ہیپی ویلنٹائن ڈے۔۔۔اے وسیم خٹک

مولوی صاحب نے مسجد میں جمعہ کے خطبے میں ویلنٹائن کے حوالے سے خوب باتیں کیں ـ کہ یہ غیر ملکیوں کی سازش ہے۔۔ ـ وہ جس محفل میں جاتا سینٹ ویلنٹائن کو برا بھلا کہتاـ ۔گھر میں اس کی گھر کی عورتوں پر فروری کے مہینے میں سرخ جوڑا پہننے کی پابندی تھی۔

ـ چودہ فروری کو وہ حسب معمول گھر سے سویرے سودا سلف خریدنے کرنے نکلا۔۔۔۔ صبح صبح ہی بازار میں رنگ برنگے سرخ پھولوں سے مزین دکانیں کھلی دیکھیں، تو اس کا پارہ چڑھ گیاـ۔ جی  چاہا  کہ دکاندار کو کھری کھری سنادی جائیں مگر غصے پر قابو پاکر  آگے بڑھ گیا۔۔

ـ راستے میں یونیورسٹی کی بس چلتی نظر آئی جس میں اکثر لڑکیوں نے سرخ لباس زیب تن کیا  ہوا تھا۔ـ مولوی صاحب نے اُن کے والدین کو اس کا قصور وار ٹھہرایا اور منہ دوسری طرف کرکے چل دیے۔۔

تھوڑی دور جاکر ایک سڑک کے کنارے اُس کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب ایک معصوم پھول سی کلی سرخ گلاب بیچنے میں مصروف تھی ـ ۔۔مولوی صاحب اُس کے نزدیک گئے اور بولے بیٹی یہ پھول کتنے کے ہیں ؟ بچی گھبرا گئی اور ڈرتے ڈرتے کہا کہ جی سو روپے کا ایک گچھا۔۔۔۔۔۔ ـ مولوی صاحب نے جیب سے سو سو کے دو نوٹ نکالے اور بچی کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے پھول خرید لئے۔۔

ـ گھر آکر مولوی صاحب نے سرخ گلابوں کا ایک گچھا بیوی کو اور دوسرا گچھا اپنی لاڈلی اور اکلوتی بیٹی کے ہاتھوں میں تھماتے ہوئے ہیپی ویلنٹائن ڈے کہہ ڈالا!

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *