• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • نواز شریف کے بچوں، داماد نے بھی پاناما فیصلہ چیلنج کردیا

نواز شریف کے بچوں، داماد نے بھی پاناما فیصلہ چیلنج کردیا

اسلام آباد(اپنے رپورٹر سے)  سابق وزیراعظم نواز شریف کے بچوں حسن اور حسین نواز، مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر نے بھی پاناما کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ چیلنج کر دیا ہے۔حسن، حسین، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے دو نظر ثانی درخواستیں دائر کی گئیں۔ایک نظر ثانی درخواست سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف جبکہ دوسری نظر ثانی درخواست 3 رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی۔نظر ثانی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پاناما کیس کے سلسلے میں شریف خاندان کے مالی اثاثوں کی جانچ پڑتال کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تحقیقات ‘انصاف کے تقاضوں کے منافی’، ‘نامکمل’ اور اس قابل نہیں تھی جس پر ریفرنس دائر ہو سکے۔یہ بھی کہا گیا کہ جے آئی ٹی پر اعتراضات کو زیرِغور نہیں لایا گیا جبکہ رپورٹ پر عدالتی فائنڈنگ سے ہمارے حقوق متاثر ہوں گے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت پاناما عملدرآمد بینچ کے تین ججز نے کی لہٰذا پانچ ججز کو رپورٹ پر فیصلے کا اختیار نہیں تھا۔درخواست کے مطابق نگران جج کی تعیناتی کے بعد احتساب عدالت آزادانہ کام نہیں کرسکے گی جبکہ آئین اور قانون میں احتساب عدالت کی کارروائی کی نگرانی کی گنجائش نہیں، عدالت صرف یہ کہہ سکتی ہے کہ قانون کے مطابق کام کیا جائے، لیکن فائنڈنگ کی روشنی میں عدالت خوف شکایت کنندہ بن گئی ہے۔سابق وزیراعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے اپنی نظرثانی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف لندن فلیٹس کی خریداری کا کوئی الزام یا ثبوت نہیں لیکن عدالت عظمیٰ عدالت نے ان کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے دیا۔درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے میں سقم ہیں، لہذا اس فیصلے کے خلاف نظرثانی منظور کی جائے اور اسے کالعدم قرار دے کر درخواستیں خارج کی جائیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *