آپ کہاں ختم ہوئے، میں کہاں سے شروع ہوئی ۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا

آج کا پیپر باؤنڈریز کے بارے میں‌ ہے۔ جب ہم لوگ امریکہ شفٹ ہوئے تو سارے بہن بھائی اسٹوڈنٹس تھے۔ ہم سب پڑھ بھی رہے تھے اور جابز بھی کررہے تھے۔ میڈیکل اسٹوڈنٹ ہونے کے دنوں‌ میں‌ ڈاکٹر روتھ ملر کے ساتھ کام کیا۔ ان کے کلینک میں‌ این کیتھرین کی ایک کتاب دیکھی جس کا نام تھا، “باؤنڈریز- وہیر یو اینڈ اینڈ آئے بگن” یعنی کہ “حدود ۔ آپ کہاں ختم ہوئے اور میں‌ کہاں‌ سے شروع ہوا”۔ یہ کتاب پڑھنے سے مجھے ایسی بہت سی باتیں‌ سمجھ میں‌ آئیں‌ جو کلچرلی نہیں سیکھی تھیں۔

اگر کسی نے میری کتاب “وہ سب کچھ جو آپ کو ذیابیطس کے بارے میں‌ جاننے کی ضروت ہے۔” پڑھی ہو تو اس میں‌ بھی اس بات کا ذکر ہے کہ ہر جاندار کے گرد ایک دائرہ ہے۔ یہاں‌ تک کہ امیبا جو کہ ایک خلیے کا جاندار ہے اس کی بھی ایک سیل وال ہوتی ہے جو اس کو باہر کے ماحول سے جدا کرتی ہے۔ بالکل اسی طرح‌ انسانوں‌ کے گرد بھی ایک دکھائی نہ دینے والا دائرہ ہے جس کا احترام ضروری ہے۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ جب کوئی اجنبی شخص اس دائرے کے اندر آئے تو اس اسٹڈی میں‌ حصہ لینے والوں‌ کی دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ طویل دورانیے کے رشتے میں‌ بندھے افراد میں‌ دل کی بیماری کم دیکھی گئی۔

باؤنڈریز کو صرف چھونے سے ہی پار نہیں‌ کیا جاتا، ان کو نظروں اور جملوں‌ یا نامناسب الفاظ یا سوالات سے بھی پار کیا جاسکتا ہے۔ ایک نارمل اور خوشگوار زندگی گذارنے کے لئیے ہر انسان کا نہ صرف اپنی باؤنڈریز کو سمجھنا ضروری ہے بلکہ دوسرے افراد کی باؤنڈریز کی عزت سیکھنا بھی ضروری ہے۔

جب میں‌ اور نذیر پٹسبرگ میں‌ اپنے دو بچوں‌ کے ساتھ انٹرنل میڈیسن میں ریزیڈنسی کررہے تھے تو ہمارے اپارٹمنٹ کے اوپر والی منزل میں‌ ایک پاکستانی فیملی رہتی تھی۔ وہ میاں‌ بیوی تقریبا” ہماری عمر کے ہی تھے اور ان سے ہماری اچھی دوستی ہوگئی۔ میں‌ اور یہ دوسری خاتون ساتھ میں‌ شاپنگ کرنے چلے جاتے، ساتھ میں‌ ٹریڈ مل پر واک کرتے اور باتیں‌ ہوتیں۔ کافی ٹائم گذر گیا۔ ایک دن انہوں‌ نے مجھ سے کہا کہ لبنیٰ‌ مجھے آپ کی سب سے زیادہ یہ بات پسند ہے کہ آج تک آپ نے مجھ سے یہ نہیں‌ پوچھا کہ ہمارے بچے کیوں‌ نہیں‌ ہیں۔ کیونکہ باقی جس سے بھی ملو تو وہ یہ ضرور پوچھتے ہیں‌ اور وجہ بھی کریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر انہوں‌ نے خود سے ہی اس بارے میں‌ تفصیل بتانا شروع کی جس کا یہاں‌ تذکرہ ضروری نہیں۔ ڈاکٹر ہونے کے ناطے ہر روز لوگ اپنا دل اور دماغ اور جسمانی بیماریوں کا آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ کسی مریض کی پرسنل انفارمیشن کسی تیسرے فرد سے بلاوجہ ڈسکس کرنا غیر اخلاقی بھی ہے اور غیر قانونی بھی۔

ایک پرانہ لطیفہ ہے کہ ایک ڈاکٹر صاحب کے ویٹنگ روم میں‌ ایک سائن لگا ہوا تھا جس پر لکھا تھا کہ “برائے مہربانی مریض ایک دوسرے سے بات نہ کریں، جب تک ان کی باری آتی ہے تو ہر شکایت ہر مریض کو ہو چکی ہوتی ہے”۔ دیگر افراد کس وجہ سے ڈاکٹر کو دکھانے آئے ہیں‌ یہ ان کا پرسنل معاملہ ہے جس کی کرید مناسب نہیں۔ ڈینزل واشنگٹن کی ایک مووی کے آخر میں‌ اس کا پولیس آفیسر باس کہتا ہے کہ معلوم ہے وہ پیسے جو چوری ہوئے تھے وہ کہاں‌ سے ملے؟ تو اس نے کہا کیا میرے بینک اکاؤنٹ‌ میں یا میرے گھر میں؟ نہیں‌ باس نے جواب دیا تو وہ کہتا ہے تو پھر مجھے یہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔

جب ہم انٹرنل میڈیسن میں‌ ریزیڈنسی کررہے تھے تو ہیماٹالوجی اور آنکالوجی میں ڈاکٹر سفیان سے یہ سیکھا کہ کسی بھی مریض‌ سے سب سے پہلے سوشل ہسٹری لیں اس کے بعد ان کی شکایت اور باقی تفصیل پوچھیں کیونکہ اس طرح‌ وہ بہتر محسوس کریں‌ گے کہ آپ کو ان میں‌ دلچسپی ہے۔ ڈاکٹر کے لئیے یہ جاننا اس لئیے بھی ضروری ہے کہ یہ طے کیا جاسکے کہ کسی مریض کے لائف اسٹائل کا اس کی بیماری سے کیا تعلق ہے اور یہ بھی کہ ان کا تعلیم کا لیول کیا ہے اور وہ کسی بھی ٹاپک پر پہلے سے کتنی ریسرچ کرکے آئے ہیں۔ انٹرنیٹ کے زمانے میں‌ میڈیکل پریکٹس ایک پاٹنرشپ کے بغیر ممکن نہیں۔ آج کل مریضوں‌ کو یہ نہیں‌ کہا جاسکتا ہے کہ وہ درست ہے جو ہم نے کہہ دیا اور آپ وہی کریں‌ جو ہم نے کہہ دیا۔ یہ سوالات اور ان کے جواب ایک مریض کی ایویلیوئشن کا اہم حصہ ہیں۔

کسی نے پوچھا کہ فلاں فلاں سے آپ ملی تھیں اور اتنی دیر باتیں کیں، وہ کیا کرتی ہیں اور ان کے شوہر کیا کرتے ہیں؟ یہ تو میں‌ نے پوچھا ہی نہیں۔ وہ کیوں؟ وہ اس لئیے کہ اگر میں‌ پوچھوں گی تو جواب میں‌ وہ بھی پوچھیں گی۔ اس طرح‌ بلاوجہ ان کو محسوس ہوگا کہ میں‌ مقابلہ کررہی ہوں۔ کسی بھی دو انسانوں‌ کا کوئی مقابلہ نہیں۔ ہر انسان کا مقابلہ اس کے اپنے ساتھ ہے۔ دو مہینے پہلے جب جونئر ڈاکٹر لغاری نے ہمارے کلینک میں‌ کام کیا تو ایک دن ایک پاکستانی مریضہ آئیں۔ ان کا انٹرویو پہلے جونیئر ڈاکٹر نے لیا، پھر ہم نے مل کر علاج کا پلان بنایا۔ جب وہ چلی گئیں تو ڈاکٹر لغاری نے مجھ سے پوچھا کہ اگر ہم کسی دیسی آنٹی‌ سے ملیں‌ تو وہ پہلا سوال کیا پوچھیں گی؟ میں‌ نے گیس کیا کہ کیا تمہاری شادی ہوگئی ہے؟ جی بالکل انہوں‌ نے مجھ سے یہی پوچھا۔ سوشل سیٹنگ میں‌ ملتے ہی اس طرح‌ کے سوال لوگوں‌ کی باؤنڈریز کراس کرتے ہیں۔ اگر کسی نئے فرد سے ملاقات ہو تو اوپن اینڈڈ سوال کئیے جاسکتے ہیں جیسا کہ اپنے بارے میں بتائیں۔

پچھلے ہفتے ایک بوڑھی خاتون کو دیکھا۔ ان کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہی تھی کہ پیراتھائرائڈ کی بیماری ایک سرجیکل بیماری ہے یعنی اس کا کوئی میڈیکل علاج نہیں‌ ہے اور اگر آپ یہ سرجری کروالیں گی تو آپ کی باقی زندگی پر مثبت اثر پڑے گا، خاص طور پر ہڈیوں کے بھربھرا ہوجانے والی بیماری اوسٹیوپوروسس بہتر ہوجائے گی۔ وہ سرجری سے ہچکچا رہی تھیں۔ ان کے شوہر نے کہا کہ اگر مجھے یہ بیماری ہوتی تو میں‌ سرجری چن لیتا لیکن یہ فیصلہ آپ کو اپنے لئیے خود کرنا ہوگا۔ میں‌ نے ان سے کہا کہ یہ آپ نے بہت اچھی باؤنڈریز کی عملی مثال پیش کی ہے۔ کہنے لگے اسی طرح‌ سے ہم 53 سال سے شادی شدہ ہیں۔ اپنا مشورہ اور خیال دے کر الگ ہوجانا سیکھنا ہوگا۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں‌ کہ اگر ان کے اشارے پر دوسرے لوگ نہیں چل رہے تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی عزت نہیں‌ کی جارہی۔ اپنی عزت کو دوسرے لوگوں‌ کی اپنی زاتی زندگی کے فیصلوں سے جوڑنے کا الٹا خیال کہاں‌ سے شروع ہوا ہوگا؟ ایسی سوچ رکھنے والے افراد کو سنجیدگی سے اپنی اور دوسرے افراد کی باؤنڈریز کو سمجھنا ہوگا۔ ہمارے بچے، اسپاؤس یا دوست، رشتہ دار اور پڑوسی یا ہمارے ملک کے دیگر شہری ہمارے اپنے ہاتھ پیر نہیں ہیں جن کی اپنی کوئی منفرد شخصیت، خیالات، خواہشات، ارادے اور مقاصد نہ ہوں۔ اگر قارئین غور کریں تو یہ بات واضح ہے کہ مختلف عقائد کے لوگوں‌ کو بلاوجہ جان تک سے مار دینے کی وبا بھی اسی روئیے سے جڑی ہوئی ہے۔

ایک اور بات جو میں‌ نے این کیتھرین کی کتاب سے سیکھی تھی وہ یہ کہ اگر کوئی شخص آپ کی باؤنڈری کراس کرکے ایک ایسا سوال پوچھ لے جس کا جواب دینا آپ مناسب محسوس نہیں‌ کرتے تو ضروری نہیں‌ ہے کہ آپ اس کا جواب بھی دیں۔ سوال پوچھا جانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس کا جواب دیا جانا لازمی ہے۔ ہر انسان مختلف ہے اور ہر کسی کے حساس پہلو بھی الگ ہیں۔ کسی کو اپنے وزن کی زیادہ فکر ہے، کسی کو قد کی، کسی کو کیریر کی اور کسی کو خاندان کی۔ ضروری نہیں کہ سوال بالکل ہی نامناسب ہو، وہ کسی انسان کے اپنے احساسات پر بھی مبنی ہے کہ وہ دوسروں‌ کے ساتھ کیا شئر کرنا پسند کریں‌ اور اپنی زندگی کے کون سے حصے پرائویٹ رکھیں۔ اس کتاب میں‌ ایک واقعہ لکھا تھا جس میں‌ ابارشن سے متعلق ایک سوشل میٹنگ ہورہی تھی جس میں‌ ایک خاتون دوسری سے پوچھتی ہیں کہ کیا آپ نے کبھی ابارشن کرایا ہے تو انہوں‌ نے جواب دیا کہ میں‌ آپ کو اتنا نہیں جانتی ہوں‌ کہ ایسا پرنسل معاملہ ڈسکس کروں۔ اگر کوئی اس طرح کے ماحول میں‌ ہو جہاں لوگوں‌ کی ایک دوسرے کی باؤنڈری پر پیر رکھنے کی عادت ہو تو اس کے لئیے جملے تیار رکھے جاسکتے ہیں کہ میں اس سوال کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا یا اس وقت میں‌ اس بارے میں‌ بات کرنا نہیں چاہتا ہوں۔ اس سے لوگوں‌ کی تربیت ہونے لگے گی۔ وہ آہستہ آہستہ سیکھ جائیں‌ گے کہ کون سے سوال مناسب ہیں اور کون سے نہیں۔

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا
ڈاکٹر لبنیٰ مرزا
طب کے پیشے سے وابستہ لبنی مرزا، مسیحائی قلم سے بھی کرتی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *