دیوار گریہ کے آس پاس۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان اور کاشف مصطفےٰ/قسط6

(اسرائیل کا سفر نامہ ۔اپریل 2016 )

ادارتی تعارف
کتاب دیوار گریہ کے آس پاس کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔
محترم اقبال دیوان کی لکھی اس کتاب کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔یہ ان کی انگریزی میں تحریر سفری یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا جو زیادہ تر مختصر پیرائے میں اسرائیل سے جناب دیوان صاحب کو بذریعہ ای میل موصول ہوئیں۔ ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے موصول شدہ ان انگریزی ٹریول نوٹس کی مدد سے اپنے مخصوص انداز میں اسے اردو کے قالب میں ڈھال کر کتاب کی صورت عطا کی۔ اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع کیا۔اس کتاب کو لکھنے میں اور اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت حصہ ہے۔یہاں  اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ یہ کاوش بیش بہا پہلے سے انگریزی یا کسی اور زبان میں کتاب کی صورت موجود نہ تھی۔ نہ ہی اس کا کوئی اور نسخہ اب تک کسی اور زبان میں معرض وجود میں آیا ہے۔ قارئین مکالمہ کی خاطر کچھ تصاویر جو کتاب میں موجود نہ تھیں وہ وضاحت مضمون کی خاطر نیٹ سے شامل کی گئی ہیں۔قسط مذکورہ میں ڈاکٹر صاحب کی اپنی تصویر کے علاوہ تمام تصاویر نیٹ سے لی گئی  ہیں۔قرآن الکریم اور عیسائیت کا فرق واضح کرنے کی تحقیق دیوان صاحب کی ہے جو انہیں شیخ احمد دیدات مرحوم نے سمجھائی تھی۔

شیخ احمد دیدات جنت مکانی اور دیوان صاحب ۔دیدات صاحب کے گھر پر

ہما رے دیوان صاحب ڈاکٹر صاحب کے ہم زاد ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔ ان کی تین عدد کتابیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا اور تیسری پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ شائع ہوچکی ہیں۔ چوتھی چارہ گر ہیں بے اثر ان دنوں ادارہ قوسین کے پاس زیر طبع ہے۔ سرجن کا شف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔ قرآن الحکیم اور تصوف کے حوالے دیوان صاحب کی اپنی تحقیق اور اضافہ ہے اور انگریزی ٹریول نوٹس میں شامل نہ تھا۔
ایڈیٹر ان چیف

انعام رانا

پہلا انگریزی نوٹ جو موصول ہوا
dr kashif note in english
dr kashif note in english-2

گزشتہ حوالہ
موسم خوش گوار ہونے کے باعث میں کسی دشواری کے بغیر بیس فیٹ اونچی ایک ایسی عمارت میں جا پہنچا جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ابتسلام کا مقبرہ ہے جو سیدنا سلیمان ؑ کا سویتلا بھائی اور حضرت داؤد علیہ سلام کا بیٹا تھا۔تاریخ اسے اپنے والد محترم سے بغاوت کرنے کی وجہ سے اچھا نہیں سمجھتی۔باپ بیٹے کی اس جنگ میں ایک روایت کے بموجب پہلے تو حضرت داؤد علیہ سلام کو ابتسلام کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی اور وہ یہاں جبل الزیتون میں آن کر چھپ گئے تھے لیکن بعد میں انہوں نے اپنے اس بیٹے پر فتح پائی۔اس کی جنگ میں ہلاکت ہوئی ،وہ یہاں مدفون ہے ایک عرصے تک اس شہر کے لوگ آتے جاتے اس مزار کو کنکریاں مارتے تھے۔یہ عمل بہت برسوں تک جاری رہا حتیٰ کہ یہ مزار سنگ باری کی وجہ سے ڈھیر میں چھپ گیا۔ شہر کے لوگ اپنے بچوں کو یہ مقام عبرت دکھانے لاتے تھے پھر آج سے تیرہ سال پہلے یعنی 2003میں مورخین کو یہاں درج ایک کتبہ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو عجب انکشاف ہوا کہ یہ تو عیسائیوں میں مقدس سمجھے ذکریاکا مزار ہے جو شہید یحییٰ یعنیJohn the Baptist کے والد تھے۔اسی نکشاف کی وجہ سے اس مزار مطعون کا درجہ، رتبہ، حلیہ یکایک بدل گیا۔اب رات کو یہاں نیلی روشنیاں اس طرح جگمگاتی ہیں کہ ان پر دور سے اہرام مصر کا گماں ہوتا ہے۔
ذرا ٹھہریے اس مزار کو آپ حضرت یحیی کے مزار سے گڈ مڈ نہ کریں۔ایک اور مزار ایسا ہے جو ایک ایسے نبی کا ہے جو حضرت عیسیٰ سے 900سال پہلے ہوگزرے ہیں اور قرآن میں مذکور  ہیں۔انہیں زکریا بن یہودا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

مقبرہ ابتسلام
جبل الزیتون
جبل الزیتون
جبل الزیتون کا قبرستان

نئی قسط

یہاں سے آدھا میل سے کچھ زیادہ فاصلے پر یعنی Garden of Gethsemane واقع ہے۔باغ کی دیکھ بھال آج بھی بہت عمدہ انداز میں کی جاتی ہے ۔ Gethsemane آرمینی زبان کے لفظ Gad-138man234کی یونانی شکل ہے اس کا مطلب زیتون کا تیل نکالنے کا کولہوہے۔ممکن ہے اس طرح کا صنعتی اہتمام اس زمانے میں وہاں موجود ہو۔
باغ میں موجود کچھ درختوں کی قدامت کا اندازہ انہیں دیکھ کر بھی لگایا جاسکتا ہے۔ دیگر درختوں کی نسبت ان میں سے کسی کی عمر کا صحیح تعین اس لیے نہیں کیا جاسکتا کہ زیتون کے درخت میں حلقے یعنی رنگ نہیں ہوتے جس کی وجہ سے ان کی carbon dating نہیں کی جاسکتی ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ گیارہویں صدی اور بارہویں صدی میں لگائے ہوئے پودے ہیں جو انہیں بلاشبہ تاریخ کے قدیم ترین زیتون کے درخت ہونے کاامتیاز بخشتی ہے۔

باغ گیتسامنی
باغ گیتسامنی

یہیں پر ذرا ہٹ کرChurch of All Nations یعنی کلیسۂ آلام وہ مقام ہے جہاں بڑے بڑے پتھروں کے درمیان حضرت عیسیٰؑ نے اپنی گرفتاری سے پہلے رات بھر عبادت کی تھی۔ وہ یہیں سے گرفتار ہوئے تھے۔
ذرا سا آگے جاکر انتہائی بائیں جانب ایک پگڈنڈی آپ کو جبل الطور کی بلندی پر لے جاتی ہے۔یہ ڈھلوان بہت عمودی ہے۔میری ایک عمر چونکہ کوہ پیمائی اور ٹریننگ میں گزری ہے لہذا میری ٹانگوں اور پھیپھڑوں کو یہ چیلنج   قبول کرنے میں کوئی تامل نہیں،میں فوراً ہی چڑھائی شروع کردیتاہوں ،میدان میں ٹیکسیاں ہیں جو سیاحوں کو بیس شیکل کے عوض پہاڑ کی چوٹی پر لے جاتی ہیں۔چالیس منٹ بعد میں اسی چوٹی پر جاپہنچتا ہوں۔یہاں پر اب میرے سامنے ایک عمارت ہے جسے عرب کنیسۃ الصعود کہتے ہیں لیکن عیسائیوں میں اس کو Church of Ascension. کے نام سے پکارا جاتا ہے۔یہاں ایک چٹان ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ حضرت عیسیٰ یہاں سے آسمانوں میں تشریف لے گئے۔

قبۃال آلام
کنیستہ ال صعود.حضرت عیسی عیسائوں کے عقیدے کی روشنی میں یہاں سے آسمانوں پر چلے گئے
کنیسۃ الصعود
کنیسۃ جمیع الامم

اس چھوٹی سی ہشت پہلو عبادت گاہ Aedicule کو اسی چٹان پر اس طرح سے تعمیر کیا گیا۔عیسائیوں کی جانب سے یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ نشان تو اس چٹان پر یسوع مسیح کے دونوں ہی قدموں کے تھے مگر سلطان صلاح الدین ایوبی یہاں سے چٹان کا وہ حصہ توڑ کر  اقصٰی لے گیا جس پر بائیں پاؤں کا نشان تھا۔مسجد اقصی کی انتطامیہ اور مسلمان مورخ اس الزام کو یکسر رد کرتے ہیں۔ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ تین صدیوں تک تو یہ عمارت بے نام و نشان رہی تھی۔ اس کا کوئی پرسان حال بھی نہ تھا۔ اس دوران اگر کسی نے یہاں توڑ پھوڑ کی ہو اور عین ممکن ہے وہ اسے لے اڑا ہو۔ ابتدائی عیسائی پیروکار یہاں چھپ چھپا کر حضرت عیسی ؑ کے مصلوب ہونے کے بعد اپنی عزاداری اور عبادت کے لیے جمع ہوتے تھے۔

ہم مسلمانوں کے عیسائیوں سے جو تین بنیادی اختلاف ہیں ان میں ایک تو حضرت عیسی ؑ کا مصلوب ہونا، دوسرا عیسائیوں کا انہیں اللہ کا بیٹا قراد دینا اور تیسرا تثلیث کا مسئلہ ہے۔حضرت عیسیؑ کے دنیا میں آخری مقام قیام کی رو سے اس کی عیسائیوں اور مسلمانوں دونوں کے ہاں مقدس حیثیت ہے لیکن مسلمان ،قرآن کی رو سے ان کا آسمانوں میں اٹھایا جانا بہت وسیع المعنی تناظر میں تسلیم کرتے ہیں۔ قرآن الکریم اس حوالے سے رَفعہُ اللہُ‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔رفعہ عربی زبان میں بہت کشادہ اصطلاح ہے۔
یہاں ایک دل چسپ امر یہ ہے کہ قرآن کا بیانیہ بے حد تکریم کا ہے یعنی سورۃ النساء کی آیت نمبر 157-158 ’’ اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے عیسی ابن مریم کو جو اللہ کے پیغمبر تھے قتل کردیا ہے۔وہ جان لیں کہ نہ تو وہ قتل ہوئے نہ ہی مصلوب بلکہ انہیں اس حوالے سے شبے میں مبتلا کردیا گیا تاکہ وہ باہمی اختلاف میں پڑجائیں اور شکوک و شبہات میں گھرے رہیں وہ اسی کی پیر وی میں بھٹک رہے ہیں اور وہ اس سے لاعلم ہیں لیکن یہ امر مصدق ہے کہ عیسیؑ کو ہرگز قتل نہیں کیا گیا.اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھالیا۔بے شک اللہ غالب اور حکیم ہے‘‘ ۔
صلاح الدین ایوبی نے یروشلم فتح کرنے کے بعد اس کو ایک مسجد میں بدل دیا تھا لیکن اپنی اس غلطی کا احساس ہونے پر اس نے اسے اس کی پرانی حیثیت پر بحال کردیا اور مسجد اس کے قریب ہی ایک خالی جگہ پر تعمیر کی گئی ہے۔

بی بی مریم علیہ سلام کا خالی مرقد

اس کلیسا کے متولی عیسائی عرب ہیں۔جب میں وہاں سے کوئی نذرانہ دیے بغیر لوٹنے لگا تو انہیں بہت برا لگا۔میں نے اس خیال سے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیاں جذبہء خیر سگالی کو میری اس کنجوسی کی وجہ سے کوئی کاری ضرب نہ لگے جلدی سے جیب سے کچھ شیکل نکالے اور قدمچہء مبارکہ کے قریب رکھے نذارنہ بکس میں انڈیل دیے جس کی دید سے متولی کی روحانی مسکراہٹ عود کر آئی۔انہوں نے بہت زور سے اپنا دایاں انگوٹھا چٹان پر رگڑا اور میرے ماتھے پر گناہوں سے بخشش کا تلک لگا دیا۔میں نے بھی عافیت اسی میں جانی کہ  میں اپنا رہا اسلام بچا کر مسکراتے ہوئے الٹے قدموں سینے پر ہاتھ رکھے، اظہار عقیدت سے نیم خمیدہ کمرکیے باہر نکل آؤں۔میری نگاہیں ان ہجوم متولیاں پر تھی جن کے چہرے پر اب ایسی یقین دہانی ان کی بوڑھی آنکھوں، مڑے تڑے لبوں اور بے ترتیب طویل ڈاڑھیوں سے چھن  کر آرہی تھی گویا ان کی اس خاک شفا و نجات نے میرے وجود پر گہرا روحانی اثر ڈالا ہے۔

عیساءیوں کا قدمچہء معراج

اس معبد سے باہر نکلا تو میری نگاہ وادیء کیدورن سے دوسری جانب قبتہ الصخری پر پڑی۔مجھے ایک عجیب سے پر اسرار احساس نے گھیر لیا کہ، دو مختلف مذہب ،دو مقام، ایک جیسی اہمیت،ایک جیسی اونچائی، ان کا فضائی فاصلہ بھی کچھ زیادہ نہیں، یہ کیسی دو چٹانیں ہیں کہ ان پر قدم رنجہ ہوکر ان سے اللہ کے دو برگزیدہ بندے اس کے دو پیارے نبی سائنس کو ہکا بکا چھوڑ کے اوپر آسمانوں میں چلے گئے۔اللہ اللہ کیا مقدس سرزمین ہے،کیا اسرار روحانی ہیں۔ اپنی شہر آقاق کتاب ’’کشف ال محجوب‘‘ میں حضرت عثمان علی ہجویری جنہیں لاہور والے داتا گنج بخش کہتے ہیں’’ پہلے روحانیت ایک بے نام حقیت تھی، اب یہ محض ایک نام بن کر رہ گئی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں‘‘۔

اسی کلیسا کے پڑوس میں ایک مقبرہ ہے۔اکثر قدیم مقابر کی طرح اس میں بھی اصل قبر تہہ خانے میں ہے مگر اس کا تعویز یعنی قبر کی تعمیراتی علامت اوپر ہے۔اس مقبرے پر بھی تینوں مذاہب کا جھگڑا ہے۔یہودیوں کا خیال ہے کہ یہ بنی اسرائیل کی ایک ایسی خاتون تھیں جو نبی کی ہم منصب تھیں۔ عیسائی کہتے ہیں کہ چھٹی صدی کی یہ ایک راہبہ تھی جس نے عشق عیسیؑ میں دنیا تج دی اور کچھ مسلمان اسے حضرت رابعہؓ بصری کا مزار مانتے ہیں۔
یروشلم کے مسلمان البتہ اس سے کچھ ہٹ کر سوچتے ہیں۔حضرت رابعہ بصری کا مزار ان کے آبائی وطن بصرہ عراق میں ہی ہے۔مجھے بعد میں بتایا گیا کہ یہ دراصل رابعہ شامی کی قبر ہے ۔ان کا ماضی بڑا داغدار مگر اللہ نے ان کے دل کو پلٹ دیا ۔ایک خواب آیا ۔ ایک منظر دکھائی دیا اور یہ یہاں تشریف لے آئیں۔ جم کر  اس ویرانے میں اللہ کی   عبادت کی۔ اسی وجہ سے اس مقبرے سے جڑی مسجد کا نام بھی انہیں کے اسم پاکیزہ پر یعنی مسجد رابعہ ہے یہاں ہر جمعہ کی شب ( ہماری جمعرات) کو ایک محفل ذکر منعقد ہوتی ہے۔یہ محفل ذکر یروشلم کی سب سے بڑی محفل ذکر الہی سمجھی جاتی ہے۔یہاں شطاریہ سلسلے کے بزرگ محفل ذکر برپاکرتے ہیں۔ ان بزرگوں میں شیخ نائف بھی شمار ہوتے ہیں۔

شطاریہ (برق رفتار)سلسلہ ویسے تو نقشبندی سلسلے کی ذیلی شاخ ہے مگر اس کے بانی شیخ عبداللہ شطاری کا تعلق شیخ شہاب الدین سہروردی کے خانوادے سے تھا۔ اس سلسلے کی آمد پر اسے ہندوستان میں مغلیہ دربار میں بہت پذیرائی ملی۔ موسیقارتان سین اس سلسلے کے ایک بڑے بزرگ حضرت غوث کا مرید خاص تھا۔مرشد محترم اور مرید باکمال دونوں ہی گوالیار راجھستان بھارت میں ایک ہی مزار کے احاطے میں مدفون ہیں۔
میری اسرائیل آمد محض ایک تجسس اور انجانی حقیقت سے تعارف تھا جس پر تعصب اور پروپیگنڈے کی کہر چھائی ہوئی ہے۔خیال یہ تھا کہ اپنے کچھ سوالات کا جواب مل جائے تو شاداں و فرحاں لوٹ جاؤں گا لیکن چند ہی دنوں کے قیام میں مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ اس سرزمین قدیم و مقدس سے ماضی میں میری ادراک و آشنائی کو اب ایک نیا رنگ و روپ مل رہا ہے۔بہت آہستگی سے تاریخ پرت در پرت میرے لیے کچھ نئے باب کھول رہی ہے۔کلیسہء الصعودChurch of Ascension سے باہر نکلا تو خود کو میں نے ایک عجیب کیفیت جزب و خود کلامی میں پایا۔

مجھے لگا کہ میری شخصیت کئی حوالوں میں بٹ گئی ہے۔جو دیکھا اور سنا وہ میرے اندر اپنے حساب سے جگہ بنا رہا ہے جس میں میرے شعور کو ایک طرف باندھ کر رکھ دیا گیا ۔خیالات کے انہیں تانوں بانوں میں مالا کے دھاگے کی مانند الجھا ایک تنگ سی پگڈنڈی سے چلا جارہا تھا کہ دو عیسائی فلیپانا نظر آئیں، میرے دوست کہتے ہیں عام طور پر فلپانئی خواتین مردوں کو دیکھ کر جتنا جلدی خوش ہوتی ہیں ان سے مل کر اتنا ہی جلد ی مایوس بھی ہوجاتی ہیں۔مجھے بڑبڑاتا دیکھ کر زور سے ہنسیں تو میں نے اس کا الزام اپنی خود کلامی اور وحشت دل سے زیادہ ان کی فطری خوشی کو دیا اور انہیں مزید مایوسی سے بچانے کے لیے دوسری طرف مشرقی یروشلم میں عرب حصے کی جانب اتر گیا۔ جلد ہی میں ایک ایسے ہوٹل کے پاس آگیا جس کا نام سات محراب والا ہوٹل (Seven Arches Hotelہے۔ یہ پہلے یروشلم انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل تھا۔ یہ ہوٹل کبھی اردن کے شاہ حسین کی ملکیت تھا اب اسرائیل حکومت کا متروکہ جائداد کا بورڈ اس کا انتظام چلاتا ہے۔

سات محرابی ہوٹل

یہاں سے یروشلم کا ایسا نظارہ دکھائی دیتا ہے کہ آپ پورے شہر پر ایک مکمل طائرانہ نگاہ ڈال سکتے ہیں۔دنیا میں بڑے ہوٹل اس کا خاص اہتمام کرتے ہیں کہ ان کے قرب و جوار میں عوامی سہولت کا کوئی مستقل مرکز نہ ہو جہاں عوام کی آوک جاوک ہر وقت لگی رہے۔اس ہوٹل کے ساتھ ہی ایک اسکول تھا جہاں اس وقت آدھی چھٹی یعنیrecess time ہوا تھا۔اس کے درمیانہ رقبے کے صحن میں اسکارف میں ملبوس فرشتوں کی سی معصوم عرب بچیاں دوڑ بھاگ رہی تھیں۔ اسکول کے گیٹ کے باہر کچھ ٹھیلے والے بھنی ہوئی مونگ پھلی۔ گڑیا کے بال( candy-floss ) فروخت کررہے تھے۔میں ان کے دمکتے معصوم چہرے دیکھنے لگا جن پر آنے والے واقعات کے سائے اب تک نہیں پڑے تھے۔ایک ساتھ آٹھ سال  کی بچی انہماک سے ذرا دور ہٹ کر چرخے پر لپٹی سرخ رنگت کی جالے دار چینی سے بنے گئے بال حسرت سے دیکھ رہی تھی۔ مجھے لگا کہ اس کے پاس اسے خریدنے کے لیے پیسے نہیں۔میں نے ایک شیکل سے اس کے لیے وہ گلدستہء شریں خریدا اور پیش کیا تو وہ ہچکچائی، خفت سے گلابی ہوگئی اور میرے اصرار پر دونوں ہاتھوں سے اسے جلدی سے لے کر ہرن ہوگئی۔ میں جواب میں صرف شکراً ہی سن سکا۔اسکول کے دروازے پر رک کر اس نے ایک دفعہ مڑ کر مجھے دیکھا،ہاتھ ہلایا اور اندر داخل ہوکر سیاہ حجابوں کے  ایک گرداب میں گم ہوگئی۔۔ میرے علم میں یہ بات تو بہت پہلے سے رہی تھی کہ عربوں میں سب سے خالص، بے داغ عربی زبان فلسطینی عرب بولتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ عرصہء ہائے دراز سے ان کی زبان اور ثقافت میں کسی بیرونی زبان اور ثقافت کی گھلاوٹ نہیں ہوئی۔زبان ،طرز بود و باش کے علاوہ ان کے کھانے بھی بے حد لذیذ اور مستند سمجھے جاتے ہیں۔ان کے ہاں نسوانی حسن کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اتنا پاکیزہ، کھرا، دھیما دھیما ،اجلا اجلا سا حسن کہیں اور دکھائی نہیں دیتا ۔مجھے لگا ان نازنینانِ جمال افروز کو بناتے وقت اللہ میاں نے نوبیاہتا گائے کے مکھن اور سفید بیر Accacia کے شہد سے بنایا ہوگا۔ ان کی مٹی بھی کسی صاف شفاف سرزمین سے لی گئی ہوگی۔

مارکیٹ کا سین
فلسطینی لڑکی
فلسطینی لڑکیوں کا اسکول

اسکول سے آگے بڑھ کر میں کوئی آدھا کلو میٹر ہی چلا تھا کہ میری نگاہ اچانک سامنے مسجد حضرت سلمانؓ فارسی آگئی۔سیدناسلمانؓ ان جید صحابہ میں تھے جن کے مشورے پر مدینے کا دفاع کفار سے تیسرے غزوے (وہ جنگ جس میں ہمارے رسول مقبول ﷺ خود شریک رہے ہوں ) میں انہیں کے  مشورے پر خندق کھود کر کیا گیا ۔ابتدا میں ان کا تعلق ایک زرتشت یعنی پارسی ایرانی آتش پرست خانوادے سے تھا۔ دین حق کی تلاش انہیں پہلے عیسائی کلیساؤں میں لے گئی ۔ جذبہء ایماں وہاں اطمینان بخش انداز میں سیراب نہ ہوپایا تو وہ ہمارے پیارے نبی محمد مصطفےﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو لگا کہ یہ ہی وہ عظیم المرتبت ہستی ہیں اور انہیں کا پیغام انسانیت کی فلاح اور نجات کا باعث ہے۔یہاں یہ بات بھی مشہور ہے کہ آپ کا مقبرہ  مبارک بھی مسجد ہی کے احاطے میں موجود ہے لیکن کچھ لوگ اس سے جداگانہ رائے رکھتے ہیں وہ اسے آپ کا آستانہ عالیہ بتاتے ہیں ان کا مرقد عالیہ کسی اور مقام پر ہے۔میرے لیے یہ ہی بہت ہے کہ میرے پیارے نبی کے ایک پیارے صحابی کا اس مقام سے کسی طور کوئی نہ کوئی واسطہ رہا ہے۔

مسجد سلمان فارسی رض
مزار الانبیا کا راستہ
مزار الانبیا کا راستہ
مقابرالانبیا کا داخلہ
مقابرالانبیا کا داخلہ

مرکزی دروازے پر تالا لگا ہوا دیکھ کر میں نے کھڑکی کے رنگ برنگے شیشوں سے اندر جھانکا۔مسجد کی محراب تو دکھائی دی مگر کوئی مرقد نظر نہ آیا۔کئی دفعہ ہیلو کہا مگر جواب ندارد۔میں گھوم کر مسجد کی پشت پرچھوٹی سی راہداری میں یہ سوچ کر چل پڑا کہ ممکن ہے کوئی یہاں بیٹھا سستا رہا ہو۔ وہ بھی قلب صوفی کی مانند خالی تھی۔پشت پر ایک چھوٹا سا لکڑی کا دروازہ البتہ یہ علامت ظاہر کررہا تھا کہ یہ معمولی سی زور آزمائی سے کھل جائے گا۔ ایسا ہی ہوا۔میں نے کھولا  تو مسجد میں صفیں بچھیں تھیں۔باہر صحن کی جانب آیا تو ایک جگہ عربی میں لفظ وضو لکھا ہوا دکھائی دیا۔وہیں ایک بورڈ بھی نصب تھا۔اس بورڈ پر آپ سیدنا سلمان فارسیؓ سے منقول کئی احادیث مبارکہ بھی درج تھیں۔ بطور پاکستانی مسلمان یہ میرے لیے بہت حیرت کی بات تھی کہ قریب ہی کسی فن کار کی بنائی ہوئی ایک تصویر تھی جس میں جنگ خندق کی منظر کشی کی گئی ےھی، اس پینٹنگ میں کئی صحابہ بشمول سیدنا سلمان فارسیؓ خندق کے گرد کھڑے تھے۔انہیں البتہ رخ مبارکہ کے گرد بنے ہوئے ایک روشن دائرے سے نمایا ں کیا گیا تھا۔میرا ارادہ اس کی فوٹو لینے کا تھا مگرنوٹس بورڈ کے نیچے بنے کیمرے پر سرخ X کی ممانعت آڑے آگئی۔ میں نے سوچا یہاں مجھے کون دیکھ رہا ہے ۔ اس وقت تو میں یہاں اکیلا ہوں اور کون سا مجھے یہاں بار بار آنا ہے۔ میں نے کیمرے کو سیدھا کیا۔۔ممکن تھا کہ میں یہ تصویر لے لیتا مگر مجھے میرے والد مرحوم کی نصیحت یاد آگئی وہ کہا کرتے تھے کہ تمہارے کردار کی سب سے کھری آزمائش اس وقت ہے جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو۔ خود ہی ذرا شرمندہ ہوکر میں نے کیمرہ بند کیا ، اپنے والد کے لیے دعا کی اور مسجد کے اندر لوٹ آیا۔محراب کے سامنے بیٹھ کر یہ سوچنے لگا کہ ممکن ہے کوئی آجائے تو میں اس سے ان کی قبر مبارک کا نشان پوچھ لوں۔تیس منٹ تک وہاں زندگی کے کوئی آثار نہ دکھائی دیے تو میں کھڑا ہوگیا اور ادھر ادھر گھومنے لگا کہ اچانک جاء نمازوں کے کنارے ایک سبز پردہ دکھائی دیا۔اسے ہٹایا تو ایک دورازہ ذرا سی زور آزمائی سے ایک وسطی سائز کے کمرے میں کھل گیا۔اس کے فرش پر سبز قالین بچھا تھا۔سامنے دیوار پر ایک چھوٹی سی کھڑکی کھلی تھی۔اس کے پار وہ علاقہ دکھائی دے رہا تھا جہاں سے میں مسجد کی طرف آیا تھا۔یہیں بائیں جانب سیدنا سلمان فارسیؓ کا مزار مبارک بھی تھا۔میں وہاں پندرہ منٹ تک رہا اور مسجد کے عقبی دروازے سے جبل الزیتون والے مین روڈ پر باہر نکل آیا ۔یہاں سیاحوں کی بھرمار تھی۔
جبل الزیتون کی مغربی سمت میں اوپری ڈھلان پر ایک زیر زمین مرقد ہے اسے وہاں مرقد الانبیا ” Tombs of the Prophets” کہتے ہیں ۔یہ تورات جسے اب یہودی بائبل بھی کہا جاتا ہے اس کے تین انبیا and Malachi Haggai Zechariah, ذکریا،ہاجائی اور مالاخی جن کاتعلق حضرت عیسیؑ سے پانچ صدیاں پہلے سے ہے ان کی قبور یہاں ہیں
میری معلومات محدود تھیں۔ وہاں پہنچا تو بوڑھے یہودی گارڈ نے کھڑے ہوکر بہت گرمجوشی سے ’’شلوم‘‘ کہا۔ اسے انگریزی بہت کم آتی تھی مگر وہ پھر بھی مجھے یہ سمجھانے میں کامیاب ہوگیا کہ اندر اندھیرا بہت ہے ۔میں نے اسے اپنے سیل فون کی ٹارچ دکھائی تو وہ کچھ کہے سنے بغیر غائب ہوگیا اور اپنے چھوٹے سے کیبین سے ایک سیاہ رنگ کی موٹی سی موم بتی نکال لایا۔مرقد الانبیا میں داخلہ مفت تھا مگر میں نے موم بتی کے عوض اسے کچھ شیکل دینا چاہے تو اس نے قدرے سختی سے میر ا ہاتھ جھٹک دیا اور آسمان کی جانب اشارہ کرکے کہنے لگا ’’ یہوا ،یہوا‘‘ روشنی کا یہ انتظام فی سبیل اللہ تھا گو اب کی دفعہ یہ یہودی خدا تھا۔میں نے اس کا شکریہ ادا کیا تو اس کے پوپلے منہ  اور بے دانت لبوں پر مسکراہٹ کے بادل تیرنے لگے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *