دیوار گریہ کے آس پاس۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان اور کاشف مصطفےٰ/قسط7

(اسرائیل کا سفر نامہ ۔اپریل 2016 )

ادارتی تعارف
کتاب دیوار گریہ کے آس پاس کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔
کتاب کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔
یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔یہ انگریزی میں تحریر سفری یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا جو زیادہ تر مختصر پیرائے میں اسرائیل سے جناب دیوان صاحب کو بذریعہ ای میل موصول ہوئیں۔ ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے موصول شدہ ان انگریزی ٹریول نوٹس کی مدد سے اپنے مخصوص انداز میں اسے اردو کے قالب میں ڈھالا۔ اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع کیا۔اس کتاب کو لکھنے میں اور اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت حصہ ہے۔یہاں  اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ یہ کاوش بیش بہا پہلے سے انگریزی یا کسی اور زبان میں کتاب کی صورت موجود نہ تھی۔ نہ ہی اس کا کوئی اور نسخہ اب تک کسی اور زبان میں معرض وجود میں آیا ہے۔ قارئین مکالمہ کی خاطر کچھ تصاویر جو کتاب میں موجود نہ تھیں وہ وضاحت مضمون کی خاطر نیٹ سے شامل کی گئی ہیں۔قسط مذکورہ میں ڈاکٹر صاحب کی اپنی تصویر کے علاوہ تمام تصاویر نیٹ سے لی گئی ہیں۔ہما رے دیوان صاحب ڈاکٹر صاحب کے ہم زاد ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔ ان کی تین عدد کتابیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا اور تیسری پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ شائع ہوچکی ہیں۔ چوتھی چارہ گر ہیں بے اثر ان دنوں ادارہ قوسین کے پاس زیر طبع ہے۔ سرجن کاشف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔ قرآن الحکیم اور تصوف کے حوالے دیوان صاحب  کی اپنی تحقیق اور اضافہ ہے اور انگریزی ٹریول نوٹس میں شامل نہ تھا ۔

ایڈیٹر ان چیف

انعام رانا

اقصٰی القدیم
اقصی جدید
دوران تحریر صلاح مشورے

(گزشتہ سے پیوستہ)

جبل الزیتون کی مغربی سمت میں اوپری ڈھلان پر ایک زیر زمین مرقد ہے اسے وہاں مرقد الانبیا ” Tombs of the Prophets” کہتے ہیں ۔یہ تورات جسے اب یہودی بائبل بھی کہا جاتا ہے اس کے تین انبیا Malachi Haggai Zechariah, ذکریا،ہاجائی اور مالاخی جن کاتعلق حضرت عیسیؑ سے پانچ صدیاں پہلے سے ہے ان کی قبور یہاں ہیں
میری معلومات محدود تھیں۔ وہاں پہنچا تو بوڑھے یہودی گارڈ نے کھڑے ہوکر بہت گرمجوشی سے ’’شلوم‘‘ کہا۔ اسے انگریزی بہت کم آتی تھی مگر وہ پھر بھی مجھے یہ سمجھانے میں کامیاب ہوگیا کہ اندر اندھیرا بہت ہے ۔میں نے اسے اپنے سیل فون کی ٹارچ دکھائی تو وہ کچھ کہے سنے بغیر غائب ہوگیا اور اپنے چھوٹے سے کیبین سے ایک سیاہ رنگ کی موٹی سی موم بتی نکال لایا۔مرقد الانبیا میں داخلہ مفت تھا مگر میں نے موم بتی کے عوض اسے کچھ شیکل دینا چاہے تو اس نے قدرے سختی سے میر ا ہاتھ جھٹک دیا اور آسمان کی جانب اشارہ کرکے کہنے لگا ’’ یہوا ،یہوا‘‘ روشنی کا یہ انتظام فی سبیل اللہ تھا گو اب کی دفعہ یہ یہودی خدا تھا۔میں نے اس کا شکریہ ادا کیا تو اس کے پوپلے منھ اور بے دانت لبوں پر مسکراہٹ کے بادل تیرنے لگے۔

مرقد ال انبیا

نئی قسط
مرقد الانبیا ء میں اندھیرے کی وجہ روشنی کی عدم موجودگی نہ تھی بلکہ ایسا لگتا تھا کہ یہاں کبھی اجالے یا کسی کرن نے کبھی جھانکا ہی نہ تھا۔اس گارڈ کی فراہم کردہ موم بتی کی روشنی سے اس شدید اندھیارے میں صرف دو قدم تک دکھائی دیتا تھا۔
اجنبی قدیم مقامات پر ماہرین آثار قدیمہ اس طرح کی تنہا مہم جوئی کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ ایک غلط قدم ، ایک غلط موڑ، کوئی گڑھا، کوئی کنواں، کوئی تہہ خانہ، اور آپ برسوں پرانی تاریخ کی آغوش میں ایسے پہنچ جائیں گے جیسے قرآن کی سورہ القارعۃ کے بیان میں فامہ ہاویہ ،و ما ادراک ماہیہ، نار‘‘ حامیہ( اور اس کی ماں (حاویہ یعنی دوزخ کی پاتال) ہوگی۔تمہیں کیا پتہ کہ وہ کیا ہے، وہ چنگھاڑتی ہوئی آگ۔قرآن الحکیم کی اس تشبیہ پر قربان جایئے کہ وہ اس بدترین آگ کو گناہ گار کی ماں قرار دے رہا ہے۔وہ اس سے اپنی آغوش میں ایسے سمیٹ کر رکھے گی جیسے ماں اپنے نومولود بلونگڑے کو چوم چوم کر سینے سے لگاتی ہے۔

مجھے ڈر لگا۔ دل نے کہا آ اب لوٹ چلیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ سیاح یہاں نہیں آتے۔میں نے مڑنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ کہیں سے مجھے ایک بہت مدھر سا گیت نسوانی آواز میں سنائی دیا جس کے الفاظ تو میرے پلے نہیں پڑ رہے تھے مگر اس کی گنگناہٹ میں ایک نرم سی مانوسیت تھی۔مجھے کسی نے بتایا تھا کہ یروشلم ایک ایسا خرابہء جہاں ہے  جس میں انسانوں کے علاوہ بھی بہت سی انجانی مخلوق آغاز آفرینش سے مقیم ہے۔آپ میری کیفیت کا سوچیں تو سہی۔ایک گہرا قدیم غار نما گناہ گار کے دل کی مانند اندھیرا مرقد ، وہاں تنہا میں اور واپسی کے ارادے کے ساتھ ہی نامانوس نسوانی آواز کا تجسس بھرا بلاوا۔
اب میرے  اندر کا پاکستانی ڈاکٹر جو دنیا گھوما تھا اور باہر پڑھا لکھا اور قیام پذیر ہوکر مصلحت پسند نہ سہی معاملہ فہم ہوگیا تھا تو وہ ایک طرف رہ گیا اور کہیں سے ایک مسلمان انڈیانا جونز بیدار ہوگیا۔آواز کے تعاقب میں یہ سوچ کر کہ ع یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں۔
میں نے نظروں اور قدموں  دونوں ہی کی سمت اس جانب موڑ دی جہاں سے آواز آرہی تھی۔ کچھ ہی قدم چل کر ایک موڑ مڑتے ہی کہیں اک شمع موہوم جلتی دکھائی دی جسے ایک سرسراتے ہوئے سائے نے ہاتھوں میں تھام رکھا تھا۔دل اب آخری تذبذب میں مبتلا تھا کہ اس طرف جانا موزوں ہے کہ نہیں۔وارفتگی اور تجسس شدید، بالآخر میری احتیاط اور خوف پر غالب آگیا۔
قریب پہنچنے پر نظر آیا کہ وہ ایک جواں سال یہودی دوشیزہ ہے جس نے سر کے گرد سیاہ ٹشل باندھا ہوا ہے یہ قدامت پسند یہودی خواتین کا حجاب سمجھ لیں۔اس میں ان کا چہرہ اور بالوں کا کچھ حصہ کھلا رہتا ہے اور یہ اکثر عبادت کے وقت پہنا جاتا ہے۔اس بی بی کے ساتھ ہی ایک نوجوان لڑکا بھی تھا جس نے سر پر کپاہ( یہودی مردوں کی ٹوپی) اور ان کی عباد ت کے وقت پہنی جانے والی شال( تالت) اوڑھی ہوئی تھی۔

ہیڈ اسکارفTISCHEL ٹشل جو یہودی خواتین کو پہننا ہوتا ہے
یہودی مردوں کی ٹوپی kippah
TALIT- یہودی مردوں کی عبادت کی شال

لڑکا فرش پر سجدہ ریز تھا اور لڑکی کوئی اجنبی زبان میں گیت گنگنا رہی تھی ۔ میرے کان عبرانی سے آشنا ہیں ۔ آپ کے کان ذرا عربی سے آشنا ہوں تو عبرانی الفاظ کی شناخت مشکل نہیں۔مجھے لگا کہ شایدیہ گیت آرمینی یا اکاڈین زبان ہے۔ انہوں نے میرے قدموں کی آواز بھی سنی ہوگی اور اضافی روشنی نے انہیں اپنے علاوہ کسی اور کی موجودگی کا احساس بھی دلایا ہوگا مگر وہ میری آمد سے لاتعلق رہے۔اس تنہا ، گہرے اندھیرے اور پراسرار ماحول میں ان کا یہ تغافل عارفانہ میرے لیے ایک سحر انگیز تاثر کا حامل تھا۔خاتون کے گیت میں کوئی خلل نہ آیا۔ وہ بدستور قدیمی مٹی کی ایک قدیم پتھریلی دیوار کے سامنے منہ  کیے گائے چلی جارہی تھی۔
دیوار کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو مجھے اس میں کئی دراڑیں دکھائی دیں۔اس طرح کی بڑی بڑی دراڑوں کو یہودیوں نے قبریں بنانے کے لیے بھی ماضی قدیم میں استعمال کیا ہے لیکن وہاں کسی باقاعدہ معبد کے نشان نہ تھے ۔
گیت ختم ہوتے ہی وہ لڑکا اٹھا اور اس لڑکی کے ساتھ میری موجودگی سے بے اعتنائی برتتے ہوئے نظر بچا کر جانے لگے تو میں نے یہودی شلوم دے مارا۔لڑکی نے اسی سنجیدگی سے میرے شلوم کا جواب دیا تو میں نے جرات کرکے پوچھا کہ اس جگہ سے میں ناواقف ہوں آپ کے  پاس اگر چند منٹ ہوں تو مجھے کچھ بتائیں۔
’’آپ کوئی سیاح ہیں؟‘‘ لڑکی نے شستہ انگریزی میں پوچھا۔۔۔۔۔
اس نے اپنے بھائی  کو ٹہوکا دے کر روکا اور اپنا تعارف کراتے ہوئے بولی ’’میں ربیکا ہوں اور یہ میرا بھائی جیکب ہے۔یہودی عقیدے کے مطابق یہ بارہ ثانوی درجات رکھنے والے انبیا کا مرقد   ے۔تاریخ اور آثار قدیمہ دونوں سے ہی یہ بات ثابت ہے کہ یہاں حاگی،مالاشی اور زکریا کی قبور ہیں۔
میں اب تک دو مزارات اس کے علاوہ بھی دیکھ چکا ہوں جن کے بارے میں حضرت زکریا کے مزار ہونے کا کہا جاتا ہے۔نہیں وہ دو زکریا تو ہمارے اہم انبیا major” prophets, میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ تیسرے زکریا ہیں۔میں نے کسی انجان دیہاتی کی مانند سر ہلادیا اور ادھر ادھر دیکھا تو کئی چھوٹے چھوٹے مرقد مجھے مختلف راستوں سے جڑے اس زیر زمیں غار میں نظر آئے۔ میں نے جرات کرکے پوچھ لیا ’’کہ وہ کونسی منقبت گنگنا رہی تھی؟۔میں جانتا ہوں میرا سوال بے وقوفی کا ہے اور  اگر آپ کی طبع نازک پر گراں گزرے تو اس جسارت بے جا کو نظر انداز کردیجئے گا۔‘‘
’نہیں‘‘ اور اس نہیں کے  ساتھ اس کی کھکھلاتی ہنسی کی گھنٹیاں اس ویرانے کو روشن کرکے بجنے لگیں۔ایک سحر تھا جو سارے ماحول پر طاری کرکے اسے منور اور شادماں کرگیا۔ وہ بتانے لگی کہ ’’ہم نبی مالاشی کی اولاد ہیں (مجھے شیخ نائف نے بعد میں بتایا کہ یہ اہل یہود کے ہاں نبی سمجھے جاتے ہیں،عربی میں انہیں مالاخی کہتے ہیں) ۔’’ یہ منقبت ان کی شان میں تھی ۔ یہ قدیم عبرانی زبان کا گیت ہے جو اسرایئلی خواتین ان کی شان میں گنگناتی ہیں‘‘۔
’’اس کے معنی کیا ہیں؟‘‘ میں نے اس حسن مہربان و باعلم سے جاننے کے لیے فوراً ہی سوال کرلیا
’’ساون آیا اور برس کے چلا گیا
فصلیں کٹ گئیں،موسم بیت گئے
اب درخت پر زیتون کے پھل جگمگاتے ہیں
پر نبی مالاشی ۔ تمہاری یاد ہے کہ میرے دل سے جاتی ہی نہیں‘‘۔
تقدیس ،تحریم، تمکنت اور یادوں سے لتھڑے اس وجودِ دلربا ئی کو چھوڑ کر میں بھی مرقد الانبیا سے باہر نکل آیا۔ وہ دونوں بہن بھائی بھی کسی اور سمت چل پڑے۔آہستہ آہستہ جب میں جبل الزیتون سے نیچے اترا تو وہاں ایک شاندار مزار دکھائی دیا ۔
یہ سیدنا عیسیؑ کی والدہ بی بی مریم کا مرقد عالیہ ہے۔

سیدنا مریم کے مرقد کا بیرونی منظر

قرآن الکریم نے تو ایک پوری سورت نہ صرف آپ کے نام سے موسوم کی ہے بلکہ آپ کا مرتبہ اور تذکرہ اس شان و شوکت سے کیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔قرآن الحکیم میں آپ وہ واحد خاتون ہیں جو باقاعدہ نام سے مذکور ہیں۔ نہ حوا، نہ زلیخا، نہ فرعون کی اہلیہ آسیہ بی بی، نہ ہی رسول اکرم ﷺ کے گھر کی کسی خاتون کا نام سے تذکرہ ہے۔شیخ احمد دیدات اس نکتے کو بیان کرکے عیسائی مبلغین کو چت کردیتے تھے۔کیوں کہ مروجہ عقیدے کے حساب سے وہ ہمارے نبی کریم سے قریباً ساڑھے سات سو سال پہلے ہوگزری تھیں اور اگر وہ عیسائیوں کے لیے محترم تھیں تو قرآن کو انہیں ان کے مروجہ ضوابط کے طور پر ایک دشمن خاتون شمار کرنا چاہیے تھا کیوں کہ عیسائی بھی دعوت اسلام کے اور ہمارے نبی محترم کے بڑے مخالف گروپوں میں سے ایک تھے۔
قرآن الکریم میں سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 42 کے حوالے سے جب فرشتے مریم کے پاس پہلی بار نوید مسیحا لے کر آئے تو وہ خوف زدہ تھیں جس پر انہیں اللہ کی جانب سے یہ مرتبہء عظیم عطا کیاگیا کہ اللہ نے آپ کو منتخب کیا، پاکیزہ بنایا اور آپ کو دنیا کی تمام خواتین پر فوقیت دی۔اس کے برعکس بائبل کی یوحنا کی دوسری کتاب کی چوتھی لائن میں وہ بھی ان کے اعلی ترین کنگ جیمز ورژن میں بتایا گیا کہ حضرت مریم اپنے پڑوسیوں کے مطالبے پر (جن کے ہاں دعوت میں شراب ختم ہوگئی تھی اور وہ مہمانوں کے سامنے خفت سے بچنا چاہتے تھے ان کی درخواست تھی کہ حضرت عیسیؑ کوئی معجزہ دکھائیں اور شراب کی مقدار پوری ہوجائے ) جب بی بی مریمؑ اپنے نبی بیٹے سے معجزے کی فرمائش کرنے پہنچیں تو وہ اپنے حواریوں کے ساتھ مصروف تعلیم تھے۔ انہیں والدہ محترمہ کی دخل اندازی اس موقعے پر ناگوار گزری اور انہوں نے اپنی دالدہ سے کہا ’’ اے عورت میرا تمہارا کیا تعلق ہے؟۔ جان لو کہ ابھی تمہارے معاملات پر دھیان دینے کے لیے میرے پاس وقت نہیں ہے‘‘ دیدات صاحب کہا کرتے تھے کہ ایک نبی کو چھوڑیں کیا کوئی بھی شخص اپنی والدہ کی اپنے رفقاء کے سامنے ایسے تحقیر کرے گا۔

ayat 42
بائبل کی وہ لائن جس کا حوالہ دیا گیا

بائبل میں حضرت عیسیؑ کے مصلوب ہوجانے کے بعد بی بی مریم کا ذکر بھی غائب ہوجاتا ہے کہ ان کا کیا بنا کیوں کہ بائبل کے مطابق سیدنا عیسیؑ کے  مصلوب کیے جانے کے وقت عمر کل 33 برس تھی۔ان کی جائے تدفین کا  بھی کوئی تذکرہ نہیں۔مصلوب ہوتے وقت بائبل کے مطابق سیدنا عیسیؑ نے اپنے حواری یوحنا (JOHN) کو اپنی والدہ کا خیال رکھنے کا کہا تھا۔یوحنا کو بعد میں فلسطین سے علاقہ بدر کردیا گیا تھا۔وہ روایت کے بموجب بی بی مریم کو ساتھ لے کر شہر Ephesus. جو اُن دنوں یونان کے زیر تسلط تھا وہاں جا بسے تھے ۔ یہ علاقہ موجودہ زمانے میں ترکی کے شہر ازمیر کا قصبہ ہے۔ جہاں آپ کا چھوٹا سا مکان آج بھی زائرین مقام تحریم سمجھ کر جاتے ہیں۔

میں اس وقت یروشلم کے جس مرقد عالیہ میں موجود ہوں ، اسے پانچویں صدی سے زیادہ مستند مانا جانے لگا۔ازمیر میں بی بی مریم کی رہائش اور مرقد کے دعوے کثرت سے جھٹلائے گئے۔اس مرقد میں جہاں میں اب موجود ہوں ایک کشادہ زینہ روڈ سے اتر کر ایک چوکور صحن میں اتر جاتا ہے۔اب آپ ایک کلیسا میں داخل ہوجاتے ہیں جس کی ٹھیک سات سیڑھیاں اتر کر یروشلم کی ایک قدیم ملکہMelisande کا مزار ہے۔اس کے ساتھ ہی دو اور قبریں ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مریم کے والدین Anne اور Joachim کی ہیں۔انہی  سیڑھیوں کے قدمچے سے ملحق ایک بازنطینی مرقد ہے جو ایک بڑی سی چٹان کو تراش کر بنایا گیا ہے۔

احاطہء مزار بی بی مریم
بی بی مریم کے مرقد کا بیرونی دروازہ
بی بی مریم کا مزار

اس کے طرز تعمیرویسا ہی ہے۔یہاں بھی روشنی بے حد مدھم ہے۔برسوں کے دھویں نے اس کی دیواروں کو سیاہ کردیا ہے جس سے اس کی قدامت کا ثبوت بھی ملتا ہے۔یہاں ایک کمرے میں
جا بجا لٹکتے فانوس ،مخلت مذہبی طغرے، تصاویر اور لٹکاوے ایک عجب منظر عقیدت باندھتے ہیں مگر مزار بالکل خالی ہے۔
یہاں کسی انسان کے دفن کیے جانے کے کوئی آثار نہیں ملے۔ اس کی وجہ سے یہ خیال بھی عام ہوگیا ہے کہ اللہ نے انہیں بھی اپنے صاحبزادے کی مانند براہ راست آسمانوں میں اٹھا لیا۔ اس کے لیے انگریزی کی اصطلاح “Assumed” استعمال ہوتی ہے اور جو چرچ یہاں بنایا گیا ہے اسے “Church of Assumption”. یا عربی میں کنیسۃ السیدۃالعذراء کہا جاتا ہے

سیدنا مریم علیہ سلام کا خالی مرقد
سیدنا مریم کے مرقد کی سیڑھیاں
مرقد عالیہ میں اآویزاں طغرے

مرقد میں ماحول بہت بوجھل اور دل فگار ہے۔ جا بجا آپ کو اور خواتین کی آہ و بکا سنائی دیتی ہےْ۔ایک ماں کا درد تاریخ کے رگ و پے میں سمایا ہوا لگتا ہے۔بیٹے کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد وہ دنیا سے بالکل ہی کنارہ کش ہوگئیں تھیں اور ہمیشہ کی عبادت گزاری میں مزید شدت پسندی آگئی تھی۔ ساڑھی اور گریہ زاری میں ملبوس ایک خاتون نے جو بظاہر مدراسی لگتی تھی، مجھے بے مْصرف اور خالی الذہن جان کر ایک شمع تھما دی تو میں نے بھی اس مرقد خالی پر سلگا کر اسے رکھ دیا ۔سر جھکایا، دعا مانگی اور چل پڑا۔
کنیسۃ السیدۃالعذراء (عذرا بمعنی کنواری بی بی مریم Virgin Mary . کے نام کا عیسائی سابقہ )سے باہر نکل کر مجھے احساس ہوا کہ پہاڑیوں کے اوپر نیچے اور شہر بھر میں گھوم کر میں کچھ تھک سا گیا ہوں اس طرح کی تھکاوٹ سے جلد نجات پانے کا میرے پاس ہمیشہ کا ایک آزمودہ نسخہ کافی کے چند گرما گرم کپ ہوتے ہیں۔
چرچ سے سو میٹر دور جاکر ایک چھوٹے سے کیفے پر نظر پڑی ۔ اب ہلکی ہلکی بونداباندی بھی ہورہی تھی۔یہاں بیٹھ کر میں اس سفر نامے کے لیے ابتدائی نوٹس بھی لکھنا چاہتا تھا۔
ایک خاموش کونے میں ابھی دوسرا کپ بمشکل ختم کیا تھا کہ میرے بیٹے کا فون آگیا ۔ وہ ان دنوں آسٹریلیا میں زیر تعلیم ہے ۔اس میں بھی میری بھٹکتی روح سمائی ہے۔سیر و سیاحت کا دلداہ ہے۔جاننا چاہتا تھا کہ میرے سفر کے تجربات کیا ہیں۔ہم کوئی پندرہ منٹ تک اردو میں محوء گفتگو رہے۔
ہم باپ بیٹے کی گفتگو کے دوران مجھے لگا کہ میں مسلسل ایک ادھیڑ عمر   عرب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہوں۔اس کی اس دیدہ دلیری سے بچنے کے لیے میں نے پشت اس کی جانب کرلی تاکہ وہ میرے چہرے کے تاثرات نہ پڑھ سکے۔ فون بند کرکے بمشکل تیسرا کپ اس ارادے سے بھرا ہی تھا کہ اپنے نوٹس قلمبند کرنا شروع کروں کہ ایک گرج دار آواز میں’’ اسلام وعلیکم اور ہیلو میرا نام عبدالقادر ہے‘‘ مجھے سنائی دیا۔
نگاہیں اٹھانے پر ایک سیدھا ہاتھ میرے سامنے مصافحے کے لیے دراز تھا۔ اسی ادھیڑ عمر کے عرب عبدالقادر کا ہاتھ، جو مجھے کافی دیر سے وہاں بیٹھا تک رہا تھا۔قدرے ہچکچاہٹ سے میں نے بھی دست مصافحہ دراز کیا اور اپنا نام بتایا۔
اس کے چہرے پر روشنی پھیلی اور پوچھنے لگا کہ’’ کیا میں مسلمان ہوں؟۔مجھے یہ زبان جو تم بول رہے تھے بہت اچھی لگی‘‘۔میں نے جان چھڑانے کے لیے بتایا کہ’’ اس زبان کا نام ہے ’’اردو‘‘
اردو کا نام سن کر اس کے  چہرے پر گہری سوچ کے سائے منڈلانے لگے جیسے وہ کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہا ہو۔لفظ ’’اردو‘‘ اس دوران اس کے لبوں سے کئی مرتبہ ادا ہوا۔اچانک   بے یقینی اور تذبذب کے وہ سائے چھٹ گئے۔چہرے پر ایک نئی روشنی طلوع ہوئی اور وہ کہنے لگا ’’کیا یہ وہ زبان نہیں جسے پاکستانی بولتے ہیں؟‘‘
میں نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔’’کیا آپ پاکستانی ہیں؟ ۔۔۔۔۔یہ اس کا اگلا سوال تھا۔ اب اس کی خوشی دیدنی تھی۔ پاکستان کا نام فضا میں بلند ہوتے ہی میں اب اس مسرت کا پیشگی اندازہ لگا لیتا ہوں جو فلسطینی عربوں کے وجود پر طاری ہوجاتی ہے۔وہ جھک کر عرب رسم کے مطابق میرے گال کا بوسہ لینے لگا۔’’واللہ سنا بہت تھا مگر تم پہلے پاکستانی ہو جس کا دیدار مجھے نصیب ہوا ہے‘‘۔
اس کی وارفتگی اور والہانہ اظہار دیکھ کر مجھے گمان گزرا کہ میں تیزی سے معدوم ہوتی جنگلی حیات کی کوئی نسل ہوں اور وہ مردوں کی جین گڈال ہے (جن کا چمپینزیوں پر بڑا تحقیقی کام ہے)۔ یہ مجھ پر زبردستی مسلط کی گئی ملاقات سچ پوچھو تو میرے لیے سرمایہء افتخار ہے اور تا دم تحریر جاری ہے۔اسرائیل میں وہی میرا معاون، سفری رہنما اور بہترین دوست ثابت ہوا۔
اس کی ایک چھوٹی سی ٹریول ایجنسی تھی جس میں اس کے کاروباری معاونین اس کے چار بیٹے اور تین عدد داماد بھی تھے۔مسلمان ہونے کے ناطے اُسے اس کاروبار کرنے کے لیے اسرائیل نے بطور ٹور آپریٹر کوئی لائسنس جاری نہیں کیا تھا ۔وہ بھی ہار ماننے والی روح نہ تھا۔ دھڑلے سے اپنا کاروبار چلا رہا تھا۔اسے  جب یہ علم ہوا کہ میں اسرائیل میں مزید ایک ہفتے قیام کروں گا اس نے مجھ سے پوچھ لیا کہ میری سفری ترجیحات کیا ہیں؟۔
میں نے ایک تاسف سے کہا کہ یہاں اسرائیل میں مسلمانوں کے لیے دیکھنے کو اتنا کچھ ہے کہ ایک ماہ بھی ناکافی ہوگا مگر اس کے باوجود نبی موسیؑ کا مرقد، حیبرون، بیت اللحم،بحیرہء مردار(Dead Sea)سیدنا لوطؑ کی برباد بستیوں صدوم اور گم راہ( Sodom and Gomorrah ) کی باقیات، قمران کے غار، ہیبرون اور جیریکو۔
میری سیاحت کی فہرست خواہشات کو اس نے بہت اطمینان سے سنا اورسگریٹ کے ایک لمبے سے کش سے دھواں چھوڑتے ہوئے کہا کہ’’ یہ تو کوئی خاص مشکل نہیں۔ یہ سب ایک ہفتے میں با آسانی اور جی کھول کر ہوجائے گا۔’’ اچھا ‘‘اس کی یقین دہانی پر میرا دل کھل اٹھا مگر ایک کنجوس پنڈی وال کی رگ کفایت شعاری بھی پھڑک اٹھی اور میرے شوق سیاحت کا ہاتھ تھام کر ساتھ ساتھ چلنے لگی میں نے بھی بلا تامل پوچھ لیا کہ اس کا کل معاوضہ کیا لوگے۔میں اپنا ہوم ورک اس حوالے سے کرکے نکلا تھا۔ پٹرول اسرائیل میں 180 روپے فی لیٹر ہے۔ایک آرام دہ ٹیکسی کا پورے دن کا معاوضہ کسی طور بھی 330 سے 350 امریکی ڈالر سے کم نہیں ہوتا۔ میں منتظر تھا کہ وہ کیا اجرت کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کی اجرت کی طلبی میں ہی اس کے کچھ دیر پہلے ظاہر کیے ہوئے جذبات کی پرکھ ہوجائے گی۔
’’میرے بھائی اسرائیل میں مسافت آسان نہیں یہودی ڈرائیور ہو تو مسلمان علاقوں یعنی بیت اللحم ، جیری کو اور ہیبرون میں جانے سے ہچکچائے گا مسلمان ڈرائیور کے لیے ان کے “A” علاقوں میں داخل ہونے پر پابندی ہوگی۔
میں اُس کی اس وضاحت پر جھلا کر پوچھ بیٹھا کہ’’ اس مسئلے کا آخر حل کیا ہے؟‘‘
’’ارے حل تو آپ کے سامنے ہی بیٹھا ہے۔ پریشان کیوں ہوگئے ۔میں اسرائیلی عرب ہوں۔مجھ پر یہ سفری پابندیاں لاگو نہیں ۔میرے پاس شناختی کارڈ ہے۔میری کار پر بھی تل ابیب کی نمبر پلیٹ ہے ‘‘۔ ‘ عبدالقادر نے سارا مسئلہ ہی چٹکیوں میں بلکہ سگریٹ کے دھویں میں اڑا دیا۔
میں نے سوچاکہ عبدالقادر فلسطین والے راگ درباری کا یہ طویل الاپ شاید مجھ سے زیادہ پیسے بٹورنے کا آزمودہ سیاحتی چمت کار ہے۔سیر و سیاحت کے شوقین جانتے ہیں کہ یہ سارا کھڑاک ریشم
کے کیڑے کے تار بافی کا عمل ہے مگر ریشم کا کیٹرا اس میں سیاح ہوتا ہے جسے خوش اخلاقی اور غیر معمولی دل چسپی کے اظہار میں لپیٹ کر ماردیا جاتا ہے۔یہ یقیناًمجھ سے ٹکا کے اجرت مانگے گا۔میں نے ایک دفعہ پھر سے اجرت کا سوال دہرایا تو اس نے شفقت سے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔’’ یہ بتاؤ کل کہاں  اور کب جاؤگے ۔معاوضے ہم بعد میں طے کریں گے؟‘‘۔برسوں کی سیاحت نوردی نے مجھے اس طرح کی کھلواڑ سے کنارہ کھینچنے کا سبق سکھایا ہے ۔ اس سے بعد میں بہت بد مزگی ہوتی ہے۔
پہلی دفعہ دل کے ماہر نے دل کا مشور ہ مانا۔ اپنی احتیاط کو بالائے طاق رکھا اور سیدنا موسیؑ کے مرقد عالیہ کی طرف جانے کا قصد ظاہر کیا۔
اس نے خوش دلی سے اثبات میں سر ہلایا۔میری جائے قیام پوچھی اور کل آٹھ بجے صبح لینے آنے کا وعدہ کرکے وہ چلا گیا۔میں نے اپنے نوٹ مکمل کیے ایک عدد کافی اور بکلاوا کھایا اور جب بل دینے کاؤنٹر پر پہنچا تو وہاں موجود بڑی بی نے کہا وہ تو عبد القادر نے ادا کردیا ہے۔
چالاکو کہیں کا۔ مجھے مکمل طریقے سے اپنے دام الفت میں پھانس کر لوٹنا چاہتا ہے۔ دل میں اس بے رحم شیطانی وسوسے نے چھلانگیں مارنا شروع کردیں ۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *