• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بُک ریویو/ہالینڈ میں مقیم ناول نگار صفدر زیدی کے ناول ” بھاگ بھری” پر احمد سہیل کی تقریظ اور تجزیہ”

بُک ریویو/ہالینڈ میں مقیم ناول نگار صفدر زیدی کے ناول ” بھاگ بھری” پر احمد سہیل کی تقریظ اور تجزیہ”

صفدر زیدی کا ناول ’ بھاگ بھری ‘‘ پاکستانی معاشرے کے کھوکھلے پن، ذہنی وفکری انحطاط،اور سماجی استبداد کی لہو انگیز داستان ہے۔ چھوٹی چھوٹی کہانیوں نے مل کر اس ناول کو جنم دیا ہے۔ان داستانوں میں فرد سے فرد کا قلبی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ اور معاشرہ اپنی تہذیب کھو کر بے چہرہ ہوگیاہے۔اب سماج میں جنگل کا قانون ہے اور یہی قانون دستور تسلیم کرلیا گیاہے۔

یہ ناول ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جس میں ہر طاقتور شخص اپنا قانون مسلط کرنا چاہتا ہے۔ گویا وہی حق پرہے دوسرا باطل پر۔یہ ناول اشرافیہ شکن ہے جو مذہبی،سیاسی اور طبقاتی معاشرت کا تشکیلی بیانیہ ہے۔ اس ناول میں عوامی حرکیات اور متعلقات گہرے اور عمیق ہیں۔ بنیادی طور یہ ایک ماحولیاتی ناول ہے جس کی تخصیص مشکوک ماحولیات میں پوشیدہ ہے ۔ اس میں عمیق ثقافتی اورحساس قسم کا موضوعی احتجاج نمایاں ہے۔ اور یہ احتجاج مزاحمت بن کر قرطاس پر پھیل جاتا ہے۔ناول کے بیانیے نے طبقاتی اونچ نیچ کے نسل در نسل تعصبات کوایک ڈرامائی لہجہ دیاہے۔اس میں علاقائی،لسانی اورمذہبی سامراجیت کا اندوہناک تجزیہ ہے۔

’’بھاگ بھری‘‘ سیاسی اور معاشرتی سطح پر مائل بہ زوال معاشرے کا تھریلرہے۔جس کو پڑھ خوف سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ناول میں صوبہ سندھ اور پنجاب کی معاشرتی، سیاسی، ثقافتی سفاکیوں،تشدد پسندی اور تذلیلِ بشر کو موضوع بنایا گیا ہے۔یہ ناول ماضی کے سیکیولر ناسٹلجیاکو ذہن میں سمائے عہد حاضر میں مذہب کے جبر اور تشدد پسندی کے خلاف ایک نعرہ احتجاج اور نعرہ قلندری ہے۔ محمد عامر حسینی نے لکھا کہ “زیدی صاحب کے ناول نے ایٹمی ہتھیاروں کے کسی جنونی کے ہاتھ لگ جاتے دکھایا ہے۔اس کے بعد پیدا ہونے والی ناقابل تصور تباہی اور ہلاکت آفریں منظر نامے کو لفظوں سے پینٹ کیا ہے۔یہ رنگ کاری واقعی ایسی چیز جو نئی نسل کو ایٹمی ہتھاروں پہ فخر کرنے سے منع کرے گی۔

ایٹمی ہتھاروں کی دوڑ پہ بھی زیدی صاحب یہ دکھانے سے قاصر رہے کہ یہ دوڑ بھارت نے شروع کی تھی، پاکستان اس میں بعد میں داخل ہوا۔ایٹم بم بنانے کا فارمولا صرف پاکستان نے نہیں بلکہ کچھ اور ملکوں نے بھی چوری کیا تھا۔جب بھارت روس کے تعاون سے ایٹمی ہتھار بنارہا تھا تو اس نے بھی بلیک مارکیٹ سے بہت کچھ حاصل کیا تھا۔
اس ناول یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ افغانستان سے کشمیراور کراچی سے بلوچستان تک ’’اسلام ‘‘ معدوم ہوچکا ہے۔اور لوگ شیعہ،سنی ،بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث ہونے پر فخر کرنے لگے ہیں۔اب اسلام کی آفاقی جہت معدوم ہوچکی ہے۔اس ناول میں افسانوی مکالماتی اسلوب بہت گہرا،کاٹ دار اور اثر انگیز ہے۔معاشرے کی عکاسی الفاظوں میں اس طرح کی گئی ہے کہ ذہن میں فلم سی چلنے لگتی ہے۔
’’ ہم غریبوں کو بھگوان جتنا کم دیتا ہے ہم کو بھوک اتنی ہی زیادہ لگتی ہے‘‘۔

سندھ اور پنجاب میں وڈیرہ گردی اور ظلم کی مندرجہ بالا مکالمہ بھرپور عکاسی کرتا ہے۔جس سے اس علاقے کی دہقانی معاشرت کاسفاک مزاج سمجھ میں آتاہے۔
’’ دورکرو اس حرام زادے پلید کو!۔۔۔اس کو مویشیوں کے باڑے میں جانوروں کے ساتھ باندھ دو!۔۔۔اس خبیث کو تین دن بغیر کھائے پئیے باندھ کر رکھنا !۔۔تاکہ اس کے کان کھل جائیں او رحکم عدولی اس کے ذہن سے نکل جائے‘‘۔

اس ناول میں ان مکالمات کو پڑھ کر پاکستانی معاشرت کی حقیقی شکل نظر آتی ہے۔
’’ کافروں کا ایک علاج،الجہاد، الجہا ۔۔۔انقلاب، انقلاب۔اسلامی انقلاب۔۔کراچی تا خیبر مُلّا عمیر رہبر۔۔ کابل کی آزادی تک جنگ رہے گی، جنگ رہے گی۔۔ایران کی بربادی تک جنگ رہے گی،جنگ رہے گی۔۔۔کراچی تا کابل طالبان،طالبان‘‘۔

اس ناول کے کرداروں میں ہر کردار ایک کہانی ہے،جن کالہجہ اپنے تعصبات اور سفاکی کی وجہ سے جدا ہے۔بھاگ بھری،(ساون)خالد، وڈیرہ حیدر شاہ،پروفیسر صاحب اور کرنل ولید کے کردار بہت توانا ہیں۔
’’ بھاگ بھری‘‘ پاکستان کی حشرسامانیوں ،عدم مساوات اورریاستی جبر پر نوحہ کناں ہے۔اس ناول نے لفظی مصوری کے اظہار اور پُر اثر جمالیاتی علامتوں کے استعمال سے معاشرتی خول میں بند دیمک زدہ معاشرے کے چہرے سے نقاب اُلٹ کر کھ دی ہے۔ حفصہ ملک نے ناول کی کا منطقی مقولہ بڑے ہی فطانت کے ساتھ لکھا ہے۔ وہ لکھتی ہیں ۔”ناول کا موضوع پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور اس کے پیچھے ملوث اداروں کو بڑی دیدہ دلیری سے بے نقاب کیا گیا ہے. ضیاءالحق کا دور جو اسلامائزیشن کے نام پہ معاشرے میں گھٹن اور حبس بڑھانے والا دور تھا. جہاد کے نام پہ ہونے والی دہشت گردی کا بیج اسی دور کی پیداوار ہے . مدارس کا ایک ایسا رخ جس سے عوام کو اکثر نابینا ہی رکھا جاتا ہے ، کو زیدی صاحب نے برملا قلم کی نقل تلے اظہار بخشا ہے.۔۔۔”بھاگ بھری ” میں مختلف کرداروں اور واقعات کی پیشکش سے حقیقی تصور_مذہب کی عملی صورت گری کی گئی  ہے. مذہب انسانوں کے لیے ہوتا ہے یا انسان مذہب کے لیے ، اس کا جواب “بھاگ بھری ” میں ملتا ہے. خاور نوازش نے بڑے پتے کی بات کی ہی۔۔”کردار تخلیق کرنے پر ناول نگار کوجس قدر گرفت حاصل ہے اسے لاوارث چھوڑنے کی بھی اتنی ہی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پرایک کردار کرنل ولید ہے جو بظاہرغزوہ ہند پر یقینِ محکم رہتا ہے اور مرکزی کرداروں میں سے ایک قاری سفیان کو اپنا امیر بھی مانتا ہے، پھر وہ میجر جنرل کے عہدے پر پہنچ کر پاکستانی نیوکلیئر ہتھیاروں کا نگران مقرر ہوتا ہے اور وقت آنے پر اپنے اردگرد موجود سب لوگوں کوگولی مار کردِلّی پر ایٹمی میزائل داغ دیتا ہے اورفوراً منظر سے غائب ہو جاتا ہے۔ یوں ناول نگار نہ صرف اسے مبینہ غزوہ ہند میں شہادت سے محروم کر دیتے ہیں بلکہ ایسے غائب کر دیتے ہیں کہ جیسے وہ کوئی میجرجنرل نہ ہوا بلکہ نیب کی فائل دکھا کر ڈرایا ہوا پاکستانی سیاستدان ہوا۔”۔۔۔۔

اس ناول کا بیانیہ سیاسی اور استبدادی نوعیت کا ہے جہاں فرر بے بس تو ہے اور لگتا ہے ایک قنوطی لایعنی وجودیت اس پر طاری ہے ۔ وہ اس بوشیدہ معاشرت اور سیاسی ماحول میں رہتا ہے وہ التباس میں گھرا ہوا ہے اور کبھی چاھتا ہے کی وہ سب کچھ تبدیل کردے مگر یہ اس کی بس کی بات نہیں ہے، وہ ڈرپوک ہے ، خوف زدہ ہے اور لمحاتی حصار میں زنگی بسر کرنا چاھتا ہےکیونکہ ناول کےتمام کرداوں نے زندگی سے سمجھوتہ کررکھا ہے کیوں کہ وہ اس میں ہی اپنی عافیت سمجھتا ہے ۔ یہی اس کی زندگی کا درناک المیہ ہے اور یہ اس کی ” بد نصیبی ” ہے ۔ جب ہی تو فرہنگ آصفیہ کی لغت میں طنزا ” بھاگ بھری کے معنی ” بدنصیب ” درج کئے گئے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *