ویلنٹائن ڈے۔۔۔۔ادریس آزاد

اس بات میں ذرّہ بھر شک نہیں کہ ویلنٹائن ڈے ایک خالص کرسچین تہوار ہے۔اس دن کا اصل نام ہے سینٹ ویلنٹائن ڈے۔ عیسائی مذہب میں سینٹ کا مطلب ہوتا ہے بزرگ۔ انگلش کا سینٹ اور ہندی کا ”سنت“ ایک ہی معنی کے الفاظ ہیں۔ سینٹ ویلنٹائن نام کے کئی عیسائی بزرگ اور باخدا لوگ گزرے ہیں۔اسی طرح ویلنٹائن ڈے کے ساتھ بھی متعددکہانیاں منسوب ہیں، لیکن ان میں جس کہانی کو زیادہ مقبولیت حاصل ہے وہ اُس پادری کی ہے جسے رومة الکبریٰ کی بت پرست حکومت نے سزائے موت دی تھی۔وکی پیڈیا کے مطابق……. روایتی طور پریہ وہ دن ہے جس دن تمام محبت کرنے والے ایک دوسرے کو پھولوں کے تحائف دیتے یا مبارکبادی کارڈز کے ذریعے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ واقعہ حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد کے لگ بھگ 250 سال بعد پیش آیا۔ گویا رسول ِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے 322 سال قبل۔بالفاظ ِ دیگر آمد ِ اسلام سے تقریبا تین ، سوا تین سو سال قبل۔عیسائیت کے فروغ سے پہلے روم دنیا میں رومة الکبریٰ کے نام سے جاناجاتا تھا ، یعنی عظیم روم۔ عیسائیت سب سے پہلے سلطنت روم میں ہی پھلی پھولی اور پروان چڑھی۔کرسچین روایات کے مطابق کلاڈیوس دوم نامی ایک بت پرست رومی بادشاہ نے اپنی فوج کی طاقت بڑھانے کے لیے مردوں کے شادی کرنے پر پابندی عائد کردی۔ اُس کے مشیروں کا خیال تھا کہ مرد شادی کرنے کے بعد کمزور ہوجاتے ہیں، چنانچہ اُس نے اعلان کردیا کہ کوئی رومی شہری ، مرد یا عورت جوان العمری میں شادی نہیں کرے گا۔ کلاڈیوس چاہتا تھاکہ اُس کی فوج میں تمام سپاہی نوجوان ہوں اور سب کے سب کنوارے ہوں۔

tripako tours pakistan

اس حکم سے ملک کی فضا میں تیزی کے ساتھ جنسی برائیاں پھیلنے لگیں۔ عورتوں اور مردوں کے ملاپ پر پابندی نے ہم جنسی پرستی کو فروغ دیا اور پورا روم لواطت جیسی خوفناک اور موذی مرض کا شکار ہوگیا۔اس سے پہلے کہ مردوں ، مردوں اور عورتوں ، عورتوں کا آپس کا جنسی تعامل رومی سوسائٹی کو ہمیشہ ہمیشہ کے تباہ و برباد کردیتا۔ سینٹ ویلنٹائن نے ایک عظیم قربانی دی اور نسل ِ انسانی کو اِ س خوفناک عذاب سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچا لیا۔ سینٹ ویلنٹائن ……بادشاہ کلاڈیوس کے ساتھ ٹکرا گیا۔ اُس وقت تک رومہ الکبریٰ کی تقریباً آبادی عیسائی مذہب اختیار کرچکی تھی۔بادشاہ کے حکم کے خلاف عیسائی پادری کی بغاوت نے عوام کے دل میں اس غیر فطری حکم کے خلاف نفرت پیدا کردی اور لوگ بادشاہ کے خلاف باتیں کرنے لگے۔ کلاڈیوس نے سینٹ ویلنٹائن کو گرفتار کرلیا۔ اور اُس پر دباؤ ڈالتا رہا کہ وہ شاہی حکم کے حق میں اپنے مؤقف سے دستبردار ہوجائے۔ لیکن سینٹ ویلنٹائن اپنے مؤقف پر ڈٹا رہا۔ حتیٰ کہ کلاڈیوس دوم نے سینٹ ویلنٹائن کو سزائے موت دے دی۔ اور یوں سینٹ ویلنٹائن ،شہید ِ محبت ٹھہرا۔ جس کی یاد میں آج تک ویلنٹائن ڈے منایا جاتاہے ۔

اس کہانی کو دیکھتے ہوئے نہایت آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کے ذریعے انسانوں میں …… عورت اور مرد کی محبت کا وہ سلسلہ بحال کیا گیا جس کی بدولت وہ نہ صرف نسل ِ انسانی بڑھاسکتے تھے بلکہ اسی ایک جذبہ کے تحت وہ روزِ اول جنت نشین ہوئے تھے اور اِسی جذبہ کے صادق استعمال سے انسانی تہذیب کی یہ عظیم عمارت آج ہمارے سامنے ہے۔

ہم گزشتہ کئی سالوں سے دیکھ رہے ہیں کہ جب ویلنٹائن ڈے آتا ہے تو ہمارے مذہبی لوگوں کا پارہ ہائی ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ بات کبھی نہ بھولنے چاہیے، کہ دورِ جدید کو گلوبل ولیج کہا جاتا ہے۔ یعنی پوری دنیا سمٹ کر ایک گاؤں بن چکی ہے۔ جب ایک گاؤں ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ دنیا کے تمام لوگ اب ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے ہیں اور آس پاس ہی رہتے ہیں۔ پہلے جب اتنی تیز رفتار ٹیکنالوجی نہیں تھی،تو یورپ میں ویلنٹائن ڈے تب بھی منایا جاتا تھا۔لیکن اُس وقت یہاں کے لوگوں کو پتہ نہ چلتا تھا۔ اب دنیا کی کسی قوم کا کوئی بھی تہوار ہو وہ آناً فاناً ہرجگہ پہنچ جاتا ہے۔یہ صرف مغربی تہواروں پر ہی موقوف نہیں۔ بلکہ نسبتاً مشرق کے تہوار ……. دنیا میں زیادہ مقبول ہوئے ہیں ، خاص طور پر انڈیااور چائنا کے تہوار۔

صرف تہواروں پر ہی موقوف نہیں، جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایسی ایسی چیزیں مختلف ملکوں کے عوام میں مقبول ہوئی ہیں، کہ انسان جان کر انسان حیران رہ جاتاہے۔ سوچیے جہاں اُسامہ بن لادن کو القاعدہ کا سربراہ اور امریکہ کا سب سے بڑا دشمن مانا جاتا تھا وہاں اسامہ یا القاعدہ کے رومال باندھنے کے مخصوص انداز نے امریکی نوجوانوں میں اتنی مقبولیت حاصل کی کہ ہر تیسرا امریکی نوجوان وہی رومال گلے میں ڈالے گھومتا نظرآرہا ہے۔ الغرض یہ کوئی سازش نہیں …….. تیز رفتار ٹیکنالوجی کی وجہ ہے ، کہ کسی بھی ملک میں جب کوئی تہوار منایا جا رہا ہوتا ہے تو میڈیا کی وجہ سے پوری دنیا اُسے دیکھ رہی ہوتی ہے اور پھر اگر اُس رسم، روایت، یا تہوار میں کشش ہوتو عام عوام تیزی سے اُس کو اپنالیتے ہیں۔ یہ عمل فطری اور قدرتی طور پر وقوع پذیر ہوتا ہے اور اِسے زور زبردستی سے روکنا ممکن ہی نہیں۔

جہاں تک اِس بات کا تعلق ہے کہ لڑکی اور لڑکے کی محبت اسلامی نقطہ ءنگاہ سے درست ہے یا غلط تو اِس بات کوسمجھنے کے لیے ہمارے سامنے ایک واقعہ ہے،

تاریخ ِ اسلامی میں یہ واقعہ موجود ہے کہ کسی جنگ کے اختتام پر جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جنگی قیدیوں کو قتل کرنے کا حکم جاری فرمایا تو شہر کی طرف سے ایک نوجوان لڑکی دوڑتی ہوئی آئی اور ………… ایک نوجوان جنگی قیدی کے اوپر آکر گر گئی۔ وہ چیختی چلاتی جاتی تھی اور التجا کرتی جاتی تھی کہ ،

”اس نوجوان کو نہ مارو! ………. یہ میرا محبوب ہے“

مگر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اُس قیدی کو نہ چھوڑا ۔ بعد ازاں جب یہ واقعہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سنایا گیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تڑپ کر فرمایا،

”انا بری من عمل ِ الخالد“

”میں خالد کے عمل سے بری ہوں “ اور پھر ساتھ ہی فرمایا کہ اگر میں ہوتا تو اُس قیدی کو چھوڑ دیتا۔ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ لڑکی اور لڑکے کی محبت کوئی ناجائز عمل نہیں ہوسکتا۔ قران ِ کریم کی ایک آیہ ءِمبارکہ ہے،

وَالْمُؤْمِنُـوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُـمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ

ترجمہ: ”اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں“

الغرض……….. اگرمسلمان مر د اور عورت کی آنکھ میں حیا، والدین اور معاشرے کی عزت کا پاس اور عفت کی سلامتی اور تحفظ کا خیال مضبوط ہو تو صاف ظاہر ہے کہ وہ مسلمان، مؤمن بھی ہے۔اور مومن مر د اور مؤمن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے دوست تو ہیں ہی۔

کتنے ہی تہوار ہیں جو ہم مناتے ہیں اور وہ اصطلاحاً سو فیصد غیر اسلامی ہیں۔ جیسا کہ شب ِ برات،جشن ِ بہاراں، جشنِ آزادی………. وغیرہ وغیر۔ سچ سچ بتائیں، کیا ہرسال چودہ اگست کے روز منایا جانے والا جشنِ آزادی اسلامی تہوار ہے؟ …….. اسی طرح شب ِ برات ……….ہندو تہوار ، دیوالی کا متبادل ہے اور جشن ِ بہاراں ……. ہندو تہوار ”بسنت اور بیساکھی“ کا متبادل ہے۔

ویلنٹائن ڈے کوئی فرض ، سنت یا مستحب نہیں۔ اس کا منایا جانا چنداں ضروری نہیں بلکہ غیر ضروری ہے۔ مگردو لفظی سوال ہے کہ دنیا میں محبت کا دن منایا جانا بہتر ہے یا نفرت کا؟اگر ہم نفرت پھیلانے کے لیے بہت سے دن منا سکتے ہیں تو محبت پھیلانے کے لیے منائے جانے والے دن پر بھی کوئی اعتراض نہ ہونا چاہیے۔ رہ گئی بات بدعت کی، تو یاد رکھیے! ……..کسی اسلامی معاشرے میں جاری کی جانے والی ایسی بری رسم کو بدعت کہا جاتا ہے جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت نہ ہو۔ چونکہ چودہ اگست کو منایا جانے والا دن ایک اچھی رسم ہے اِس لیے ہم اُسے بدعت نہیں کہتے، حالانکہ یہ عمل بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ۔ہم قران ِ پاک کو چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہیں۔ رسول ِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔ اب ہم بوسہ ءقران کو بدعت نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ یہ کوئی بری رسم نہیں۔ یہ ہماری قران ِ پاک سے محبت کی دلیل ہے۔

Advertisements
merkit.pk

بشکریہ https://www.idrisazad.com

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply