میرا گاؤں اور بہار۔۔۔۔ایم جبران عباسی

دریائے جہلم کا پانی ہر وقت ایک ہی رفتار اور شونکار سے بہتا رہتا ہے ، اس بپھرے اور ناقابلِ عبور دریا کو بھی چاہنیوں نے قابو کر لیا ہے ، جابجا چھوٹے ڈیم ، بڑی بڑی سرنگیں ، ایک بہت بڑا ڈیم بہتیرے کوششیں ہیں بجلی کی پیداوار کی ۔ اس دریا میں پتھروں کے ٹکراؤ  سے بہترین ریت نکلتی ہے ، پہلے وافر مقدار میں سارے علاقے کی ضرورت پوری کرتی تھی اب پانی نیچے جا رہا ہے ، ریت کم نکل رہی ہے اور بہت مہنگی دستیاب ہے ۔

دریا کے ساتھ ساتھ ایک شاہراہ بھی سانپ کی طرح لہراتی چلی جا رہی ہے ، یہ شاہراہ پاکستان کو کشمیر سے ملانی والے اہم آپشنز میں سے ایک ہے ۔ پہلے معلوم نہیں  کیسے یہاں قافلے گزرتے تھے ، مگر انیسویں صدی کے آخر میں مہاراجہ کشمیر رنبیر سنگھ نے برٹش انڈیا سے معاہدہ امرتسر کی رو سے اس سرحدی شاہراہ کو تعمیر کیا ، انگریز کشمیر میں نقل و حمل کیلئے ہمیشہ کوشاں رہے کیونکہ اس کا حساس سٹریٹجک جغرافیہ ان کی آنکھیں ہمیشہ کھلی رکھتا یہ وہ زمانہ تھا کہ گلگت کے پہاڑوں کے پار زارِروس کی فوج ہمہ وقت نقل و حرکت میں مصروف رہتی ۔

1892-93 میں ایک انگریز اپنے سفرنامہ میں اس شاہراہ کی تعمیر و ترقی پر کافی بحث کرتا ہے بقول اس کے مسٹر سپیڈنگ اس شاہراہ کے ٹھیکدار ہیں ، کام سست رفتار ہے ، محض تیس میل تک کام مکمل کیا گیا ہے ۔

یہ شاہراہ کوہالہ کے مقام پر کوہالہ برج کے  ذریعے کشمیر کو پاکستان سے ملاتی ہے ، کوہالہ ایک تاریخی حیثیت رکھنے والا مقام ہے ، وہ مقام جو میرے ایک دوست اور محقق عبید اللہ علوی کے بقول ’’ جب ہندوستان میں بدھ مت عروج پر تھا ، تو اس خطے میں بدھوں کی دو عظیم درس گاہیں تعمیر ہوئیں ایک ٹیکسلا کی تکشلا یونیورسٹی دوسری جہلم کشمیر کی تو بدھ طلبا ان یونیورسٹیوں کے درمیان اسی میرے خطےسے سفر کرتے تھے ، کوہالہ کے مقام پر ان کیلئے سفری رہائش گاہیں بنیں ہوتیں ، وہ یہاں آرام کرتے اور منزل کی جانب پھر سفر شروع کرتے ۔

انگریز سیاح جب کوہالہ پہنچا تو اس کا سامنا ایک بازار سے ہوا بقول اس کے ’’ یہ چھوٹا اور غلیظ بازار تھا‘‘ ۔ سسپنس برج پار کیا تو ریاست کے کسٹم ہاؤس  سے اس کا واسطہ پڑا جو شراب پر دس فیصد اور دیگر چیزوں پر چھ فیصد ملکیتی حصہ نقد وصول کرتا ، انگریز سیاح اس ٹیکس سے بچ نکلا کیونکہ سیانے گورے نے ٹیکس آفیسر سے سٹیمپ پر لکھوا لیا وہ بعد میں یہ ٹیکس ادا کر سکتا ہے ، سیانا گورا بعد میں لداخ اور گلگت سے واپس اترا جہاں ایسا کوی کسٹم ہاوس نہی بنایا گیا تھا۔ کوہالہ میرے گاوں سے کوی بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ اب اس تاریخی ورثہ کو ایک اور کوہالہ ہائیڈرو پراجیکٹ ڈیم سے شدید خطرات لا حق ہوں گے ہیں ، یہ تاریخی بازار اور وہاں کی تاریخی عمارتیں پانی کے ذخائر کا حصہ بن جائیں گی ۔

کوہالہ کے آگے مری ہے ، کوہالہ سے جنوب  پینتیس  کلومیٹر دور مظفر آباد ہے نواب مظفر خان نے چکڑیاں نامی دلدلی قصبے کو اپنا نام دیا ۔ آج وہ آزاد جموں و کشمیر کا دارلحکومت اور مہنگی ترین زمینوں کا شہر ہے ۔ کوہالہ سے مظفر آباد شاہراہ کشمیر کی طرف سے گزرتی ہے ہماری طرف سے نہی ، دریائے جہلم کے اس پار کشمیر اس پار پاکستان ۔ میرا گاوں پاکستان میں ہے مگر دل اس پورے پاک کشمیر جغرافیے میں ، اس پاک کشمیر جغرافیے کی دھڑکن دریائے جہلم ہے ، جس کے پانی کی پاکستان کو شدید ضرورت ہے ، ہاں مسئلہ کشمیر اگر نظریاتی ہے تو پیچھے وجوہات وافر پانی ، زمین اور ہمالیہ کے برفانی زخیرے ہیں ۔ قائد اعظم نے کہا تھا ’’ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘ ۔

یہاں اس پاک کمشیر جغرافیہ میں میدان نہیں  ہیں ،دریا کے   آر پار سر سبز و شاداب پہاڑ ہیں ، دریا ان پہاڑوں کے درمیان تنگی محسوس کرتا ہے اسی لئے بہت گہرا ہے ، تیز اور خطرناک ہے ۔ پہاڑوں کے دامن میں گاوں آباد ہیں ، ہمارے گاوں کے پورے سلسلے کو سرکل بکوٹ کہا جاتا ہے ، گاوں میں ڈوگے ہیں ، زمین زرخیز ہے مگر تھوڑی ہے ۔ ہر گاوں می ہوتر یعنی زرخیز ترین زمین پہلے ہوا کرتی تھی ، چاول کی فصل ہوتی جسے پت کہا جاتا ، ڈھونڈ عباسی ہمارے خاندان ان زمینوں کے مالک تھے ، انگریزوں نے انھیں یہ زمینیں بندوبست نامی طریقہ کار سے تقسیم کیں ۔ ان گاوں کے نام مجھے سنسکرت سے ماخذ معلوم ہوتے ہیں ۔

میں ایسے ہی ایک ڈوگے کے سرے پر ٹوٹی کرسی پر بیٹھ کر نیچے دریا اور اس کے پار شاہراہ کو تکتا رہتا ہوں ، میٹھی دھوپ تاپتا ہوں ، چھٹیاں   رہی ہیں ۔ دو ایک ہفتے رہتے ہیں کہ بہار کی آمد آمد ہے ۔ سب سے پہلے پھگاڑی کے درختوں کی کونپلیں پھوٹتی ہیں ان کونپلوں کا ساگ بہت لاجواب ہوتا ہے ۔ پھر ہر درخت سے پتے نکلیں گیں ، بہار جب جوبن پر ہوں گیں میری بدقسمتی میں واپس چلا جاوں گا ہاں مگر سوچتا ہوں اس گاوں کی یادیں ساتھ لے جانا بھی کوی اتنا برا نہیں  ۔
شہر کی اس بھیڑ میں چل تو رہا ہوں
ذہن میں پر گاؤں کا نقشہ رکھا ہے

ریختہ ویب سائٹ سے کاپی کردہ اس مختصر خوبصورت اقتباس کے ساتھ اجازت ’’گاؤں ہر اس شخص کے ناسٹلجیا میں بہت مضبوطی کے ساتھ قدم جمائے ہوتا ہے جو شہر کی زندگی کا حصہ بن گیا ہو ۔ گاؤں کی زندگی کی معصومیت ، اس کی اپنائیت اور سادگی زندگی بھر اپنی طرف کھینچتی ہے ۔ ان کیفیتوں سے ہم میں سے بیشتر گزرے ہوں گے اور اپنے داخل میں اپنے اپنے گاؤں کو جیتے ہوں گے‘‘۔

Avatar
جبران عباسی
میں ایبٹ آباد سے بطور کالم نگار ’’خاموش آواز ‘‘ کے ٹائٹل کے ساتھ مختلف اخبارات کیلئے لکھتا ہوں۔ بی ایس انٹرنیشنل ریلیشن کے دوسرے سمسٹر میں ہوں۔ مذہب ، معاشرت اور سیاست پر اپنے سعی شعور و آگہی کو جانچنا اور پیش کرنا میرا منشورِ قلم ہے ۔ تنقید میرا قلمی ذوق ہے ، اعتقاد سے بڑھ کر منطقی استدلال میری قلمی میراث ہے ۔ انیس سال کا لڑکا محض شوق سے مجبور نہیں بلکہ لکھنا اس کا ایمان ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *