کیا شناخت جسم کی ہے یا روح کی ؟۔۔۔۔نذر محمد چوہان

جسم کی شناخت والے ویلنٹائنز منا رہے    تھے  ، روح والوں کا روز ویلنٹائین ہوتا ہے ۔ عجیب بات ہے کہ  امریکہ میں اس کا کوئی  چرچا نہیں ، جشن نہیں ، جیسے کوئی  عام دن ۔ امریکہ میں سُپر لیگ والے دن سڑکیں سنسان تھیں۔ ہیلووین ، نئے سال اور بلیک فرائیڈے بہت رش کھینچتا ہے ۔ پاکستان میں معاشرتی ، مذہبی اور حکومتی پابندیوں نے نوجوان نسل کو جیل میں بند کر دیا ۔ اور انہیں کوئی  موقع چاہیے خواہ وہ بسنت ہو ، جشن آزادی یا ویلنٹائنز ۔
جسم کی شناخت کے بہت مروجہ طریقے ہر ملک میں ہیں ۔ شناختی کارڈ سے لے کر پاسپورٹ اور اب چِپ ۔
تھامس مور برطانیہ کا ایک بہت بڑا پادری ، جج اور لکھاری تھا ۔ اسے سر کا ٹائیٹل بھی بعد میں دیا گیا ، رینائسنس دور کا بہت بڑا humanist ۔ اس کا بادشاہ سے اصولوں پر پھڈا ہو گیا وہ Protestant تحریک کے خلاف تھا ، بادشاہ کا کیتھولک تحریک کو چھوڑنا اور بادشاہ کی کیتھرین کے ساتھ شادی پر شدید نقطہ چینی کرتا تھا ۔ اس پر اسے موت کی سزا سنائی  گئی  اور جب سزا کے لیے لایا گیا تو شناخت کا جب پوچھا گیا تو اس نے کہا جی سزا والا تھامس یہی جسم ہے خوشی سے دیں ، اس کا کٹا سر بہت دن لندن ٹاور ہال پر لٹکا رہا ۔ اس نے اپنے ٹرائل میں بھی جیوری کے سامنے دلائل پیش کرنے سے انکار کیا تھا ، حالانکہ وہ خود بہت اچھا وکیل رہا اور کوئی دو سال سے زیادہ برطانیہ کا لارڈ چانسلر ۔ ۱۹۳۵ میں پوپ پائیس نے اسے شہید ڈیکلئر کیا اور کمیونسٹ بھی اسے اپنا خدا مانتے تھے کیونکہ اس نے اپنی کتاب یوٹوپیا میں جائیداد کی ملکیت کیمونزم کی طرز پر ریاست کی گردانی ۔ وہ روحانی زندگی گزارتا تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ  مذاہب چینل بنتے ہیں روحانی معراج کی ۔
ایک امریکی لکھاری ، سائیکالوجسٹ اور فلاسفر بھی اس نام سے تھامس مُوور، فرق صرف تھامس کے بعد Moor نہ کے More ، نے اسی موضوع پر ایک بہت زبردست کتاب Original Self کے عنوان سے لکھی ۔ کیا خوبصورت بیانیہ روح کا ۔ میں آج کے بلاگ میں اس کا فلسفہ اور اقتباسات شئیر کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ مُوور نے کہا ؛
All our problems personal and social are due to loss of soul ..
مُوور نے اسی کتاب میں ولیم بلیک کا حوالہ دیا ہے جو کہتا تھا کہ  ساری تباہی دانائی  یا prudence کی برپا ہے ۔ اس نے اصل میں روح کو پروان چڑھنے ہی نہیں دیا ، ہمارے پاکستانی معاشریں میں اس کے اوپر مصلحتوں کا تڑکہ ، زمانہ کیا کہے گا ؟یا مادی زندگی کا فروغ ۔ مُوور اس میں جین آسٹن کو بھی quote کرتا ہے ؛
Jane Austin contrasts prudence with romance ..
اور مُوور کے اپنے نزدیک ؛
I imagine prudence as anti dope of passion, a pale aura of anxiety keeping us at a healthy distance from the blood soul ..
ہم نے اپنی ایک جسمانی اور مادی شناخت کو اپنی روح پر impose کر کے گناہ کبیرہ کیا ۔ صریحاً قدرت کے خلاف ، ہمارے کائنات میں آنے کے ۳۶۰ ڈگری اُلٹ ۔ مُوور کے نزدیک روح کو پروان چڑھانا ایک کیمیاگری کی طرح کا معاملہ ہے ، جیسے وہ ایک پرندہ نما برتن میں سالوں کا معاملہ ہوتا ہے اور پھر کیمیا گر اس وقت جیت جاتا ہے جب مختلف دھاتوں سے ایک سفید پرندہ جنم لیتا ہے جو معصومیت کی علامت بنتا ہے جو دراصل روح کی صفائی  یا evolution کی طرح ہوتا ہے ۔ ہم نے اپنے جسموں سے کرپشن ، مادہ پرستی ، حسد اور نفرتوں کا گند alchemy کے پروسیس کی طرح صاف کرنا ہے ۔ اپنی روح کو منور کرنا ہے ۔ یہ بہت آسان ہے ۔
مُوور ایک اور بہت خوبصورت اور مشہور امریکی شاعرہ ، ایملی ڈکنسن ، کی مثال دیتا ہے جس نے ساری عمر اپنے میساچُوسٹز کے ۱۴ ایکڑ کے باغ میں دنیا میں گزاری اور وہیں دفن ہے ۔ اس میں ہریالی اور درخت تھے ، جانور تھے ، پھل ، پھول اور پرندے ۔ رات کو ستاروں بھرا آسمان جس سے وہ ساری ساری رات باتیں کرتی نہ تھکتی ۔ پاکستان میں کیلاش کے لوگ اسی طرح کی زندگیاں گزار رہے  ہیں اور وہ تو روح کی جسم سے پرواز پر بینڈ باجا بجاتے ہیں ۔ مُوور اکثر ایملی کی ایسٹیٹ اور قبر پر جاتا ہے اور بالکل ایملی کی طرح ساری دنیا کو تصور میں لاتا ہے جس کی mystery ایملی نے اپنی شاعری میں بے نقاب کی ۔ ایملی بھی مُوور کے نزدیک ولیم بلیک کے فلسفہ کے قریب ترین جی رہی تھی ؛
To see the world in a grain of sand and eternity in an hour; for her the universe lay spread out before her on fourteen acres of garden;
یہ ہماری اپنی مرضی ہے کہ اس دنیا میں ہم نے کس شناخت کے ساتھ رہنا ہے ۔ وہ جو زمانے ، ریاست یا والدین نے ؟ یا پھر وہ جو کائنات نے روح کی صورت میں ہمارے جسموں میں پُھونکی ؟ مُوور اسے مزید انگور کی مثال سے سمجھاتا ہے کے روح انگور کی طرح ہے چھلکے کے اندر ، اس کا جُوس بھی مزے دار اور شراب بھی لُطف اندوز ۔ اس نشہ اور جوس میں بہنا ہی درست چائیس ہے ۔ اور مزید کہتا ہے ؛
“Life is a lover who wants us for herself .. “
ایسا بالکل ممکن ہے اور بہت آسان اگر ہم اپنے تصورات کو اجاگر کریں ۔ جو ہم تصور کریں گے وہی ہو گا ، اسی طرح کی زندگی ہو گی ۔ اپنے تصور میں پیار اور محبت لائیں ؛
“All that is required is imagination, a poets perspective. Eyes that sees through sensations to their emotional and intellectual core .. “
اس مسئلہ میں سب سے بڑی حماقت جو ہم کر رہے ہوتے ہیں کہ  ہم fact کو real گردانتے ہیں اور imagination کو illusion ۔ اور پھر ہم ڈیپریشن لگا لیتے ہیں اور زخودکشی پر مجبور ۔ مُوور بہت خوبصورت انداز میں مشہور لوگوں کی خودکشیوں پر تبصرہ کرتا ہے ؛
“Being a celebrity doesn’t solve a riddle of life .. “
اس ساری حماقت کو مُوور بہت ہی زبردست انداز میں ایک ڈچ سکالر مارک وین ڈورن کے الفاظ میں کہتا ہے ، جب مارک شیکسپیر کے بارے میں کہتا ہے کہ
“Those lines of his stun us because they are perfect statements of what we already know .. “
پچھلے ہفتہ پاکستان سے ایک خاتون میرے بلاگز پر یہی تبصرہ کر رہی تھی کے اسے یہ لگتا ہے کہ  یہ سب کچھ اسے پتہ ہے ، شاید خواب میں دیکھا ، محسوس کیا یا تجربہ ہوا ۔ یہی اصل راز ہے ۔ احساسات اور جذبات ہی روحانی ہیں ، مُوور کہتا ہے ؛
“Our emotions are in the orbit like planets ..”
بہت خوش رہیں ، روحانی زندگیاں گزاریں جو ابدی بھی ہیں اور بہت ہی خوبصورت ۔ اس بلاگ سے زیادہ اچھا ویلنٹائن کا تحفہ میں آپ لوگوں کو نہیں دے سکتا ۔ دعاؤں میں یاد رکھیں ۔ اللہ تعالی آپ سب کا حامی و ناصر !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *