جانب بھاگے۔انہیں وہ بے اولادوں کے لیے مرکز بار آوری بھی سمجھتے ہیں۔

سیدنا یوسف علیہ سلام کی والدہ ماجدہ کا مزار
سیدنا یوسف علیہ سلام کی والدہ ماجدہ کا مزار اور سپاہی

قواعد اور نقشوں کی رو سے یہ مرقد عالیہ ویسے تو دریائے اردن کے مغربی کنارے یعنی فلسطین کی ریاست کا حصہ ہے لیکن ان کے دین میں اس کی ناقابل گریز اہمیت کے پیش نظر کے ڈی اے اور کے ایم سی کے محکمہ اراضی اور ان کے نقشہ سازوں کی امداد سے ایک چائنا کٹنگ کرکے اسے بھی اسرائیل میں داخل دفتر کردیا گیا ہے۔ا سلیقے سے کؤجمائے ہوئے کسی دیہاتی حسینہ کے بالوں کی مانگ کی مانند ایک تنگ سی لکیر اسرائیل کا علاقہ ہے۔اس کی اوسط رقبے کی عمارت جسے اسرایلیوں کی دوسری اہم مقدس عمارت سمجھا جاتا ہے اسے ہر طرف سے مسلح اسرائیلی سپاہیوں نے اپنے نرغے میں لے رکھا ہے دو عدد واچ ٹاوروں پر بھی ان کے چاک و چوبند سنتری ایستادہ رہتے ہیں۔
میرے مشاہدے میں یہ ایک عجیب بات آئی کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی آنکھیں جتنی جلدی کسی بھی مرقد اور بزرگ ہستی کے ذکر غم انگیز پر رو رو کر سوجھ جاتی ہیں ،یہودیوں کے ہاں یہ معاملہ صرف دیوار گریہ تک محدود ہے۔ وہ ان مزارات یا ان ہستیوں کے دکھ بھرے تذکرووں پر ہرگز نہیں روتے ۔ ان مواقع اور مقامات پر ایک پروقار خاموشی ان کا وطیرہ رہتی ہے ہاں البتہ ان مزارات پر وہ ہل ہل کر تورات ضرور پڑھتے ہیں۔ہل ہل کر کسی مقدس کتاب کی تلاوت پر مجھے وہ چھ سالہ بچی یاد آئی جو پہلی دفعہ ناروے سے بستی بختاں والا سرگودھا اپنی بی ایریا لیاقت آباد کراچی والی امی جان کے ساتھ آئی تھی۔ صبح سویرے جب اس نے اپنی جانماز پر دادی کو زور زور سے ہل ہل کر قرآن پڑھتے دیکھا تو اس کار خیرکی وضاحت اپنی انگارہ بر زبان ماں سے چاہی ۔جس نے اسے بہت پیار سے سمجھایا کہ’’ بیٹا تمہاری دادی اماں اپنے فائنل امتحان کی تیاریاں کررہی ہیں‘‘۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *