ورلڈ کپ 2019 کیلئے پاکستانی ٹیم کے ممکنہ کھلاڑی؟

کراچی: پاکستانی ٹیم انتظامیہ نے ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کیلئے تقریباً 26 کھلاڑیوں کا پول تیار کیا ہے اور اسی پول میں سے پاکستان کی حتمی ٹیم کا انتخاب کیا جائے گا۔

ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 30 مئی سے انگلینڈ میں شروع ہوگا۔ لارڈز میں فائنل 14 جولائی کو کھیلا جائے گا۔

ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقا میں ہیڈ کوچ مکی آرتھر، کپتان سرفراز احمد اور چیف سلیکٹر انضمام الحق نے ایک سے زائد میٹنگز میں ورلڈ کپ پول کو فائنل کیا۔ تاہم پاکستان سپر لیگ میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے والا کوئی بھی کھلاڑی اس پول میں جگہ بناسکتا ہے۔

کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ جو لڑکے ہمارے ورلڈ کپ پلان میں ہیں انہیں آئندہ ماہ آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز میں کچھ نئے لڑکوں کے ساتھ موقع دیا جائے گا اور بعض سینیئرز کو آرام دیا جاسکتا ہے۔

ورلڈ کپ سے قبل انگلینڈ کی سیریز میں جس ٹیم کا انتخاب ہوگا وہی ٹیم ورلڈ کپ کھیلے گی۔ ورلڈ کپ کے 16 کھلاڑی ہی انگلینڈ کے خلاف پانچ ون ڈے میچوں میں شرکت کریں گے۔ ٹیسٹ اسپیشلسٹ اسد شفیق کو ون ڈے میں اوپنر کی حیثیت سے کھلانے کی تجویز ہے۔

جمعرات کو چیف سلیکٹر انضمام الحق کو خاص طور پر بورڈ آف گورنرز میٹنگ میں مدعو کیا گیا۔ انضمام نے جنوبی افریقا میں شکست کے اسباب اور مستقبل کی پلاننگ کے بارے میں بورڈ آف گورنرز کو بریف کیا۔

مارچ میں آسٹریلیا کی سیریز میں کئی سینیئرز کو آرام دے کر ڈومیسٹک کرکٹ اور پاکستان اے کی جانب سے ٹاپ پرفارمرز کو ٹیم میں موقع دیا جاسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاسٹ بولر محمد عامر، اوپنر فخر زمان، مڈل آرڈر بیٹسمین شعیب ملک اور محمد رضوان کو ڈراپ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ پاکستان ون ڈے ٹیم میں جنید خان، عابد علی، شان مسعود اور سعد علی کو کھلانے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا کے خلاف کچھ نوجوان اور کچھ سینیئر کھلاڑیوں کو شامل کرکے ٹیم تشکیل دی جائے گی۔

ورلڈ کپ کیلئے پاکستانی پول کے ممکنہ کھلاڑیوں  میں سرفراز احمد (کپتان)، بابر اعظم، فہیم اشرف، فخر زمان، حسن علی، حسین طلعت، عماد وسیم، امام الحق، محمد حفیظ، محمد عامر، محمد رضوان، شاداب خان، شعیب ملک، شاہین شاہ آفریدی، عثمان خان شنواری، شان مسعود، جنید خان، خرم منظور، سعد علی، یاسر شاہ، عابد علی، میر حمزہ، اسد شفیق، وقاص مقصود، عمید آصف اور حارث سہیل شامل ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *