• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • دیوار گریہ کے آس پاس۔۔۔روایت : کاشف مصطفےٰ/ تحریر:محمد اقبال دیوان۔۔قسط8

دیوار گریہ کے آس پاس۔۔۔روایت : کاشف مصطفےٰ/ تحریر:محمد اقبال دیوان۔۔قسط8

(اسرائیل کا سفر نامہ ۔اپریل 2016 )
ادارتی تعارف
کتاب دیوار گریہ کے آس پاس کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔
کتاب کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔
یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔یہ انگریزی میں تحریر سفری یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا جو زیادہ تر مختصر پیرائے میں اسرائیل سے جناب دیوان صاحب کو بذریعہ ای میل موصول ہوئیں۔ ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے موصول شدہ ان انگریزی ٹریول نوٹس کی مدد سے اپنے مخصوص انداز میں اسے اردو کے قالب میں ڈھالا۔ اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع کیا۔اس کتاب کو لکھنے میں اور اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت حصہ ہے۔یہاں  اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ یہ کاوش بیش بہا پہلے سے انگریزی یا کسی اور زبان میں کتاب کی صورت موجود نہ تھی۔ نہ ہی اس کا کوئی اور نسخہ اب تک کسی اور زبان میں معرض وجود میں آیا ہے۔ قارئین مکالمہ کی خاطر کچھ تصاویر جو کتاب میں موجود نہ تھیں وہ وضاحت مضمون کی خاطر نیٹ سے شامل کی گئی ہیں۔قسط مذکورہ میں ڈاکٹر صاحب کی اپنی تصویر کے علاوہ تمام تصاویر نیٹ سے لی گئی ہیں۔ہما رے دیوان صاحب ڈاکٹر صاحب کے ہم زاد ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔ ان کی تین عدد کتابیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا اور تیسری پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ شائع ہوچکی ہیں۔ چوتھی چارہ گر ہیں بے اثر ان دنوں ادارہ قوسین کے پاس زیر طبع ہے۔ سرجن کاشف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔ قرآن الحکیم اور تصوف کے حوالے دیوان صاحب  کی اپنی تحقیق اور اضافہ ہے اور انگریزی ٹریول نوٹس میں شامل نہ تھا۔
ایڈیٹر ان چیف

انعام رانا

tripako tours pakistan

گزشتہ سے پیوستہ
میں نے سوچاکہ عبدالقادر فلسطین والے کا راگ درباری کا یہ طویل الاپ شاید مجھ سے زیادہ پیسے بٹورنے کا آزمودہ سیاحتی چمت کار ہے۔سیر و سیاحت کے شوقین جانتے ہیں کہ یہ سارا کھڑاک ریشم
کے کیڑے کے تار بافی کا عمل ہے مگر ریشم کا کیٹرا اس میں سیاح ہوتا ہے جسے خوش اخلاقی اور غیر معمولی دل چسپی کے اظہار میں لپیٹ کر ماردیا جاتا ہے۔یہ یقیناًمجھ سے ٹکا کے اجرت مانگے گا۔میں نے ایک دفعہ پھر سے اجرت کا سوال دہرایا تو اس نے شفقت سے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔’’ یہ بتاؤ کل کہان اور کب جاؤگے ۔معاوضہ ہم بعد میں طے کریں گے؟‘‘۔برسوں کی سیاحت نوردی نے مجھے اس طرح کی کھلواڑ سے کنارہ کھینچنے کا سبق سکھایا ہے ۔ اس سے بعد میں بہت بد مزگی ہوتی ہے۔
پہلی دفعہ دل کے ماہر نے دل کا مشور ہ مانا۔ اپنی احتیاط کو بالائے طاق رکھا اور سیدنا موسیؑ کے مرقد عالیہ کی طرف جانے کا قصد ظاہر کیا۔

سیدنا موسی کا مزار
سیدنا موسیٰ کے مزار کی تختی

اس نے خوش دلی سے اثبات میں سر ہلایا۔میری جائے قیام پوچھی اور کل آٹھ بجے صبح لینے آنے کا وعدہ کرکے وہ چلا گیا۔میں نے اپنے نوٹ مکمل کیے ایک عدد کافی اور بکلاوا کھایا اور جب بل دینے کاؤنٹر پر پہنچا تو وہاں موجود بڑی بی نے کہا وہ تو عبد القادر نے ادا کردیا ہے۔
چالاکو کہیں کا۔ مجھے مکمل طریقے سے اپنے دام الفت میں پھانس کر لوٹنا چاہتا ہے۔ دل میں اس بے رحم شیطانی وسوسے نے چھلانگیں مارنا شروع کردیں ۔
نئی قسط

مغرب کی نماز مسجد اقصی میں پڑھنے کے بعد میرا کلینک شروع ہوگیا۔ان سے فارغ ہوکر میں نے ایک عجیب خیال کو گلے لگایا کہ اقصی القدیم وہی مقام اقدس جو قرآن الکریم کی سورہ الاسرا کی آیت نمبر ایک میں مذکور ہے کیوں نہ تنہا ایک رات بسر کی جائے۔ایسی رات جس کے لیے کوئی حوالہ نہ ہو اور وہاں داخلہ مل جائے۔
یہاں آپ کے لیے یہ امر دل چسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اقصی القدیم میں عوام کا داخلہ ممنوع ہے۔ اس کے بہت سے عوامل تو سیکورٹی سے وابستہ ہیں لیکن مسجد کی حالت بھی خاصی خستہ ہے اس پر یہ بھی بہت بڑا ظلم ہوا کہ زیر زمین کھدائی جو یہودی اپنے گم شدہ خزانوں، نوادرات، مکتوبات اور علامات کے سلسلے میں بین الاقوامی احتجاج کے باوجود جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اصلی مسجد الاقصی
سورۃالاسرا کی پہلی آیت جس میں مسجد الاقصی اور معراج کا ذکر ہے

اہل یہود اس سلسلے میں جوابی پروپیگنڈا کرتے ہیں ان کا الزام ہے کہ مسجد اقصی کے وقف سے وابستہ چند افراد جن کے زیر انتظام یہ علاقہ ہے وہ خود اس کام میں ملوث ہیں۔ وہ ہیکل سلیمانی Temple Mount کی چپ چاپ کھدائی کرکے وہاں سے یہ نوادارت چراتے رہتے ہیں۔1997, میں جب وہاں سے کھدائی کے بعد باہر جانے والے ملبے کے دو ٹرک پکڑے گئے تو اس میں سے کئی نوادارت جن کا تعلق سیدنا سلیمان علیہ سلام کے دور شاہانہ سے تھا اس ڈھیر میں ملے تھے۔دونوں طرف سے الزام تراشی کا یہ ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے۔یہ البتہ مسلمہ امر ہے کہ مسجد کی دیواروں میں دراڑیں پڑگئی ہیں۔
میں جب وہاں پہنچا تو پانچ مسلمان گارڈ زڈیوٹی پر تھے۔مجھے دیکھتے ہی پہچان گئے۔اندر داخل ہونے پر وہ مانع نہ ہوئے تو میں بھی چپ چاپ محراب ابراہیمی کے سائے میں بیٹھ گیا۔حاتم کے ساتھ جب میں یہاں پہلے پہل آیا تھا تو میں ان سب کا بہت تفصیلی جائزہ لینے سے قاصر رہا تھا۔اب میں نے وہاں نوافل پڑھے اور اس کنوئیں میں بھی جھانکا جو آپ سیدنا ابراہیم ؑ کے نام عظیم سے موسوم ہے۔ کنواں پانی سے محروم تھا اور اس کی خشک تہہ میں چند سکے اور نوٹ پڑے تھے۔ اہل دنیا کا بے معنی ء نذرانہ ء عقیدت۔محراب ذکریاسے جڑی ایک بوڑھی عورت گریہ زار و دعاگو تھی۔ شاید پوتے نواسے کے لیے دعاگو تھی۔آپ کو میں نے پہلے بتایا تھا کہ یہاں بے اولاد افراد دعا مانگنے آتے ہیں۔

محراب ابراہیمی
سیدنا ابراہیم علیہ سلام کا کنواں-
وہ مقام جہاں سیدنا سلیمان علیہ سلام کی وفات ہوءی

وہ مختصر سا احاطہء عظیم جہاں ہمارے رسول عالی مرتبت محمد ﷺ نے صلوۃ الانبیا کی امامت کی تھی اس احاطے کو مسجد الاقصیٰ القدیم جس کا قرآن کریم کی سورۃ الاسرا کی پہلی آیت میں بطور خاص تذکرہ ہے اور جہاں چند خاص نشانیاں دکھانے کے لیے بطور خاص ہمارے نبی کریم ﷺ کو مکۃ المکرمۃ سے بیت المقدس لایا گیا اس کو بطور خاص کسی تعمیراتی علامت سے جدا گانہ حیثیت نہیں دی گئی مگر یہاں آتے ہی آپ کا Spiritual Aura (روحانی ہالہ) ایک غیر معمولی Awe اور برقی مقناطیسی کھنچاؤ محسوس کرتا ہے۔ ایک Unknown Sacred Majesty ( نامعلوم مقدس دبدبہ)۔
میرا ارادہ تھا کہ میں عشا کے بعد کے تمام نوافل وہاں پڑھوں گا۔ مکمل تخلیہ ہے ۔دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پر گہر ہونے تک۔ جیسے ہی میں نے محراب زَکریا سے اس طرف کا رخ کیا تو وہاں مجھے گلاب کے تازہ پھولوں کا ایک چوکور حصاردکھائی دیا گویا یہ وہ پیلی پٹی ہے جسے پولیس عوام کو موقع ء واردات کو بے جا مداخلت سے روکنے کے لیے تان لیتی ہے۔مجھے لگا کہ ان تازہ مہکتے پھولوں کو  جیسے ابھی کوئی  کسی شبنمی شاخ سے توڑ کر لایا ہے۔ تقدیس مقام کے حساب سے بطور پیلی پٹی کے طور پر چار سو بطور علامت تحفظ کے بچھا گیا ہے۔میں معالج قلب ہونے کے ناطے سب سے زیادہ سنتا بھی اپنے دل کی ہی ہوں۔ مجھے لگا کہ یہ گلاب مسکرا کر مجھے کہہ رہے ہیں پھر کسی اور وقت مولانا (مولیٰ ۔انا My Lord)۔میں نے اس معاملے کو اشارہ عظیم جانا اور ایک عاشقانہ نگاہ اس   شادماں،خوش رنگ مہکتے حصارِ عقیدت پر  ڈال کر الٹے قدموں واپس ہولیا۔یہ جان کر کہ ع
گر بازی عشق کی بازی ہے ،جو چاہے لگا دو ،ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی، تو بازی مات نہیں

محراب الرکریا علیہ السلام ،جہاں آپ نے اولاد کے لیے دعا کی
احاطہء صلوۃ الانبیا

اس گلابی حصار کے بارے میں شوق تجسس کو تسکیں پہچانے کے لیے باہر نکل کر میں نے حسان کو تلاش کیا ۔وہ عرب فلسطینی گارڈ ہے ۔وہ اس رات وہاں ڈیوٹی پر مامور تھا۔ اندر جانے کی اجازت اسی نے مجھے دی تھی ۔ پانچوں گارڈز میں بس وہی انگریزی بول سکتا تھا۔ میرا سوال تھا کہ یہ پھول کس نے رکھے ہیں تو وہ حیران ہوا کہ کون سے پھول آج تو یہاں پورے دن کوئی بھی نہیں آیا سوائے اس بڑی بی کے جو ذرا دیر کے لیے محراب زکریا پر نفل اور دعا کے لیے آئی تھی۔
سر جھکائے اس راز عظیم کو سینے میں چھپائے میں چپ چاپ ہوٹل کی جانب ہولیا۔

میرے سفری رہنما عبدالقادر حسب وعدہ ٹھیک آٹھ بجے مجھے لینے ہوٹل پہنچ گئے اور ہم سیدنا موسی علیہ سلام کے مرقد عالیہ کی زیارت کے لیے چل پڑے۔ایک دھیمی رفتار سے کار صحرا یہودا Desert Judeanسے گزر رہی تھی۔یہ مرقد، یروشلم مشرق کی جانب سے شروع ہونے والے صحرا یہودا میں بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 15000 مربع کلو میٹر پر محیط یہ صحرا دنیا کا سب سے مختصر صحرا ہے لیکن اس کی ریت کے رنگ، اس کے ٹیلوں کی اونچ نیچ،اس کے نخلستانوں کی تسکین بخش ٹھنڈک نے ا س ارض مقدس کی طویل تاریخ کو بڑے تحمل اور رازداری سے دیکھا ہے۔اس کی زمین میں سختی اس کی ہواؤں میں بے رحم حدت اور اس میں روئیدگی کے فقدان کے باوجود یہ صدیوں سے ایک طرف تو سیاسی باغیوں اور مذہبی انتہا پسندوں کے لیے ان تھک میدان کار زار بنا رہا ہے تو یہ ایسا بے مروت بھی نہیں کہ اس کے دامن میں دنیا سے کنارہ کش روحانی مراتب کے متلاشی اہلیان حق کو سایہ عاطفت نصیب نہ ہوا ہو۔

میں اور میرا دوست عبدالقادر
صحرائے یہودا میں بدو بستی

ہمارے نبی سیدنا یحیی علیہ سلام اسی صحرا میں خاک بر پا ،تلاش حق میں سرگرداں رہے۔اسی سرزمین پر سیدنا عیسی علیہ سلام بھی مراقبے کے لیے آتے رہے تو یہیں پر سیدنا دا وُد علیہ سلام کی افواج نے جیبس(عربی یبوس) کی ایک چھوٹی سی بستی کو حضرت عیسی ؑ کی پیدائش سے 1000 سال پہلے فتح کیا تھا۔ شہر کا نام گہوارہ امن یعنی یرو شلم رکھا تھا ۔ دریائے اردن اس کے ایک طرف چھپتا چھپاتا بہتا بہتا بصد ندامت بحیرہ ء مردار میں جا گرتا ہے۔ ارے یہ وہی دریائے اردن ہے جہاں عیسائی عقیدے کے مطابق بائبل کے ایک مصنف اور سیدنا عیسی علیہ سلام یوحنا John نے سیدنا عیسیؑ کو غسل تقدس و پاکیزگی بپتسمہ  دیا تھا جس سے ان کے روحانی مدارج اس قدر بلند بلند ہوگئے کہ یوحنا کو آسمانوں سے آتی ایک آواز سنائی دی کہ یہ (نعوذ باللہ )فر زند الہی ہیں ۔ آپ یہ نہ بھولیے گا کہ یوحنا کا خود کا درجہ بارہ حواریوں میں سے محض ایک حواری کا ہے اسی لیے موصوف کا بڑا مقام ہے۔ انہیں John-the Baptist  کہتے ہیں ۔. یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ عیسائیوں کی نئی بائبلNEW TESTAMENT )جو اُن کے ایک بڑا فرقہ پروٹنسٹ جسے ان کے خوارج سمجھ لیں اور جن کی وابستگی ، چرچ آف انگلینڈ ہے کلیساء روم نہیں جو پوپ کے دامن اثر و رسوخ سے دور مگر ان کے عزائم مال و منال سے جڑے ہیں( یہ نئی بایئبل سیدنا عیسی علیہ سلام کے کئی سو برس بعد ان چار حواریوں مارکس، متی، لوقا اور یوحنا کے حوالے سے ترتیب دی گئی ہے۔ اس لیے اس کے آغاز میں ہی چاروں کے نام سے پہلے وضاحتی عبارت The Gospel According to Mark, Mathew, John or Lucas کا سرنامہ درج ہوتا ہے۔ اس میں لفظ According کو سامنے رکھ کر تحریف اور ذاتیات کی گنجائش رکھیں۔یوں آ پ کو اس غلط فہمی سے نجات مل جائے گی کہ یہ اہل کتاب ہیں۔

دریائے اردن کا مقام بتپسمہ

صحرا یہودا کے ہی ایک کونے میں جیرکو ,( Jericho ) ہے۔ اس شہر کو بھی دمشق کی مانند دنیا کا قدیم ترین شہر کہلانے پر اصرار ہے ۔روایات اسے سیدنا عیسی علیہ سلام کی پیدائش سے بھی نو ہزار سال سے آباد ظاہر کرتی ہیں۔ایک مقام پر ہمیں عرب بدووّں کی کچھ چھوٹی چھوٹی بستیاں دکھائی دیں۔عربوں میں ان بدووں سے بہتر’’ منصف‘‘ کوئی نہیں بناتا۔ یہ تو آپ کو یاد ہی ہوگا کہ منصف ہم نے نبیل انصاری کے گھر پر کھائی تھی ۔ یہ عرب پلاؤ کی ایک قسم ہے ۔جسے بکری کے دودھ کی دہی کا  خمیر بنا کر اس میں گوشت کو ہلکے مصالحے لگا کر چند گھنٹوں کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔دم آجانے پر ان چاولوں پر زعفران، کاجو ، پستے کی تہہ کو پھیلا دیا جاتا ہے۔ ہمیں کسی دن کسی بدو کے خیمے میں بیٹھ کر صحرا کی شام کا لطف اٹھاتے ہوئے منصف کھانے یہاں آنا چاہیے، کار کے شیشے سے میری نگاہ اس صحرا کی وسعتوں اور بے آب و گیاہ  ریت کا جائزہ لینے لگ جاتی ہے۔ایک بدو چرواہا اپنی بھیڑوں کو آہستگی سے ہانکتا ہوا لے جارہا ۔ ذرا دور ایک اونٹ سڑک پر کسی ناکام عاشق کی مانند دنیا سے لاتعلق بیٹھا تھا گویا وہ ان اسرائیلی ٹینکوں کو جتلا رہا ہو کہ

ع پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم ،

تو اور ہمیں ناشاد نہ کر۔

یہ ٹینک اس سے ذرا فاصلے پر موجود تھے ۔ یہ علاقہ اکثر سیاسی بھونچال کا سبب بن جاتا ہے۔ یوں اب یہ ہائی سیکورٹی زون میں شمار ہوتا ہے۔

جیرکیو
جیرکو ۔اریحا
جیرکو کا بازار

ایک زمانے تک فلسطینی مسلمان سیدنا موسی علیہ السلام کے مزار کی زیارت کی خاطر ایک جلوس کی صورت میں بطور ایک تہوار مناتے تھے۔اس تہوار کی رسم کرد سپہ سالار سلطان صلاح الدین ایوبی کی بیت المقدس کی فتوحات سے پڑی۔آپ اسے جلوس فتح مندی مان لیں۔سارے فلسطین سے مسلمان ایسٹر سے ایک ہفتہ پہلے جمعہ کو یہاں دھوم دھڑکے سے جھنڈے لہراتے ، حربی ترانے (جنہیں رجز کہتے ہیں) گاتے اور جشن مناتے ہوئے یہاں آجاتے تھے۔ جشن کا دورانیہ ایک ہفتے کا ہوتا تھا ۔ ان زائرین وارفتہ کے قیام اور طعام کا ذمہ مرقد عالیہ پر حرم الشریف والے وقف کے ذمے ہوتا تھا۔
یہ سلسلہ زیارت اور لطف وکرم .1920 کی پوری دہائی تک جاری رہا مگر پھر یوں ہوا کہ زائرین کا یہ اجتماع برطانوی تسلط کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور دھرنے کا روپ اختیار کرگیا۔سلطنت برطانیہ نے اس پر پابندی لگا دی۔ان کے ملک چھوڑ جانے پر اس کا پھر سے آغاز ہوگیا مگر چند سال کے امن افروز اجتماع کے بعد یہ ایک مرتبہ پھر سے میدان کارزار بن گیا کئی عرب اور یہودی ہلاک ہوگئے۔1967 میں جب فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ہوگیا تو اس اجتماع پر پابندی سن 1997 تک جاری رہی۔ تب سے اسے منانے کی دوبارہ اجازت ہے لیکن اب اس کا وہ دھوم دھڑکا نہیں ہر شے بے بسی کر برف تلے دب کربجھی بجھی اور مدھم پڑگئی ہے۔
آج بھی اپریل کا مہینہ ہے ۔ایسٹر میں ابھی ایک ہفتہ باقی ہے۔ہم موسی کلیم اللہ کے مزار کی جانب اس سڑک پر رواں دواں ہیں جو یروشلم سے جیرکو جاتی ہے۔یہی روڈ آگے بڑھ کر مکۃ المکرمہ تک جاتی ہے۔ حجاج زمینی راستے سے اسی سڑک کو استعمال کرتے تھے۔ عبدالقادر نے جب تیزی سے بائیں جانب موڑ کاٹا تو تو سامنے ایک مدھم سرخ رنگت کی مٹیالی پہاڑی دکھائی دی۔ جس سے متصل سیدنا موسی علیہ سلام کا مزار تھا۔
ایک حدیث مبارکہ کی رو سے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ’’ قدس شریف کے نزدیک ایک شاہراہ کے کنارے ایک سرخ پہاڑی کے دامن میں میرے بھائی نبی موسیؑ کی قبر ہے۔میں اگر وہاں  ہوتا تو تمہیں اس جگہ لے جاتا‘‘۔عیسائی اور یہودی اس مرقد کے نبی موسیؑ کی جائے تدفین ہونے کا دعوے کو درست نہیں جانتے۔ وہ دریائے اردن کے مغربی کنارے پر کوہ نیبو کے دامن میں ان کے مدفن کو مستند جانتے ہیں ۔ میرا معاملہ مختلف ہے ساری دنیا کے یہودی اور عیسائی اپنے اس دعوے میں اکھٹے ہو جائیں تب بھی میں تو بات اپنے نبی ﷺ کی ہی مانوں گا۔ سوچئے تو سہی کہ آج سے پندرہ سو سال پہلے وہ خاتم الانبیا ،و ہ سید المرسلین شاہراہ کے کنارے ایک سرخ پہاڑی کے دامن میں مرقد عالیہ کی نشانی بتارہے ہیں اور وہ سو فیصد اپنے محل و وقوع پر پوری اترتی ہے۔

کنکروں سے اٹی ہوئی ایک چھوٹی سی سڑک پر آن کر ہم پارکنگ ایریا میں آگئے ہیں۔یہاں بھی دنیا بھر کے مزارات کی مانند زائرین کی جیب خالی کرنے کے لیے کئی کیبن ہیں جن میں مقدس نمونے برائے فروخت ہیں۔مشروبات کے بھی اسٹال ہیں ایک بس سیاحوں کا گروپ لے کر آن پہنچی ہے۔کاروباری فائدے کی امید میں ایک بدو بھی اپنا سجیلا بانکا ہری سرخ ربن اور بے حد خوبصورت بنی ہوئی مہار والا اونٹ لے آیاہے۔ سارا احاطہ غور سے دیکھیں تو بہت قدیم دکھائی دیتا ہے۔ایک اونچے مینار اور چھوٹے چھوٹے کئی گنبد ہیں عبدالقادر مجھے عین اس دروازے پر لے جاتا ہے جس ہر مملوک حکمران کا یہ کتبہ نصب ہے کہ ا’’س مقام عالی کی تعمیر موسی کلیم اللہ کے مدفن پر سلطان ظاہر عبد الفتح بیبار کے حکم ہر سن668 ہجری میں کی گئی‘‘۔
اس مقام کی قدامت اور تاریخی اہمیت کا احساس آپ کو اندر دا خل ہوتے ہی ہونے لگتا ہے۔ایک انجانی سی کشش ،ایک احساس تقدیس۔ بالکل ویسا ہی جیسا کہ اللہ کے ایک بر گزیدہ نبی کے آستانہ آخر کا ہونا چاہیے۔مرکزی احاطے میں کئی عرب خانوادے موجود تھے۔قدیم روایات کے جدید امین۔ جابجا چولہے جل رہے تھے جن پر انواع اقسام کے کھانے پک رہے تھے۔ وہ وقف جو یہ سب انتظام ان زائرین کے لیے ماضی میں کیا کرتا تھا۔

وہ اب بکھر چکا ہے۔ایک پرانے بڑ کے درخت کے نیچے کئی بزرگ خواتین قرآن الکریم کی تلاوت کرنے میں مصروف تھیں۔ایک نوجوان لڑکی کھانا بنا رہی تھی کچھ مرد حضرات یا تو نوافل پڑھ رہے تھے یاگپ شپ کررہے تھے۔
ہم بائیں جانب مڑ کر جب مسجد کے ساتھ ہی ایک کمرے میں داخل ہوئے تو سیدنا موسی علیہ سلام کا مرقد عالی دکھائی دیا۔جنگلہ تھام کر وہاں بیٹھے کئی زائرین کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ہم نے بھی انکساری سے فاتحہ پڑھی اور کچھ دور ہوکر ایک کونے میں جا بیٹھے۔ عبدالقادر قرآن الکریم اٹھا کر پڑھنے لگا۔میں نے دیکھا کہ چیونٹیوں کی ایک لمبی قطار اس مرقد کے چاروں طرف مسلسل ایک ستون پر چکر لگا رہی گویا کسی قسم کا طواف کررہی ہو۔ایک بڑی بی نے کمال شفقت سے مجھے اور عبدالقادر کو پہلے مٹھائی بطور تبرک عطا کی اور بعد میں ساتھ کھانے کی دعوت دی۔ چند منٹوں کے بعدقادر اچانک کھڑا ہوگیا اوراعلان کیا کہ اب ہم یہاں سے رخصت ہوں گے۔میں نے احتجاج کیا کہ یہاں میرا کچھ دیر اور ٹھہرنے کا ارادہ ہے۔اس نے خاموشی سے مجھے پیچھے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور خود تیز تیز باہر کی جانب پارکنگ کی طرف چلنے لگا۔
میں نے اس سے پوچھ لیا کہ ہم کہا ں جا رہے ہیں۔’’ تم عبدالقادر کے ساتھ ہو جو اس سرزمین کا سب سے پرانا سفری رہنما ہے۔ میرے مشورے کبھی غلط نہیں ہوسکتے۔جلدی سے کار میں بیٹھو اور چل پڑو۔میں سر نیہوڑا کر بادل نخواستہ سوار ہوا۔اس نے گاڑی ریورس کی اور صحرائے یہودا میں ایک میل مزید جانے پر ایک چھوٹے سے شکستہ مزار کے خد و خال افق پر نمودار ہونے لگے۔اس کی پشت پر مجھے ایک چھوٹا سا گاؤں بھی دور ہی سے دکھائی دینے لگا۔اس کے مکانات کی چھتیں مٹی کی اور دروازے ٹین کے  تھے۔ سامنے کا یہ منظر دیکھ کر جب میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا تو وہ بتانے لگا کہ’’ یہ حضرت موسی علیہ سلام کے چرواہے تھے اس گاؤں کا نام بھی نبی موسیؑ ہے۔میں نے بغور جائزہ لیا تو پورا گاؤں بمشکل پچاس کے قریب گھروں پر مشتمل تھا۔جس کے در و دیوار اور ماحول پر غربت کے دکھ بھرے سائے منڈلارہے تھے۔
’’کیا ہم واپس اسی مزار پر نہیں جاسکتے؟‘‘ میں مصر تھا۔ وہ میرے سوال کو نظر انداز کرکے گاڑی سے اتر کر گاؤں میں داخل ہوگیا۔ایک چھوٹے سے گھر کے باہر رک کر اس نے ٹین کے دروازے پر دستک دی۔ایک شخص باہر نکلا کر آیا اور اس سے بڑی گرمجوشی سے معانقہ کیا۔اس کے بعد وہ میری جانب بھی اسی خلوص اور والہانہ انداز میں بڑھا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ہم دونوں کے ہاتھ تھام لیے اور زبردستی ہمیں گھر کے اندر لے جانے لگا۔گھر کے اس کمرے میں چھوٹے سے غالیچے فرش پر دراز تھے،درمیان ایک کوتاہ قد میز بالکل وسط میں رکھی ہوئی تھی۔ہمیں وہ وہاں چھوڑ کر اندر کہیں چلا گیا۔’’عبدالقادر یہ کیا تماشہ ہے‘‘؟ مجھے اب غصہ آنے لگا۔
’’یہ امین الحسین ہیں‘‘۔ قادر نے میرے اشتعال بھرے انداز کو نظر انداز کرتے ہوئے جواب دیا۔
’’تو؟‘‘ میری ناراضگی کسی طور کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔’’ یہ اس مزار کے متولی ہیں۔سلطنت عثمانیہ کے مقامی حکمران نے سن1800 کے آغاز میں اس مزار کا انتظام و انصرام اس خاندان کے حوالے کیا تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب اس گھرانے کا شمار فلسطین کے سب سے متمول اور باعزت گھرانوں میں ہوتا تھا۔ان کے پر دادا یروشلم کے مئیر تھے۔اب ان کا حال ابتر ہے۔‘‘عین اسی لمحے وہ میزبان عربی کافی کی پیالیوں کی ٹرے اٹھائے اندر آگیا اور قادر سے عربی میں گفتگو کرنے لگا ۔میں نے ان کے مکالموں کی سن گن لینے کی کوشش کی تو لفظ باکستان اور دکتور کے الفاظ بکثرت سنائی دیے۔کچھ دیر بعد قادر کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ چمک دکھائی دی اور امین الحسینی ہمارے ساتھ چل پڑے۔
صحرائے یہودا کے اس کنارے پر نبی موسیؑ کے چھوٹے سے گاؤں میں جب سورج سوا نیزے پر محسوس ہورہا تھا عبدالقادر نے کہا یہ ہم کو نبی موسی علیہ سلام کی اصل قبر تک لے جائیں گے جو
اسی احاطے میں ایک تہہ خانے میں ہے۔
ہم تینوں جب کار سے اتر کر سیدنا موسی علیہ سلام مزار کے اندر داخل ہوئے تو وہاں موجود لوگ مزار کے متولی کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے۔ یہ احترام بڑا پر وقار تھا ، اس میں شرف انسانی کا بڑا لحاظ رکھا گیا تھا میرے دماغ میں پاکستان کے ایسے مواقع پر دیکھے گئے مناظر آگئے جہاں درگاہوں اور خانقاہوں پر آنے والے پیرزادوں اور سجادہ نشینوں کی آمد پر غلامانہ، گرواٹ بھری اور غیرانسانی لگاوٹ کے مظاہرے مریدین ، معتقدین ، حاظرین بے دام میں عام دکھائی دیتے ہیں۔نہ کسی نے آگے بڑھ کر ہاتھ چومے ،نہ دامن تھاما، نہ قدم بوسی کی ۔پاکستان میں ان نام نہاد پیروں، اولیا زادوں کے طرز ہائے زندگی شاہانہ ہیں،وسیع جاگیریں،دولت کے انبار اور انتہائی شرمناک غیر اخلاقی زندگی اگر آپ ان کو قریب سے جانتے ہیں۔
اس بیچارے امین الحسینی کا جس کے پر دادا یروشلم کے مئیر اس وقت رہے ہیں جب ہمارے مخدو م اور پیرزادوں کو شاید سونے کے لیے صحیح قسم کی چارپائیاں اور پاؤں کے لیے ثابت جوتیاں بھی نصیب نہ ہوتی ہوں۔ان کا اس قدر عظیم مزار کا متولی ہونا کوئی معمولی بات نہ تھی۔اس بے چارے امین الحسین کا گھر تو ایک سو بیس میٹر کا گارے مٹی کی دیواروں اور ٹین کے دروازے والے،بغیر فرنیچر، چھوٹے سے فرشی مہمان خانے والا جس میں کوئی مرید خدمت بجانے کے لیے بھی مامور نہ تھا۔وہ خود ہی قہوے کی ٹرے اٹھائے چلے آئے تھے۔خالی کپ بھی خود ہی لے گئے تھے۔ان کا ثوب بھی استری سے عاری مگر صاف ستھرا تھا۔ان کے پیروں کے سینڈلوں میں تسمے یا پٹیاں نہ تھیں۔

احاطہء مزار میں داخل ہوتے ہی عبدالقادر مجھے ایک کونے میں لے کر بیٹھ گیا۔امین الحسین سے معتقدین آ کرملتے رہے وہ بھی خوش دلی اور عجز کا پیکر بنے رہے۔ کوئی جعلی بھرم یا بلاوجہ تحریم و تقدیس کا خول ان کے پورے وجود پر مسلط نہ تھا ۔ وہ ان میں سے ہی ایک تھے نہ کہ کوئی مخلوق غیر معمولی۔کچھ دیر بعد جب وہ وہاں موجود پندرہ بیس افراد سے مل چکے تو بہت نرم لہجے میں معذرت بھرے انداز میں عربی میں جانے کیا کہا کہ وہاں سے سب ہی  بلا چوں و چرا   کھسک لیے۔ انہوں نے کھڑکیوں پر پردے گراکر اپنے ثوب کی جیب سے چابیوں کا ایک گچھا نکالا۔ہمیں ساتھ لے کر وہ ایک چھوٹے سے ملحقہ کمرے میں داخل ہوگئے۔اس کمرے کی دائیں ہاتھ والی دیوار پر لکڑی کا ایک پرانا سا دروازہ تھا۔بالکل ویسا ہی جیسا کبھی آپ کو اندرون موچی گیٹ قدیم لاہور یا غالب کے دہلی والے محلے بلّی ماراں ( بلی Shuttering بل۔لی۔ ماراں بمعنی Shuttering کا کام کرنے والے) کے پرانے مکانوں میں دکھائی دیتے تھے۔اس دروازے کے نقش و نگار بہت اچھے اور نازک تھے۔اس پر لگے تالے کو انہوں نے ایک عجیب سی کنجی سے کھولا۔دروازے کے دوسری جانب مکمل اندھیرا تھا۔وہ اس اندھیرے سے آشنا تھے لہذا بلا تکلف آگے بڑھ گئے۔ہم رکے رہے تو انہوں نے پیچھے پیچھے آنے کا مشورہ دیا۔یا اللہ تیری یہ کیسی عنایت ہے۔ مجھ پر کیا راز ہائے فسوں عیاں ہورہے ہیں،میرا دل دھڑک رہا ہے ایسا لگتا ہے کہ اچھل کر باہر آجائے گا۔

مصنف سیدنا موسیٰ کے مزار پر

 

وہ زینہ جو تہہ خانے میں سیدنا موسیٰ کے مقبرے کی طرف جاتا ہے

اس کمرے کے دروازے سے ذرا پرے ایک قدیم زینہ تھا جو بہت خاموشی سے کسی دھیمی آبشار کی مانند ایک تہہ خانے میں اتررہا تھا۔اب میری آنکھوں کو اندھیرے میں کچھ کچھ نظر آرہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ہم تاریخ کے کسی انجانے اندھیارے غار میں اتر گئے ہیں۔ کل چودہ زینے تھے۔ اس زینے کے ختم ہوتے ہی ایک موٹی سی دیوار میں نصب ایک اور دروازہ تھا۔بے حد چھوٹا سا دروازہ۔اتنا چھوٹا کہ میں گھٹنوں کے بل ہی رینگ کر دوسری طرف جاسکتا تھا۔اس مرحلے سے فارغ ہوکر جائزہ لیا تو یہ 12 فیٹ لمبا اور اتنا ہی چوڑا ایک کمرہ تھا۔ جس کا فرش مٹی کا اور جس میں کوئی کھڑکی نہ تھی۔ اس کی چھت بھی کچھ اونچی نہ تھی مگر ایک بات کی بڑی حیرت ہوئی ۔ عام طور پر ایسی جگہوں پر جو اندھیری، بے دریچہ اور بند رہنے والی ہوں ایک عجیب سی بو ہوتی ہے یہاں معاملہ اس کے برعکس تھا۔ بے حد ہوا دار اور تازہ تازہ بالکل ویسا ہی ماحول جیسا باہر کی کھلی ہوا میں تھا۔باہر کی ہوا میں اور یہاں اندر ایک واضح فرق تھا۔ یہاں ایسا لگتا تھا جیسے من بھر مشک تاتار اور کئی من گلاب کو ملا کر پیہم کوئی اسپرے کیا جارہا ہو۔اس خوشبو کے بہاؤ میں ایک تقدیس ، ایک دھیما پن، ایک ٹھہراؤ تھا۔ وقت اپنا دامن سمیٹ کر یہاں ایک طرف سر جھکا کر کھڑا ہوگیا تھا۔ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوکر لمحے اس عجیب طاقِ عقیدت کو تھام کر رک سے گئے تھے۔
کمرے کے انتہائی بائیں جانب سیدناموسی کلیم اللہ کا ناپختہ مرقد مبارکہ تھا۔اس کے اوپر سرخ مٹی پڑی تھی اور یہ زمین سے بمشکل چھ انچ بلند تھا۔چند کنکر بھی اس مزار پر پڑے تھے۔لوح مزار خاصی قدیم تھی جس پر سیاہ حروف میں عربی زبان میں’’ نبی موسی کلیم اللہ‘‘ لکھا تھا۔

میرے معزز قارئین کے لیے یہ اندازہ لگانا شاید مشکل نہ ہو کہ صحرائے یہودا کے  اس سرخ پہاڑی کے دامن میں اس مرقد عالیہ کے پاس موجود ہونا کس قدر بہ لحاظ روحانی وزنی اور بہ لحاظ تقدیس بوجھل لمحہ تھا۔موسیٰ  کو اللہ سے کلام کی سعادت کئی مرتبہ ملی۔قرآن الحکیم میں سب سے زیادہ آپ ہی مذکور ہیں۔کل 136 مرتبہ۔بہ لحاظ تعداد یہ کسی بھی نبی سے زیادہ ہے۔
گو اس پورے ذکر سمیت دیگر انبیا اور واقعات کا مخاطب بغرض پیغام و تربیت ہمارے نبی محمد مصطفے ﷺ کی ذات اقدس ہے ۔یہ فرق اس لیے بھی بتانا لازم ہے کہ نبی محترم کا نام کل چار مرتبہ آیا ہے۔ قرآن بیشترمقامات پر ہمارے نبی کریمﷺ سے Second Person کے طور پر خطاب کرتا ہے۔اس صیغہء کلام میں فریق تخاطب کا نام لینا لازم نہیں ہوتا۔سیدنا موسیؑ کو اللہ نے ایک ایسا مقام فخر عطا کیا ہے کہ آپ نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ان سے منسوب معجزات بھی عجیب ہیں اور ان کے مخالفین جو دراصل اللہ کی مخالفت پر اترے تھے یعنی فراعنہء مصر سے زیادہ کسی کی نشانیاں دنیا میں بطور اسباق عبرت اس قدر احتیاط سے محفوظ نہیں۔
میں حضرت موسیؑ کو باآواز بلند سلام پیش کرنے کے بعد مٹی کے فرش پر ہی براجمان ہوگیا اور ایک تواتر سے اس مرقد احترام کا جائزہ لینے لگا۔امین صاحب کہنے لگے کہ جب ہمارے نبی محترم ﷺ مکہ سے یروشلم آنے کے لیے   یہاں  پہنچے تو آپ نے سیدنا موسیؑ کو اپنے عین اس مقام مرقد میں صلوۃ کی ادائیگی میں مصروف دیکھا۔اس مزار پرا نوار سے روشنی کی شعاعیں بلند ہورہی تھیں۔ میں ایک ایسی کیفیت سرور میں تھا جو خوابیدگی اور ہپناٹزم کا درمیانی فسوں تھی۔بہت خاموشی سے میں یہ بیانیہ سنتا رہا۔
, یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب آپ کے دماغ میں خیالات کے کئی چشمے ساتھ بہہ رہے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود اردگرد گھومتی کائنات کسی ایک مرحلے پر ایک نکتہء اجتماع پر ٹھہری ہوتی ہے۔میری ہمت نہ پڑی کہ میں اس جگہ کی تصویر کشی کروں۔یہ حرکت کم از کم میرے نزدیک ایک طرح کی اس مقام تقدیس کی تحقیر ہوتی۔بیس منٹ وہاں مراقبہ کرنے کے بعد امین صاحب ہمیں دوبارہ پہلی منزل پر لے گئے۔یہ مزار کا بڑا سا احاطہ ہے یہاں قریباً ایک سو بیس کمرے ہیں۔ان میں سے کچھ کی تعمیر سلطان صلاح الدین ایوبی نے کرائی تھی اور دیگر کی بعد کے مملوک سلاطین نے۔احاطے سے ملحق ایک وسیع قبرستان ہے اس میں ان شہداء کے مقابر ہیں جو سلطان صلاح الدین ایوبی کی فوج میں شامل تھے۔ اس گورستان جرات کے پیچھے سے ایک سڑک جیرکو کی جانب دوڑے چلی جاتی۔ہم نے بھائی امین کا اس سعادت عظیم پر شکریہ ادا کرکے رخصت چاہی تو وہ کسی طور رضامند نہ ہوئے ۔ ہمارے عبدالقادر صاحب ان کے بچپن کے دوست تھے اور ملاقات بھی ایک عرصہء طویل کے بعد ہوئی تھی لہذا طعام لازم تھا۔

مسجد الاقصی جو صلاح الدین ایوبی نے تعمیر کی

ان کے اس چھوٹے سے صحرائی گھر کے برآمدے میں بیٹھ کر مجھے لگا کہ اس کا سکون اس کی وسعت سے میرے مزاج بہت ملتا ہے۔یہ میرے لوگ ہیں، میرے قبیلے کے میرے اپنے ساتھی۔کھانا سادہ سا تھا پھلی کا سالن ابلے ہوئے چاول اور گاجریں اور گوبھی مجھے کئی مرتبہ بہت ٹونی قسم کے فرینچ ریستورانوں میں کھائی ہوئی ڈشوں سے زیادہ من بھاتا اور لذیذ لگا۔رخصت ہوئے تو عبدالقادر کار آہستہ سے چلارہے تھے اور میں اپنی کچھ دیر پہلے کی کیفیات میں غلطاں و پیچاں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سفر میں اللہ کریم نے مجھ پر میری توقعات سے بڑھ کر عنایات کی ہیں۔ میں ان مناظر اور مقامات کا خواب میں بھی نہیں سوچتا تھا۔سیدنا موسیؑ کے مزار کا منارہ بہت دھیمے دھیمے صحرا کے افق پر معدوم ہوتا جارہا تھا۔میں بوجھل دل سے ان چھوٹے گنبدوں اور در ودیوار کو دیکھے جارہا تھا بس یہ خیال دل کو چبھ رہا تھا کہ جانے اب یہ سب پھر سے دیکھنا نصیب ہو کہ نہ ہو۔ایک تعلق ، ایک یاد ، ایک پیار ہے جو ریت کے ان ٹیلوں سے پرے کہیں غائب ہوتا جارہا ہے۔میں سوچنے لگا کہ جانے عبدالقادر اب کیا اور چمتکار دکھائے گا۔اچانک اس نے میرے خیالات کا شیرازہ اپنی گرج دار آواز سے بکھیر دیا۔اب کہاں چلیں؟
’’جیریکو اگر وہ قریب ہے؟۔میں نے سوال نما تجویز پیش کردی۔۔۔۔
’’ہا ں یہ ٹھیک ہے کیوں کہ وہ بہت قابل دید جگہ ہے۔‘‘ اس نے میری جانب دیکھتے ہوئے بڑی لبھاؤ بھری تائید کی۔
یروشلم سے باہر نکلتے ہی آپ بہت تیزی سے سظح سمندر سے نیچے اترنا شروع کردیتے ہیں۔سیدنا موسیؑ کا مزار بھی سطح سمند رسے تین سو فیٹ نیچے ہے ۔یہ حال شہر جیریکو کا ہے جو850 فیٹ نیچے ہے۔یہ بلندی یہ پستی جغرافیہ کو بھی بہت تیزی سے بدل دیتی ہے۔ ریت کے ٹیلے اب اونچے ہوتے جارہے ہیں
ارے یہ کیا وہی اونٹ بدستور اسی بددلی اور بے نیازی سے اسی پیڑ کے نیچے بیٹھا تھا جو ہمیں مزار کی جانب جاتے ہوئے دکھائی دیا تھا۔نو کلو میٹر کے فاصلے کے بعد ہم شہر جیریکو میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جیریکو دریا اردن کے مغربی کنارے پر ہے اس کا شمار کیٹ گری ’’اے‘‘ کے علاقوں میں ہوتا ہے جس کا مطلب یہ کہ یہودی یہاں نہیں داخل ہوسکتے۔شہر کے آغاز میں ہی ایک وارننگ بورڈ بھی ہے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی ہم وہ قدیم شہر کی ہماہمی میں پڑ جاتے ہیں۔جیریکو کا عربی نام ا ریحا بمعنی’’ معطر‘‘ ہے۔شہر میں داخل ہوتے ہی آپ کو اس فضائے معطر کا احساس ہوجاتا ہے۔
یہ شہر میں نے عرض کیا تھا کہ حضرت عیسی ؑ کی پیدائش کے نو ہزار سال پہلے سے آباد ہے ۔ اس میں اور شہر دمشق میں ضد لگی ہوئی ہے کہ دونوں میں قدیم ترین شہر کونسا ہے جو مسلسل آباد چلا آرہا ہے۔قدیم شہر اتنے چھوٹے نہیں ہوتے لہذا میرا ووٹ دمشق کے حق میں جاتا ہے

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply