میرا پیغام محبت ہے۔۔۔ایم بلال ایم

ابھی ٹھیک طرح سے قلم پکڑنا بھی نہیں سیکھا تھا کہ جب زندگی کا پہلا فائر کیا۔ دراصل بچے کی ضد پر ماموں نے ہاتھ پکڑ کر وہ فائر کروایا تھا۔ سچ پوچھیں تو عموماً بچوں کی طرح اپنا بھی پہلا پیار بندوق ہی تھا۔ امی جان کے چچا فوج سے ریٹائرڈ تھے اور ان کے پاس ایک شاندار ”ریوالور“ تھا۔ بچپن میں جب بھی ننھیال جاتا تو اس ریوالور سے کافی کھیلتا۔ امی کے چچا سب کو کہتے ”میں رہوں نہ رہوں لیکن جب بلال بڑا ہو تو یہ ریوالور اسے دے دیا جائے“۔ مگر افسوس! اُن کے کمبخت پوتوں نے وصیت پر عمل ہی نہیں کیا اور میرا پہلا پیار پتہ نہیں کس کے قبضے میں ہو گا۔ بہرحال وہ جو میری پہلی کمائی تھی، جس پر تحریر بھی لکھی تھی، اپنی اس پہلی کمائی سے بھی شکار کے لئے بندوق ہی خریدی تھی۔ خیر وقت بدلا، سوچ بدلی اور معاملہ ”ہمارا پیغام محبت“ تک جا پہنچا۔ لیکن پہلا پیار مرتے دم تک کشش تو بہرحال رکھتا ہے اور شاید اسی نے یہ تصویر بنانے پر مجبور کیا۔ ہاتھ میں بندوق اور یونیفارم۔ بندوق اپنا پہلا پیار اور ”یونیفارم پر تو لڑکیاں مرتی ہیں برو“۔۔ او ہو، یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ ایک فلم کا ڈائیلاگ ہے۔
کالاش کی وادی بمبوریت کے گاؤں بتریک میں چلم جوشی میلے کا آخری دن تھا۔ سارا دن رم جھم ہوتی رہی۔ کالاش لوگ ناچتے گاتے، خوشیاں مناتے رہے اور میں خواتین و حضرات کی فوٹوگرافی کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر ”پریوں“ کو شوٹ کرتا رہا۔ اجی! پہلے پیار (بندوق) سے نہیں بلکہ دوسرے تیسرے چوتھے اور ناجانے کس کس پیار سے بھی نہیں۔ تو پھر کس سے شوٹ کیا؟ جی کیمرے سے اور بھلا کس سے۔ میرے خیال میں اس دن کئی اچھی تصویریں بنائیں، لیکن مزے کی بات ہے کہ آج تک شیئر نہیں کیں۔ خیر جلد ہی کچھ کرتا ہوں۔
بہرحال فوٹوگرافی کے دوران جب ان جوانوں پر نظر پڑی تو ان کی بھی تصویر بنانے کا دل کیا۔ اس وقت یہ تینوں اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے تھے۔ دل تھا کہ یہ ترتیب میں آئیں، کوئی پوز شوز بنائیں اور پھر ان کی تصویر بناؤ۔ ایک تو کافی شور تھا اور دوسرا یہ تھوڑی دور تھے۔ آواز ان تک پہنچ نہیں پا رہی تھی۔ آخر کار اشارے سے ہی انہیں کہا کہ تھوڑا ساتھ ساتھ ہو جاؤ۔ ویسے انہوں نے بندوقیں بھی کسی دوسرے انداز میں پکڑی ہوئی تھیں۔ یہ تو میں نے اشارہ کیا کہ بندوق ایسے پکڑو۔۔۔
زوم 250mm۔۔۔ اپرچر f/5.6۔۔۔ شٹر 1/160۔۔۔ ISO-1000۔۔۔ مطلوبہ فریم… سانس روک… شٹر ہاف پریس کر… فوکس… فائر۔۔۔۔۔
مگر یہ فائر بندوق سے نہیں، بلکہ کیمرے سے۔ زندگی ختم نہیں کرنی بلکہ اسے امر کرنا ہے۔ بتاتا چلوں کہ ہم اپنا پہلا پیار بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ اب ہم ”زندگی، جیو، جینے دو اور محبت“ کا ورد کرتے ہیں۔ یہ جوان اور بندوقیں تو بس تصویر کا ایک عنوان(سبجیکٹ) تھے۔ ورنہ بندوقیں۔۔۔ نہ جی نہ۔۔۔ اپنا مرے، بیگانہ مرے لیکن مرے گا تو انسان ہی۔ جبکہ میری نظر میں انسان مارنے والی چیز ہرگز ہرگز نہیں۔ ماؤں کے لال نفرتوں، سرحدوں اور نظریات وغیرہ کی بھینٹ چڑھانے کے لئے پیدا نہیں ہوتے۔۔۔ قبروں کے کتبے بڑھانے کی بجائے امن کے گیت گاؤ۔ خیر! جگر مراد آبادی نے کہا تھا کہ
ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

Avatar
ایم بلال ایم
ایم بلال ایم ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اردو بلاگنگ کی بنیاد رکھی۔ آپ بیک وقت اک آئی ٹی ماہر، فوٹوگرافر، سیاح، کاروباری، کاشتکار، بلاگر اور ویب ماسٹر ہیں۔ آپ کا بنایا ہوا اردو سافٹ وئیر(پاک اردو انسٹالر) اک تحفہ ثابت ہوا۔ مکالمہ کی موجودہ سائیٹ بھی بلال نے بنائی ہے۔ www.mBILALm.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *