پردے کے پیچھے کیا ہے؟۔۔۔۔ایم بلال ایم

ہاں تو دوستو! فوٹوگرافی کے حوالے سے پردے کے پیچھے یہ ہے کہ کبھی منظر آسانی سے پکڑ میں آتے ہیں اور کئی دفعہ تو بڑی خجل خرابی کے بعد بھی مطلوبہ منظر نہیں ملتا۔ بعض اوقات فقط ایک تصویر بنانے کے لئے فوٹوگرافر کو لمبا سفر کرنا، پانی میں اترنا، پہاڑ چڑھنا، انتظار کرنا، بہروپ بنانا، تاک لگانا، مڈ میں اترنا اور خاک ہونا پڑتا ہے۔ جی ہاں! خاک ہونا پڑتا ہے۔ فوٹوگرافی تو سارا کھیل ہی روشنی کا ہے۔ مطلوبہ روشنی اور رنگوں کے لئے مناسب وقت اور موسم کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ سیانے کہتے ہیں ”خراب موسم میں بھی بہترین تصویریں بنتی ہیں“۔ اب خراب موسم اور اوپر سے فوٹوگرافی کا کشٹ، گویا بندوبست کرنے   میں ہی اکثر اوقات مناسب وقت گزر جاتا ہے، اوپر سے ہم ٹھہرے ازلوں کے سست۔ ویسے بعض اوقات موسم کا حساب لگا کر کسی مقام پر پہنچتے ہیں تو مناسب وقت آنے سے پہلے ہی آمریت ”جلدی کرو، واپس چلیں“ کے ”کاشن“ دینے لگتی ہے۔ اسی لئے اب ہم کہتے ہیں کہ ”بہترین تصویریں بنانے کے لئے ہمیشہ اکیلے سفر کرو۔“ ویسے سیانے یہ بھی کہتے ہیں ”فوٹوگرافر مشکل حالات میں بھی کوئی نہ کوئی اچھی تصویر بنا ہی لیتا ہے“۔ ایسا کہنے والے سیانوں کو ڈھونڈتے پھریں یا پھر مجھے ہی سیانا سمجھ کر باقی بات خود ہی سمجھ جائیں۔

یہ تصویر ضلع بھمبر(کشمیر) کے بلند ترین پہاڑوں میں سے ایک کی چوٹی پر بنائی تھی۔ ویسے ہم نے اپنے تئیں اس چوٹی کو ”ڈیرہ ٹاپ“ کا نام دیا ہوا ہے، کیونکہ ہم اکثر اس پر ڈیرے ڈالتے ہیں۔ حالانکہ چوٹی پر جگہ اتنی سی ہے کہ بمشکل پانچ چھ بندے کھڑے ہو سکتے ہیں اور اگر کوئی لڑکھڑایا تو سینکڑوں فٹ نیچے جانے کی بجائے سیدھا اوپر جائے گا۔ کشمیر کے اس علاقے میں خطرناک سانپ بہت پائے جاتے ہیں مگر ہم کیا کریں؟ اول تو اقبال قیصر کہتے ہیں ”شاہ حسینا اسی جوگی ہوئے تے ساڈے سپاں نال یرانے“(شاہ حسین! ہم جوگی ہوئے اور ہمارے سانپوں کے ساتھ یارانے) اور دوسرا یہ کہ ہم تو اپنی کھوج کے ہاتھوں مجبور ہیں، کیونکہ ضلع بھمبر کی اس چوٹی سے چاروں طرف دور دور تک شاندار نظارے ہوتے ہیں۔ شمال مشرق میں سماہنی سیکٹر اور اس سے آگے مقبوضہ کشمیر، مغرب میں منگلا جھیل اور جنوب میں چند پہاڑیوں سے آگے میدانی علاقہ تاحدِنظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ البیرونی زمین کی پیمائش کے لئے پہاڑ چڑھ بیٹھے اور ہم نظاروں کی تلاش میں جا بیٹھتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ کہاں عظیم سائنسدان اور کہاں عام سا  منظرباز ۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جو ہمہ تن گوش ہوتے ہیں، فطرت ان کے لئے نغمہ سرا ہوتی ہے۔ فطرت کے ان نظاروں کی شفاف لہروں سے کچھ روح سرشار ہوتی ہے، کچھ فطرت اپنا آپ کھولتی ہے، کچھ کھوج کی تسکین ہوتی ہے اور کچھ ہم فوٹوگرافی کر لیتے ہیں۔ خیر انہی نظاروں کی فوٹوگرافی کے لئے سردی گرمی کی پرواہ کئے بغیر بارہا اس چوٹی پر گئے لیکن آج تک اس قسم کی تصویریں نہیں بنا سکا جو کہ بنانا چاہتا ہوں۔ مثلاً چیڑ کے درختوں پر نچھاور ہوتے ستاروں کے جھرمٹ۔ خیر فی الحال غروبِ آفتاب کی یہ ایک تصویر پیشِ خدمت ہے۔

اپنی ایک تحریر ”پردے کے پیچھے کیا ہے؟“ سے اقتباس۔ ورنہ اُس پوری تحریر میں تو پردے کے پیچھے فرد، اس کی سیروسیاحت اور بہت کچھ نظر آتا ہے۔

Avatar
ایم بلال ایم
ایم بلال ایم ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اردو بلاگنگ کی بنیاد رکھی۔ آپ بیک وقت اک آئی ٹی ماہر، فوٹوگرافر، سیاح، کاروباری، کاشتکار، بلاگر اور ویب ماسٹر ہیں۔ آپ کا بنایا ہوا اردو سافٹ وئیر(پاک اردو انسٹالر) اک تحفہ ثابت ہوا۔ مکالمہ کی موجودہ سائیٹ بھی بلال نے بنائی ہے۔ www.mBILALm.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *