لیاری۔۔۔۔ذوالفقار علی زلفی /قسط2

SHOPPING

1920 میں ایران میں قاجار بادشاہت کو جھٹکا لگا ـ سیاسی لحاظ سے طاقتور پہلوی خاندان نے اس جھٹکے کا فائدہ اٹھا کر 1925 کو پہلوی شہنشاہیت قائم کر دی ـ رضا شاہ پہلوی نے “فارس” کا نام بدل کر “ایران” رکھ دیا ـ ایران یعنی آریائی اقوام کی سرزمین ـ

قاجار حکمرانوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر پھرہ کے حاکم دوست محمد خان بارکزئی نے اپنی خودمختاری کا اعلان کر کے خود کو پورے بلوچستان کا حکمران بنانے کا ارادہ باندھ لیا ـ پہلوی اقتدار قائم ہونے کے بعد تہران نے بارکزئی کو اطاعت کا حکم دیا ـ وہ نہ مانے ـ 1927 کو پہلوی لشکر نے قاجار لشکر کے نقشِ قدم پر چل کر بم، نرماشیر اور بمپور سے ہوتے ہوئے پھرہ پر حملہ کر دیا ـ شکست بارکزئی کا مقدر بنی ـ پہلویوں نے اس کے بعد تمام چھوٹے بڑے بلوچ حاکموں کے ذہن سے خودمختاری کا بھوت نکالنا شروع کر دیا ـ

اطاعت حاصل کرنے کے بعد پھرہ کا نام “ایرانشھر” رکھ دیا گیا اور شہر کے سب سے بڑے قلعے کو فوجی چھاؤنی کا درجہ دے کر مقامی سرداروں کو واضح پیغام دے دیا گیا کہ خودمختاری کے چونچلے نہیں چلیں گے ـ پہلویوں نے براہِ راست حکمرانی سے گریز کر کے بلوچستان کو کرمان کے تابع بنایا اور وفادار حاکموں کے ذریعے اقتدار پر گرفت مضبوط کر لی ـ

اس تمام اتھل پتھل نے محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد کو ایک بار پھر کراچی کا راستہ دکھایا ـ یہ تعداد ماضی کی نسبت کم تھی ـ لیاری کی آبادی بالخصوص مغربی بلوچستان کی بلوچ آبادی میں مزید اضافہ ہوگیا ـ اس اضافے نے لیاری کی ہیئت ہی بدل کر رکھ دی ـ

ہندوستان میں تحریک آزادی تیزی پکڑ چکی تھی ـ بلوچستان میں یوسف عزیز مگسی بلوچ تحریک کی نوک پلک درست کر رہے تھے ـ لیاری نے مسلم لیگ کی سیاست کو مسترد کر کے بلوچ لیگ بنائی ـ بلوچ لیگ اور یوسف عزیز مگسی کی تحریک کو والیانِ ریاست اور خان آف قلات کی غداری نے زک پہنچا کر بظاہر تباہ کر دیا مگر ان دونوں سیاسی واقعات نے بلوچستان اور کراچی کے درمیان ایک اٹوٹ سیاسی رشتہ قائم کر دیا ـ لیاری نے اس رشتے کی بھاری قیمت بھی چکائی ـ

پاکستان بننے کے بعد کراچی میں اردو بولنے والے مہاجرین کا سیلاب آ گیا ـ ان مہاجرین کی نوعیت بلوچوں کے مقابلے میں مختلف تھی ـ بلوچ، کراچی میں مدد کی تلاش میں سوالی بن کر آئے تھے ـ یہ فاتح کی صورت ، احسان جتاتے ہوئے آئے ـ ان کو نوزائیدہ ریاست کی بیوروکریسی میں رسائی حاصل تھی ـ بیوروکریسی نے ان کی نہ صرف ہر طرح کی مدد کی بلکہ ان کی زبان اور ان کے نظریہ قومیت کو پاکستان کی اساس بنا دیا ـ بلوچ اچانک کراچی میں اقلیت بن گئے، وہ ایک دفعہ پھر اجتماعی طور پر شدید عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ـ احساسِ عدم تحفظ نے اوائل میں ماضی پرستی کی صورت خود کو ظاہر کیا پھر رفتہ رفتہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے خم ٹھونک کر سامنے آئے ـ مورچہ بنا بلوچی ادب و زبان ـ

لیاری میں عوامی بلوچی شاعری کا چلن عام تھا ـ بورل قصرقندی، عمر جمالی اور غنی غریب جیسے افراد تُک بندی کی صورت بلوچی زبان میں شاعری کر رہے تھے ـ ان میں سب سے توانا آواز ملنگ شاہ کی تھی ـ ان عامیانہ اشعار کو جاڑوک اور قادوک جیسی خوب صورت آوازوں کا ساتھ بھی میسر تھا ـ یعنی خام مواد موجود تھا، ضرورت اسے معیاری جنس کی صورت ڈھالنے کی تھی ـ

اردو اور پاکستانی قوم کے نعروں نے بلوچ تشخص کو خطرے سے دوچار کر دیا تھا ـ بلوچستان اپنے اندرونی تضادات اور مخصوص قبائلی مزاج کی وجہ سے ادبی میدان میں مقابلہ کرنے سے معذور تھا اس لیے قیادت کا بار لیاری کو اٹھانا پڑا ـ پچاس کی دہائی لیاری کی تاریخ میں انقلابی دہائی بن گئی ـ

نوالین لیاری کے مذہبی عالم مولانا خیر محمد ندوی نے ریڈیو پاکستان کا رخ کر کے بلوچی پروگرام کا مطالبہ داغ دیا ـ ریڈیو انتظامیہ نے بلوچی ادب کی گمشدگی کی جانب توجہ دلائی ـ مولانا بمبئی اور لکھنؤ سے فارغ التحصیل تھے ـ وہ زمانے کی ہوا بھانپ گئے ـ انہوں نے یہ دکھانے کے لیے کہ بلوچی ایک تحریری زبان ہے، بلوچی رسالہ “اومان” کا اجرا کیا ـ یہ بلوچی زبان میں شائع ہونے والا پہلا رسالہ اور جدید بلوچی ادب کی ماں بنا ـ چند سالوں بعد حکومت نے اس میگزین پر پابندی لگا دی ـ پابندی لگنے کے بعد انہوں نے دبک کر بیٹھنے کی بجائے ماہنامہ “سوغات” شائع کرنا شروع کر دیا ـ انہوں نے لیاری کو علم آشنا کرنے کے لیے 1959 کو بلوچ ایجوکیشنل سوسائٹی کی بنیاد رکھی اور اسی کے زیرِ اہتمام “بلوچ اسکول” قائم کیا ـ مجھے یہ لکھتے فخر ہو رہا ہے کہ میں نے اسی اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ـ

مولانا خیر محمد ندوی کو مزید دیوانے ملتے گئے جیسے مراد آوارانی، مراد ساحر، بیگ محمد بیگل وغیرہ ـ گوادر سے دیوہیکل سید ظہور شاہ ہاشمی بھی اسی دوران کراچی ہجرت کر کے آ گئے ـ قافلے میں ان کی شمولیت نے حوصلے مزید بلند کر دیے ـ ریڈیو کراچی سے بلوچی زبان کی نشریات شروع کر دی گئیں ـ

مولانا سے متعلق ایک واقعہ یاد آ گیا ـ آپ سے بھی شیئر کرتا چلوں ـ 1998 کو ہم تین دوست نوالین لیاری میں واقع ان کے چھوٹے سے دفتر میں ان سے ملنے گئے ـ وہ کتابوں کے درمیان بیٹھے لکھنے میں مگن تھے ـ روایتی حال حوال کے بعد انہوں نے ہم سے دریافت کیا تاحال ہم نے بلوچی زبان کی کون کون سی کتابیں پڑھی ہیں؟ ـ میں نے گردن اونچی کر کے کہا، “واجہ بلوچی میں کیا رکھا ہے ـ ابھی تو انگریزی کا دور ہے” ـ بس جناب ان کے چہرے کے تاثرات یکلخت بدل گئے ـ غصے نے ملائمت کی جگہ لے لی ـ انہوں نے تقریباً دھاڑتے ہوئے کہا، “دفع ہو جاؤ” ـ اس اچانک صورت حال سے ہم گھبرا گئے ـ بات سنبھالنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر نتیجہ ہمارے مخالف ہی نکلا ـ انہوں نے ہمیں بے عزت کر کے نکال دیا ـ باہر آ کر ہم نے انہیں “رجعت پسند مولوی” قرار دے کر من ہلکا کیا ـ آج سوچتا ہوں ہم کتنے جاہل اور غلط تھے، کاش ان کی وفات سے پہلے میں انہیں بتا پاتا کہ آج میں مادری زبان کی اہمیت سمجھ چکا ہوں ـ افسوس، دیر ہوگئی ـ

مولانا کے برخلاف سید ظہور شاہ ہاشمی نے دیگر دو معاملات کو سب سے زیادہ اہمیت دی ـ ایک معیاری رسم الخط اور دوسرا ڈکشنری ـ انہوں نے ان دو مسائل کے حل کے لیے اپنی پوری زندگی نچھاور کر دی ـ ان کا بلوچی زبان و ادب پر احسان ہے کہ انہوں نے نہ صرف رسم الخط کے بیشتر مسائل حل کر کے بلوچی زبان کو ایک معیاری تحریری شکل دی بلکہ مختلف لہجوں میں منقسم الفاظ و تراکیب کو بھی یکجا کر کے اگلی نسل کا کام آسان کیا ـ

اس ادبی تحریک کو ایک اور اہم سہارا نوشکی سے ملا ـ آزات جمالدینی نے کراچی کو مورچہ بنانے کا فیصلہ کر کے لیمارکیٹ سے رسالہ “بلوچی” کی اشاعت کا بندوبست کر دیا ـ آزات جمالدینی نے بلوچی ادب کو سوشلزم سے آشنا کر کے سرداروں، جاگیرداروں، ملاؤں اور نوآبادکاروں کے خلاف ادبی مزاحمت کا راستہ پیش کیا ـ آزات کی سوچ بعد ازاں بلوچی ادب کا ٹریڈ مارک بن گئی ـ

SHOPPING

اس ادبی تحریک کی ایک اور اہم دریافت فیض محمد بلوچ ثابت ہوئے ـ

(جاری ہے)

SHOPPING

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *